منطقِ اِستِقرائیہ کی بُنیادیں
چوبیسواں باب
منطقِ اِستِقرائیہ کی بُنیادیں
GROUNDS OF INDUCTION
مادی اور صُوری بُنیادیں
Material and Formal Grounds
کسی سائنس یا علم کی مادی بُنیادوں سے مُراد وہ مواد یا حقائق ہوتے ہیں جس سے وہ سائنس تعلق رکھتے ہیں اور صوری بُنیادوں سے مُراد وہ اُصُول یا قوانین ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ سائنس اپنے حقایٔق کی توجیہہ کرتے ہیں۔
منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں مُشاہدہ اور تجربہ ہیں۔ انہی وسائل سے منطقِ اِستِقرائیہ تعمیم کے لئے اپنا مؤاد یا حقائق حاصل کرتی ہے۔ منطقِ اِستِقرائیہ کی صوری بُنیادیں قانونِ عِلّت اور قانون یکسانئ فطرت ہیں۔ انہی قوانین کا سہارا لے کر منطقِ اِستِقرائیہ اپنی تعمیم مُرَتّب کرتی ہے۔ مُشاہدہ اور تجربہ ہمیں حقائق مہیّا کرتے ہیں۔ مثلًا یہ کُلیّہ قضیّہ مُرتب کرنے کے لیے کہ "تمام جُگالی کرنے والے جانداروں کے کھُر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں" منطقِ اِستِقرائیہ کو پہلے تو مُشاہدے اور تجربے سے کام لینا پڑتا ہے اور پھر "جُگالی کرنے" اور "کھُروں کا پھٹا ہونے" میں علّتی رشتہ (قانونِ عِلّت) ثابت کرنا پڑتا ہے اور یہ بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس علمی رشتے میں یکسانی (قانونِ یکسانئ فطرت) پائی جاتی ہے۔ چنانچہ مُشاہدہ اور تجربہ منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں اور قانونِ عِلّت اور قانونِ یکسانئ فطرت صوری بنیادیں ہیں۔
منطقِ اِستِقرائیہ کی اِن بُنیادوں کا ہم علـٰحدہ علـٰحدہ مطالعہ کریں گے۔
فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ
منطقِ اِستِخراجیہ کے اسباق
علم منطق کی تعریففکر کے اُصُول
حُدود اور ان کی اقسام
حُدود کی تعبیر اور تضمن
حُدود قابلِ الحمل
تعریف
تقسیم
قضیے اور اُن کی قسمیں
قضیوں کی چار اساسی شکلیں
استنتاجِ استخراجیہ کی اقسام
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
استنتاجِ بدیہی جہتی
استنتاجِ بالواسطہ یا نظری
قواعدِ قیاس
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
قیاس کی اشکال
مخلوط شرطیہ قیاس
مخلوط منفصلہ قیاس
معضلہ یا قیاسِ ذوالجہتین
مُغالطے
منطقِ اِستِقرائیہ کے اسباق
منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہاِستِقراء کی قسمیں
تعمیم
صفحات
موجود کا بیانعلم کا بیان
تصور اور تصدیق کا بیان

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں