قانونِ یکسانئ فطرت
ستائیسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کی صوری بُنیادیں قانُونِ یکسانئ فطرت LAW OF UNIFORMITY OF NATURE وحدتِ فطرت UNITY OF NATURE ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ تعمیم کی بُنیاد ہمارے اس عقیدے پر ہے کہ فطرت ایک منظم وحدت ہے۔ اگر فطرت ایک منظم وحدت نہ ہوتی تو ممکن ہے کہ سُورج جو ہزاروں سالوں سے آج تک طُلُوع ہوتا رہا ہے کل سے طُلُوع ہونا بند ہوجائے۔ ممکن ہے کہ آگ جو آج تک جلتی رہی ہے کل سے ٹھنڈی ہوجائے۔ ممکن ہے کہ مادّی چیزیں جو آج تک زمین کی طرف گرتی رہی ہیں آئندہ آسمان کی طرف جانا شروع کردیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو ہر طرف ابتری کا عالَم ہو۔ ایسے حالات میں جب کہ ہمیں یقین ہی نہ ہو کہ مستقبل ماضی جیسا ہوگا یا نہیں ہوگا نہ علم ورنہ زندگی ممکن ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے فطرت غیرمنظم حقائق کا نہیں، یہ ایک منظم کُل ہے۔ جس کے مختلف اجزاء آپس میں بھی متعلق ہیں اور کُل کے ساتھ بھی تعلُّق رکھتے ہیں۔ اجزاء کا وُجُود نہ تو ایک دوسرے سے علـٰحدہ ممکن نہیں۔ ایسا کُل جس میں اجزاء خلقی طور پر آپس میں اور کُل کے ساتھ متعلّق ہوں یعنی جو بحیثیتِ کُل اور اجزاء کے نُقطۂِ نظر سے ایک وحدت ہو خلقی کُل کہلاتا ہے۔ ایسا کُل ایک مجمو...