منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں
پچیسواں باب
منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں
مُشاہدہ اور تجربہ
ہم یہ پڑھ چُکے ہیں کہ منطقِ اِستِقرائیہ کا کام کُلیّہ قضیے مُرتب کرنا ہے اور کُلیّہ قضیے جُزئ حقائق سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ کُلیّہ قضیوں کو قائم کرنے سے پہلے یعنی تعمیم سے پہلے ہمیں جُزئ حقائق کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح ایک عمارت کے بنانے میں پہلے ہم مؤاد (اینٹیں، چونا، لکڑی وغیرہ وغیرہ) جمع کرتے ہیں اور پھر اس مواد کو کوئی شکل یا ترتیب دیتے ہیں اسی طرح منطقِ اِستِقرائیہ میں ہمارا پہلا کام حقائق کو جمع کرنا ہوتا ہے اور دوسرا کام اُن حقائق کو قانونِ عِلّت اور قانون یکسانئ فطرت کے تحت ترتیب دینا ہوتا ہے۔ حقائق جیسا کہ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں مُشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوتے ہیں۔ مثلًا یہ حقائق کہ انسان فانی ہیں، کوّے سیاہ ہیں، جگالی کرنے والے جانوروں کے کھُر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں مُشاہدے سے معلوم ہوتے ہیں۔ سائنس میں حقائق تجربے سے فراہم کئے جاتے ہیں مثلًا سائنسدان تجربے کی مدد سے یہ معلوم کرتے ہیں کہ پانی ایک حِصّہ آکسیجن اور دو حصّے ہائیڈروجن سے مُرکّب ہے۔ چنانچہ مُشاہدہ اور تجربہ تعمیم کے لئے مؤاد یا حقائق فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اِستِقرائی عمل کا پہلا قَدَم ہیں۔
مُشاہدہ؛ منطق کا کام حقائق کی تصدیق کرنا ہے اور حقائق کی تصدیق مُشاہدے سے کی جاتی ہے۔ مُشاہدے سے مُراد ہے کسی شے یا واقعہ کا غور سے مُطالعہ کرنا۔ چنانچہ مُشاہدے کا کام حقائق کا بعینہٖ اس طرح جس طرح کہ وہ حقیقت میں وقوع پذیر ہوں مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔ ایک معمولی سی حقیقت یا واقعے کا مُشاہدہ بھی (اگر سمجھ بوجھ والا ذہن اُسے اپنے مُشاہدے میں لے آئے) ایک بُہت بڑی اہمیّت کا حامل ہوسکتا ہے۔ جیمز واٹ نے بھاپ کی طاقت سے ایک کیتلی کے ڈھکنے کو اوپر اُٹھتے ہوئے دیکھا۔ نیوٹن نے ایک سیب کو زمین کی طرف گِرتے ہوئے دیکھا۔ یہ دونوں مُشاہدے علیٰ الترتیب بھاپ کے انجن کی ایجاد اور قانونِ کششِ ثقل کی دریافت کا سبب بنے۔ چنانچہ مُشاہدہ علمی اور عملی دونوں لحاظ سے بڑی اہمیّت رکھتا ہے۔
مُشاہدہ ذاتی بھی ہوسکتا ہے اور غیر ذاتی یا شہادتی بھی۔ مُشاہدہ حواس کی مدد سے بھی کیا جاسکتا ہے اور آلات کی مدد سے بھی۔ اس کے علاوہ مُشاہدہ بیرونی دُنیا کے حقائق کا بھی ہوسکتا ہے اور ذہن کے اندرونی حقائق کا بھی۔ ذہن کے اندرونی حقائق مثلًا غم و غُصّہ وغیرہ وغیرہ کا مُشاہدہ دروں بینی سے ہوسکتا ہے۔ اس قسم کا اندرونی مشاہدہ مُشاہدۂِ باطن کہلاتا ہے۔ اس طریقِ مُشاہدہ کو نفسیات عمل میں لاتی ہے۔
PERSONAL OBSERVATION ذاتی مُشاہدہ
ذاتی مُشاہدہ وہ مُشاہدہ ہوتا ہے جو براہِ راست اور بلاواسطہ ہو۔ ذاتی مُشاہدے سے مُراد ہے حقائق کا ذاتی طور پر یعنی بذاتِ خود مُشاہدہ کرنا۔ ذاتی مُشاہدہ میں مندرجہ ذیل نقائص پائے جاتے ہیں؛
١. ذاتی مُشاہدہ، انتخابی ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے ہزاروں واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ لیکن وہ تمام ہمارے مُشاہدے میں نہیں آتے۔ چنانچہ ہمارا قدرت کے حقائق کا ذاتی مُشاہدہ کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ حقائق کے مُشاہدے کے سلسلے میں ہر شخص اپنی پسند کے مطابق ان کا انتخاب کرتا ہے۔ مثلًا اخبار میں ہر قسم کی خبریں ہوتی ہیں لیکن ایک کھِلاڑی صرف کھیلوں کی خبروں کا انتخاب کرے گا۔ ایک سیاستدان سیاسی خبروں کا اور ایک دُکاندار منڈیوں کے بھاؤ کا۔ ہر شخص کا انتخاب اس کی ذاتی دلچسپی کے مطابق ہوتا ہے اور چونکہ کسی دو اشخاص کی دلچسپیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ اُن کا ایک ہی واقعے کا مُشاہدہ ایک جیسا نہ ہو۔
٢. ذاتی مُشاہدے میں دوسرا بڑا نقص تعصب ہے جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا ہے۔ ذاتی مُشاہدہ انتخابی ہوتا ہے اور انتخاب کا انحصار ہماری پسند یعنی ہمارے تعصب پر ہوتا ہے۔ ہم حقائق کا اپنے تعصب کے مطابق نہ صرف انتخاب کرتے ہیں بلکہ ان کی تعبیر بھی ہم اپنے ہی نقطۂ نظر سے کرتے ہیں۔ اپنی تمام احتیاط اور انتہائی نیک نیّتی کے باوجود ہم اپنے جذبات، خواہشات اور تعصبات کا شکار ہو ہی جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک سپاہی کا جو میدانِ جنگ سے ڈر کر بھاگ رہا ہے کوٹ پیچھے سے کسی جھاڑی میں پھنس جائے تو وہ یہی سمجھے گا کہ دُشمن سر پر آگیا۔ ایک اُستاد غُصّے کی حالت میں اپنے شاگرد کے مُسکرانے کو خندۂ اِستِہزاء سمجھتا ہے۔ ایک سائنسدان اپنے عقائد سے متاثر ہو کر حقائق کو ان کے اصلی رنگ میں نہیں دیکھتا بلکہ اس رنگ میں جس میں کہ وہ ان کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایک مؤرخ اپنے تعصبات کی وجہ سے تاریخی حقائق کے بیان کرنے میں کبھی انصاف نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اس امر کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کہ ایک یرقان زدہ شخص کو ہر شے زرد ہی دکھائی دیتی ہے اور کوئی شخص ذہنی یرقان یعنی تعصب سے پاک نہیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حقائق کا ذاتی مُشاہدہ کبھی پورے طور پر قابلِ اعتبار نہیں ہوسکتا۔
TESTIMONY شہادت
شہادت ایسی اطلاع کو کہتے ہیں جو ہم کسی گواہ یعنی دوسرے شخص سے جس نے حقائق کا ذاتی مُشاہدہ کیا ہو حاصل کریں۔ چنانچہ شہادت دوسروں کا مُشاہدہ ہوتی ہے ہمارا اپنا مُشاہدہ نہیں ہوتی۔ بالواسطہ ہونے کی وجہ سے اس کی حیثیت محض ایک شُنید یعنی ایک سُنی سنائی بات کی سی ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے علم کا بیشتر حِصّہ شہادت ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ ہماری معلومات سو فیصد ہمارے ذاتی مُشاہدے کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ دراصل ہر شے کا ذاتی مُشاہدہ نہ تو ممکن ہی ہوتا ہے اور نہ ضروری۔ اپنی روزمرّہ کی زندگی میں ہم بہت سے ایسے حقائق کو قبول کرلیتے ہیں جن کے ذاتی مُشاہدہ کے لئے ہمارے پاس نہ وقت ہوتا ہے نہ استطاعت۔ ہم اہرامِ مصر کے وجود کو بغیر دیکھنے کے تسلیم کرلیتے ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ بیلجئم برازیل کی بنسبت زیادہ گنجان آباد ہے۔ ہمارا یہ علم ذاری مُشاہدے کی بجائے سُنی ہوئی باتوں اور اطلاعات پر مبنی ہوتا ہے۔ ہماری بیشتر علمی معلومات بھی ہماری روزمرّہ کی زندگی کی اطلاعات کی طرح شہادت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایک کیمیا دان کو ایک ماہرِ نباتات کی معلومات قبول کرنا پڑتی ہیں۔ اور اسی طرح ایک ماہرِ نباتات کو ایک کیمیا دان کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو یعنی اگر ہم شہادت پر بالکل اعتبار نہ کریں تو اس کا وہ لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارا علم افسوسناک حد تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔ کائنات اس قدر وسیع ہے اور ہماری زندگی اس قدر مختصر کہ ہمارے لئے شہادت کو قبول کرنے کے سوائے کوئی چارہ ہی نہیں ؎۔
فکرِ معاش، عشقِ بٍتّاں، یادِ رفتگاں
اِس مختصر سی عُمر میں کیا، کیا کرے کوئی
ظاہر ہے کہ شہادت میں وہ تمام نقائص جو ذاتی مُشاہدہ میں پائے جاتے ہیں موجود ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ شہادت کو قبول کرنے سے پہلے اُس کی اچھی طرح چھان بین اور تصدیق کرلی جائے۔ ہمیں ہر راوی یعنی خبررساں کی بات کو مان نہیں لینا چاہیے بلکہ حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے کافی غور اور احتیاط برتنی چاہیے۔
شہادت کی صداقت کی جانچ پڑتال
HOW TO TEST THE TRUTH OF TESTIMONY
چونکہ ہر شہادت کسی کے ذاتی مُشاہدے اور اس مُشاہدے کی اطلاع دہی پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے اس میں ایک تو ذاتی مُشاہدے کے نقائص پائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ نقائص جو اطلاع دہی یا خبر رسانی کے سلسلے میں پیدا ہوسکتے ہیں۔ ذاتی مُشاہدے کے نقائص کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ جہاں تک خبر رسانی کا تعلق ہے اس میں غلطی کا احتمال اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس بات کا ثُبُوت افواہوں سے ملتا ہے جن میں لوگ رائی کا پہاڑ بنادیتے ہیں۔ اس امر کا خدشہ روایات میں خاص طور پر پایا جاتا ہے۔ جہاں حقائق نسلًا بعد نسلًا زبانی طور پر بیان کئے جاتے اور آگے پہنچائے جاتے ہیں۔ ایک کان سے دوسرے کان تک پہنچتے پہنچتے بات بدلتی جاتی ہے اور غلطیوں کا احتمال بڑھتا جاتا ہے۔ ہر شخص زیبِ داستان کے لئے سُنی ہوئی بات میں کُچھ نا کُچھ بڑھا ہی دیتا ہے۔ روایات اور افواہوں کے دوسروں تک پہنچانے کے عمل کا موازنہ "پِن بنانے" کے عمل سے کیا جاسکتا ہے۔ شروع میں حقیقت بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ ایک تار ہے۔ جونہی یہ تار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک پہنچتی ہے کوئی اسے تھوڑا سا کھینچ دیتا ہے، کوئی سیدھا کردیتا ہے، کوئی کاٹ دیتا ہے، کوئی اس کو رگڑ کر سفید کردیتا ہے، کوئی اس کا سر بنادیتا ہے اور یہ عمل جاری رہتا ہے حتیٰ کہ تار کا پِن بن جاتا ہے۔ بات صرف تھوڑی سی ہوتی ہے یار لوگ اسے "افسانہ" کردیتے ہیں۔ اس خطرے کے پیشِ نظر ہمیں چاہیے کہ ہر خبر اور خبررساں کے متعلق اچھی طرح اپنی تسلّی کرلیں۔ قُرآن مجید کی ایک آیت ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوٓاْ جس کا مطلب ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تصدیق (تحقیق یا پڑتال) کرلو۔ ایک شہادت کی تصدیق کرتے وقت ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کو مدِّنظر رکھنا چاہیے۔
١. چونکہ ہر شہادت کا تعلق کسی مُشاہدہ شدہ چیز یا واقعہ سے ہوتا ہے لہٰذا ہمیں اس امر کی تصدیق کرنا چاہیے کہ اطلاع دینے والا کہاں تک اُن ذرائع اور اہلیت کا مالک ہے جو صحیح مُشاہدہ کے لئے ضروری ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ایک کمزور نظر آدمی کی یہ شہادت کہ اُس نے رات کے وقت دُور سے چور کو پہچان لیا قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح ایک بادشاہ کی پرائیوٹ زندگی کے متعلق ہم ایک ایسے درباری کی شہادت کو جسے بادشاہ کی پرائیوٹ زندگی تک رسائی حاصل نہ تھی تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اطلاع دینے والا اپنی تمام نیک نیّتی کے باوجود اپنے مُشاہدے میں دھوکا کھا گیا ہو۔ اور ایک غَلَط چیز کو صحیح سمجھ کر اس کی اشاعت کررہا ہو۔
٢. ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خبر دینے والے کا خبر سے کوئی ذاتی مُفاد وابستہ تو نہیں۔ ہر شخص دیانتدار اور غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص حقیقت کو جانتا ہو اور جان بوجھ کر اسے غَلَط طور پر پیش کررہا ہو۔ اگر ایک خبر میں خبر دینے والے کی کوئی ذاتی غرض جو کہ اُسے جھوٹ بولنے پر آمادہ کرسکتی ہے، موجود ہو تو ہمیں ایسی خبر کو ردّ کردینا چاہیے۔ مثال کے طور پر ہم ایک مقدمے میں ملزم کے رشتہ داروں کی شہادت کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے۔
٣. ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خبر میں کسی قسم کا مبالغہ تو نہیں۔ بعض اشخاص مُبالغہ پسند ہوتے ہیں اور حقائق کو ان کے اصلی رنگ میں پیش کرنے کی بجائے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ بات زیادہ تر شاعروں اور سیّاحوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ حقائق کے متعلق لفظی فوٹو گرافی کی بجائے لفظی مصوّری سے کام لیتے ہیں۔
٤. کسی خبر کی جانچ پڑتال کے لیے خبر دینے والے کے ذاتی کردار کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ایک شخص مسلمہ طور پر دروغ گو مشہور ہے تو ہمیں اس کی خبر پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔ "شیر آیا، شیر آیا، دوڑنا" والی کہانی اسی بات کو ظاہر کرتی ہے۔
٥. خبر دینے والے کے کردار کی جانچ پڑتال کے علاوہ ہمیں خود خبر کی جانچ پڑتال بھی کرنی چاہیے۔ یعنی ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ خبر بذاتِ خود ناقابلِ تسلیم تو نہیں۔ اگر خبر بذاتِ خود بعید از قیاس ہو تو خواہ خبر دینے والے کا کردار کیسا ہی کیوں نہ ہو ہمیں اس خبر کو قبول نہ کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی (سچا انسان) ہمیں یہ خبر دے کہ پیرس میں عمارتیں مکھّن کی بنی ہوئی ہیں تو ہم فورًا اس خبر کو ردّ کردیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی (صادق) شخص ہمیں یہ بتائے کہ اُس نے ایک پتھر کو پانی پر تیرتے دیکھا یا ایک خرگوش کو شکاری کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا تو ہم اس بات کا اس لئے یقین نہیں کریں گے کہ یہ بالکل بعید از قیاس ہے۔
٦. ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ایک واقعہ کے وقوع پذیر ہونے اور اس کی اِطلاع دہی کے درمیان کتنا وقفہ ہے۔ اگر وقفہ بہت لمبا ہو تو واقعہ کی بہت سی باتیں خبر دینے والے کے ذہن سے اُتر جاتی ہیں اور ممکن ہے وہ بھولی ہوئی باتوں کی تلافی اپنی طرف سے کُچھ باتوں کا اضافہ کرنے سے کرلے۔ صرف چند گھنٹوں کا وقفہ بھی ایک واقعہ کے بہت سے حالات کو بھُلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اگر ایک واقعہ کو جونہی کہ وہ وقوع پذیر ہو قلمبند کرلیا جائے تو وہ بڑی حدّ تک قابلِ اعتبار ہوگا۔
٧. حتّیٰ الواسع ہمیں حقائق کی تصدیق دیگر ذرائع سے بھی کرنی چاہیے۔ اگر کسی خبر کی تائید دیگر ذرائع سے نہ ہو تو ہمیں اس خبر کے قبول کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
غرضیکہ بقول ویلٹن ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ "آیا دروغ گوئی سے شہادت دینے والے کو کوئی ذاتی فائدہ ہوسکتا ہے۔ آیا وہ ڈر، نمائش، ہمدردی، دشمنی، خوش یا حیران کرنے کی خواہش سے متاثر تو نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ فصیح و بلیغ آرائشی الفاظ، ڈرامائی اور خوش آئند طرزِ بیان کو شک کی نظروں سے دیکھیں خُصُوصًا جب کہ کسی واقع کے ہونے اور اُس کے قلمبند کئے جانے کے درمیان بہت زیادہ وقفہ ہو"۔
تاریخی شہادت کی جانچ پڑتال کرتے وقت بھی ہمیں اوپر بیان کی ہوئی احتیاطوں کو مدِّنظر رکھنا چاہیے اور تاریخی یادگاروں، تحریروں، کتبوں، اور سِکّوں وغیرہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں تاریخی ماخذ اور ان کے مستند ہونے کے متعلق اچھی طرح تسلّی کرنی چاہیے۔
آلات کی مدد سے مُشاہدہ
OBSERVATION WITH THE HELP OF INSTRUMENTS
ہمارے اعضاءِ حواس مُشاہدہ کے لئے قطعی طور پر قابلِ اعتبار نہیں ہوتے۔ چونکہ ان کی قُدرتی طاقتیں بڑی حدّ تک محدود ہوتی ہیں اس لئے وہ بہت سے مظاہرِ قدرت کے مُشاہدے کے لئے ناموزوں ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ وہ مشاہدے میں ہمیں دھوکا بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ اعضاءِ حواس کی شہادت ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ اس لئے مظاہرِ قدرت کا پوری طرح مُشاہدہ کرنے کے لئے ہمیں آلات کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ آلات ہمارے اعضاءِ حواس کی بڑی مدد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری آنکھ ان چیزوں کو جو بہت دور ہوں یا بہت چھوٹی ہوں نہیں دیکھ سکتی۔ لیکن دور بین اور خورد بین کی مدد سے ہماری آنکھ ایسی چیزوں کو دیکھ سکتی ہے۔ اسی طرح مائیکروفون کی مدد سے کان نہایت خفیف آوازوں کو بھی سُن سکتا ہے۔ سر جگدیش چندر بوس کے ایجاد کردہ گریسوگراف کی مدد سے ہم نباتات کی حرکتِ نبض کا مُشاہدہ کرسکتے ہیں۔ زلزلہ پیما کی مدد سے ہم زمین کی ہلکی جنبش کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح سمندر کی گہرائیوں کا پتا ہم آلات کی مدد سے کرسکتے ہیں۔ چنانچہ آلات ہمارے دائرۂِ مُشاہدہ کو بہت زیادہ وسیع کردیتے ہیں۔
آلات ہمارے دائرۂِ مُشاہدہ کو صرف وسیع ہی نہیں کرتے بلکہ ہمارے مُشاہدے کے لئے درستی کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ ہمارا ہاتھ کسی وزن کا بالکل صحیح اندازہ ترازو کی طرح نہیں کرسکتا۔ اشیاء کی حرارت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ مقیاس الحرارت کی طرح چھُونے سے نہیں ہوسکتا۔ ایک ڈاکٹر پھیپھڑوں کی حالت کا بالکل صحیح اندازہ صدربین سے ہی کرسکتا ہے، نہ کہ اپنے کانوں سے۔
ہم آلات کو محض اس لئے استعمال میں نہیں لاتے کہ وہ مُشاہدہ کے لئے نہایت موزوں ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ ان کی مدد سے ہمیں قُدرت پر قابو حاصل ہوتا ہے۔ قدرت پر حکمرانی ہی ایک ایسی بات ہے جو انسان کو حیوانات سے پرفائق کرتی ہے۔ آلات قدرت کی بےپناہ طاقتوں کو انسان کے تابع کردیتے ہیں۔ چنانچہ وہ صرف علمی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ عملی مقاصد کے لئے بھی ہمارے لئے بےحد مُمِد و معاون ہیں۔
تجربہ
تجربے کی مُشاہدے پر فوقیت
مُشاہدے کی تجربے پر فوقیّت
مُشاہدے اور تجربے کے انضباطی اُصُول
فکر کے اُصُول
حُدود اور ان کی اقسام
حُدود کی تعبیر اور تضمن
حُدود قابلِ الحمل
تعریف
تقسیم
قضیے اور اُن کی قسمیں
قضیوں کی چار اساسی شکلیں
استنتاجِ استخراجیہ کی اقسام
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
استنتاجِ بدیہی جہتی
استنتاجِ بالواسطہ یا نظری
قواعدِ قیاس
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
قیاس کی اشکال
مخلوط شرطیہ قیاس
مخلوط منفصلہ قیاس
معضلہ یا قیاسِ ذوالجہتین
مُغالطے
اِستِقراء کی قسمیں
تعمیم
منطقِ اِستِقرائیہ کی بنیادیں
علم کا بیان
تصور اور تصدیق کا بیان

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں