علمِ منطق کی تعریف

علمِ منطق کی تعریف اور اس کا جائزہ

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنی کسی بات یا دعوے کے درست ثابت کرنے کے لئے (یا اوروں کی کسی بات یا دعوے کو درست یا غلط ثابت کرنے کے لئے) دلائل پیش کرتے ہیں۔ ہمارے دلائل کبھی صحیح ہوتے ہیں اور کبھی غلط۔ اگر لوگ منطقی ہوں تو ہمارے صحیح دلائل کو قبول کرلیتے ہیں اور غلط دلائل کو ردّ کردیتے ہیں۔ صحیح اور غلط دلائل کا موازنہ کرکے ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ وہ کونسے اُصُول اور قوانین ہیں جن کے مطابق ہمیں استدلال کرنا چاہیے تاکہ ہمارے دلائل صحیح ہوں۔ انہی اصولوں کے مجموعے کا نام ”علمِ منطق“ ہے۔ 

 جب ہم کسی مسئلہ کے متعلق استدلال کرتے ہیں تو اس کے متعلق سوچتے ہیں۔ فکر سے کام لیتے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ منطق کا تعلق فکر سے ہے۔ یعنی منطق کا موضوع فکر ہے منطق کے علاوہ علم نفسیات بھی فکر سے بحث کرتا ہے مگر دونوں کے نُقطۂ نظر میں فرق ہے۔ علم نفسیات کا کام یہ دیکھنا ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں ، ہمارا طریقِ استدلال کیسا ہوتا ہے؟ اس کے برعکس علم منطق کا کام یہ دیکھنا ہے کہ ہمیں کس طرح سوچنا چاہیے! ہمارا طریقِ استدلال کیسا ہونا چاہیے! اس کتاب میں ہم یہ پڑھیں گے کہ صحتِ فکر کے اساسی قوانین کونسے ہیں۔ صحیح طرزِ استدلال کیسا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ

 منطق کی تعریف کا تجزیہ

منطق کی تعریف: منطق کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں۔

 منطق وہ علم ہے جو صحیح فکر کے قوانین کا مطالعہ” 

“کرتا ہے 

(Logic is a Science that studies the laws of valid thought)

اس تعریف میں ہم نے چار ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو تشریح طلب ہیں۔ علم، قوانین، صحیح اور فکر۔

 Science علم
ہماری علم سے مراد کسی شے سے واقفیت ہے۔ اگرچہ ہر علم واقفیت ہوتا ہے مگر ہر واقفیت علم نہیں ہوتی ہوسکتا ہے کہ کسی کو انسانی جسم کے اعضاء کے متعلق واقفیت ہو مگر اس کی یہ واقفیت علم الابدان میں مہارت کی دلیل نہیں بنتی۔ اسی طرح آپ کی ستاروں اور ان کی تاثیرات کے متعلق واقفیت علم النجوم یا علم الفلکیات نہیں کہلاسکتی۔
علم مربوط اور مکمل واقفیت کا نام ہے جیسے اینٹوں کا ایک ڈھیر عمارت کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا اسی طرح غیر مربوط اور غیرمکمل واقفیت علم کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی۔ علم کسی موضوع کے متعلق مربوط، مکمل اور صحیح واقفیت کا نام ہے۔ چونکہ منطق کا کام فکر کے متعلق مربوط، مکمل اور صحیح واقفیت دینا ہے اس لئے منطق ایک علم ہے۔
عُلُوم کی دو قسمیں
علوم کی دو قسمیں ہیں۔ طبعی عُلُوم اور میعاری عُلُوم طبعی علوم اشیاء کو جیسی کہ وہ ہوں بیان کرتے ہیں۔ ان کا کام ہے مشاہدے اور تجربے کے ذریعے سے مظاہرِ قدرت کی نوعیت کو سمجھنا، ان کے متعلق قوانین معلوم کرنا، ان قوانین کی مدد سے مظاہر فطرت کے متعلق پیشین گوئی کرنا (یعنی یہ معلوم کرنا کہ فُلاں فُلاں حالات میں فُلاں فُلاں واقعات ظہور پذیر ہوں گے). وغیرہ وغیرہ۔ مثلًا علم نباتات ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پودے کس طرح اُگتے ہیں کس طرح ہوا اور پانی سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں کس طرح پھل اور پھول لاتے ہیں اسی طرح باقی طبعی علوم بھی اپنی اپنی جگہ مخصوص اشیاء کے متعلق حتیٰ الامکان مکمل واقفیت حاصل کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ طبعی علوم ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ فلاں شیء کیسے ہونی چاہیے بلکہ یہ کہ وہ کیسی ہے۔
 میعاری علوم کا نقطۂ نظر اور ان کی غرض و غایت بالکل مختلف ہے ان کا تعلق اشیاء کی ہست و بود سے نہیں بلکہ ان کی قدر و قیمت سے ہوتا ہے۔ وہ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ فلاں اشیاء یوں یوں ہیں یا یوں تھیں بلکہ انہیں یوں ہونا چاہیے۔وہ انہیں اپنے میعاری اصولوں کی مدد سے ان کی قدر و قیمت کا جائزہ لیتے ہیں۔ مثلًا علم الاخلاق ایک میعاری علم ہے۔ اس کا کام یہ دیکھنا نہیں کہ ہمارے افعال کیسے ہیں بلکہ یہ کہ وہ کیسے ہونے چاہیے۔ یہ علم ہمارے افعال کی اچھائی برائی (یعنی ان کے اخلاقی میعار) کے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔ اسی طرح جمالیات بھی ایک میعاری علم ہے۔ یہ ہمارے احساسات کے حسن و قبح سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ خوب و زشت کا میعاری نقطۂ نظر سے مطالعہ کرتا ہے۔ ان دونوں علوم کی طرح منطق بھی ایک میعاری علم ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے کہ منطق کا موضوع فکر ہے مگر اس کا کام ہمیں یہ بتانا نہیں کہ فکر یا استدلال کیسے ہوتا ہے، یعنی ہم کس طرح فکر و استدلال کرتے ہیں (یہ نفسیات کا کام ہے) بلکہ ہمیں کس طرح فکر و استدلال کرنا چاہیے تاکہ ہم غلطیوں سے بچ سکیں چنانچہ منطق ایک میعاری علم ہے جس کا تعلق فکر و استدلال کے میعار سے ہے اس کا کام فکر و استدلال کی صحت یا عدم صحت دیکھنا ہے۔

قوانین کی تین اَقسام

تمام علوم اپنے اپنے حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں علم نباتات پودوں اور درختوں کا مطالعہ کرتا ہے علمِ حیوانیات جانداروں کا، علم۔نجوم ستاروں کا، نفسیات ذہن کا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر علم اپنے حقائق سے ایسے قوانین وضع کرنے کی کوشش کرتا ہے جو ان تمام حقائق پر حاوی ہوں۔ مثلًا علم نباتات کسی خاص پودے کی نشوونما  کے اسباب اور قوانین دریافت کرنے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتا جتنا کہ نشو و نما کے عمومی قوانین معلوم کرنے میں۔ اسی طرح علمِ منطق کسی استدلال میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتا جتنی کہ قوانینِ استدلال میں۔
لیکن قوانین سے مراد کیا ہے؟ چونکہ لفظ قوانین ایک سے زیادہ معانی میں استعمال ہوتا ہے  لہٰذا ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس لفظ کے کونسے مختلف معانی ہیں اور منطق میں یہ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
لفظ قوانین سیاسی قوانین اور قوانینِ قدرت دونوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاسی قوانین وہ قوانین ہیں جو بدلے بھی جاسکتے ہیں اور توڑے بھی جاسکتے ہیں۔ یہ قوانین تمام ممالک میں ایک جیسے نہیں ہوتے کیونکہ ان کا انحصار ہر ملک کے اپنے معاشرتی، تمدنی اقتصادی اور تعلیمی حالات پر ہوتا ہے۔ جوں جوں کسی ملک کے حالات بدلتے جاتے ہیں یہ قوانین بھی بدلتے جاتے ہیں سیاسی قوانین ایسے قوانین نہیں ہوتے  جن کی خلاف ورزی ناممکن ہو۔ وہ توڑے جاسکتے ہیں لیکن جب وہ توڑے جاتے ہیں تو مجرم کو ان کی خلاف ورزی پر سزا بھی بھگتنا پڑتی ہے۔
اب قوانینِ قدرت کو لیجئے یہ نہ بدلے جاسکتے ہیں نہ توڑے جاسکتے ہیں مثلًا قانون کششِ ثقل ایک اٹل قانون ہے اس قانون کے مطابق  زمین ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے یہ قانون تمام ممالک میں ایک جیسا ہے کسی ملک میں کوئی شخص اس کو بدل یا توڑ نہیں سکتا۔ آپ یہ نہیں کرسکتے کہ کسی چھت سے چھلانگ لگا کر زمین کی طرف گرنے کی بجائے آسمان کی طرف اُڑ جائیں۔ 
اب منطق کے قوانین کو لیجئے یہ قوانین صحیح فکر سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا یہ بدلے نہیں جاسکتے البتہ توڑے جاسکتے ہیں ہم دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں توڑتے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے غلط استدلال کرتے ہیں۔
صحیح قوانینِ فکر آج بھی ویسے ہی اٹل ہیں جیسے کہ آج سے کئی ہزار سال پہلے تھے اور آئندہ بھی ایسے ہی اٹل رہیں گے مثلًا یہ ایک قانونِ فکر ہے کہ ایک ہی شیء میں دو متناقض صفات ایک ہی وقت میں پائی نہیں جاسکتیں مثلًا ایک رنگ بیک وقت سُرخ اور غیر سُرخ نہیں ہوسکتا۔ ایک شخص ایک ہی وقت میں مسلم اور غیرمسلم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح یہ بھی ایک قانونِ فکر ہے کہ اگر ا، ب کے برابر ہے اور ب، ج کے برابر ہے تو ا، ج کے برابر ہے۔
الغرض قوانینِ منطق توڑے جاسکتے ہیں مگر بدلے نہیں جاسکتے اس لحاظ سے وہ سیاسی قوانین اور قوانینِ قدرت سے مختلف ہیں سیاسی قوانین توڑے بھی جاسکتے ہیں اور بدلے بھی جاسکتے ہیں۔ قوانینِ قدرت نہ توڑے جاسکتے نہ بدلے جاسکتے ہیں۔ مگر قوانینِ منطق توڑے جاسکتے ہیں بدلے نہیں جاسکتے۔
سیاسی قوانین احکام ہوتے ہیں، وہ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فلانی بات یوں کرنا پڑے گی ورنہ سزا ملے گی۔ قوانین قدرت ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فلاں بات ہمیشہ یوں ہوتی ہے۔ قوانین منطق نہ تو یہ کہتے ہیں کہ استدلال یوں کرنا پڑے گا اور نہ یہ کہتا ہے کہ استدلال یوں کیا جاتا ہے بلکہ یہ کہ استدلال یوں کرنا چاہیے۔ اگر ہم قوانینِ منطق کو توڑیں یعنی غلط استدلال کریں تو ہمیں کوئی سزا بھگتنا نہیں پڑتی۔ دیگر میعاری علوم کی بھی یہی کیفیت ہے۔
الغرض سیاسی قوانین ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ کیا کرنا پڑے گا 
(𝓦𝓱𝓪𝓽 𝓜𝓾𝓼𝓽 𝓫𝓮)
قوانینِ قدرت ہمیں بتاتے ہیں کہ کیا ہے
(𝓦𝓱𝓪𝓽 𝓲𝓼)
اور قوانینِ منطق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ
(𝓦𝓱𝓪𝓽 𝓢𝓱𝓸𝓾𝓵𝓭 𝓫𝓮)
تعزیر، ہست اور باید سیاسی قوانین، قوانینِ قدرت اور قوانینِ منطق کے علیٰ الترتیب طُغرائے امتیاز ہیں۔
صحیح ہونے کی دو شرائط

صحتِ فکر سے کیا مُراد ہے؟ صحتِ فکر کے لئے یہ لازمی ہے کہ فکر میں خود اپنی ہی تردید نہ پائی جائے، مثلًا ہمارا ایک گول مثلث کا فکر یا ایک مربع دائرہ کا فکر غلط فکر ہوگا کیونکہ ہمارا کسی شکل کو مثلث کہہ کر پھر اُسے گول کہنا یا دائرہ کہہ کر اُسے مربع کہنا خود اپنی تردید کرنا ہے۔ مندرجہ ذیل استدلال کو لیجئے۔
انسان فانی ہیں
ہم انسان ہیں
اس لیے ہم فانی نہیں 
ہمارا یہ استدلال غلط ہے۔ جب ہم نے یہ مان لیا کہ انسان فانی ہیں اور ہم انسان ہیں تو ہمارا یہ نتیجہ نکالنا کہ ہم فانی نہیں ہماری اپنی من مانی ہوئی باتوں کے منافی ہے۔ یعنی ہمارا نتیجہ ہماری پہلی دو باتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
چنانچہ صحتِ فکر سے مُراد یہ ہے کہ فکر میں خود اپنی ہی تردید نہ پائی جائے۔ اب مندرجہ ذیل استدلال کو لیجئے۔
انسان درخت ہیں
کُتے انسان ہیں
اس لیے کُتے درخت ہیں
یہاں نتیجہ پہلی دو باتوں سے لازمی طور پر نکلتا ہے اور ان کے منافی نہیں۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ انسان درخت ہیں اور کتے انسان ہیں تو ہمیں لازمی طور پر یہ نتیجہ نکالنا پڑتا ہے کہ کُتے درخت ہیں۔ ہمارا یہ نتیجہ ہماری پہلی دو باتوں کی تردید کرنے کی بجائے ان کے عین مطابق ہوگا۔ لیکن اگرچہ یہاں فکر میں خود اپنی تردید پائی نہیں جاتی پھر بھی ہم اس استدلال کو غلط کہیں گے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہاں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بیرونی حقیقت کے منافی ہے۔ یعنی ہمارا فکر حقائق کے مطابق نہیں۔ لہٰذا غلط ہے چنانچہ صحتِ فکر سے مراد یہ بھی ہے کہ فکر حقیقت کے مطابق ہو۔
چنانچہ فکر صحیح اس وقت ہوتا ہے جب کہ (۱) اس کے اندر خود اپنی ہی تردید پائی نہ جائے۔ اسے فکر کی صوری صحت کہتے ہیں اور (۲) جب فکر حقیقت کے مطابق ہو اسے فکر کی مادی صحت کہتے ہیں۔ 
صحتِ فکر کے ان دو معانی کی بنیاد پر منطق دو حصوں میں منقسم ہے منطقِ استخراجیہ اور منطقِ استقرائیہ 
منطقِ ادتخراجیہ کا کام فکر کی صوری صحت دیکھنا ہے یعنی یہ دیکھنا کہ فکر کے اپنے اندر مطابقت ہے یا نہیں۔ اس لئے منطقِ استخراجیہ کو منطقِ صوریہ بھی کہتے ہیں۔ منطقِ استقرائیہ کا کام مادۂ فکر کو دیکھنا ہے یعنی یہ دیکھنا کہ فکر اور بیرونی حقیقت میں مطابقت ہے یا نہیں۔ اس لئے منطقِ استقرائیہ کو منطقِ مادی بھی کہتے ہیں۔ فکر کو صحیح ہونے کے لئے ان دونوں شرائط کو پورا کرنا چاہیے۔

فکر کے متعلقات (تصور، تصدیق اور استنتاج کا بیان)

فکر بھی ایک مبہم لفظ ہے علمِ نفسیات بھی فکر سے بحث کرتا ہے اور منطق بھی۔ لیکن جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں نفسیات ایک طبعی علم ہے اور منطق ایک میعاری علم ہے لہٰذا یہ دونوں علوم فکر کی مختلف حالتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ نفسیات کا تعلق فکر کے اعمال سے ہے۔ نفسیات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فکر کا عمل کس طرح ہوتا ہے۔ اس کے برعکس منطق کا تعلق فکر کے نتائج سے ہے۔ فکر کے نتائج ہیں تصور، تصدیق اور استنتاج۔
تصور؛ جب ہم کہتے ہیں کہ فُلاں گھوڑا بہت اچھا ہے تو ہمارے ذہن میں ایک خاص گھوڑے کی تصویر ہوتی ہے لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ گھوڑا ایک مفید جانور ہے تو ہمارے ذہن میں کسی خاص گھوڑے کی تصویر نہیں ہوتی بلکہ گھوڑے کا وہ مفہوم ہوتا ہے جو تمام گھوڑوں پر مشتمل اور تمام گھوڑوں میں مشترک ہے، یہ گھوڑے کا تصوّر ہے۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ زید فانی ہے تو ہمارا اشارہ ایک خاص انسان کی طرف ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان فانی ہے تو ہمارا اشارہ زید، بکر یا عمرو کی طرف نہیں ہوتا۔ یہ انسان کا تصور ہے چنانچہ گھوڑا، انسان، کتاب، مثلث وغیرہ وغیرہ تصورات ہیں جو اپنی نوع کے تمام افراد پر مشتمل ہیں لیکن جن کا اشارہ اپنی نوع کے کسی خاص فرد کی طرف نہیں ہوتا۔ ایسے تصورات ذہن میں کیسے پیدا ہوتے ہیں، یہ ایک نفسیات کا سوال ہے۔ منطق کو اس سوال سے کوئی سروکار نہیں۔
 جب تصور کو الفاظ میں ادا کیا جائے تو منطق کی اصطلاح میں اسے حد یا طرف یا اسم کہتے ہیں۔ 
تصدیق؛ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ گھوڑا جانور ہے تو ہم دو تصورات (یعنی گھوڑا اور جانور) کے درمیان تعلق پیدا کرتے ہیں یہ تعلق ان دونوں تصورات کے تقابل کا نتیجہ ہے۔ اس تقابل کو عملِ تصدیق کہتے ہیں۔ عملِ تصدیق کا مطالعہ کرنا نفسیات کا کام ہے۔ منطق کا تعلق عملِ تصدیق کے نتیجہ سے ہے۔ عملِ تصدیق کے نتیجے کو نتیجۂ تصدیق یا صرف تصدیق کہتے ہیں گھوڑا جانور ہے، انسان فانی ہے، بھیڑئیے خونخوار ہیں، مرد عورتیں نہیں، بلیّاں چوہے نہیں، کوّے سفید نہیں وغیرہ وغیرہ تصدیقات ہیں۔ تصدیقات دو تصورات کے باہم اتحاد یا اختلاف کو ظاہر کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ منطق کا تعلق عملِ تصدیق سے نہیں، نتیجۂ تصدیق سے ہے۔ عملِ تصدیق کا مطالعہ علمِ نفسیات کا کام ہے۔ 
جب تصدیق کو الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے تو اسے اصطلاحِ منطق میں قضیہ کہتے ہیں۔ 
استنتاج؛ جس طرح دو تصورات کے مابین کوئی مشترک عنصرِ تقابل پیدا کرکے تصدیقات پیدا کرتا ہے اسی طرح دو تصدیقات کے درمیان کوئی مشترک عنصر تقابل پیدا کرکے استنتاج پیدا کرتا ہے۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ گھوڑے جانور ہیں اور جانور فانی ہیں۔ اس لیے گھوڑے فانی ہیں، تو یہ استنتاج ہوگا۔ تصدیقات کو ملا کر ان سے نتیجہ نکالنا عملِ استنتاج یا عملِ استِدلال کہلاتا ہے۔ عملِ استنتاج یا عملِ استِدلال کے نتیجہ کو نتیجۂ عملِ استنتاج یا نتیجۂ عملِ استِدلال یا صرف استنتاج یا استِدلال کہتے ہیں۔ 
یہاں پھر یاد رکھنا ضروری ہے کہ منطق کا تعلق عملِ استنتاج یا عمل استدلال سے نہیں بلکہ نتیجۂ استدلال سے ہے۔ استدلال کے عمل سے نفسیات بحث کرتی ہے۔ جب استدلال یا استنتاج کو الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے تو اسے دلیل کہتے ہیں۔
اب ہم استنتاج کی مثالیں لیتے ہیں۔
تمام عربی مسلمان ہیں۔
اس لئے کوئی عربی غیرمسلم نہیں۔
یہاں ہم نے ایک ہی تصدیق سے بغیر کسی قسم کے واسطے کے نتیجہ اخذ کیا۔ ایسے استنتاج کو استنتاجِ بدیہی یا استنتاجِ بلاواسطہ کہتے ہیں۔
اب مندرجہ ذیل مثال کو دیکھیں
تمام عربی مسلمان ہیں۔
تمام یمنی عرب ہیں۔
اس لئے تمام یمنی مسلمان ہیں۔
یہاں ہم نے دو تصدیقات کے باہم واسطہ کی وجہ سے ان سے نتیجہ نکالا ہے۔ ایسے استنتاج کو استنتاجِ نظری یا استنتاجِ بالواسطہ یا اصطلاحی زبان میں قیاس کہتے ہیں۔
وہ قضیہ یا قضیے جن سے نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے مقدمہ یا مقدمات کہلاتے ہیں اور وہ قضیہ جو بطور نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے نتیجہ کہلاتا ہے۔ الغرض فکر سے مراد تصور، تصدیق اور استدلال یا استنتاج) ہے ہم نے منطق کی یوں تعریف کی تھی)  
“منطق وہ علم ہے جو صحیح فکر کے قوانین کا مطالعہ کرتا ہے ”
اب ہم نے یہ پڑھ لیا ہے کہ علم، صحیح، فکر اور قوانین سے کیا مراد ہے۔

کیا مَنطق علم ہے یا فَن؟ 

اس سوال پر بہت بےکار بحث ہوتی رہی ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطق ایک علم ہے کیونکہ یہ ہمیں فکر کے متعلق مربوط اور مکمل واقفیت دیتا ہے اور کسی شے کے متعلق مربوط اور مکمل واقفیت ہی کو علم یا سائنس کہتے ہیں لیکن منطق محض علم ہی نہیں۔ یہ ایک فَن بھی ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ علم اور فن میں فرق کیا ہے؟ علم جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں کسی شےء کے متعلق مربوط اور مکمل واقفیت کا نام ہے۔ علم واقفیت کو کہتے ہیں اور فَن مشق کو۔ علم کا کام ہے کچھ جاننا اور فن کا کام ہے کچھ کرنا علم کی حیثیت علمی (نظری) ہوتی ہے۔ اور فن کی عملی۔ علم مطالعہ سے سیکھا جاتا ہے اور فن مشق سے۔ فزکس، کیمسٹری، فزیالوجی وغیرہ وغیرہ علم ہیں۔ جراحی موسیقی، مصوری، شناوری وغیرہ وغیرہ فَن ہیں۔
لیکن یہ فرض کرلینا کہ علم اور فن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک غلطی ہے۔ ہر علم ہمیں کچھ اصول اور قوانین دیتا ہے اور جب وہ اصول عمل میں لائے جاتے ہیں وہ علم فن کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم انجینیئرنگ کے اصول پڑھتے ہیں تو ایک علم پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب ہم ان اصولوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو وہی انجینئرنگ کا علم انجینئرنگ کا فن بن جاتا ہے۔ علم اور فن کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ایسا علم جو فن نہ بن سکے (یعنی جس کے اصول عمل میں نہ لائے جاسکیں) بیکار ہوتا ہے۔ اور ایسا فن جو علم پر مبنی نہ ہو خطرناک ہوتا ہے۔ ایک ان پڑھ دیہاتی حجام اس لئے خطرناک جراح یا سرجن ہوتا ہے کہ اس کی جراحی علم الابدان پر مبنی نہیں ہوتی۔ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علم فن کی جڑ ہے اور فَن علم کا ثمر۔ فزیالوجی کا علم ڈاکٹری کے فن کی بنیاد ہے۔ کیمسٹری کا علم صابن سازی کے فن کی بنیاد ہے۔ علم النجوم جہاز رانی کے فن کی بنیاد ہے۔ اسی طرح منطق کا علم صحیح استدلال کے فن کی بنیاد ہے۔ جب تک ہم صحیح فکر کے اصولوں کا مطالعہ کرتے ہیں ہم منطق کا علم پڑھتے ہیں لیکن جب ہم ان اصولوں کو اپنی روزمرّہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں اور اپنے اور اوروں کے فکر و استدلال میں غلطیاں نکالتے ہیں تو منطق کا علم۔ منطق کے فَن میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پس منطق علم بھی ہے اور فَن بھی۔ بحیثیت علم اس کا کام ہمیں صحیح فکر کے اصول دینا ہے اور بحیثیتِ فَن اس کا کام ہمیں یہ بتانا ہے کہ ہم کس طرح ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر غلطیوں سے بچ سکتے ہیں۔ چونکہ ہر علم کو صحیح استدلال کی ضرورت ہے اور صحیح استدلال کے اصول علم منطق دیتا ہے لہٰذا ہر علم منطق کا محتاج ہے۔ اسی طرح منطق کا فَن یعنی صحیح استدلال کا فن بھی تمام فنون سے افضل ہے۔ اس بنا پر منطق کو علم العلوم اور فَن الفنون کہا جاتا ہے۔

 منطق اور متعلقہ علوم

 ✽منطق اور نفسیات✽

منطق اور نفسیات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ علم نفسیات ذہن کا مطالعہ کرتا ہے لہٰذا اس کا تعلق فکر سے ہے اور منطق کا موضوع بھی جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں فکر ہے۔ چنانچہ علم منطق اور علم نفسیات دونوں ایک ہی شے کا مطالعہ کرتے ہیں۔ لیکن ان میں مندرجہ ذیل اختلافات بھی ہیں۔
١) علم نفسیات ذہن کی تمام حالتوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ ذہن کی تین حالتیں ہیں الف۔ فکر، ب۔ احساس اور ج۔ خواہش۔ نفسیات کا کام ہے۔ ذہن کی ان حالتوں کا مطالعہ کرنا لیکن علم منطق کا ہمارے احساسات اور ہماری خواہشات سے کوئی سروکار نہیں یہ محض فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا نفسیات کا دائرہِ مطالعہ منطق کے دائرۂ مطالعہ سے وسیع ہے۔
٢) اگرچہ علمِ منطق اور علمِ نفسیات دونوں فکر کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن فکر کے متعلق ان کے نظریے مختلف ہیں۔ منطق ایک میعاری علم ہے اور نفسیات ایک طبعی علم ہے۔ منطق ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فکر کیسا ہونا چاہیے اور نفسیات یہ دیکھتی ہے کہ فکر کی نوعیت اور طریقِ کار کیا ہے۔ منطق فکر کا میعاری نقطۂ نظر سے مطالعہ کرتی ہے اور نفسیات طبعی نقطۂ نظر سے۔
٣) منطق فکر کے نتائج (یعنی تصورات، تصدیقات اور استنتاج) سے بحث کرتی ہے اور ان کی صحت یا عدم صحت کو دیکھتی ہے، لیکن نفسیات فکر کے اعمال سے بحث کرتی ہے اور ان کی صحت یا عدم صحت سے کوئی سروکار نہیں رکھتی۔ بالفاظِ دیگر نفسیات صحیح اور غیر صحیح فکر میں کوئی امتیاز نہیں کرتی اور دونوں میں یکساں دلچسپی رکھتی ہے۔


 ✽ منطق اور علم صرف و نحو ✽ 

(Logic & Grammar)
منطق کا موضوع ہے فکر اور صَرف و نحو کا موضوع ہے زبان چونکہ فکر اور زبان (یعنی خیالات اور الفاظ) میں گہرا تعلق ہے لہٰذا علم منطق (جو فکر سے تعلق رکھتا ہے) اور علمِ صَرف و نحو (جو زبان سے تعلق رکھتا ہے) کا بھی آپس میں گہرا تعلق ہے۔ فکر ہمیشہ زبان میں ادا کیا جاتا ہے۔ زبان فکر کے لئے ناصرف لفظی ترجمہ مہیا کرتی ہے بلکہ مدد کا کام بھی کرتی ہے۔ منطق کی دلچسپی فکر اور زبان دونوں سے ہے۔ نطق (جس سے منطق کا لفظ نکلا ہے) کے معنیٰ میں زبان اور فکر دونوں کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ منطق اور صرف و نحو کا آپس میں گہرا تعلق ہے لیکن ان میں مندرجہ ذیل اختلافات بھی ہیں۔
١) منطق کا موضوع فکر ہے اور زبان اور الفاظ اس کے لئے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں لیکن صرف و نحو میں الفاظ اور زبان اساسی حیثیت رکھتے ہیں اور فکر و خیالات ثانوی اہمیت۔ صرف و نحو کا کام یہ دیکھنا ہے کہ  زبان اور الفاظ صحیح، سلیس، خوبصورت اور برجستہ ہیں یا نہیں۔ خیالات اور دلائل کی صحت دیکھنا اس کا مقصدِ اَوَّل نہیں۔ اس کے برعکس منطق کا کام یہ دیکھنا ہے کہ جو دلائل اور خیالات الفاظ میں پیش کئے گئے ہیں وہ صحیح فکر کے میعار کے مطابق ہیں یا نہیں۔ چنانچہ منطق اور صرف و نحو میں پہلا فرق یہ ہے کہ جو چیز ایک علم میں اساسی حیثیت رکھتی ہے وہ دوسرے علم میں وہ ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ 
منطق میں الفاظ صرف ضمنًا معرضِ بحث ہوتے ہیں۔ اگر علمِ ریاضی کی طرح  منطق کا کام نشانات سے نکل سکے تو منطق الفاظ سے کوئی تعلق ہی نہ رکھے۔ منطقِ جدید کی ایک شاخ ریاضیاتی منطق ایسا کرنے میں ایک حد تک کامیاب ہوگئی ہے۔
٢) صرف و نحو میں ایک جملے کی تحلیل بہت سے اجزاء میں کی جاتی ہے۔ مثلًا اسم، صفت، فعل، متعلق فعل وغیرہ وغیرہ۔ لیکن منطق میں ایک قضیے (منطق میں جملے کو قضیہ کہا جاتا ہے) کی تحلیل صرف تین اجزاء میں کی جاتی ہے۔ یعنی موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ۔ 

موضوع 
موضوع وہ تصور ہوتا ہے جس کا اقرار یا انکار کسی موضوع کے متعلق کیا جائے 
محمول  
محمول وہ تصور ہوتا ہے جس کا اقرار یا انکار کسی موضوع کے متعلق کیا جائے
نسبتِ حکمیہ 
موضوع اور محمول کے درمیان اقرار یا انکار کے تعلق کو نسبتِ حکمیہ کہا جاتا ہے۔ 
چنانچہ منطق کا ایک قضیہ موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ سے مرکب ہوتا ہے مثلًا "پانی گرم ہے" ایک قضیہ ہے اس قضیے میں پانی" موضوع ہے "گرم" محمول ہے اور" "ہے" نسبتِ حکمیہ۔اسی طرح "کوّے سفید نہیں" ایک قضیہ ہے۔ اس قضیہ میں "کوے" موضوع ہے "سفید" محمول ہے اور "نہیں" نسبتِ حکمیہ۔
٣) نسبتِ حکمیہ ہمیشہ زمانۂ حال میں ہوتی ہے یہ فعلِ ناقص کی ایک قسم ہے اور قضیوں میں صرف "ہے" یا "ہیں" یا "نہیں" کی شکل میں ہونی چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ منطق کا تعلق صرف زمانۂ حال سے ہے۔ لیکن صرف و نحو میں زمانۂ حال، زمانۂ ماضی اور زمانۂ مستقبل اور تمام قسم کے فعل یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
٤) صرف و نحو ہر قسم کے جملے سے تعلق رکھتی ہے لیکن منطق صرف جملۂ خبریہ سے تعلق رکھتی ہے۔ مثلًا برف ٹھنڈی ہے، آگ گرم ہے، سپاہی بہادر ہیں، طوطے سیاہ نہیں وغیرہ وغیرہ چنانچہ منطق میں دوسرے جملوں کو جملۂ خبریہ کی شکل میں بدل دیا جاتا ہے اور باقی اقسامِ فعل کو زمانۂ حال اور فعلِ ناقص کی شکل دے دی جاتی ہے۔ مثلًا "زید کل حاضر تھا" اس جملے کی منطق میں شکل یہ ہوگی "زید ہے وہ شخص جو کل حاضر تھا" یہاں "زید" موضوع ہے، "وہ شخص جو کل حاضر تھا" محمول اور "ہے" نسبتِ حکمیہ۔ اسی طرح منطق اس جملے کو "میرا بھائی کل نہیں جائے گا" مندرجہ ذیل قضیے میں تبدیل کردے گی "میرا بھائی نہیں وہ شخص جو کل جائے گا" یہاں "میرا بھائی "بھائی موضوع ہے "وہ شخص جو کل جائے گا" محمول، اور "نہیں" نسبتِ حکمیہ۔

منطق کا دائرۂ مطالعہ

منطق کا موضوع کیا ہے؟ اس علم میں کن چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے؟ اس علم کی حدود کیا ہیں؟ ان سب سوالوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطق فکر کا مطالعہ کرتی ہے لیکن یہ فکر کے اعمال کا مطالعہ نہیں کرتی بلکہ فکر کے نتائج کا۔ یعنی تصورات، تصدیقات اور استدلالات کی صحت دیکھتی ہے۔ یعنی اس کا کام فکر کی صحت دیکھنا ہے۔ صحت جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں دو قسم کی ہوتی ہے۔ صوری اور مادی اور منطق کا تعلق ان دونوں سے ہے۔
اگرچہ منطق کا مقصدِ اول فکر کا مطالعہ ہے لیکن کسی حد تک یہ زبان اور اشیاء سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ فکت ہمیشہ زبان میں ظاہر کیا جاتا ہے اور اسے صحیح ہونے کے لئے بیرونی حقیقت یعنی اشیاء کے مطابق ہونا چاہیے۔
بعض منطقیوں کی رائے یہ ہے کہ منطق کا تعلق صرف فکر سے ہے۔ اس نظریے کو تصوریت کہتے ہیں۔ اور جو اس نظریے کے حامی ہیں انہیں متصورین کہتے ہیں۔ بعض منطقی یہ کہتے ہیں کہ منطق کا تعلق زبان سے ہے۔ اس نظریے کو اسمیّت اور جو منطقی اس نظریے کے حامی ہیں انہیں اسمیّین کہتے ہیں۔ منطقیوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جن کا یہ خیال ہے کہ منطق کا تعلق نہ فکر سے ہے نہ زبان سے بلکہ اشیاء سے۔ اس نظریے کو موجودیت اور جو اس کے حامی ہیں انہیں موجودیّین کہتے ہیں۔
یہ تینوں نظریے منطق کے دائرۂ مطالعہ کو فکر یا زبان یا اشیاء تک محدود کرتے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ منطق کا تعلق صرف فکر یا صرف زبان یا صرف اشیاء سے نہیں۔ بلکہ ان تینوں سے ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کہ منطق کے لئے فکر سب سے زیادہ اہم ہے۔ واقعی زبان کے بغیر فکر کا اظہار اور اس کی نشوونما ممکن نہیں۔ اشیاء کے بغیر بھی فکر کا معرضِ وجود میں آنا ناممکن ہے۔ فکر ہمیشہ کسی شے سے متعلق ہوتا ہے اور اسے صحیح ہونے کے لئے اشیاء کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن پھر بھی منطق کے نزدیک زبان اور اشیاء کی وہ اہمیت نہیں جو فکر کی ہے۔ منطق کو اگر زبان اور اشیاء سے تعلق ہے تو صرف اسی حد تک جہاں تک یہ فکر کے لئے ضروری ہیں۔

 منطق کے فوائد

کئی معترض یہ کہتے ہیں کہ منطق کا مطالعہ بے سود ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ منطق کے مطالعے کے بغیر بھی بہت سے لوگ صحیح فکر و استدلال کرسکتے ہیں اور اس کے مطالعہ کے باوجود بھی بہت سے لوگ غَلَط استِدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ اعتراض درست نہیں۔ ہم علمِ طِب کے مطالعہ کے بغیر بھی تندرست رہ سکتے ہیں اور علمِ طب کے مطالعہ کے باوجود بھی بیمار ہوسکتے ہیں۔ لیکن کیا اس بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علمِ طِب بےفائدہ ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ہم تندرست ہوں علمِ طب کے محتاج نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب تک ہم صحیح فکر و استِدلال کریں ہم منطق کے محتاج نہیں ہوتے۔ لیکن اگر ہم بیمار ہوجائیں تو ہمیں علمِ طب کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح جب ہمارا فکر و استِدلال کسی غلطی میں مبتلا ہوجائے تو یہ جاننے کے لئے کہ غلطی کیا ہے اور کیسے پیدا ہوئی ہے اور کس طرح اسے درست کرنا چاہیے، ہمیں منطق کی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم اپنی عقلِ عام (جو ایک قسم کی قُدرتی منطق ہے) کی مدد سے صحیح فکر و استدلال کرسکتے ہیں اور اکثر کرتے ہیں لیکن عقل عام دراصل عام نہیں ہوتی۔ انسان خطا کا پُتلا ہے۔ لہٰذا اسے غلطیوں سے بچنے کے لئے منطق کا محتاج ہونا ہی پڑتا

چنانچہ اس بات سے کہ منطق کے مطالعے کے بغیر بھی صحیح فکر و استِدلال ممکن ہے منطق کی ضرورت اور اہمیت کم نہیں ہوتی۔ قانونِ کششِ ثقل کے معلوم ہونے سے پہلے لوگ درختوں اور مکانوں کی چھتوں سے گر کر اپنے سر نہیں پھوڑا کرتے تھے۔ اسی طرح انسان نے علمِ حفظانِ صحت کے معلوم ہونے تک اپنا عملِ انہضام ملتوی نہیں کررکھا تھا۔ لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ قانونِ کششِ ثقل کا علم یا عملِ انہضام کا علم اس لیے بےفائدہ ہے کہ لوگ اس کے بغیر بھی زندہ رہتے تھے یا رہ سکتے ہیں؟

:علاوہ بریں منطق کے مندرجہ ذیل واضح فوائد ہیں

١) یہ علم ہماری ذہانت تیز کرتا ہے فکر و استدلال کی قوت کو بڑھاتا ہے اور ہمیں صاف اور صحیح طریقے سے سوچنا سکھاتا ہے گویا ہمارے ذہن کے تزکیہ اور تہذیب کے لئے یہ علم نہایت موزوں ہے ہمارے لئے یہ علم ایک بہت اچھی دماغی ورزش ہے۔

٢) ہمیں صحیح فکر و استدلال کے قوانین سے واقف کرکے یہ علم اوروں کے گمراہ کن استدلال ہماری اپنی غلطیوں سے آگاہ کرتا ہے لیکن یہ فرض کرلینا ایک غلطی ہے کہ منطق کے مطالعے کے بعد ہمارا فکر و استدلال ہمیشہ صحیح ہوگا۔ جس طرح ڈاکٹری کا علم حاصل کرلینے کے بعد بھی ڈاکٹر بیمار ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح علم منطق کے مطالعے کے بعد بھی ہم فکری غلطیوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اور اگر علم طب بےفائدہ نہیں سمجھا جاتا خواہ طبیب اس کے مطالعہ کے باوجود بھی بیماریوں میں مبتلا ہوجائیں تو علم منطق کو بھی بےفائدہ نہیں سمجھنا چاہیے خواہ اس کے مطالعہ کے باوجود بھی ہم اپنے فکر و استدلال میں غلطیاں کریں

٣) دیگر علوم ہمیں محض اطلاعات دیتے ہیں۔ مثلًق علم کیمیا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مل کر بنتا ہے۔ لیکن منطق کا مقصد ہمارے ذہن کی تشکیل ہے ذہن کے لئے اطلاعات بہم پہنچانے کی نسبت ذہن کی تشکیل بہت زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ صحیح تعلیم کا یہی ایک اہم مقصد ہے اور یہ مقصد منطق کماحقہ پورا کرتی ہے۔ انسان کے لئے منطقی ذہن رکھنا بہترین دولت ہے

٤) دیگر علوم کے لئے بھی منطق نہایت مفید ہے ہر علم کو صحیح فکر و استدلال کی ضرورت ہے اور صحیح فکر و استدلال کے قانون بتانا منطق کا کام ہے، اس لئے منطق کو علم العلوم کہا جاتا ہے

٥) منطق ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی ہمارے لئے بیحد مفید ہے ہم اپنی روزمرّہ کی گفتگو اور دلائل میں نادانستہ طور پر منطق کے اصولوں کو استعمال میں لاتے ہیں لیکن اگر ہم اس علم کی تحصیل کے بعد دانستہ طور پر اس کے اصولوں کو عمل میں لائیں تو ہم صحیح استدلال کی مدد سے اوروں کو اپنی صحیح باتوں کی معقولیت کا قائل کرسکتے ہیں۔ اُستادوں، وکیلوں، واعظوں اور مقرروں کے لئے تو بالخصوص یہ علم نہایت ضروری اور کارآمد ہے۔

فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ

منطقِ استخراجیہ کے اسباق

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اقسام

حُدود کی تعبیر اور تضمن

حُدود قابل الحمل

تعریف

تقسیم

قضیے اور ان کی قسمیں

قضیوں کی چار اساسی شکلیں

استنتاجِ استخراجیہ کی اقسام

استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا

استنتاجِ بدیہی جہتی

استنتاجِ بالواسطہ یا نظری

قواعدِ قیاس

قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق

قیاس کی اشکال

مخلوط شرطیہ قیاس

مخلوط منفصلہ قیاس

معضلہ یا قیاسِ ذوالجہتین

مُغالطے

منطقِ اِستِقرائیہ کے اسباق

منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ

اِستِقراء کی قسمیں
تعمیم

منطقِ اِستِقرائیہ کی بنیادیں

منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں

قانُونِ عِلَّت

صفحات
موجود کا بیان
علم کا بیان
تصور اور تصدیق کا بیان
تصور اور تصدیق کی قسمیں

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اَقسام