قضیوں کی چار اساسی شکلیں
دسواں باب
قضیوں کی چار اساسی شکلیں
Four Standard Forms of Propositions
اگر موضوع کو س اور محمول کو پ سے ظاہر کیا جائے تو ہم ان چار قضیوں کو مختصر طور پر یوں بھی لکھ سکتے ہیں۔
ا، ع، ی، و کا اظہار شکلوں کے ذریعے سے: یُولر کے دائرے:۔
Diagrammatic Representation of A.E.I.C (Euler's Circles)
شکل نمبر (۱) میں س کا دائرہ اور پ کا دائرہ دونوں برابر ہیں۔ اگر ایک دائرے کو دوسرے پر رکھ دیا جائے اور وہ آپس میں بالکل برابر ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ س (یعنی موضوع) کی کُل جماعت پ (یعنی محمول) کی کُل جماعت کے برابر ہے۔ بالفاظِ دیگر تمام س، پ ہے۔ شکل نمبر ۲ میں س کا تمام دائرہ پ کے دائرے میں شامل ہے۔ یعنی تمام س، پ ہے۔
نوٹ:۔ اگر "کُچھ" کا مطلب "کم ازکم کُچھ" ہوتا اور ضروری طور پر "صرف کُچھ" نہیں ہوتا لیکن "صرف کُچھ" بھی "کُچھ" ہی ہوتا ہے۔
یہ شکلیں چنداں سُودمند نہیں۔ ایک شکل کا صرف ایک ہی مطلب ہونا چاہیے اور ایک قضیہ صرف ایک ہی شکل سے ظاہر ہونا چاہیے لیکن سوائے ع کے دائروں کے باقی تمام قضیوں کے دائرے مبہم ہیں۔ یعنی ان سے صاف طور پر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ کونسے قضیے کو ظاہر کررہے ہیں۔ علاوہ بریں یہ دائرے شرطیہ یا متصلہ قضیوں کو ظاہر نہیں کرسکتے۔ مثلًا ہم اس قضیہ کو کہ "اگر س، پ ہے تو ج، د ہے" کسی شکل سے ظاہر نہیں کرسکتے۔ استنتاج کی پیچیدہ صورتیں بھی (جو ہم آگے چل کر پڑھیں گے) ان دائروں کے ذریعے ظاہر نہیں کی جاسکتیں۔
قضیوں میں حُدود کی جامعیّت
Distribution of Terms in Propositions
اگر کوئی حدّ (خواہ وہ کسی قضیے میں موضوع ہو یا محمول) اپنی تعبیر یعنی دلالتِ افرادی کے لحاظ سے بحیثیتِ کُل استعمال ہو تو وہ جامع کہلاتی ہے۔ اور اگر کوئی حدّ اپنی تعبیر کے لحاظ سے کسی قضیے میں بحیثیتِ جُزئی استعمال ہو تو وہ غیر جامع کہلاتی ہے۔ بالفاظِ دیگر ایک حدّ اسی صورت میں جامع ہوتی ہے جب کہ اس کی مکمل تعبیر یعنی اس کے تمام افراد کی طرف اشارہ ہو اور اس صورت میں غیرجامع ہوتی ہے جب کہ اس کے صرف ایک جزؤ کی طرف اشارہ ہو۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ تمام انسان فانی ہیں تو اس قضیے میں حدّ "انسان" جامع ہوگی کیونکہ ہمارا اشارہ کُل جماعتِ انسانی کی طرف ہے۔ اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ کوئی مرد عورت نہیں تو اس قضیہ میں حدّ مرد جامع ہوگی کیونکہ ہمارا اشارہ تمام مردوں کی طرف ہے۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ کچھ انسان نیک ہیں یا کچھ مرد دلیر ہیں تو ان قضیوں میں 'انسان' اور 'مرد' غیرجامع ہوں گے کیونکہ ہمارا اشارہ تمام انسانوں اور مردوں کی بجائے کچھ انسانوں اور کچھ مردوں کی طرف ہے۔
اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ا، ع، ی، و میں کونسی حدّ جامع ہوتی ہے اور کونسی غیرجامع۔
١. ا (کلیۂ مَوْجِبَہ) "تمام س، پ ہے"۔ تمام انسان فانی ہیں، تمام کوّے سیاہ ہیں، تمام گدھے جانور ہیں۔ ایسے قضیوں میں موضوع کی مکمل تعبیر کی طرف اشارہ ہوتا ہے جیسا کہ لفظ 'تمام' یا علامت ∀ سے ظاہر ہے، لہٰذا قضیہ ا (یعنی کُلِیّۂ مُوْجِبَہ) میں موضوع ہمیشہ جامع ہوتا ہے لیکن محمول کی مکمل تعبیر کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تمام س، پ ہے۔ تو ظاہر ہے کہ ہمارا اشارہ س کی تمام جماعت کی طرف ہے لیکن پ کی تمام جماعت کی طرف نہیں۔ "تمام س، پ ہے" کا یہ مطلب تو ضرور ہے کہ تمام س، پ میں شامل ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ تمام پ بھی س میں شامل ہو "تمام گدھے جانور ہیں" اس قضیے میں ہمارا اشارہ تمام گدھوں کی طرف تو ہے مگر تمام جانوروں کی طرف نہیں۔ "تمام گدھے" "کُچھ جانور" ہیں۔ لہٰذا قضیہ ا میں موضوع جامع اور محمول غیر جامع ہوتا ہے۔
٢. ع (کُلیۂ سَالِبَہ) "کوئی س، پ نہیں"۔ کوئی مُثلث ∆ دائرہ نہیں، کوئی کوّا سفید نہیں، کوئی مرد عورت نہیں۔ ایسے قضیوں میں موضوع اور محمول دونوں کی مکمل تعبیر کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ "کوئی س، پ نہیں" تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام س، پ سے خارِج ہے، اور تمام پ، س سے خارِج ہے۔ "کوئی مُثلث ∆ دائرہ نہیں" اس قضیے میں ہمارا اشارہ تمام مثلثوں ∆ اور تمام دائروں کی طرف ہے اِس قضیے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مثلثیں ∆ تمام دائروں سے خارِج ہیں۔ لہٰذا قضیۂ ع میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہوتے ہیں۔
٣. ی (جُزئیۂ مُوْجِبَہ) "کچھ س، پ ہے"۔ کُچھ آم میٹھے ہیں، کُچھ کُتّے سیاہ ہیں، کُچھ کتابیں مُشکل ہیں، ایسے قضیوں میں موضوع غیر جامع ہوتا ہے۔ جیسا کہ لفظ "کُچھ" یا علامت ∃ سے ظاہر ہے اور جہاں تک محمول کا تعلق ہے اُس کے یقینی طور پر جامع ہونے کے متعلق کوئی اشارہ نہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کچھ آم میٹھے ہیں تو ہمارا اشارہ تمام میٹھی چیزوں کی طرف نہیں ہوتا۔ یعنی ہمارا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کُچھ آم "تمام میٹھی چیزیں" ہیں۔ بلکہ یہ کہ کچھ آم "کُچھ میٹھی چیزیں" ہیں۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ "کُچھ کُتّے سیاہ ہیں" تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ "کُچھ کُتّے" "کُچھ سیاہ چیزیں" ہیں۔ لہٰذا قضیۂ ی میں موضوع اور محمول دونوں غیر جامع ہوتے ہیں۔
٤. جُزئیۂ سَالِبَہ "کُچھ س، پ نہیں"۔ کُچھ مُثلثیں ∆ مساوی الاضلاع نہیں، کچھ مرد دلیر نہیں، کچھ گھوڑے سفید نہیں۔ ایسے قضیوں میں موضوع غیرجامع ہوتا ہے جیسا کہ لفظ "کُچھ" یا علامت ∃ سے ظاہر ہے لیکن محمول جامع ہوتا ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ "کچھ س، پ نہیں" تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ "کچھ مرد"، "تمام دلیر" آدمیوں کی جماعت سے خارِج ہیں۔ جب تک ہمارا اشارہ تمام دلیر آدمیوں کی طرف نہ ہو۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ چند مرد جن کی طرف موضوع میں اشارہ ہے دلیر نہیں۔ لہٰذا قضیۂ و میں موضوع غیر جامع اور محمول جامع ہوتا ہے۔
قضیہ: ا، موضوع: جامع، محمول: غیرجامع۔
قضیہ: ع، موضوع: جامع، محمول: جامع۔
قضیہ: ی، موضوع: غیرجامع، محمول: غیرجامع۔
قضیہ: و، موضوع: غیرجامع، محمول: جامع۔
ا، ع، ی، و میں حُدود کی جامعیّت کو ہم دائروں کی مدد سے بھی دکھلا سکتے ہیں۔
١. ا کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔
![]() |
| شکل (۱) اور شکل (۲) |
س (یعنی موضوع) ان دونوں شکلوں میں سارا لیا گیا ہے۔ پ شکل نمبر (۱) میں تو سارا لیا گیا ہے۔ لیکن شکل نمبر (۲) میں اس کا کچھ حِصّہ لیا گیا ہے۔ بالفاظِ دیگر قضیۂ ا میں س یعنی موضوع تو ہمیشہ جامع ہوتا ہے لیکن پ یعنی محمول ہمیشہ جامع نہیں ہوتا۔ لہٰذا احتیاطًا ہم یہی کہیں گے کہ قضیۂ ا میں محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ پس قضیۂ ا میں موضوع جامع اور محمول غیر جامع ہوتا ہے۔
٢. ع کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔
جیسا کہ دائروں سے ظاہر ہے تمام س، تمام پ سے خارِج ہے۔ چنانچہ قضیۂ ع میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہوتے ہیں۔
٣. ی کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔
پس قضیۂ و میں موضوع غیر جامع اور محمول جامع ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا بحث کے نتائج یہ ہیں۔ کُلیّہ قضیوں (یعنی ا اور ع) میں موضوع جامع ہوتا ہے۔ لیکن جُزئیہ قضیوں (یعنی ی اور و) میں موضوع غیر جامع ہوتا ہے۔ مَوجِبَہ قضیوں (ا اور ی) میں محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ لیکن سَالِبَہ قضیوں (ع اور و) میں محمول جامع ہوتا ہے۔
ا چونکہ کُلیّہ ہے لہٰذا اس میں موضوع جامع ہوتا ہے اور چونکہ یہ سَالِبَہ نہیں لہٰذا اس میں محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ ع چونکہ کُلیّہ بھی ہے اور سَالِبَہ بھی لہٰذا اس میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہوتے ہیں۔ ی نہ کُلیّہ ہے نہ سَالِبَہ، لہٰذا اس میں نہ موضوع جامع ہوتا ہے نہ محمول۔ و چونکہ جُزئیہ ہے لہٰذا اس میں موضوع غیر جامع ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سَالِبَہ ہے لہٰذا اس میں محمول جامع ہوتا ہے۔
اگر ہم جامع کو نشان √ اور غیر جامع کو نشان × سے ظاہر کریں، تو ہم ا، ع، ی، و میں حُدود کی جامعیّت کو یوں ظاہر کرسکتے ہیں۔
ا = تمام س √، پ × ہے = تمام انسان √ فانی × ہیں۔
ع = کوئی س √ پ √ نہیں = کوئی مرد √ عورت √ نہیں۔
ی = کُچھ س × پ × ہے = کُچھ گھوڑے × سفید × ہیں
و = کُچھ س √ پ × نہیں = کُچھ آدمی × ڈاکٹر × نہيں
جملوں کی منطقی شکل میں تحویل
Reduction of Sentences To the Logical Form
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطق میں قضیوں کی چار اساسی شکلیں تسلیم کی جاتی ہیں۔ یعنی ا، ع، ی، و۔ چُنانچہ ان جملوں کو جو ان منطقی شکلوں میں نہ ہوں ا، ع، ی، و کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔ کسی جملے کو منطقی شکل میں لانے کے لئے ہمیں اس میں تھوڑی سی قطع و برید کرنا پڑتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے میں یہ احتیاط لازمی ہے کہ اس کے معنیٰ میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ جب کسی جملے کو منطقی ڈھالا جاتا ہے تو اس کے موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ اور اس کی کیفیّت اور کمیّت کو واضح طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ مختصرًا کسی جملے کو منطقی شکل میں ڈھالنا دراصل ا، ع، ی، و کی شکل میں ڈھالنا ہے۔
یہ معلوم کرنا کہ کسی جملے میں موضوع کونسا ہے اور محمول کونسا کوئی مُشکل بات نہیں۔ لیکن اگر کسی جملے میں موضوع اور محمول سرسری طور پر دیکھنے سے نظر نہ آئیں تو یہ دیکھنا چاہیے کہ کس کے متعلق کچھ کہا گیا ہے اور کیا کہا گیا ہے۔ وہ جس کے متعلق کچھ کہا گیا ہو موضوع ہوتا ہے اور جو کچھ کہا گیا ہو وہ محمول ہوتا ہے۔ جہاں تک نسبتِ حکمیہ کا تعلق ہے ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہ ہمیشہ زمانۂ حال اور فعلِ ناقص کی شکل "ہے" یا "ہیں" یا "نہیں ہے" یا "نہیں ہیں" یا "نہیں" میں ہونی چاہیے۔ کسی جملے کے موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ کے تعیین کے بعد ہمیں اس جملے کی کیفیّت اور کمیّت کو معلوم کرنا ہوتا ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ کیفیّت اور کمیّت کا اندازہ کسی جملے کی ظاہری شکل سے نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے معنیٰ سے کیا جاتا ہے۔ موضوع، محمول، کیفیّت اور کمیّت کو معلوم کرنے کے بعد جب ہمیں یہ پتا چل جاتا ہے کہ کوئی جملہ ا ہے یا ع ہے یا ی ہے یا و، تو ہم اُسے ا، ع، ی یا و کی شکل میں لاسکتے ہیں۔ مثلًا یہ قضیے:۔
١. کُتّے بھونکتے ہیں۔
٢. مرد، عورتیں نہیں۔
٣. اکثر انسان خود غرض ہیں۔
٤. تمام چمکنے والی چیزیں سونا نہیں۔
مندرجہ ذیل شکلوں میں تبدیل ہوں گے۔
١. نشانِ کمیّت = تمام، موضوع = کُتّے، محمول = بھونکنے والے جانور، نسبتِ حکمیہ = ہیں = ا۔
٢. نشانِ کمیّت = کوئی، موضوع = مرد، محمول = عورت، نسبتِ حکمیہ = نہیں = ع۔
٣. نشانِ کمیّت = کُچھ، موضوع = انسان، محمول = خود غرض، نسبتِ حکمیہ = ہیں = ی۔
٤. نشانِ کمیّت = کُچھ، موضوع = چمکنے والی چیزیں، محمول = سونا، نسبتِ حکمیہ = نہیں = و۔
شرطیہ قضیے بھی ا، ع، ی، و کی شکل میں ڈھالے جاسکتے ہیں۔
١. اگر تم محنت کرو گے تو یقینًا پاس ہوجاؤ گے = تمام محنت کرنے کے حالات پاس ہونے کے حالات ہیں۔
یا
تمام محنت کرنے والے پاس ہونے والے ہیں = ا
٢. اگر تم وقت ضائع کرو گے تو کبھی پاس نہیں ہوگے = کوئی وقت ضائع کرنے کے حالات پاس ہونے کے حالات نہیں
یا
کوئی وقت ضائع کرنے والا پاس ہونے والا نہیں = ع
٣. اگر کوئی وقت ضائع کرے تو بعض اوقات وہ فیل ہوجاتا ہے = کُچھ وقت ضائع کرنے کے حالات فیل ہونے کے حالات ہیں
یا
کچھ وقت ضائع کرنے والے فیل ہونے والے ہیں = ی
٤. اگر کوئی وقت ضائع کرے تو بعض اوقات وہ پاس نہیں ہوتا = کچھ وقت ضائع کرنے کے حالات پاس ہونے کے حالات نہیں
یا
کچھ وقت ضائع کرنے والے پاس ہونے والے نہیں = و
اگر کسی سوالیہ جملے کو منطقی شکل میں لانا ہو تو سوال کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے جواب سے اُس کی منطقی شکل کا اندازہ کرنا چاہیے۔ مثلًا:۔
١. کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اپنے وطن کا دشمن ہو؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا شخص نہیں جو اپنے وطن کا دشمن ہو۔ اس کی منطقی شکل یہ ہوگی۔ "کوئی شخص اپنے وطن کا دشمن نہیں" ع
٢. وہ کیسے وہاں موجود ہوسکتا تھا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہاں موجود نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کی منطقی شکل یوں ہوگی۔ "وہ ایسا شخص نہیں جو وہاں موجود ہوسکتا تھا" ع
٣. کیا انسان غیرفانی ہوسکتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان غیر فانی نہیں ہوسکتے۔ اس کی منطقی شکل یہ ہوگی۔ "کوئی انسان غیر فانی نہیں" ع
محدود قضیے بھی منطقی شکل میں لائے جاسکتے ہیں مثلًا صرف محنتی لڑکے پاس ہیں = تمام پاس ہونے والے محنتی لڑکے ہیں (ا)
یا
کوئی غیر محنتی لڑکا پاس نہیں (ع)
اسی طرح استثنائی قضیے بھی منطقی شکل میں لائے جاسکتے ہیں۔ مثلًا سوائے محنتی لڑکوں کے کوئی پاس نہیں = کوئی غیر محنتی لڑکا پاس نہیں (ع)
یا
تمام پاس ہونے والے محنتی لڑکے ہیں (ا)











تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں