منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں

 پچیسواں باب

منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں

مُشاہدہ اور تجربہ

اہرامِ مصر

ہم یہ پڑھ چُکے ہیں کہ منطقِ اِستِقرائیہ کا کام کُلیّہ قضیے مُرتب کرنا ہے اور کُلیّہ قضیے جُزئ حقائق سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ کُلیّہ قضیوں کو قائم کرنے سے پہلے یعنی تعمیم سے پہلے ہمیں جُزئ حقائق کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح ایک عمارت کے بنانے میں پہلے ہم مؤاد (اینٹیں، چونا، لکڑی وغیرہ وغیرہ) جمع کرتے ہیں اور پھر اس مواد کو کوئی شکل یا ترتیب دیتے ہیں اسی طرح منطقِ اِستِقرائیہ میں ہمارا پہلا کام حقائق کو جمع کرنا ہوتا ہے اور دوسرا کام اُن حقائق کو قانونِ عِلّت اور قانون یکسانئ فطرت کے تحت ترتیب دینا ہوتا ہے۔ حقائق جیسا کہ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں مُشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوتے ہیں۔ مثلًا یہ حقائق کہ انسان فانی ہیں، کوّے سیاہ ہیں، جگالی کرنے والے جانوروں کے کھُر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں مُشاہدے سے معلوم ہوتے ہیں۔ سائنس میں حقائق تجربے سے فراہم کئے جاتے ہیں مثلًا سائنسدان تجربے کی مدد سے یہ معلوم کرتے ہیں  کہ پانی ایک حِصّہ آکسیجن اور دو حصّے ہائیڈروجن سے مُرکّب ہے۔ چنانچہ مُشاہدہ اور تجربہ تعمیم کے لئے مؤاد یا حقائق فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اِستِقرائی عمل کا پہلا قَدَم ہیں۔

مُشاہدہ؛ منطق کا کام حقائق کی تصدیق کرنا ہے اور حقائق کی تصدیق مُشاہدے سے کی جاتی ہے۔ مُشاہدے سے مُراد ہے کسی شے یا واقعہ کا غور سے مُطالعہ کرنا۔ چنانچہ مُشاہدے کا کام حقائق کا بعینہٖ اس طرح جس طرح کہ وہ حقیقت میں وقوع پذیر ہوں مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔ ایک معمولی سی حقیقت یا واقعے کا مُشاہدہ بھی (اگر سمجھ بوجھ والا ذہن اُسے اپنے مُشاہدے میں لے آئے)  ایک بُہت بڑی اہمیّت کا حامل ہوسکتا ہے۔ جیمز واٹ نے بھاپ کی طاقت سے ایک کیتلی کے ڈھکنے کو اوپر اُٹھتے ہوئے دیکھا۔ نیوٹن نے ایک سیب کو زمین کی طرف گِرتے ہوئے دیکھا۔ یہ دونوں مُشاہدے علیٰ الترتیب بھاپ کے انجن کی ایجاد اور قانونِ کششِ ثقل کی دریافت کا سبب بنے۔ چنانچہ مُشاہدہ علمی اور عملی دونوں لحاظ سے بڑی اہمیّت رکھتا ہے۔ 

مُشاہدہ ذاتی بھی ہوسکتا ہے اور غیر ذاتی یا شہادتی بھی۔ مُشاہدہ حواس کی مدد سے بھی کیا جاسکتا ہے اور آلات کی مدد سے بھی۔ اس کے علاوہ مُشاہدہ بیرونی دُنیا کے حقائق کا بھی ہوسکتا ہے اور ذہن کے اندرونی حقائق کا بھی۔ ذہن کے اندرونی حقائق مثلًا غم و غُصّہ وغیرہ وغیرہ کا مُشاہدہ دروں بینی سے ہوسکتا ہے۔ اس قسم کا اندرونی مشاہدہ مُشاہدۂِ باطن کہلاتا ہے۔ اس طریقِ مُشاہدہ کو نفسیات عمل میں لاتی ہے۔

PERSONAL OBSERVATION ذاتی مُشاہدہ 

ذاتی مُشاہدہ وہ مُشاہدہ ہوتا ہے جو براہِ راست اور بلاواسطہ ہو۔ ذاتی مُشاہدے سے مُراد ہے حقائق کا ذاتی طور پر یعنی بذاتِ خود مُشاہدہ کرنا۔ ذاتی مُشاہدہ میں مندرجہ ذیل نقائص پائے جاتے ہیں؛ 

١. ذاتی مُشاہدہ، انتخابی ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے ہزاروں واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ لیکن وہ تمام ہمارے مُشاہدے میں نہیں آتے۔ چنانچہ ہمارا قدرت کے حقائق کا ذاتی مُشاہدہ کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ حقائق کے مُشاہدے کے سلسلے میں ہر شخص اپنی پسند کے مطابق ان کا انتخاب کرتا ہے۔ مثلًا اخبار میں ہر قسم کی خبریں ہوتی ہیں لیکن ایک کھِلاڑی صرف کھیلوں کی خبروں کا انتخاب کرے گا۔ ایک سیاستدان سیاسی خبروں کا اور ایک دُکاندار منڈیوں کے بھاؤ کا۔ ہر شخص کا انتخاب اس کی ذاتی دلچسپی کے مطابق ہوتا ہے اور چونکہ کسی دو اشخاص کی دلچسپیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ اُن کا ایک ہی واقعے کا مُشاہدہ ایک جیسا نہ ہو۔

٢. ذاتی مُشاہدے میں دوسرا بڑا نقص تعصب ہے جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا ہے۔ ذاتی مُشاہدہ انتخابی ہوتا ہے اور انتخاب کا انحصار ہماری پسند یعنی ہمارے تعصب پر ہوتا ہے۔ ہم حقائق کا اپنے تعصب کے مطابق نہ صرف انتخاب کرتے ہیں بلکہ ان کی تعبیر بھی ہم اپنے ہی نقطۂ نظر سے کرتے ہیں۔ اپنی تمام احتیاط اور انتہائی نیک نیّتی کے باوجود ہم اپنے جذبات، خواہشات اور تعصبات کا شکار ہو ہی جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک سپاہی کا جو میدانِ جنگ سے ڈر کر بھاگ رہا ہے کوٹ پیچھے سے کسی جھاڑی میں پھنس جائے تو وہ یہی سمجھے گا کہ دُشمن سر پر آگیا۔ ایک اُستاد غُصّے کی حالت میں اپنے شاگرد کے مُسکرانے کو خندۂ اِستِہزاء سمجھتا ہے۔ ایک سائنسدان اپنے عقائد سے متاثر ہو کر حقائق کو ان کے اصلی رنگ میں نہیں دیکھتا بلکہ اس رنگ میں جس میں کہ وہ ان کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایک مؤرخ اپنے تعصبات کی وجہ سے تاریخی حقائق کے بیان کرنے میں کبھی انصاف نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اس امر کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کہ ایک یرقان زدہ شخص کو ہر شے زرد ہی دکھائی دیتی ہے اور کوئی شخص ذہنی یرقان یعنی تعصب سے پاک نہیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ  حقائق کا ذاتی مُشاہدہ کبھی پورے طور پر قابلِ اعتبار نہیں ہوسکتا۔

TESTIMONY شہادت 

شہادت ایسی اطلاع کو کہتے ہیں جو ہم کسی گواہ یعنی دوسرے شخص سے جس نے حقائق کا ذاتی مُشاہدہ کیا ہو حاصل کریں۔ چنانچہ شہادت دوسروں کا مُشاہدہ ہوتی ہے ہمارا اپنا مُشاہدہ نہیں ہوتی۔ بالواسطہ ہونے کی وجہ سے اس کی حیثیت محض ایک شُنید یعنی ایک سُنی سنائی بات کی سی ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے علم کا بیشتر حِصّہ شہادت ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ ہماری معلومات سو فیصد ہمارے ذاتی مُشاہدے کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ دراصل ہر شے کا ذاتی مُشاہدہ نہ تو ممکن ہی ہوتا ہے اور نہ ضروری۔ اپنی روزمرّہ کی زندگی میں ہم بہت سے ایسے حقائق کو قبول کرلیتے ہیں جن کے ذاتی مُشاہدہ کے لئے ہمارے پاس نہ وقت ہوتا ہے نہ استطاعت۔ ہم اہرامِ مصر کے وجود کو بغیر دیکھنے کے تسلیم کرلیتے ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ بیلجئم برازیل کی بنسبت زیادہ گنجان آباد ہے۔ ہمارا یہ علم ذاری مُشاہدے کی بجائے سُنی ہوئی باتوں اور اطلاعات پر مبنی ہوتا ہے۔ ہماری بیشتر علمی معلومات بھی ہماری روزمرّہ کی زندگی کی اطلاعات کی طرح شہادت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایک کیمیا دان کو ایک ماہرِ نباتات کی معلومات قبول کرنا پڑتی ہیں۔ اور اسی طرح ایک ماہرِ نباتات کو ایک کیمیا دان کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو یعنی اگر ہم شہادت پر بالکل اعتبار نہ کریں تو اس کا وہ لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارا علم افسوسناک حد تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔ کائنات اس قدر وسیع ہے اور ہماری زندگی اس قدر مختصر کہ ہمارے لئے شہادت کو قبول کرنے کے سوائے کوئی چارہ ہی نہیں ؎۔

فکرِ معاش، عشقِ بٍتّاں، یادِ رفتگاں

اِس مختصر سی عُمر میں کیا، کیا کرے کوئی

ظاہر ہے کہ شہادت میں وہ تمام نقائص جو ذاتی مُشاہدہ میں پائے جاتے ہیں موجود ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ شہادت کو قبول کرنے سے پہلے اُس کی اچھی طرح چھان بین اور تصدیق کرلی جائے۔ ہمیں ہر راوی یعنی خبررساں کی بات کو مان نہیں لینا چاہیے بلکہ حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے کافی غور اور احتیاط برتنی چاہیے۔ 

شہادت کی صداقت کی جانچ پڑتال 

HOW TO TEST THE TRUTH OF TESTIMONY

چونکہ ہر شہادت کسی کے ذاتی مُشاہدے اور اس مُشاہدے کی اطلاع دہی پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے اس میں ایک تو ذاتی مُشاہدے کے نقائص پائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ نقائص جو اطلاع دہی یا خبر رسانی کے سلسلے میں پیدا ہوسکتے ہیں۔ ذاتی مُشاہدے کے نقائص کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ جہاں تک خبر رسانی کا تعلق ہے اس میں غلطی کا احتمال اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس بات کا ثُبُوت افواہوں سے ملتا ہے جن میں لوگ رائی کا پہاڑ بنادیتے ہیں۔ اس امر کا خدشہ روایات میں خاص طور پر پایا جاتا ہے۔ جہاں حقائق نسلًا بعد نسلًا زبانی طور پر بیان کئے جاتے اور آگے پہنچائے جاتے ہیں۔ ایک کان سے دوسرے کان تک پہنچتے پہنچتے بات بدلتی جاتی ہے اور غلطیوں کا احتمال بڑھتا جاتا ہے۔ ہر شخص زیبِ داستان کے لئے سُنی ہوئی بات میں کُچھ نا کُچھ بڑھا ہی دیتا ہے۔ روایات اور افواہوں کے دوسروں تک پہنچانے کے عمل کا موازنہ "پِن بنانے" کے عمل سے کیا جاسکتا ہے۔ شروع میں حقیقت بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ ایک تار ہے۔ جونہی یہ تار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک پہنچتی ہے کوئی اسے تھوڑا سا کھینچ دیتا ہے، کوئی سیدھا کردیتا ہے، کوئی کاٹ دیتا ہے، کوئی اس کو رگڑ کر سفید کردیتا ہے، کوئی اس کا سر بنادیتا ہے اور یہ عمل جاری رہتا ہے حتیٰ کہ تار کا پِن بن جاتا ہے۔ بات صرف تھوڑی سی ہوتی ہے یار لوگ اسے "افسانہ" کردیتے ہیں۔ اس خطرے کے پیشِ نظر ہمیں چاہیے کہ ہر خبر اور خبررساں کے متعلق اچھی طرح اپنی تسلّی کرلیں۔ قُرآن مجید کی ایک آیت ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوٓاْ جس کا مطلب ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تصدیق (تحقیق یا پڑتال) کرلو۔ ایک شہادت کی تصدیق کرتے وقت ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کو مدِّنظر رکھنا چاہیے۔

١. چونکہ ہر شہادت کا تعلق کسی مُشاہدہ شدہ چیز یا واقعہ سے ہوتا ہے لہٰذا ہمیں اس امر کی تصدیق کرنا چاہیے کہ اطلاع دینے والا کہاں تک اُن ذرائع اور اہلیت کا مالک ہے جو صحیح مُشاہدہ کے لئے ضروری ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ایک کمزور نظر آدمی کی یہ شہادت کہ اُس نے رات کے وقت دُور سے چور کو پہچان لیا قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح ایک بادشاہ کی پرائیوٹ زندگی کے متعلق ہم ایک ایسے درباری کی شہادت کو جسے بادشاہ کی پرائیوٹ زندگی تک رسائی حاصل نہ تھی تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اطلاع دینے والا اپنی تمام نیک نیّتی کے باوجود اپنے مُشاہدے میں دھوکا کھا گیا ہو۔ اور ایک غَلَط چیز کو صحیح سمجھ کر اس کی اشاعت کررہا ہو۔

٢. ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خبر دینے والے کا خبر سے کوئی ذاتی مُفاد وابستہ تو نہیں۔ ہر شخص دیانتدار اور غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص حقیقت کو جانتا ہو اور جان بوجھ کر اسے غَلَط طور پر پیش کررہا ہو۔ اگر ایک خبر میں خبر دینے والے کی کوئی ذاتی غرض جو کہ اُسے جھوٹ بولنے پر آمادہ کرسکتی ہے، موجود ہو تو ہمیں ایسی خبر کو ردّ کردینا چاہیے۔ مثال کے طور پر ہم ایک مقدمے میں ملزم کے رشتہ داروں کی شہادت کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے۔

٣. ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خبر میں کسی قسم کا مبالغہ تو نہیں۔ بعض اشخاص مُبالغہ پسند ہوتے ہیں اور حقائق کو ان کے اصلی رنگ میں پیش کرنے کی بجائے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ بات زیادہ تر شاعروں اور سیّاحوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ حقائق کے متعلق لفظی فوٹو گرافی کی بجائے لفظی مصوّری سے کام لیتے ہیں۔

٤. کسی خبر کی جانچ پڑتال کے لیے خبر دینے والے کے ذاتی کردار کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ایک شخص مسلمہ طور پر دروغ گو مشہور ہے تو ہمیں اس کی خبر پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔ "شیر آیا، شیر آیا، دوڑنا" والی کہانی اسی بات کو ظاہر کرتی ہے۔

٥. خبر دینے والے کے کردار کی جانچ پڑتال کے علاوہ ہمیں خود خبر کی جانچ پڑتال بھی کرنی چاہیے۔ یعنی ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ خبر بذاتِ خود ناقابلِ تسلیم تو نہیں۔ اگر خبر بذاتِ خود بعید از قیاس ہو تو خواہ خبر دینے والے کا کردار کیسا ہی کیوں نہ ہو ہمیں اس خبر کو قبول نہ کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی (سچا انسان) ہمیں یہ خبر دے کہ پیرس میں عمارتیں مکھّن کی بنی ہوئی ہیں تو ہم فورًا اس خبر کو ردّ کردیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی (صادق) شخص ہمیں یہ بتائے کہ اُس نے ایک پتھر کو پانی پر تیرتے دیکھا یا ایک خرگوش کو شکاری کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا تو ہم اس بات کا اس لئے یقین نہیں کریں گے کہ یہ بالکل بعید از قیاس ہے۔

٦. ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ایک واقعہ کے وقوع پذیر ہونے اور اس کی اِطلاع دہی کے درمیان کتنا وقفہ ہے۔ اگر وقفہ بہت لمبا ہو تو واقعہ کی بہت سی باتیں خبر دینے والے کے ذہن سے اُتر جاتی ہیں اور ممکن ہے وہ بھولی ہوئی باتوں کی تلافی اپنی طرف سے کُچھ باتوں کا اضافہ کرنے سے کرلے۔ صرف چند گھنٹوں کا وقفہ بھی ایک واقعہ کے بہت سے حالات کو بھُلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اگر ایک واقعہ کو جونہی کہ وہ وقوع پذیر ہو قلمبند کرلیا جائے تو وہ بڑی حدّ تک قابلِ اعتبار ہوگا۔

٧. حتّیٰ الواسع ہمیں حقائق کی تصدیق دیگر ذرائع سے بھی کرنی چاہیے۔ اگر کسی خبر کی تائید دیگر ذرائع سے نہ ہو تو ہمیں اس خبر کے قبول کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

غرضیکہ بقول ویلٹن ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ "آیا دروغ گوئی سے شہادت دینے والے کو کوئی ذاتی فائدہ ہوسکتا ہے۔ آیا وہ ڈر، نمائش، ہمدردی، دشمنی، خوش یا حیران کرنے کی خواہش سے متاثر تو نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ فصیح و بلیغ آرائشی الفاظ، ڈرامائی اور خوش آئند طرزِ بیان کو شک کی نظروں سے دیکھیں خُصُوصًا جب کہ کسی واقع کے ہونے اور اُس کے قلمبند کئے جانے کے درمیان بہت زیادہ وقفہ ہو"۔

تاریخی شہادت کی جانچ پڑتال کرتے وقت بھی ہمیں اوپر بیان کی ہوئی احتیاطوں کو مدِّنظر رکھنا چاہیے اور تاریخی یادگاروں، تحریروں، کتبوں، اور سِکّوں وغیرہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں تاریخی ماخذ اور ان کے مستند ہونے کے متعلق اچھی طرح تسلّی کرنی چاہیے۔

آلات کی مدد سے مُشاہدہ 

OBSERVATION WITH THE HELP OF INSTRUMENTS 

ہمارے اعضاءِ حواس مُشاہدہ کے لئے قطعی طور پر قابلِ اعتبار نہیں ہوتے۔ چونکہ ان کی قُدرتی طاقتیں بڑی حدّ تک محدود ہوتی ہیں اس لئے وہ بہت سے مظاہرِ قدرت کے مُشاہدے کے لئے ناموزوں ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ وہ مشاہدے میں ہمیں دھوکا بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ اعضاءِ حواس کی شہادت ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ اس لئے مظاہرِ قدرت کا پوری  طرح مُشاہدہ کرنے کے لئے ہمیں آلات کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ آلات ہمارے اعضاءِ حواس کی بڑی مدد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری آنکھ ان چیزوں کو جو بہت دور ہوں یا بہت چھوٹی ہوں نہیں دیکھ سکتی۔ لیکن دور بین اور خورد بین کی مدد سے ہماری آنکھ ایسی چیزوں کو دیکھ سکتی ہے۔ اسی طرح مائیکروفون کی مدد سے کان نہایت خفیف آوازوں کو بھی سُن سکتا ہے۔ سر جگدیش چندر بوس کے ایجاد کردہ گریسوگراف کی مدد سے ہم نباتات کی حرکتِ نبض کا مُشاہدہ کرسکتے ہیں۔ زلزلہ پیما کی مدد سے ہم زمین کی ہلکی جنبش کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح سمندر کی گہرائیوں کا پتا ہم آلات کی مدد سے کرسکتے ہیں۔ چنانچہ آلات ہمارے دائرۂِ مُشاہدہ کو بہت زیادہ وسیع کردیتے ہیں۔

آلات ہمارے دائرۂِ مُشاہدہ کو صرف وسیع ہی نہیں کرتے بلکہ ہمارے مُشاہدے کے لئے درستی کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ ہمارا ہاتھ کسی وزن کا بالکل صحیح اندازہ ترازو کی طرح نہیں کرسکتا۔ اشیاء کی حرارت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ مقیاس الحرارت کی طرح چھُونے سے نہیں ہوسکتا۔ ایک ڈاکٹر پھیپھڑوں کی حالت کا بالکل صحیح اندازہ صدربین سے ہی کرسکتا ہے، نہ کہ اپنے کانوں سے۔

ہم آلات کو محض اس لئے استعمال میں نہیں لاتے کہ وہ مُشاہدہ کے لئے نہایت موزوں ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ ان کی مدد سے ہمیں قُدرت پر قابو حاصل ہوتا ہے۔ قدرت پر حکمرانی ہی ایک ایسی بات ہے جو انسان کو حیوانات سے پرفائق کرتی ہے۔ آلات قدرت کی بےپناہ طاقتوں کو انسان کے تابع کردیتے ہیں۔ چنانچہ وہ صرف علمی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ عملی مقاصد کے لئے بھی ہمارے لئے بےحد مُمِد و معاون ہیں۔

تجربہ

Experiment 
قدرت ایک سربستہ راز ہے۔ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں کا صحیح اندازہ معمولی مُشاہدے سے نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر ہم اپنے اردگرد ہوا کو دیکھتے ہیں۔ لیکن ہم محض مُشاہدے کی مدد سے یہ نہیں جان سکتے کہ ہوا کے مختلف عناصر کون کون سے ہیں۔ ہم صرف تجربے ہی کی مدد سے ہوا کے اجزائے ترکیبی کا پتہ کرسکتے ہیں اور یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ وہ اجزاء ہوا میں کس نسبت میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پانی قُدرتی طور پر جَم جاتا ہے۔ لیکن ہم خود بھی پانی کو نمک اور الکوحل کے محلول سے جما سکتے ہیں اور ان حالات کا مطالعہ کرسکتے ہیں جن کے تحت پانی جمتا ہے۔ چنانچہ تجربے میں ہم مصنوعی طریقوں سے چیزوں کو ملاتے یا علـٰحدہ کرتے ہیں یعنی ان کی ترکیب یا تحلیل کرتے ہیں۔ مُشاہدے میں ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ مُختلف واقعات قُدرتی طور پر کس طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس تجربے میں ہم مصنوعی طور پر واقعات کی مُختلف حالتوں کو چُنتے اور تجربے کی ضرورت کے مطابق مُرتّب کرتے ہیں۔ چنانچہ مُشاہدہ قُدرتی حالات کے تحت کیا جاتا ہے اور تجربہ مصنوعی حالات کے تحت (یعنی تجربہ کرنے والے کی مرضی کے مُطابق) کیا جاتا ہے۔ بین نے بجا طور پر کہا ہے کہ مُشاہدے کا مطلب ہے حقائق کا "معلوم" کرنا اور تجربے کا مطلب ہے حقائق کا "بنانا"۔ اگر ہم پانی کا مطالعہ اس حالت میں کریں جیسا کہ وہ قُدرتی حالت میں پایا جاتا ہے تو یہ مُشاہدہ ہوگا۔ لیکن اگر ہم تجربہ گاہ میں آکسیجن اور ہائیڈروجن کو ایک خاص تناسب میں ملا کر خود پانی کو بنائیں تو یہ تجربہ ہوگا۔ چنانچہ مُشاہدہ شُدہ حقائق کا انحصار قُدرت پر ہوتا ہے لیکن تجربہ میں حقائق کو ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ مُشاہدے اور تجربے کے اختلاف کو جیونز نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ "مُشاہدہ کرنے کا مطلب محض یہ ہے کہ واقعات اور ان کی تبدیلیوں کو بغیر ان کو کسی طرح بدلنے کی کوشش کرنے کے دیکھا جائے۔ چنانچہ پُرانے زمانے کے منجموں نے سورج، چاند اور سیّاروں کی حرکات کا محض مُشاہدہ کرکے اِن اجسام کی حرکات کے مختلف قوانین مُرتّب کئے۔ اس طرح ماہرِ موسمیات، موسم کی تبدیلیوں، مقیاس الہواء کے اتار چڑھاؤ، درجہ حرارت، ہوا کی رطوبت، طاقت اور رُخ، بادلوں کی بُلندی اور ان کی نوعیّت کا بغیر ان پر کسی طرح اثر ڈالنے کے مُشاہدہ کرتا ہے۔ ماہرِ ارضیات بھی جب وہ طبقات الارض کی خاصیت اور حالت کا مطالعہ کرتا ہے محض مشاہدہ ہی سے کام لیتا ہے۔ ماہرِ حیوانات، ماہرِ نباتات اور ماہرِ معدنیات بھی جب وہ حیوانات، نباتات اور معدنیات کو ان کی قدرتی شکل میں مطالعہ کرتے ہیں محض مُشاہدے ہی کو استعمال میں لاتے ہیں۔ 
اس کے برعکس تجربے میں ہم اپنی مرضی کے مطابق چیزوں کو ملا کر ان کے نتائج کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مثلًا کیمیاداں، پانی میں سے برقی رَو گُزار کر پانی کے اجزاء یعنی آکسیجن اور ہائیڈروجن کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرتا ہے اور پانی کی بناوٹ یا ترکیب کو دریافت کرتا ہے۔ اسی طرح جب ماہرِ معدنیات، دو تین معدنی چیزوں کو پگھلا کر یہ دیکھتا ہے کہ ان کے اندر سے کونسا معدنی مادّہ پیدا ہوتا ہے تو وہ تجربے کو عمل میں لاتا ہے۔ ماہرِ نباتات اور ماہرِ حیوانات بھی  محض مُشاہدے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ حیوانات اور پودوں کو مختلف آب و ہوا اور زمینوں میں منتقل کرکے یعنی عملِ تربیت سے یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہاں تک ان کی قُدرتی شکلیں اور جنسیں تبدیل کی جاسکتی ہیں"۔
لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تجربے اور مُشاہدے کو ایک دوسرے سے قطعی طور پر علـٰحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اصل میں دونوں ایک ہی ہیں۔ ان میں اِختِلاف قسم کا نہیں بلکہ صرف درجے کا ہے۔ تجربہ محض مصنوعی حالات کے تحت مُشاہدہ ہے لیکن پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ تحقیق و تفتیش کے لئے تجربہ مُشاہدے سے افضل ہے۔ مُشاہدہ ہمیں قُدرت کے راز سمجھنے میں زیادہ سُودمند ثابت نہیں ہوتا۔
سائنسی عُلُوم میں تحقیق و تفتیش کی ترقی مُشاہدہ سے تجربہ ہی کی طرف ہوتی ہے۔ اس بات کا ثُبُوت نفسیات سے ملتا ہے۔ جس میں آج کل تجرباتی کام روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ جو علوم تجربے کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لاتے ہیں (مثلًا علمِ طبیعات اور علمِ کیمیاء) وہ دِن دونی اور رات چوگنی ترقی کرتے ہیں اور جن علوم کا انحِصار زیادہ تر مُشاہدے پر ہے (مثلًا علم ارضیات) وہ مقابلۃً کم ترقی کرتے ہیں۔

تجربے کی مُشاہدے پر فوقیت

ADVANTAGES OF EXPERIMENT OVER OBSERVATION

تجربہ مندرجہ ذیل باتوں میں مُشاہدے پر فوقیت رکھتا ہے۔
١. تجربے میں ہم جس طرح اور جتنی دفعہ چاہیں واقعات کو دُہرا سکتے ہیں اور تبدیل کرسکتے ہیں۔ لیکن مُشاہدے میں ہم قُدرت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ بقول جیونز "جن واقعات کے اتفاقی وقوع کے لئے ہمیں سالوں بلکہ صدیوں انتظار کرنا پڑتا ہے ممکن ہے ان ہی واقعات کو ہم ایک لمحے میں تجربہ گاہ میں پیدا کرلیں اور یہ بات تو اغلب ہے کہ بہت سی کیمیاوی چیزیں جنہیں اب ہم جانتے ہیں اور بہت سے نتائج جو ہمارے لئے بےحد مُفید ہیں کبھی دریافت ہی نہ ہوتے اگر ہم اسی انتظار میں رہتے کہ قدرت خود انہیں پیدا کرکے ہمارے مُشاہدے کے لیے پیش کرے"۔
٢. تجربے کی مدد سے ہم قدرت کے ان حقائق کا مطالعہ بھی کرسکتے ہیں جو بہت تیز یا بہت خفیف ہونے کی وجہ سے مُشاہدے کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر بجلی قدرت میں برق کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن اس قدرتی صورت میں بجلی اس قدر شدید اور خطرناک ہوتی ہے کہ ہم نہ تو اس کا درُست طور پر مطالعہ ہی کرسکتے ہیں اور نہ اسے اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم تجربے کی مدد سے برقی مشینوں کو استعمال میں لا کر خود بجلی پیدا کرسکتے ہیں اور اس کا اچھی طرح مطالعہ بھی کرسکتے ہیں اور اسے اپنے کام میں بھی لا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قدرت میں بہت سے واقعات ہمیشہ وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں مگر اس قدر خفیف طور پر کہ ہمارا مُشاہدہ ان کا علم حاصل کرنے سے قاصِر رہتا ہے۔ مثلًا بجلی ہر مادّی ذرے میں ہر لمحہ کارفرما ہوتی ہے۔ لیکن یہاں یہ اس قدر خفیف مقدار میں ہوتی ہے کہ مُشاہدہ سے اس کا پتہ ہی نہیں چل سکتا۔ قُدرت کے ایسے واقعات کی تحقیق و تفتیش کے لیے تجربہ نہایت ضروری ہے۔
٣. تجربے میں ہم ایک واقعہ کے حالات اور اسباب کو اپنی مرضی کے مطابق بدل کر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ مُختلف حالات کے تحت، اس واقعہ میں کونسی مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ لیکن مشاہدے میں ہم قُدرت کے دستِ نگر ہوتے ہیں اور ہمیں کسی واقعہ کے حالات پر قطعًا کوئی قابو نہیں ہوتا۔ باِلفاظِ دیگر تجربے کی مدد سے ہم ایک واقعہ کا مطالعہ مختلف حالات کے تحت کرسکتے ہیں لیکن مشاہدے میں ہم ایک واقعے کا مطالعہ صرف انہی حالات کے تحت کرسکتے ہیں جن میں قدرت اس واقعہ کو ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ جیونز لکھتا ہے "تجربہ اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ زمین کی سطح پر ہم بہت سے مادوں کو ایک ہی شکل میں دیکھتے ہیں اور ہم محض مُشاہدے کی مدد سے یہ نہیں جان سکتے کہ مختلف حالات کے تحت ان مادوں کی کیا شکل ہوگی۔ مثال کے طور پر کاربنی ایسِڈ کاربن کے عملِ اِحتراق یعنی جلنے سے پیدا ہوکر ہمیں صرف گیس کی شکل میں ہی ملتا ہے۔ لیکن ایک خاص دباؤ اور سردی کے تحت یہ مائع کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور برف کی سی ٹھوس شکل میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بہت سی اور گیسیں بھی اسی طرح مائع اور ٹھوس شکلوں میں تبدیل کی جاسکتی ہیں اور یہ بات قابلِ تسلیم ہے کہ مادہ تینوں شکلیں (یعنی ٹھوس، مائع اور گیس {فارغہ}) اختیار کرنے کے قابل ہوتا ہے بشرطیکہ اس کی حرارت اور دباؤ کے حالات کو کافی حد تک بدل دیا جائے۔ قُدرت کا محض مُشاہدہ ہمیں اس نتیجہ پر پہنچنے اور یہ فرض کرلینے پر مجبور کرے گا کہ مادّہ ہمیشہ ایک ہی شکل پر قائم رہتا ہے اور کبھی ٹھوس سے مائع اور مائع سے گیس (فارغہ) کی شکل میں تبدیل نہیں ہوتا"۔
٤. بہت سے حقائق جنہیں قدرت ہمارے مُشاہدے کے لئے پیش کرتی ہے، اس قدر پیچیدہ اور اُلجھے ہوئے ہوتے ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے ان کے اجزائے ترکیبی کی تحلیل ضروری ہوتی ہے۔ جب کسی پیچیدہ واقعہ کو اس کے اجزاء میں تحلیل کردیا جائے تو اُس کی گُتھی سُلجھ جاتی ہے اور ہم اسے صحیح طور پر سمجھ جاتے ہیں لیکن مُشاہدے سے ہم یہ نہیں جان سکتے کہ کسی پیچیدہ واقع کے اجزاء کون کون سے ہیں اور نہ ہی ہم ان اجزاء کو ایک دوسرے سے الگ کرسکتے ہیں۔ تجربے کی مدد سے ہم ایسا کرسکتے ہیں۔ مثلًا ہم تجربے سے ہوا کی تحلیل کرکے اس کے مختلف اجزاء کا پتا کرسکتے ہیں اور ان اجزاء کو ایک دوسرے سے علـٰحدہ کرکے یہ بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ ہوا کا وہ جزؤ جو اشیاء کو جلنے میں مدد دیتا ہے آکسیجن ہے۔

مُشاہدے کی تجربے پر فوقیّت

ADVANTAGES OF OBSERVATION OVER EXPERIMENT 

اگرچہ تجربہ مُشاہدے پر فوقیّت رکھتا ہے تاہم مُشاہدے کی اہمیت کو بالکل نظرانداز کرنا بھی ایک غَلَطی ہے۔ مُشاہدہ بھی تجربہ پر مندرجہ ذیل باتوں میں فوقیّت رکھتا ہے۔
١. مُشاہدہ ایک آسان طریقہ ہونے کی وجہ سے کثرت سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور کئی دفعہ کسی چیز کو جاننے کے لئے یہی ہمارے پاس ایک واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ بیانیہ عُلُوم مثلًا علمِ نُجُوم، علمِ موسمیّات، علمِ ارضیّات، علمِ حیوانات، علمِ نباتات، علمِ معدنیّات میں تجربے کے استعمال کا امکان بہت محدود ہوتا ہے۔ یہ تمام عُلُوم زیادہ تر ان حقائق یا واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں جو ہمارے اختیار سے باہر ہوتے ہیں اور جن پر تجربہ نہیں کیا جاسکتا۔ مثلًا علمِ نُجُوم میں ہم ستاروں پر تجربے نہیں کرسکتے۔ قُدرت خود ہمارے مُشاہدے کے لئے وقتًا فوقتًا غیر معمولی واقعات مثلًا چاند گرہن یا سورج گرہن پیدا کرتی رہتی ہے اور اگرچہ ایسے واقعات کو بعض اوقات "قُدرتی تجربات" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن صحیح معنوں میں وہ تجربات نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر تجربہ خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر ہم جنگ یا بچپن کی شادی پر محض یہ دیکھنے کے لئے کہ ان کے سماجی نتائج کیا ہوں گے تجربہ نہیں کرسکتے۔ ایسے واقعات کی صورت میں ہم صرف انتظار کرسکتے ہیں حتیٰ کہ وہ خود بخود وقوع پذیر ہوں اور پھر ان واقعات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ ایسے واقعات کی صورت میں جو یا تو ہمارے اختیار سے باہر ہوتے ہیں یا جن پر تجربہ کرنا خطرناک ہوتا ہے۔ صرف مُشاہدہ ہی ہمارا واحد وسیلہ ہوتا ہے۔
٢. تجربہ ہمیں عِلّتوں کے معلول معلوم کرنے میں تو مددگار ثابت ہوسکتا ہے لیکن معلولات کی عِلّتوں کو معلوم کرنے میں ہماری مدد نہیں کرسکتا۔ مثال کے طور پر ہم یہ تجربہ کرسکتے ہیں کہ کونین کا ملیریا کے مریض پر کیا اثر ہوگا۔ لیکن اگر ایک ملیریا کا مریض صحت یاب ہوچکا ہو تو ہم تجربے سے یہ نہین دیکھ سکتے کہ اس مریض کے صحت یاب ہونے کی کیا وجہ تھی۔ ہم ایک عِلّت پر تجربہ کرکے اس کا معلول دریافت کرسکتے ہیں مگر تجربے کی مدد سے ایک معلول کی عِلّت دریافت نہیں کرسکتے۔ باِلفاظِ دیگر اگر ہمیں ایک علّت دی ہوئی ہو تو ہم اس پر تجربہ کرکے یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ وہ علّت کس معلول کو پیدا کرے گی۔ لیکن اگر ہمیں ایک معلول دیا ہوا ہو تو ہم اس پر تجربہ کرکے یہ معلوم نہیں کرسکتے کہ اس معلول کو کس عِلّت نے پیدا کیا تھا۔ مؤخر الذکر صورت میں ہم صرف یہی کرسکتے ہیں کہ انتظار کریں حتیٰ کہ وہ معلول دوبارہ پیدا ہو اور پھر ہم اس کی عِلّت کا مُشاہدہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ تجربہ عِلّت سے معلول کی طرف راہنمائی کرتا ہے مگر معلول سے عِلّت کی طرف راہنمائی نہیں کرسکتا۔ اس کے برعکس مُشاہدہ عِلّت سے معلول اور معلول سے عِلّت دونوں طرف راہنمائی کرسکتا ہے۔ لہٰذا تجربہ صرف معلولات کو معلوم کرنے میں سودمند ثابت ہوتا ہے لیکن مُشاہدہ عِلّتوں اور معلولات دونوں کو معلوم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مُشاہدے اور تجربے کے انضباطی اُصُول

Regulative Principles of Observation & Experiment 

مُشاہدہ اور تجربہ محض تفریحِ طبع کے لئے استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ ان کا مقصد صحیح علم حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مُشاہدے اور تجربے میں ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کو مدِّنظر رکھنا چاہیے۔
١. مُشاہدے اور تجربے میں استنتاج سے نقص پیدا ہوتا ہے ہم عُمُومًا اپنے مُشاہدے اور تخیّل کو آپس میں خَلَط مَلَط کردیتے ہیں اور یہ ایک بہت بڑی غَلَطی ہے جس سے ہمیں بچنا چاہیے۔ ہمیں حقائق کو جیسے کہ وہ ہوں ویسا ہی لینا چاہیے اور استنتاج سے گُریز کرنا چاہیے۔ اس احتیاط کے بارے میں جیونز بجا طور پر لکھتا ہے کہ "جہاں تک کہ ہم اپنے اعضائے حواس کے مُشاہدات کو صرف قلمبند یا بیان کرتے ہیں ہم غَلَطی نہیں کرسکتے لیکن جونہی ہم ان مُشاہدات کے متعلق کُچھ فرض کرلیتے ہیں یا ان سے کوئی نتیجہ نکالتے ہیں تو ہم غلطی کا شکار ہوجاتے ہیں"۔ اس احتیاط کو نظر انداز کرنے سے غلط نتائج کے پیدا ہوجانے کا امکان ہوتا ہے۔ مثلًا اگر ہم صُبحُ کے وقت ایک سڑک کو گیلی دیکھ کر یہ کہہ دیں کہ رات کو بارش ہوئی تھی یا سیڑھیوں میں ایک آواز کو سُن کر یہ سمجھ لیں کہ ہمارا کوئی دوست ہمیں ملنے آیا ہے تو ممکن ہے کہ ہمارا نتیجہ غَلَط ہو۔ ایسا غَلَط استنتاج غَلَط مُشاہدے اور فریب کا باعث ہوتا ہے۔
٢. جہاں ایک مُشاہدے یا ایک تجربے کے غَلَط ہونے کا احتمال ہو وہاں ایک سے زیادہ مُشاہدات اور تجربات لے کر ان کی اوسط حاصل کرلینی چاہیے۔ اوسط افراط و تفریط کی دونوں انتہاؤں کے درمیان ہونے کی وجہ سے حقیقت سے قریب تر ہوتی ہے۔
٣. ہمیں صرف ضروری اور متعلق چیز کا مُشاہدہ کرنا چاہیے اور غیر ضروری اور غیر متعلق چیز کو نظرانداز کردینا چاہیے۔ چونکہ متعلق اور غیر متعلق عناصر یا اسباب آپس میں خَلَط مَلَط ہوتے ہیں اس لئے ہمیں چاہیے کہ اپنے مُشاہدے اور تجربے کا اس طرح انتظام کریں کہ متعلق عناصر چُنے جائیں اور غیر متعلق عناصر چھوڑ دئیے جائیں۔
٤. ہمیں ایک واقعہ کو مختلف حالات کے تحت دیکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر یہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ کونین ملیریا کے بُخار کے لیے کس حد تک مُفید ہے تو ہمیں چاہیے کہ کونین کا اثر ملیریا کے مختلف قسم کے مریضوں یعنی بچوں، بوڑھوں، جوانوں وغیرہ پر دیکھیں۔ 
٥. ہمیں ایک چیز کو اس کے مُلَحقات سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے۔ ایک چیز کے مُلَحقات اس چیز کی نوعیّت کو نہ صرف پوشیدہ رکھتے ہیں بلکہ بَدَل بھی دیتے ہیں۔ لہٰذا مُلَحقات کو الگ کردینا چاہیے۔ مثلًا اگر ہم کسی دَوَا کی تاثیر کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو اسی دوا کو اور دواؤں کے ساتھ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریں اور صحتیاب ہوجائیں تو یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہماری بیماری کو دور کرنے میں کونسی دوا کارگر ہوئی ہے اور اگر ہم صحت یاب نہ ہوں تو ہم یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ کوئی بھی دَوَا اچھی نہیں تھی۔
فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ

منطقِ اِستِخراجیہ کے اسباق
علم منطق کی تعریف
فکر کے اُصُول
حُدود اور ان کی اقسام
حُدود کی تعبیر اور تضمن
حُدود قابلِ الحمل
تعریف
تقسیم
قضیے اور اُن کی قسمیں
قضیوں کی چار اساسی شکلیں
استنتاجِ استخراجیہ کی اقسام
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
استنتاجِ بدیہی جہتی
استنتاجِ بالواسطہ یا نظری
قواعدِ قیاس
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
قیاس کی اشکال
مخلوط شرطیہ قیاس
مخلوط منفصلہ قیاس
معضلہ یا قیاسِ ذوالجہتین
مُغالطے

منطقِ اِستِقرائیہ کے اسباق
منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ
اِستِقراء کی قسمیں
تعمیم
منطقِ اِستِقرائیہ کی بنیادیں

صفحات
موجود کا بیان
علم کا بیان
تصور اور تصدیق کا بیان



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

علمِ منطق کی تعریف

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اَقسام