حُدود کی تعبیر اور تضمن
تعبیر اور تضمن کا مطلب
Denotation & Connotation of Terms
تعبیر اور تضمن کا مطلب:۔ ہم پچھلے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ حُدود کا مفہوم بلحاظِ دلالت دو قسم کا ہوسکتا ہے۔ اوّل تعبیر اور دوسرے تضمن۔ حُدود کی دلالتِ افرادی کو ان کی تعبیر اور دلالتِ وصفی کو ان کا تضمن کہتے ہیں۔ کسی حَدّ کی تعبیر سے مُراد وہ تمام افراد ہیں جن کو اس حد کا نام دیا جاتا ہے یا دیا جاسکتا ہے۔ کسی حد کے تضمن سے مراد اس حد کی وہ ضروری صفات ہیں جو ان تمام افراد میں جن کو اس حد کا نام دیا جاتا ہے پائی جاتی ہیں۔ مثلًا انسان کی تعبیر یعنی دلالتِ افرادی سے مُراد دنیا کے تمام وہ افراد ہیں جنہیں انسان کہا جاسکتا ہے اور انسان کے تضمن سے مراد وہ ضروری صفات ہیں جو تمام انسانوں میں پائی جاتی ہیں اور جن کی وجہ سے انسان کو انسان کہا جاتا ہے۔ اسی طرح لفظ گھوڑا کی تعبیر ان تمام افراد پر مشتمل ہے جو اس نام سے پکارے جاسکتے ہیں۔ یعنی تمام گھوڑے۔ یہاں تمام گھوڑوں سے ہماری مُراد صرف وہی گھوڑے نہیں جو اس وقت دنیا میں ہیں بلکہ وہ بھی جو مرچکے ہیں اور وہ بھی جو آئندہ پیدا ہوں گے۔ گھوڑے کا تضمن ان ضروری صفات پر مشتمل ہے جو تمام گھوڑوں میں پائی جاتی ہیں اور جن کی وجہ سے کسی فرد کو گھوڑا کہا جاتا ہے یا جن کی عدم موجودگی میں کوئی فرد گھوڑا نہیں کہلا سکتا۔ پس تعبیر سے مراد افراد اور تضمن سے مراد صفات ہیں۔
تعبیر اور تضمن کی تعیین اور ان کے باہمی فرق کو یوں بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ تعبیر میں ایک حد ان تمام افراد کے لئے جن پر وہ مشتمل سمجھی جاتی ہے محمول بن سکتی ہے۔ مثلًا انسان کی تعبیر زید، بکر، ارسطو وغیرہ ہیں۔ ان تمام افراد کے لئے لفظ انسان محمول بن سکتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زید انسان ہے، بکر انسان ہے، ارسطو انسان ہے۔ اسی طرح تضمن میں بھی وہ تمام صفات جن پر کسی حد کا تضمن مشتمل ہوتا ہے۔ اس حد کے لئے محمول بن سکتی ہیں۔ مثلًا انسان کے تضمن میں دو صفات شامل ہیں اوّل حیوان ہونا دوسرے عاقل ہونا۔ اگر یہ دو صفات علامت صه سے ظاہر کی جائیں، یعنی یہ کہا جائے کہ یہ دو صفات برابر ہیں صه کے تو یہ تضمن انسان کے لئے محمول بن سکتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان صه ہے۔
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ کسی فرد کے تضمن سے مراد وہ ضروری صفات ہوتی ہیں جن کی موجودگی میں اس فرد کو وہ نام دیا جاتا ہے جو کہ اس کا ہے۔ اور جن کی عدم موجودگی میں اس فرد کو وہ نام نہیں دیا جاسکتا۔ مثلًا انسان کی ضروری صفات حیوانیت اور عقل ہیں۔ چنانچہ یہ انسان کا تضمن ہیں۔ اگر کسی فرد میں یہ دونوں صفات موجود ہوں گی تو ہم اُسے انسان کہیں گے ورنہ نہیں۔ کسی فرد کی ایسی صفات جن کی موجودگی کو علماء اس فرد کے لیے ضروری سمجھنے میں متفق ہوں اس فرد کا تضمنِ متعیّنہ کہلاتی ہیں۔ اور یہ صفات وہ صفات ہوتی ہیں جو کسی فرد کی تعریف میں بیان کی جاتی ہیں۔
بعض منطقیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کسی فرد کی حد یا تضمن سے مراد اس کی وہ صفات نہیں ہوتیں جنہیں علماء اس فرد یا حد کے لئے ضروری سمجھیں بلکہ وہ صفات ہوتی ہیں جو اس حد کے استعمال کرنے والے کے ذہن میں اس وقت موجود ہوں جب وہ اس حد کو استعمال کررہا ہو۔ تضمن کے متعلق یہ ایک زعمی نقطۂ نظر ہے لہٰذا ہم تضمن کے اس مفہوم کو تضمنِ زعمی کہہ سکتے ہیں۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق کسی فرد یا حد کا تضمن اس فرد یا حد کا کوئی متعین تصور نہیں ہوتا بلکہ ایک ہی موقع پر مختلف اشخاص کے لئے اور مختلف موقعوں پر ایک ہی شخص کے لیے مختلف ہوسکتا ہے۔ اگر تضمن سے ہماری مُراد صرف تضمنِ زعمی ہو تو پھر ہمیں اسمائے خاص کو تضمنی تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ جب ہم کسی کو زید کے نام سے پُکارتے ہیں تو ہمارے ذہن میں زید کے متعلق کچھ صفات کا خیال ضرور آجاتا ہے۔ تضمن کے متعلق یہ نظریہ صحیح نہیں۔
منطقیوں کے ایک اور گروہ کا عقیدہ ہے کہ کسی فرد کا صحیح تضمن نہ تو ان صفات پر مشتمل ہوتا ہے جو اس کی تعریف میں بیان کی جاتی ہیں اور نہ ان صفات پر جو کسی حد کے استعمال کرنے والے کے ضمن میں اس وقت موجود ہوں جب کہ وہ اس حد کا خیال کررہا ہو۔ ان منطقیوں کے مطابق کسی شے کا صحیح تضمن اس شے کی ان تمام صفات پر مشتمل ہوتا ہے جو آج تک معلوم ہوچکی ہیں اور آئندہ معلوم ہوں گی۔ تضمن کے اس مفہوم کو تضمنِ جامع کہا جاتا ہے۔
اگر تضمن سے مراد کسی شے کی صفات کے متعلق مکمّل علم ہو تو ظاہر ہے کہ یہ پورے طور پر حاصل نہیں ہوسکتا۔ تضمن کے متعلق یہ نظریہ بھی مفید نہیں۔
چنانچہ تضمن کے متعلق بہترین نظریہ یہ ہے کہ تضمن کسی شے یا فرد کی ان ضروری صفات کو کہتے ہیں جن کی وجہ سے اس فرد یا شۓ کو وہ نام دیا جاتا ہے جو کہ اس کا ہے اور جن کی عدم موجودگی میں اس شۓ یا فرد کو وہ نام نہیں دیا جاسکتا۔
تعبیر اور تضمن کا باہمی تعلق
تعبیر اور تضمن میں معکوس تعلق پایا جاتا ہے۔ یعنی اگر تعبیر کو بڑھایا جائے تو تضمن میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور اگر تعبیر کو کم کیا جائے تو تضمن بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر تضمن کو بڑھایا جائے تو تعبیر میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اور اگر تضمن کو کم کیا جائے تو تعبیر بڑھ جاتی ہے۔ مختصرًا ایک کے بڑھنے سے دوسرا گھٹتا ہے اور ایک کے گھٹنے سے دوسرا بڑھتا ہے۔ تعبیر اور تضمن کے اس تعلقِ معکوس کو ہم متعدد حُدود کی مندرجہ ذیل مثال سے واضح کرسکتے ہیں۔
ان متعلق حدود میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کی تعبیر حیوان کی تعبیر سے کم ہے۔ طلبہ کی تعبیر انسان کی تعبیر سے کم ہے۔ مگر انسان کا تضمن حیوان کے تضمن سے زیادہ ہے۔ طلبہ کا تضمن انسان کے تضمن سے زیادہ ہے اور کالج کے طلبا کا تضمن طلبا کے تضمن سے زیادہ ہے جوں جوں تعبیر گھٹتی جاتی ہے تضمن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے تعبیر گھٹتی جاتی ہے۔
انسان کی تعبیر (یعنی انسانوں کی تعداد) حیوان کی تعبیر (یعنی حیوانوں کی تعداد) سے کم ہے۔ طلبہ کی تعداد انسانوں کی تعداد سے کم ہے اور کالج کے طلبہ کی تعداد طلبا کی تعداد سے کم ہے لیکن انسان کا تضمن حیوان کے تضمن سے زیادہ ہے۔ حیوان میں حیوانیت کی صفت پائی جاتی ہے اور انسان میں حیوانیت کے علاوہ انسان ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے۔ طلبا کا تضمن انسان کے تضمن سے زیادہ ہے طلبا میں انسان کی تمام صفات کے علاوہ طالب علم ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے۔ کالج کے طلبا کا تضمن طلبا کے تضمن سے زیادہ ہے۔ کالج کے طلبا میں طلبا کی تمام صفات کے علاوہ کالج کے طالب علم ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے۔
اگر ہم نیچے سے اوپر کی طرف جائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جوں جوں تعبیر بڑھتی جاتی ہے تضمن کم ہوتا جاتا ہے۔ کالج کے طلبا کے مقابلہ میں طلبا کی تعداد زیادہ ہے۔ طلبا کے مقابلہ میں انسانوں کی تعداد زیادہ ہے اور انسانوں کے مقابلہ میں حیوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مگر کالج کے طلبا کے مقابلے میں طلبا کی صفات کم ہیں۔ طلبا کے مقابلے میں انسانوں کی صفات کم ہیں اور انسان کے مقابلے میں حیوان کی صفات کم ہیں۔
اس مثال کو مندرجہ ذیل دائروں سے بھی واضح کیا جاسکتا ہے۔
![]() |
| دائرے تعبیر کو ظاہر کرتے ہیں اور حروف ا، ب، ج، د تضمن کو۔ |
ایک اور مثال لیجئے
میز
⋮
گول میز
⋮
سیاہ رنگ کے گول میز
گول میز کی تعبیر (یعنی گول میزوں کی تعداد) میز کی تعبیر (یعنی میزوں کی تعداد) سے کم ہے۔ اور سیاہ رنگ کے گول میز کی تعبیر گول میز کی تعبیر سے کم ہے۔ مگر میز کے مقابلے میں گول میز کی صفات زیادہ ہیں۔ میز میں میز ہونے کی صفت پائی جاتی ہے۔ گول میز میں میز ہونے کے علاوہ گول ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح گول میز کے مقابلے میں سیاہ رنگ کے گول میز کی صفات زیادہ ہیں۔ سیاہ رنگ کے گول میز میں میز ہونے اور گول ہونے کی صفات کے علاوہ سیاہ ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر تعبیر کم کردی جائے تو تضمن بڑھ جاتا ہے اور اگر تعبیر بڑھا دی جائے تو تضمن کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر تضمن بڑھا دیا جائے تو تعبیر کم ہوجاتی ہے اور اگر تضمن کم کردیا جائے تو تعبیر بڑھ جاتی ہے۔ تعبیر اور تضمن کے باہمی تعلق کے سلسلے میں مندرجہ ذیل باتیں یاد رکھنی چاہیے ہیں۔
١) تعبیر اور تضمن کا باہمی تعلق (یعنی ان کا گھٹنا اور بڑھنا) صرف متعلق حدود کی مدد سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ایسی حدود کی مدد سے جن میں جماعتوں کی ترتیب بحیثیت بڑی اور چھوٹی جماعتوں کے ممکن ہو۔ مثلًا حیوان، انسان، طلبا۔ یہاں حیوان ایک بڑی جماعت ہے۔ انسان کی جماعت حیوان کی جماعت میں شامل ہے اور طلبا کی جماعت انسان کی جماعت میں شامل ہے۔ یہ متعلق جماعتیں ہیں اور ان میں ہم تعبیر اور تضمن کا باہمی تعلق ظاہر کرسکتے ہیں۔ محض ایک حد (مثلًا انسان) سے ہم تعبیر اور تضمن کا بڑھنا اور گھٹنا ظاہر نہیں کرسکتے۔
٢) تعبیر اور تضمن کے باہمی تعلق کے سلسلے میں ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک کے بڑھنے سے دوسرے میں کمی واقع ہوتی ہے اور ایک کے گھٹنے سے دوسرے میں زیادتی واقع ہوتی ہے مگر ان کی کمی اور زیادتی میں کوئی خاص تناسب نہیں پایا جاتا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر تعبیر دُگنی ہوجائے تو تضمن آدھا رہ جائے گا یا تضمن دُگنا ہوجائے تو تعبیر آدھی رہ جائے گی۔ ہوسکتا ہے کہ ایک صفت کے بڑھانے سے تعبیر میں تھوڑی کمی واقع ہو اور ایک اور صفت بڑھانے سے زیادہ کمی واقع ہو۔ مندرجہ ذیل مثالوں کو دیکھیں
آدمی ←سفید آدمی
آدمی ←ایماندار آدمی
آدمی میں سفیدی کی صفت کا اضافہ کرنے سے تعبیر کم ہوجائے گی۔ اسی طرح آدمی میں ایمانداری کی صفت کا اضافہ کرنے سے بھی تعبیر کم ہوجائے گی مگر دونوں صورتوں میں تعبیر ایک جیسی کم نہیں ہوگی۔ دوسری صورت میں تعبیر پہلی صورت کی نسبت زیادہ کم ہوگی۔ ایماندار آدمی سفید آدمیوں سے یقینًا تعداد میں کم ہیں۔
٣) ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ صفات (یعنی تضمن) کے بڑھانے سے تعداد (یعنی تعبیر) گھٹتی ہے لیکن اگر کسی جماعت میں ایسی صفت کا اضافہ کیا جائے جو اس جماعت کے تمام افراد میں پائی جاتی ہو تو اس صورت میں تعبیر میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا مندرجہ ذیل مثالیں ملاحظہ ہوں۔
انسان ←فانی انسان
دائرے ←گول دائرے
انسان میں فانی ہونے کی صفت کا اضافہ کرنے کے لئے تعبیر کم نہیں ہوگی کیونکہ یہ ایک ایسی صفت ہے جو تمام انسانوں میں پائی جاتی ہے۔ فانی انسانوں کی تعداد انسانوں کی تعداد سے کم نہیں ہوتی۔ اسی طرح دائروں میں گول ہونے کی صفت کے بڑھانے سے تعداد میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کیونکہ گول ہونے کی صفت تمام دائروں میں پائی جاتی ہے۔ گول دائرے تعداد میں دائروں سے کم نہیں ہوتے۔ جب ہم انسان میں فانی ہونے کی صفت کا اضافہ کرتے ہیں تو دراصل کسی نئی صفت کا اضافہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب دائروں میں گول ہونے کی صفت کا اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ بھی دراصل کسی نئی صفت کا اضافہ نہیں ہوتا۔ اسی لئے تعبیر میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ انسان اور فانی انسان میں محض لفظی فرق ہے۔ صفات کا فرق نہیں۔ دراصل یہ دو مختلف حُدود نہیں۔ لیکن انسان اور ایماندار دو مختلف حدود ہیں۔ انسان میں ایمانداری کی صفت کا اضافہ کرنے سے ہم ایک نئی حد (یعنی ایماندار انسان) بناتے ہیں اور اسی لئے تعبیر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ چنانچہ جب تک تعبیر اور تضمن کے تغیّر ہی وجہ سے ایک نئی حدّ نہ بنے ان میں کوئی زیادتی یا کمی واقع نہیں ہوتی۔
دلالتِ افرادی (یعنی تعبیر) اور دلالتِ وصفی (یعنی تضمن) میں سے فوقیّت کسے ہے؟
جب ہم کسی حدّ کو استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں پہلے اس فرد یا شے کا خیال آتا ہے جو اس حد کے نام سے پکاری جاتی ہے اور بعد میں ان صفات کا جو اس شے میں پائی جاتی ہیں۔ مثلًا جب ہم لفظ "آدمی" بولتے ہیں یا سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں پہلے ان افراد کا خیال آتا ہے جنہیں آدمی کہا جاتا ہے اور بعد میں آدمیّت کا ۔ چنانچہ نفسیاتی لحاظ سے تعبیر کو تضمن پر فوقیّت حاصل ہے۔ لیکن کسی شے کو اس کا نام اس کی صفات کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ آدمی کو آدمی اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں آدمی ہونے کی صفات پائی جاتی ہیں۔ اشیاء کے ناموں کا انحصار ان کی صفات پر ہوتا ہے۔ گویا تعبیر کا انحصار تضمن پر ہوتا ہے۔ آدمیّت کے بغیر کسی فرد کا آدمی کہلانا ممکن ہی نہیں۔ یعنی تضمن کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں چنانچہ منطقی لحاظ سے تضمن کو تعبیر پر فوقیّت حاصل ہے۔
فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ۔
منطقِ استخراجیہ کے اسباق
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
منطقِ اِستِقرائیہ کے اسباق
منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ
صفحات



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں