اشاعتیں

اکتوبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حُدود اور ان کی اَقسام

تصویر
تیسرا باب  منطق کی تقسیم ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ علمِ منطق فکر کا مطالعہ کرتا ہے اور فکر سے مراد ہے تصورات، تصدیقات اور استنتاج۔ چنانچہ فکر کی ان تینوں حالتوں کے مطابق علمِ منطق کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں ہم تصورات یا اطراف یا حدود سے بحث کریں گے۔ دوسرے حصے میں تصدیقات یا قضیوں سے اور تیسرے حصے میں استنتاج سے.......

فکر کے اُصُول

تصویر
فکر کے اُصُول ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ علمِ منطق فکر کے اصولوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ بالفاظِ دیگر اس کا کام ہمیں وہ اُصُول بتانا ہے جن کے بغیر صحیح فکر ممکن ہی نہیں۔ ایسے اُصُول بہت سے ہیں جن میں سے کچھ تو اُصُولِ اوّلیہ ہیں اور کچھ ثانوی یا جزوی اُصُول ہیں جو اُصُولِ اوّلیہ سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ اس باب میں ہم فکر کے اُصُولِ اولیہ سے بحث کریں گے چونکہ یہ وہ اصول ہیں جن پر منطق اور فکر کا دارومدار ہے لہٰذا انہیں فکر کے بنیادی اُصُول یا اُصُولِ اوّلیہ کہا جاتا ہے۔ صحیح فکر ہمیشہ انہی اُصُولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ گویا یہ اُصُول اساسِ فکر ہیں۔ یہ اُصُول چار ہیں۔  ١. اُصُولِ عینیّت Law of Identity  ٢. اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین Law of Non-Contradiction   ٣. اُصُولِ خارجُ الاوسط Law of Excluded Middle   ٤. اُصُولِ وجۂ کافی Law of Sufficient Reason  ١. اُصُولِ عینیت   یہ اُصُول کہتا ہے کہ ہر شےء وہی ہے جو کہ وہ ہے۔ ایک کُتّا کُتّا ہے۔ ایک بِلّی بِلّی ہے۔  ایک چُوہا چُوہا ہے۔ اس اُصُول کو یوں بیان کیا جاتا ہے۔  ” اگر الف ب ہے تو یہ ب ہے “  اگر لو...

علمِ منطق کی تعریف

تصویر
علمِ منطق کی تعریف اور اس کا جائزہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنی کسی بات یا دعوے کے درست ثابت کرنے کے لئے (یا اوروں کی کسی بات یا دعوے کو درست یا غلط ثابت کرنے کے لئے) دلائل پیش کرتے ہیں۔ ہمارے دلائل کبھی صحیح ہوتے ہیں اور کبھی غلط۔ اگر لوگ منطقی ہوں تو ہمارے صحیح دلائل کو قبول کرلیتے ہیں اور غلط دلائل کو ردّ کردیتے ہیں۔ صحیح اور غلط دلائل کا موازنہ کرکے ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ وہ کونسے اُصُول اور قوانین ہیں جن کے مطابق ہمیں استدلال کرنا چاہیے تاکہ ہمارے دلائل صحیح ہوں۔ انہی اصولوں کے مجموعے کا نام ”علمِ منطق“ ہے۔   جب ہم کسی مسئلہ کے متعلق استدلال کرتے ہیں تو اس کے متعلق سوچتے ہیں۔ فکر سے کام لیتے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ منطق کا تعلق فکر سے ہے۔ یعنی منطق کا موضوع فکر ہے منطق کے علاوہ علم نفسیات بھی فکر سے بحث کرتا ہے مگر دونوں کے نُقطۂ نظر میں فرق ہے۔ علم نفسیات کا کام یہ دیکھنا ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں ، ہمارا طریقِ استدلال کیسا ہوتا ہے؟ اس کے برعکس علم منطق کا کام یہ دیکھنا ہے کہ ہمیں کس طرح سوچنا چاہیے! ہمارا طریقِ استدلال کیسا ہونا چاہیے! اس کتاب میں ہم یہ پڑھیں گے ک...