استنتاجِ استخراجیہ کی اقسام
(تیسرا حصّہ ― استنتاج)
Reasoning or Inference
گیارہواں باب
استنتاجِ استخراجیہ کی اَقسام
Kinds of Formal Inference
استنتاجِ بلاواسطہ یا استنتاجِ بدیہی اور استنتاجِ بلاواسطہ یا استنتاجِ نظری
Immediate Inference and Mediate Inference
استنتاج کسے کہتے ہیں؟ ہم حُدود اور قضیوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ اب ہم استنتاج کا مطالعہ کرتے ہیں۔ استنتاج کا مطالعہ ہی دراصل منطق کا مطالعہ ہے۔
استنتاج کا مطلب ہے کسی ایک یا ایک سے زیادہ قضیوں سے (جو دئیے گئے ہوں) کسی نئے قضیہ کو (جو اُن سے لازمی طور پر بطور نتیجہ برآمد ہوتا ہو) اخذ کرنا۔ باالفاظِ دیگر جب ہم کسی بات سے کوئی اور بات اخذ کرتے ہیں یعنی کسی قضیے سے کوئی اور قضیہ بطور نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ تو ہمارا ایسا کرنا استنتاج کہلاتا ہے۔ وہ قضیہ یا قضیے جو ہمیں دئیے گئے ہوں مَواد یا مقدمہ یا مقدمات کہلاتے ہیں۔ اور وہ قضیہ جو ان سے برآمد یا اخذ کیا جائے نتیجہ کہلاتا ہے۔ چنانچہ استنتاج سے مراد ہے کسی دئیے ہوئے مواد (یعنی مقدمہ یا مقدمات) سے نتیجہ اخذ کرنا۔ مثلًا
{تمام جانور فانی ہیں، تمام گھوڑے جانور ہیں، اس لئے تمام گھوڑے فانی ہیں}۔
یہاں "تمام جانور فانی ہیں"، اور "تمام گھوڑے جانور ہیں" مقدمات ہیں اور "تمام گھوڑے فانی ہیں" نتیجہ ہے۔
استنتاج کی خصوصیات
Nature of Inference
جب ہم دئیے ہوئے مقدمات سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں، تو وہ نتیجہ اسی صورت میں صحیح ہوتا ہے۔ جب کہ وہ دئیے ہوئے مقدمات سے لازمی طور پر نکلے۔ یعنی صحیح استنتاج میں نتیجہ لازمی طور پر مقدمات سے نکلتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نتیجہ مقدمات میں موجود ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہم نتیجے کو مقدمات سے کیسے برآمد کرسکیں؟ لیکن اگرچہ نتیجہ مقدمات میں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ مقدمات میں مخفی طور پر موجود ہوتا ہے، واضح طور پر موجود نہیں ہوتا۔ ہم اسے مقدمات سے باہر نکال کر واضح طور پر پیش کردیتے ہیں۔ گویا نتیجہ مقدمات کے "اندر" بھی ہوتا ہے اور "باہر" بھی۔ نتیجہ مقدمات کے اندر اس معنیٰ میں ہوتا ہے کہ وہ ایک نئی شکل میں واضح طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحیح نتیجہ لابدی طور پر مقدمات سے نکلتا ہے اور ایک نئی اور صاف شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ استنتاج کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں لابُدیّت اور جدّت پائی جاتی ہے۔ لابُدیّت سے مراد ہے نتیجہ کا لازمی طور پر مقدمات سے نکلنا اور جدّت سے مُراد ہے نتیجے کا (جس کا مفہوم مقدمات میں مخفی طور پر معلوم ہوتا ہے) ایک واضح اور نئی شکل میں ظاہر ہونا۔
استنتاجِ استخراجیہ کی اَقسام
Kinds of Deductive Inference
استنتاجِ استخراجیہ کی دو اَقسام ہیں:۔
Immediate Inference ١. استنتاجِ بلاواسطہ یا بدیہی
Mediate Reference ٢. استنتاجِ بلواسطہ یا نظری
استنتاجِ بلاواسطہ میں ہم ایک قضیے یا مقدمے سے دوسرا قضیہ (یعنی نتیجہ) بغیر کسی قسم کے واسطہ کے اخذ کرتے ہیں۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ "تمام انسان فانی ہیں، اس لئے کوئی انسان غیرفانی نہیں"۔ تو یہ استنتاجِ بلاواسطہ ہوگا۔ یہاں ہم نے صرف ایک ہی مقدمے (تمام انسان فانی ہیں) سے بغیر کسی واسطے کے نتیجہ (کوئی انسان غیر فانی نہیں) نکالا ہے۔
استنتاجِ بالواسطہ یا نظری میں ہم دو یا دو سے زیادہ قضیوں یا مقدمات سے ایک نیا قضیہ (یعنی نتیجہ) اخذ کرتے ہیں۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ "تمام انسان فانی ہیں اور تمام طلبا انسان ہیں لہٰذا تمام طلبا فانی ہیں" تو یہ استنتاج بالواسطہ ہوگا۔ یہاں ہم نے دو مقدمات (تمام انسان فانی ہیں اور تمام طلبا انسان ہیں) سے نتیجہ (تمام طلبا فانی ہیں) نکالا ہے۔ یہ نتیجہ دونوں مقدمات کو مشترکہ طور پر آپس میں ملانے سے برآمد ہوا ہے۔ دونوں مقدمات میں حَدّ انسان رابطۂ اتحاد یا واسطہ ہے۔ اور اسی واسطے نے نتیجہ میں حُدود "طلبا اور فانی" کے درمیان رابطۂ اتحاد پیدا کیا ہے۔
جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا ہے استنتاج بالواسطہ میں دو یا دو سے زیادہ مقدمات ہوتے ہیں۔ اگر دو مقدمات سے نتیجہ نکالا جائے تو ایسے استدلال کو منطق کی اصطلاح میں قیاس یا استدلالِ قیاسی کہتے ہیں۔ Syllogism or Syllogistic Reasoning
استنتاجِ بدیہی بلاواسطہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک نسبتی یا اختلافِ قضایا اور دوسری جہتی۔ استنتاجِ بدیہی جہتی کی بھی دو بڑی قسمیں ہیں۔
١. عکس اور ٢. عدل، ان سب کا مفصل بیان آگے آئے گا۔ استنتاج کی مختلف اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔
استنتاج
١. استنتاجِ بدیہی یا بلاواسطہ ٢. استنتاجِ نظری یا بلواسطہ
١.١. استنتاجِ بدیہی نسبتی، ١.٢. استنتاجِ بدیہی جہتی
١.٢.١. عکس، ١.٢.٢ جہت
سہیل طاہر
سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں