منطقِ اِستِقرائیہ کی بُنیادیں
چوبیسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کی بُنیادیں GROUNDS OF INDUCTION مادی اور صُوری بُنیادیں Material and Formal Grounds کسی سائنس یا علم کی مادی بُنیادوں سے مُراد وہ مواد یا حقائق ہوتے ہیں جس سے وہ سائنس تعلق رکھتے ہیں اور صوری بُنیادوں سے مُراد وہ اُصُول یا قوانین ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ سائنس اپنے حقایٔق کی توجیہہ کرتے ہیں۔ منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں مُشاہدہ اور تجربہ ہیں۔ انہی وسائل سے منطقِ اِستِقرائیہ تعمیم کے لئے اپنا مؤاد یا حقائق حاصل کرتی ہے۔ منطقِ اِستِقرائیہ کی صوری بُنیادیں قانونِ عِلّت اور قانون یکسانئ فطرت ہیں۔ انہی قوانین کا سہارا لے کر منطقِ اِستِقرائیہ اپنی تعمیم مُرَتّب کرتی ہے۔ مُشاہدہ اور تجربہ ہمیں حقائق مہیّا کرتے ہیں۔ مثلًا یہ کُلیّہ قضیّہ مُرتب کرنے کے لیے کہ "تمام جُگالی کرنے والے جانداروں کے کھُر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں" منطقِ اِستِقرائیہ کو پہلے تو مُشاہدے اور تجربے سے کام لینا پڑتا ہے اور پھر "جُگالی کرنے" اور "کھُروں کا پھٹا ہونے" میں علّتی رشتہ (قانونِ عِلّت) ثابت کرنا پڑتا ہے اور یہ بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس علمی رشتے میں...