منطقِ اِستِقرائیہ کے مُغالطے
تیتسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کے مُغالِطے FALLACIES OF INDUCTIVE LOGIC مُغالطہ اُس غَلَطی کو کہتے ہیں جو منطق کے کسی قاعدے کے ٹوٹنے سے پیدا ہو۔ لیکن تمام غلطیاں مُغالطے نہیں ہوتیں۔ صرف وہ غلطیاں مُغالطے کہلاتی ہیں جو بظاہر صحیح معلوم ہوں لیکن درحقیقت ایسی نہ ہوں۔ ایک ایسی بات کو جو بظاہر غَلَط معلوم ہو لیکن درحقیقت صحیح ہو انگریزی میں Paradox کہتے ہیں۔ بقول ویٹلے مُغالطہ ایک ایسا غَلَط استِدلال ہوتا ہے جو بظاہر قابلِ قبول اور مسئلۂِ زیرِ بحث کے متعلق فیصلہ کُن معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ ایک مُغالطہ دانستہ طور پر بھی کیا جاسکتا ہے اور نادانستہ طور پر بھی۔ اگر کوئی مغالطہ عمدًا کیا جائے اور اس سے فریقِ مخالف کو دھوکا دینا مقصود ہو تو اسے سفسطہ Sophism کہتے ہیں۔ قدیم یونان میں معلموں کا ایک گروہ تھا جو اُجرت لے کر فلسفہ اور فَنِ خطابت کی تعلیم دیا کرتا تھا۔ یہ لوگ سوفسطائی Sophisis کہلاتے تھے۔ غَلَط استِدلال سے دوسروں کو دھوکا دینے میں یہ لوگ بڑی مہارت رکھتے تھے۔ ایک ایسا مغالطہ جو عمدًا کسی کو دھوکا دینے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور جس کے غَلَط ہونے کے متعلق...