اشاعتیں

Syllogism لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

قانونِ ارسطو اور قواعد قیاس کا باہمی تعلق

تصویر
  قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق RELATION BETWEEN ARISTOTLE'S DICTUM AND RULES OF SYLLOGISM  استدلال دراصل فکر کے اُن اساسی قوانین پر مبنی ہے جن کا مطالعہ ہم دوسرے باب میں کرچکے ہیں۔ مثلًا تمام حملیہ قیاس جو موجبہ ہوتے ہیں اُصُولِ عینیّت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر س، م ہو اور م، پ ہو تو اُصُولِ عینیّت کے مطابق س، پ ہوگا۔ اسی طرح تمام حملیہ قیاس جو سَالِبَہ ہوں اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر س، م ہو اور م، پ نہ ہو تو اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین کے مطابق س، پ نہیں ہوگا۔ کیونکہ س ایک ہی وقت میں م اور پ نہیں ہوسکتا جب کہ م، پ نہ ہو۔ اسی طرح تمام شرطیہ قیاس اُصُولِ وجۂ کافی پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثلًا؛  اگر ایک شخص لالچی ہو تو وہ ناخوش ہوگا اگر ایک شخص خود غرض ہو تو وہ لالچی ہوگا لہٰذا اگر ایک شخص خود غرض ہو تو وہ ناخوش ہوگا اس قیاس میں یہ قضیہ "اگر ایک شخص لالچی ہو" (جو حدِ اوسط کا کام کرتا ہے) وجۂ کافی کو ظاہر کرتا ہے۔ ارسطو نے (جو علمِ منطق کا بانی تھا) قیاس کا ایک ایسا جامع قانون وضع کیا تھا جس سے قیاس کے مختلف قواعد (جن کا ہم مطالعہ کرچکے ہیں) ا...