قضیوں کی چار اساسی شکلیں

 دسواں باب

قضیوں کی چار اساسی شکلیں

Four Standard Forms of Propositions 


ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ کمیّت کے لحاظ سے قضیوں کی دو قسمیں ہیں۔ یعنی کُلیّہ اور جُزئیہ۔ اور کیفیت کے لحاظ سے بھی قضیوں کی دو قسمیں ہیں۔ یعنی مُوجِبَہ اور سَالِبَہ۔ اگر ہم کمیّت اور کیفیّت کو یک جا کردیں تو ہمیں کُل چار قضیے ملیں گے۔ یعنی (۱) کُلیّہ اور مُوجِبَہ، (۲) کُلِیّہ اور سَالِبَہ، (۳) جُزئیہ اور مُوجِبَہ، اور (٤) جُزئیہ اور سَالِبَہ۔
قضیوں کی یہی چار اساسی شکلیں ہیں اور باقی تمام قضیوں کو ان چار شکلوں میں سے کسی ایک شکل میں ڈالا جاتا ہے۔ ان چار اساسی قضیوں کو چار نام یا نشان دئیے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔
کُلِیّۂ مُوجِبَہ = ا
کُلِیّۂ سَالِبَہ = ع
جُزئیۂ مُوجِبَہ = ی
جُزئیۂ سَالِبَہ = و
ا (کُلِیّۂ مُوجِبَہ) {تمام میز گول ہیں، تمام آم میٹھے ہیں، تمام کھلاڑی ذہین ہیں} تمام ا، ب ہے۔
ع (کُلِیّۂ سَالِبَہ) {کوئی میز گول نہیں، کوئی آم میٹھا نہیں، کوئی کھلاڑی ذہین نہیں} کوئی ا، ب نہیں۔
ی (جُزئیۂ مُوجِبَہ) {کچھ میز گول ہیں، کچھ آم میٹھے ہیں، کچھ کھلاڑی ذہین ہیں} کچھ ا، ب ہے۔
و (جُزئیہ سَالِبَہ) {کچھ میز گول نہیں، کچھ آم میٹھے نہیں، کچھ کھلاڑی ذہین نہیں} کچھ ا، ب نہیں۔
حملیہ قضیوں کی یہ چار اساسی شکلیں منطق کی درسی کتابوں میں عمومًا بیان کی جاتی ہیں۔ ان چار قضیوں میں سے دو موجبہ ہیں (یعنی ا اور ی) اور دو سالبہ (یعنی ع اور و) اسی طرح دو کلیّہ ہیں (یعنی ا اور ع) اور دو جزئیہ (یعنی ی اور و)۔

اگر موضوع کو س اور محمول کو پ سے ظاہر کیا جائے تو ہم ان چار قضیوں کو مختصر طور پر یوں بھی لکھ سکتے ہیں۔
س ا پ (یعنی تمام س، پ ہے)
𝒙 (𝑋(𝒙)→ 𝑌(𝒙))
∀𝒙 (𝒙 ε 𝑋→𝒙 ε 𝑌)
س ع پ (یعنی کوئی س، پ نہیں)
∀𝒙 (𝑋(𝒙)→¬𝑌(𝒙))
𝒙 (𝒙 ε 𝑋 → 𝒙 έ 𝑌)
س ی پ (یعنی کچھ س، پ)
∃𝒙 (𝑋(𝒙) ∧ 𝑌(𝒙))
∃𝒙 (𝒙 ε 𝑋 ∧ 𝒙 ε 𝑌)
س و پ (یعنی کچھ س، پ نہیں)
∃𝒙 (𝑋(𝒙) ∧ ¬𝑌(𝒙))
∃𝒙 (𝒙 ε 𝑋 ∧ 𝒙 έ 𝑌)
بعض اوقات قضیوں میں منفی حدود (مثلًا غیرس، غیرپ یا علامتی طور پر ہم غیر کو ¬ سے ظاہر کرتے ہیں) بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ ایسی منفی حدود کو نشانات کے ذریعے سے ہم یوں بھی لکھ سکتے ہیں س۔پ۔ مثلًا "تمام غیر س، غیر پ ہیں" یہ قضیہ مختصر طور پر ہم اس طرح لکھ سکتے ہیں س ا پ۔
طلبا کو چاہیے کہ ا، ع، ی، و کی شکلوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ 

ا، ع، ی، و کا اظہار شکلوں کے ذریعے سے: یُولر کے دائرے:۔ 

Diagrammatic Representation of A.E.I.C (Euler's Circles)

اٹھارویں صدی کے ایک سوِس منطقی یُولر نے قضیوں کی ان چار شکلوں (یعنی ا، ع، ی، و) کو دائروں سے ظاہر کیا ہے۔ اگر موضوع کو 'س' اور محمول کو 'پ' تصور کرلیا جائے  تو ایک دائرہ 'س' کے لئے ہوگا اور ایک 'پ' کے لئے۔ س اور پ کے دائروں کو مختلف طریقوں سے ملا کر ہم موضوع اور محمول کے مختلف تعلقات کو (جو ا، ع، ی، و میں پائے جاتے ہیں) ظاہر کرسکتے ہیں۔
س اور پ کے دائروں کو ہم صرف پانچ طریقوں سے آپس میں ملا سکتے ہیں۔ (۱) س اور پ کے دائرے بالکل ایک دوسرے سے علـٰحده ہوں۔ (۲) س اور پ کے دائرے آپس میں بالکل برابر ہیں۔ (۳) س کا دائرہ پ کے دائرے سے بڑا ہو اور پ کا دائرہ کُلیۃً اس میں شامل ہو۔ (٤) پ کا دائرہ س کے دائرے سے بڑا ہو اور س کا دائرہ کلیۃً اس میں شامل ہو (٥) س اور پ کے دائرے قدرے یعنی صرف جُزئیۃً آپس میں مشترک ہوں۔ یہ پانچ صورتیں مندرجہ ذیل شکلوں سے ظاہر ہیں۔ 


اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ا، ع، ی، و کو کون سے دائرے ظاہر کرسکتے ہیں۔ ا = تمام س، پ ہیں۔ ا کو دو مندرجہ ذیل دائرے ظاہر کرتے ہیں۔

شکل نمبر (۱) میں س کا دائرہ اور پ کا دائرہ دونوں برابر ہیں۔ اگر ایک دائرے کو دوسرے پر رکھ دیا جائے اور وہ آپس میں بالکل برابر ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ س (یعنی موضوع) کی کُل جماعت پ (یعنی محمول) کی کُل جماعت کے برابر ہے۔ بالفاظِ دیگر تمام س، پ ہے۔ شکل نمبر ۲ میں س کا تمام دائرہ پ کے دائرے میں شامل ہے۔ یعنی تمام س، پ ہے۔ 
ع = کوئی س، پ نہیں۔ ع کو مندرجہ ذیل شکل ظاہر کرتی ہے۔
اس شکل میں س اور پ کے دائرے کُلیۃً ایک دوسرے سے علـٰحده ہیں۔ ان میں کسی قسم کا اشتراک (تقاطُع) نہیں۔ یعنی کوئی س، پ نہیں۔
ی = کچھ س، پ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ س کا کم ازکم کچھ حِصّہ پ میں شامل ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کم ازکم کچھ حصّے کا مطلب صرف کچھ حصّہ نہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی مضمون میں پاس ہونے کے لئے سو میں سے کم ازکم ۳۳ نمبر ہوتا ہے نہ کہ صرف ۳۳ نمبر۔ 
چنانچہ 'کچھ' منطقی مطلب کسی جماعت کا کم ازکم کچھ حصّہ ہوتا ہے نہ کہ صرف کچھ حصّہ۔ لہٰذا 'کچھ' کا مطلب 'تمام' بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے جو دائرے ا کو ظاہر کرتے ہیں اور ی کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اگر تمام س، پ ہے تو س کا کچھ حِصّہ بھی پ ہے۔ چنانچہ ی کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔ 

شکل نمبر (۳) اور (۴) میں س کا صرف ایک حصّہ پ ہے۔ یعنی کچھ س، پ ہے۔ شکل نمبر (۱) اور (۲) میں تمام س، پ ہے۔ اور اگر تمام س، پ ہے کا کچھ حصّہ بھی پ ہے۔ 
و = کچھ س، پ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ س کا کم ازکم کچھ حصّہ (نہ کہ صرف کچھ حصّہ) پ نہیں۔ یعنی س کم ازکم جُزیۃً (نہ کہ صرف جُزیۃً) پ نہیں۔ لہٰذا جق شکل ع کو ظاہر کرتی ہے وہ ا کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ و کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔

شکل نمبر (۱) میں سارا س، پ سے باہر ہے۔ اور تو س کا کچھ حصّہ بھی پ سے باہر ہے۔ یعنی کچھ س، پ نہیں۔ شکل نمبر (۲) اور (۳) میں صاف طور پر س کا کچھ حصّہ پ نہیں۔ یعنی کچھ س، پ نہیں۔ یعنی کچھ س، پ نہیں۔
نوٹ:۔ اگر "کُچھ" کا مطلب "کم ازکم کُچھ" ہوتا اور ضروری طور پر "صرف کُچھ" نہیں ہوتا لیکن "صرف کُچھ" بھی "کُچھ" ہی ہوتا ہے۔ 

یہ شکلیں چنداں سُودمند نہیں۔ ایک شکل کا صرف ایک ہی مطلب ہونا چاہیے اور ایک قضیہ صرف ایک ہی شکل سے ظاہر ہونا چاہیے لیکن سوائے ع کے دائروں کے باقی تمام قضیوں کے دائرے مبہم ہیں۔ یعنی ان سے صاف طور پر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ کونسے قضیے کو ظاہر کررہے ہیں۔ علاوہ بریں یہ دائرے شرطیہ یا متصلہ قضیوں کو ظاہر نہیں کرسکتے۔ مثلًا ہم اس قضیہ کو کہ "اگر س، پ ہے تو ج، د ہے" کسی شکل سے ظاہر نہیں کرسکتے۔ استنتاج کی پیچیدہ صورتیں بھی (جو ہم آگے چل کر پڑھیں گے) ان دائروں کے ذریعے ظاہر نہیں کی جاسکتیں۔ 

قضیوں میں حُدود کی جامعیّت

Distribution of Terms in Propositions 

اگر کوئی حدّ (خواہ وہ کسی قضیے میں موضوع ہو یا محمول) اپنی تعبیر یعنی دلالتِ افرادی کے لحاظ سے بحیثیتِ کُل استعمال ہو تو وہ جامع کہلاتی ہے۔ اور اگر کوئی حدّ اپنی تعبیر کے لحاظ سے کسی قضیے میں بحیثیتِ جُزئی استعمال ہو تو وہ غیر جامع کہلاتی ہے۔ بالفاظِ دیگر ایک حدّ اسی صورت میں جامع ہوتی ہے جب کہ اس کی مکمل تعبیر یعنی اس کے تمام افراد کی طرف اشارہ ہو اور اس صورت میں غیرجامع ہوتی ہے جب کہ اس کے صرف ایک جزؤ کی طرف اشارہ ہو۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ تمام انسان فانی ہیں تو اس قضیے میں حدّ "انسان" جامع ہوگی کیونکہ ہمارا اشارہ کُل جماعتِ انسانی کی طرف ہے۔ اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ کوئی مرد عورت نہیں تو اس قضیہ میں حدّ مرد جامع ہوگی کیونکہ ہمارا اشارہ تمام مردوں کی طرف ہے۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ کچھ انسان نیک ہیں یا کچھ مرد دلیر ہیں تو ان قضیوں میں 'انسان' اور 'مرد' غیرجامع ہوں گے کیونکہ ہمارا اشارہ تمام انسانوں اور مردوں کی بجائے کچھ انسانوں اور کچھ مردوں کی طرف ہے۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ا، ع، ی، و میں کونسی حدّ جامع ہوتی ہے اور کونسی غیرجامع۔

١. ا (کلیۂ مَوْجِبَہ) "تمام س، پ ہے"۔ تمام انسان فانی ہیں، تمام کوّے سیاہ ہیں، تمام گدھے جانور ہیں۔ ایسے قضیوں میں موضوع کی مکمل تعبیر کی طرف اشارہ ہوتا ہے جیسا کہ لفظ 'تمام' یا علامت ∀ سے ظاہر ہے، لہٰذا قضیہ ا (یعنی کُلِیّۂ مُوْجِبَہ) میں موضوع ہمیشہ جامع ہوتا ہے لیکن محمول کی مکمل تعبیر کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تمام س، پ ہے۔ تو ظاہر ہے کہ ہمارا اشارہ س کی تمام جماعت کی طرف ہے لیکن پ کی تمام جماعت کی طرف نہیں۔ "تمام س، پ ہے" کا یہ مطلب تو ضرور ہے کہ تمام س، پ میں شامل ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ تمام پ بھی س میں شامل ہو "تمام گدھے جانور ہیں" اس قضیے میں ہمارا اشارہ تمام گدھوں کی طرف تو ہے مگر تمام جانوروں کی طرف نہیں۔ "تمام گدھے" "کُچھ جانور" ہیں۔ لہٰذا قضیہ ا میں موضوع جامع اور محمول غیر جامع ہوتا ہے۔

٢. ع (کُلیۂ سَالِبَہ) "کوئی س، پ نہیں"۔ کوئی مُثلث ∆ دائرہ نہیں، کوئی کوّا سفید نہیں، کوئی مرد عورت نہیں۔ ایسے قضیوں میں موضوع اور محمول دونوں کی مکمل تعبیر کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ "کوئی س، پ نہیں" تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام س، پ سے خارِج ہے، اور تمام پ، س سے خارِج ہے۔ "کوئی مُثلث ∆ دائرہ نہیں" اس قضیے میں ہمارا اشارہ تمام مثلثوں ∆ اور تمام دائروں کی طرف ہے اِس قضیے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مثلثیں ∆ تمام دائروں سے خارِج ہیں۔ لہٰذا قضیۂ ع میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہوتے ہیں۔

٣. ی (جُزئیۂ مُوْجِبَہ) "کچھ س، پ ہے"۔ کُچھ آم میٹھے ہیں، کُچھ کُتّے سیاہ ہیں، کُچھ کتابیں مُشکل ہیں، ایسے قضیوں میں موضوع غیر جامع ہوتا ہے۔ جیسا کہ لفظ "کُچھ" یا علامت ∃ سے ظاہر ہے اور جہاں تک محمول کا تعلق ہے اُس کے یقینی طور پر جامع ہونے کے متعلق کوئی اشارہ نہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کچھ آم میٹھے ہیں تو ہمارا اشارہ تمام میٹھی چیزوں کی طرف نہیں ہوتا۔ یعنی ہمارا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کُچھ آم "تمام میٹھی چیزیں" ہیں۔ بلکہ یہ کہ کچھ آم "کُچھ میٹھی چیزیں" ہیں۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ "کُچھ کُتّے سیاہ ہیں" تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ "کُچھ کُتّے" "کُچھ سیاہ چیزیں" ہیں۔ لہٰذا قضیۂ ی میں موضوع اور محمول دونوں غیر جامع ہوتے ہیں۔ 

 ٤. جُزئیۂ سَالِبَہ "کُچھ س، پ نہیں"۔ کُچھ مُثلثیں ∆ مساوی الاضلاع نہیں، کچھ مرد دلیر نہیں، کچھ گھوڑے سفید نہیں۔ ایسے قضیوں میں موضوع غیرجامع ہوتا ہے جیسا کہ لفظ "کُچھ" یا علامت ∃ سے ظاہر ہے لیکن محمول جامع ہوتا ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ "کچھ س، پ نہیں" تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ "کچھ مرد"، "تمام دلیر" آدمیوں کی جماعت سے خارِج ہیں۔ جب تک ہمارا اشارہ تمام دلیر آدمیوں کی طرف نہ ہو۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ چند مرد جن کی طرف موضوع میں اشارہ ہے دلیر نہیں۔ لہٰذا قضیۂ و میں موضوع غیر جامع اور محمول جامع ہوتا ہے۔

قضیہ: ا، موضوع: جامع، محمول: غیرجامع۔

قضیہ: ع، موضوع: جامع، محمول: جامع۔

قضیہ: ی، موضوع: غیرجامع، محمول: غیرجامع۔

قضیہ: و، موضوع: غیرجامع، محمول: جامع۔

ا، ع، ی، و میں حُدود کی جامعیّت کو ہم دائروں کی مدد سے بھی دکھلا سکتے ہیں۔

١. ا کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔

شکل (۱) اور شکل (۲)

س (یعنی موضوع) ان دونوں شکلوں میں سارا لیا گیا ہے۔ پ شکل نمبر (۱) میں تو سارا لیا گیا ہے۔ لیکن شکل نمبر (۲) میں اس کا کچھ حِصّہ لیا گیا ہے۔ بالفاظِ دیگر قضیۂ ا میں س یعنی موضوع تو ہمیشہ جامع ہوتا ہے لیکن پ یعنی محمول ہمیشہ جامع نہیں ہوتا۔ لہٰذا احتیاطًا ہم یہی کہیں گے کہ قضیۂ ا میں محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ پس قضیۂ ا میں موضوع جامع اور محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ 

٢. ع کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔


جیسا کہ دائروں سے ظاہر ہے تمام س، تمام پ سے خارِج ہے۔ چنانچہ قضیۂ ع میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہوتے ہیں۔ 

٣. ی کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔

شکل نمبر (۱) اور شکل نمبر (۲) میں تو س سارا لیا گیا لیکن شکل نمبر (۳) اور (٤) میں س کا کچھ حصّہ لیا گیا ہے بالفاظِ دیگر قضیۂ ی میں س یعنی موضوع ہمیشہ جامع نہیں ہوتا۔ لہٰذا احتیاطًا ہمیں یہی کہنا چاہیے کہ قضیہ ی میں س غیر جامع ہوتا ہے۔ جہاں تک پ یعنی محمول کا تعلق ہے، شکل نمبر (۱) اور شکل نمبر (۳) میں یہ سارا لیا گیا ہے لیکن شکل نمبر (۲) اور شکل نمبر (٤) میں اس کا کچھ حصّہ لیا گیا ہے۔ بالفاظِ دیگر قضیۂ ی میں محمول ہمیشہ جامع نہیں ہوتا۔ لہٰذا احتیاطًا ہم یہی کہیں گے کہ قضیۂ ی میں محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ پس قضیۂ ی میں موضوع اور محمول دونوں غیر جامع ہوتے ہیں۔
٤. و کے لئے مندرجہ ذیل دائرے ہیں۔


س صرف شکل نمبر (۱) میں سارا لیا گیا ہے اور شکل نمبر (۲) اور نمبر (۳) میں اس کا کچھ حصّہ لیا گیا ہے۔ چنانچہ قضیہ و میں س یعنی موضوع ہمیشہ جامع نہیں ہوتا۔ لہٰذا احتیاطًا ہم یہی کہیں گے کہ قضیۂ و میں موضوع غیرجامع ہوتا ہے۔ جہاں تک پ یعنی محمول کا تعلق ہے یہ تمام شکلوں میں سارا لیا گیا ہے یعنی تمام پ کچھ س سے خارِج ہے۔ لہٰذا قضیۂ و میں محمول ہمیشہ جامع ہوتا ہے۔ 

پس قضیۂ و میں موضوع غیر جامع اور محمول جامع ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا بحث کے نتائج یہ ہیں۔ کُلیّہ قضیوں (یعنی ا اور ع) میں موضوع جامع ہوتا ہے۔ لیکن جُزئیہ قضیوں (یعنی ی اور و) میں موضوع غیر جامع ہوتا ہے۔ مَوجِبَہ قضیوں (ا اور ی) میں محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ لیکن سَالِبَہ قضیوں (ع اور و) میں محمول جامع ہوتا ہے۔

ا چونکہ کُلیّہ ہے لہٰذا اس میں موضوع جامع ہوتا ہے اور چونکہ یہ سَالِبَہ نہیں لہٰذا اس میں محمول غیر جامع ہوتا ہے۔ ع چونکہ کُلیّہ بھی ہے اور سَالِبَہ بھی لہٰذا اس میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہوتے ہیں۔ ی نہ کُلیّہ ہے نہ سَالِبَہ، لہٰذا اس میں نہ موضوع جامع ہوتا ہے نہ محمول۔ و چونکہ جُزئیہ ہے لہٰذا اس میں موضوع غیر جامع ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سَالِبَہ ہے لہٰذا اس میں محمول جامع ہوتا ہے۔

اگر ہم جامع کو نشان √ اور غیر جامع کو نشان × سے ظاہر کریں، تو ہم ا، ع، ی، و میں حُدود کی جامعیّت کو یوں ظاہر کرسکتے ہیں۔ 

ا = تمام س √، پ × ہے = تمام انسان √ فانی × ہیں۔

ع = کوئی س  √ پ √ نہیں = کوئی مرد √ عورت √ نہیں۔

ی = کُچھ س × پ × ہے = کُچھ گھوڑے × سفید × ہیں

و = کُچھ س √ پ × نہیں = کُچھ آدمی × ڈاکٹر × نہيں

جملوں کی منطقی شکل میں تحویل

Reduction of Sentences To the Logical Form

ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطق میں قضیوں کی چار اساسی شکلیں تسلیم کی جاتی ہیں۔ یعنی ا، ع، ی، و۔ چُنانچہ ان جملوں کو جو ان منطقی شکلوں میں نہ ہوں ا، ع، ی، و کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔ کسی جملے کو منطقی شکل میں لانے کے لئے ہمیں اس میں تھوڑی سی قطع و برید کرنا پڑتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے میں یہ احتیاط لازمی ہے کہ اس کے معنیٰ میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ جب کسی جملے کو منطقی ڈھالا جاتا ہے تو اس کے موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ اور اس کی کیفیّت اور کمیّت کو واضح طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ مختصرًا کسی جملے کو منطقی شکل میں ڈھالنا دراصل ا، ع، ی، و کی شکل میں ڈھالنا ہے۔

یہ معلوم کرنا کہ کسی جملے میں موضوع کونسا ہے اور محمول کونسا کوئی مُشکل بات نہیں۔ لیکن اگر کسی جملے میں موضوع اور محمول سرسری طور پر دیکھنے سے نظر نہ آئیں تو یہ دیکھنا چاہیے کہ کس کے متعلق کچھ کہا گیا ہے اور کیا کہا گیا ہے۔ وہ جس کے متعلق کچھ کہا گیا ہو موضوع ہوتا ہے اور جو کچھ کہا گیا ہو وہ محمول ہوتا ہے۔ جہاں تک نسبتِ حکمیہ کا تعلق ہے ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہ ہمیشہ زمانۂ حال اور فعلِ ناقص کی شکل "ہے" یا "ہیں" یا "نہیں ہے" یا "نہیں ہیں" یا "نہیں" میں ہونی چاہیے۔ کسی جملے کے موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ کے تعیین کے بعد ہمیں اس جملے کی کیفیّت اور کمیّت کو معلوم کرنا ہوتا ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ کیفیّت اور کمیّت کا اندازہ کسی جملے کی ظاہری شکل سے نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے معنیٰ سے کیا جاتا ہے۔ موضوع، محمول، کیفیّت اور کمیّت کو معلوم کرنے کے بعد جب ہمیں یہ پتا چل جاتا ہے کہ کوئی جملہ ا ہے یا ع ہے یا ی ہے یا و، تو ہم اُسے ا، ع، ی یا و کی شکل میں لاسکتے ہیں۔ مثلًا یہ قضیے:۔

١. کُتّے بھونکتے ہیں۔

٢. مرد، عورتیں نہیں۔

٣. اکثر انسان خود غرض ہیں۔

٤. تمام چمکنے والی چیزیں سونا نہیں۔

مندرجہ ذیل شکلوں میں تبدیل ہوں گے۔

١. نشانِ کمیّت = تمام، موضوع = کُتّے، محمول = بھونکنے والے جانور، نسبتِ حکمیہ = ہیں = ا۔ 

٢. نشانِ کمیّت = کوئی، موضوع = مرد، محمول = عورت، نسبتِ حکمیہ = نہیں = ع۔ 

٣. نشانِ کمیّت = کُچھ، موضوع = انسان، محمول = خود غرض، نسبتِ حکمیہ = ہیں = ی۔ 

٤. نشانِ کمیّت = کُچھ، موضوع = چمکنے والی چیزیں، محمول = سونا، نسبتِ حکمیہ = نہیں = و۔

شرطیہ قضیے بھی ا، ع، ی، و کی شکل میں ڈھالے جاسکتے ہیں۔ 

١. اگر تم محنت کرو گے تو یقینًا پاس ہوجاؤ گے = تمام محنت کرنے کے حالات پاس ہونے کے حالات ہیں۔

یا

تمام محنت کرنے والے پاس ہونے والے ہیں = ا

٢. اگر تم وقت ضائع کرو گے تو کبھی پاس نہیں ہوگے = کوئی وقت ضائع کرنے کے حالات پاس ہونے کے حالات نہیں

یا

کوئی وقت ضائع کرنے والا پاس ہونے والا نہیں = ع

٣. اگر کوئی وقت ضائع کرے تو بعض اوقات وہ فیل ہوجاتا ہے = کُچھ وقت ضائع کرنے کے حالات فیل ہونے کے حالات ہیں

یا

کچھ وقت ضائع کرنے والے فیل ہونے والے ہیں = ی

٤. اگر کوئی وقت ضائع کرے تو بعض اوقات وہ پاس نہیں ہوتا = کچھ وقت ضائع کرنے کے حالات پاس ہونے کے حالات نہیں

یا

کچھ وقت ضائع کرنے والے پاس ہونے والے نہیں = و

اگر کسی سوالیہ جملے کو منطقی شکل میں لانا ہو تو سوال کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے جواب سے اُس کی منطقی شکل کا اندازہ کرنا چاہیے۔ مثلًا:۔

١. کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اپنے وطن کا دشمن ہو؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا شخص نہیں جو اپنے وطن کا دشمن ہو۔ اس کی منطقی شکل یہ ہوگی۔ "کوئی شخص اپنے وطن کا دشمن نہیں" ع

٢. وہ کیسے وہاں موجود ہوسکتا تھا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہاں موجود نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کی منطقی شکل یوں ہوگی۔ "وہ ایسا شخص نہیں جو وہاں موجود ہوسکتا تھا" ع

٣. کیا انسان غیرفانی ہوسکتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان غیر فانی نہیں ہوسکتے۔ اس کی منطقی شکل یہ ہوگی۔ "کوئی انسان غیر فانی نہیں" ع

محدود قضیے بھی منطقی شکل میں لائے جاسکتے ہیں مثلًا صرف محنتی لڑکے پاس ہیں = تمام پاس ہونے والے محنتی لڑکے ہیں (ا)

یا

کوئی غیر محنتی لڑکا پاس نہیں (ع)

اسی طرح استثنائی قضیے بھی منطقی شکل میں لائے جاسکتے ہیں۔ مثلًا سوائے محنتی لڑکوں کے کوئی پاس نہیں = کوئی غیر محنتی لڑکا پاس نہیں (ع)

یا

تمام پاس ہونے والے محنتی لڑکے ہیں (ا)

حل شُدہ مثالیں

 ١. جنتی ہیں وہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں = تمام وہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں جنتی ہیں = ا
٢. کوئی انسان ایسا نہیں جو خوشی کا متلاشی نہ ہو = تمام انسان خوشی کے متلاشی ہیں = ا
٣. جو گرجتے ہیں برستے نہیں = کوئی گرجنے والا برسنے والا نہیں = ع
٤. تمام آدمی امیر نہیں = کچھ آدمی امیر نہیں = و
٥. شیر دھاڑتے ہیں = تمام شیر دھاڑنے والے جانور ہیں = ا
٦. انسان کبھی بےعیب نہیں ہوسکتا = کوئی انسان بےعیب نہیں = ع
٧. بُرے آدمی ہمیشہ بدکردار ہوتے ہیں = تمام بُرے آدمی بدکردار ہیں = ا
٨. جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟ = کوئی شخص جس کو جان و دل عزیز ہو اس کی گلی میں جانے والا نہیں = ع
٩. کیا یار بھروسہ ہے چراغِ سحری کا = کوئی چراغِ سحری قابلِ بھروسہ نہیں = ع
١٠. ہر آدمی چوری نہیں = کچھ آدمی چور نہیں = و
١١. انسان ہرگز مکمل نہیں = کوئی انسان مکمل نہیں = ع
١٢. انسان شاذ و نادر ہی دیانتدار ہوتے ہیں = کچھ انسان دیانتدار نہیں = و
١٣. بہت سے طلبا حاضر تھے = کچھ طلبا ایسے اشخاص ہیں جو حاضر تھے = ی
١٤. ہر طالبِ علم لائق نہیں = کچھ طالبِ علم لائق نہیں = و
١٥. کئی لوگ عینی شاہد ہیں = کچھ لوگ عینی شاہد ہیں = ی
١٦. تقریبًا سبھی کتابیں مجلّد ہیں = کچھ کتابیں مجلّد ہیں = ی
١٧. خون چھُپتا تھوڑا ہی ہے = کوئی خون چھپنے والی چیز نہیں = ع
١٨. آدھے جواب غَلَط ہیں = کچھ جواب غَلَط ہیں = ی
١٩. آدمی کے لئے اُڑنا ناممکن ہے = کوئی آدمی اُڑنے والا نہیں = ع
٢٠. دلیری ہمیشہ نیکی نہیں = کچھ دلیری کے کام نیک کام نہیں = و
٢١. چاندنی راتیں اکثر خوشگوار ہوتی ہیں = کُچھ چاندنی راتیں خوشگوار ہیں = ی
٢٢. دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے = تمام دودھ کے جلے چھاچھ پھونک پھونک کر پینے والے ہیں = ا
٢٣. طلبا کاہل ہیں = کُچھ طلبا کاہل ہیں = ی
٢٤. اگر ارادہ ہو تو ہمّت آجاتی ہے = تمام ارادے کے حالات ہمّت کے حالات ہیں = ا
٢٥. پارے کے سوا تمام دھاتیں ٹھوس ہیں = تمام دھاتیں جو پارہ نہیں ٹھوس ہیں = ا یا کوئی ٹھوس دھات پارہ نہیں = ع
٢٦. صرف دیانتدار لوگ قابلِ اعتماد ہیں = تمام قابلِ اعتماد لوگ دیانتدار ہیں = ا یا کوئی غیر دیانت دار شخص قابل اعتماد نہیں = ع۔
فقط
سُہیل طاہر
سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

علمِ منطق کی تعریف

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اَقسام