علمِ منطق کی تعریف
علمِ منطق کی تعریف اور اس کا جائزہ
ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنی کسی بات یا دعوے کے درست ثابت کرنے کے لئے (یا اوروں کی کسی بات یا دعوے کو درست یا غلط ثابت کرنے کے لئے) دلائل پیش کرتے ہیں۔ ہمارے دلائل کبھی صحیح ہوتے ہیں اور کبھی غلط۔ اگر لوگ منطقی ہوں تو ہمارے صحیح دلائل کو قبول کرلیتے ہیں اور غلط دلائل کو ردّ کردیتے ہیں۔ صحیح اور غلط دلائل کا موازنہ کرکے ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ وہ کونسے اُصُول اور قوانین ہیں جن کے مطابق ہمیں استدلال کرنا چاہیے تاکہ ہمارے دلائل صحیح ہوں۔ انہی اصولوں کے مجموعے کا نام ”علمِ منطق“ ہے۔
جب ہم کسی مسئلہ کے متعلق استدلال کرتے ہیں تو اس کے متعلق سوچتے ہیں۔ فکر سے کام لیتے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ منطق کا تعلق فکر سے ہے۔ یعنی منطق کا موضوع فکر ہے منطق کے علاوہ علم نفسیات بھی فکر سے بحث کرتا ہے مگر دونوں کے نُقطۂ نظر میں فرق ہے۔ علم نفسیات کا کام یہ دیکھنا ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں ، ہمارا طریقِ استدلال کیسا ہوتا ہے؟ اس کے برعکس علم منطق کا کام یہ دیکھنا ہے کہ ہمیں کس طرح سوچنا چاہیے! ہمارا طریقِ استدلال کیسا ہونا چاہیے! اس کتاب میں ہم یہ پڑھیں گے کہ صحتِ فکر کے اساسی قوانین کونسے ہیں۔ صحیح طرزِ استدلال کیسا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ
منطق کی تعریف کا تجزیہ
منطق کی تعریف: منطق کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں۔
منطق وہ علم ہے جو صحیح فکر کے قوانین کا مطالعہ”
“کرتا ہے
(Logic is a Science that studies the laws of valid thought)
اس تعریف میں ہم نے چار ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو تشریح طلب ہیں۔ علم، قوانین، صحیح اور فکر۔
قوانین کی تین اَقسام
کیا مَنطق علم ہے یا فَن؟

اس سوال پر بہت بےکار بحث ہوتی رہی ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطق ایک علم ہے کیونکہ یہ ہمیں فکر کے متعلق مربوط اور مکمل واقفیت دیتا ہے اور کسی شے کے متعلق مربوط اور مکمل واقفیت ہی کو علم یا سائنس کہتے ہیں لیکن منطق محض علم ہی نہیں۔ یہ ایک فَن بھی ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ علم اور فن میں فرق کیا ہے؟ علم جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں کسی شےء کے متعلق مربوط اور مکمل واقفیت کا نام ہے۔ علم واقفیت کو کہتے ہیں اور فَن مشق کو۔ علم کا کام ہے کچھ جاننا اور فن کا کام ہے کچھ کرنا علم کی حیثیت علمی (نظری) ہوتی ہے۔ اور فن کی عملی۔ علم مطالعہ سے سیکھا جاتا ہے اور فن مشق سے۔ فزکس، کیمسٹری، فزیالوجی وغیرہ وغیرہ علم ہیں۔ جراحی موسیقی، مصوری، شناوری وغیرہ وغیرہ فَن ہیں۔لیکن یہ فرض کرلینا کہ علم اور فن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک غلطی ہے۔ ہر علم ہمیں کچھ اصول اور قوانین دیتا ہے اور جب وہ اصول عمل میں لائے جاتے ہیں وہ علم فن کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم انجینیئرنگ کے اصول پڑھتے ہیں تو ایک علم پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب ہم ان اصولوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو وہی انجینئرنگ کا علم انجینئرنگ کا فن بن جاتا ہے۔ علم اور فن کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ایسا علم جو فن نہ بن سکے (یعنی جس کے اصول عمل میں نہ لائے جاسکیں) بیکار ہوتا ہے۔ اور ایسا فن جو علم پر مبنی نہ ہو خطرناک ہوتا ہے۔ ایک ان پڑھ دیہاتی حجام اس لئے خطرناک جراح یا سرجن ہوتا ہے کہ اس کی جراحی علم الابدان پر مبنی نہیں ہوتی۔ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علم فن کی جڑ ہے اور فَن علم کا ثمر۔ فزیالوجی کا علم ڈاکٹری کے فن کی بنیاد ہے۔ کیمسٹری کا علم صابن سازی کے فن کی بنیاد ہے۔ علم النجوم جہاز رانی کے فن کی بنیاد ہے۔ اسی طرح منطق کا علم صحیح استدلال کے فن کی بنیاد ہے۔ جب تک ہم صحیح فکر کے اصولوں کا مطالعہ کرتے ہیں ہم منطق کا علم پڑھتے ہیں لیکن جب ہم ان اصولوں کو اپنی روزمرّہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں اور اپنے اور اوروں کے فکر و استدلال میں غلطیاں نکالتے ہیں تو منطق کا علم۔ منطق کے فَن میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پس منطق علم بھی ہے اور فَن بھی۔ بحیثیت علم اس کا کام ہمیں صحیح فکر کے اصول دینا ہے اور بحیثیتِ فَن اس کا کام ہمیں یہ بتانا ہے کہ ہم کس طرح ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر غلطیوں سے بچ سکتے ہیں۔ چونکہ ہر علم کو صحیح استدلال کی ضرورت ہے اور صحیح استدلال کے اصول علم منطق دیتا ہے لہٰذا ہر علم منطق کا محتاج ہے۔ اسی طرح منطق کا فَن یعنی صحیح استدلال کا فن بھی تمام فنون سے افضل ہے۔ اس بنا پر منطق کو علم العلوم اور فَن الفنون کہا جاتا ہے۔
منطق اور متعلقہ علوم
✽منطق اور نفسیات✽
منطق اور نفسیات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ علم نفسیات ذہن کا مطالعہ کرتا ہے لہٰذا اس کا تعلق فکر سے ہے اور منطق کا موضوع بھی جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں فکر ہے۔ چنانچہ علم منطق اور علم نفسیات دونوں ایک ہی شے کا مطالعہ کرتے ہیں۔ لیکن ان میں مندرجہ ذیل اختلافات بھی ہیں۔١) علم نفسیات ذہن کی تمام حالتوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ ذہن کی تین حالتیں ہیں الف۔ فکر، ب۔ احساس اور ج۔ خواہش۔ نفسیات کا کام ہے۔ ذہن کی ان حالتوں کا مطالعہ کرنا لیکن علم منطق کا ہمارے احساسات اور ہماری خواہشات سے کوئی سروکار نہیں یہ محض فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا نفسیات کا دائرہِ مطالعہ منطق کے دائرۂ مطالعہ سے وسیع ہے۔٢) اگرچہ علمِ منطق اور علمِ نفسیات دونوں فکر کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن فکر کے متعلق ان کے نظریے مختلف ہیں۔ منطق ایک میعاری علم ہے اور نفسیات ایک طبعی علم ہے۔ منطق ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فکر کیسا ہونا چاہیے اور نفسیات یہ دیکھتی ہے کہ فکر کی نوعیت اور طریقِ کار کیا ہے۔ منطق فکر کا میعاری نقطۂ نظر سے مطالعہ کرتی ہے اور نفسیات طبعی نقطۂ نظر سے۔٣) منطق فکر کے نتائج (یعنی تصورات، تصدیقات اور استنتاج) سے بحث کرتی ہے اور ان کی صحت یا عدم صحت کو دیکھتی ہے، لیکن نفسیات فکر کے اعمال سے بحث کرتی ہے اور ان کی صحت یا عدم صحت سے کوئی سروکار نہیں رکھتی۔ بالفاظِ دیگر نفسیات صحیح اور غیر صحیح فکر میں کوئی امتیاز نہیں کرتی اور دونوں میں یکساں دلچسپی رکھتی ہے۔


✽ منطق اور علم صرف و نحو ✽
منطق کا دائرۂ مطالعہ
منطق کے فوائد
کئی معترض یہ کہتے ہیں کہ منطق کا مطالعہ بے سود ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ منطق کے مطالعے کے بغیر بھی بہت سے لوگ صحیح فکر و استدلال کرسکتے ہیں اور اس کے مطالعہ کے باوجود بھی بہت سے لوگ غَلَط استِدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ اعتراض درست نہیں۔ ہم علمِ طِب کے مطالعہ کے بغیر بھی تندرست رہ سکتے ہیں اور علمِ طب کے مطالعہ کے باوجود بھی بیمار ہوسکتے ہیں۔ لیکن کیا اس بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علمِ طِب بےفائدہ ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ہم تندرست ہوں علمِ طب کے محتاج نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب تک ہم صحیح فکر و استِدلال کریں ہم منطق کے محتاج نہیں ہوتے۔ لیکن اگر ہم بیمار ہوجائیں تو ہمیں علمِ طب کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح جب ہمارا فکر و استِدلال کسی غلطی میں مبتلا ہوجائے تو یہ جاننے کے لئے کہ غلطی کیا ہے اور کیسے پیدا ہوئی ہے اور کس طرح اسے درست کرنا چاہیے، ہمیں منطق کی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم اپنی عقلِ عام (جو ایک قسم کی قُدرتی منطق ہے) کی مدد سے صحیح فکر و استدلال کرسکتے ہیں اور اکثر کرتے ہیں لیکن عقل عام دراصل عام نہیں ہوتی۔ انسان خطا کا پُتلا ہے۔ لہٰذا اسے غلطیوں سے بچنے کے لئے منطق کا محتاج ہونا ہی پڑتا
چنانچہ اس بات سے کہ منطق کے مطالعے کے بغیر بھی صحیح فکر و استِدلال ممکن ہے منطق کی ضرورت اور اہمیت کم نہیں ہوتی۔ قانونِ کششِ ثقل کے معلوم ہونے سے پہلے لوگ درختوں اور مکانوں کی چھتوں سے گر کر اپنے سر نہیں پھوڑا کرتے تھے۔ اسی طرح انسان نے علمِ حفظانِ صحت کے معلوم ہونے تک اپنا عملِ انہضام ملتوی نہیں کررکھا تھا۔ لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ قانونِ کششِ ثقل کا علم یا عملِ انہضام کا علم اس لیے بےفائدہ ہے کہ لوگ اس کے بغیر بھی زندہ رہتے تھے یا رہ سکتے ہیں؟
:علاوہ بریں منطق کے مندرجہ ذیل واضح فوائد ہیں
١) یہ علم ہماری ذہانت تیز کرتا ہے فکر و استدلال کی قوت کو بڑھاتا ہے اور ہمیں صاف اور صحیح طریقے سے سوچنا سکھاتا ہے گویا ہمارے ذہن کے تزکیہ اور تہذیب کے لئے یہ علم نہایت موزوں ہے ہمارے لئے یہ علم ایک بہت اچھی دماغی ورزش ہے۔
٢) ہمیں صحیح فکر و استدلال کے قوانین سے واقف کرکے یہ علم اوروں کے گمراہ کن استدلال ہماری اپنی غلطیوں سے آگاہ کرتا ہے لیکن یہ فرض کرلینا ایک غلطی ہے کہ منطق کے مطالعے کے بعد ہمارا فکر و استدلال ہمیشہ صحیح ہوگا۔ جس طرح ڈاکٹری کا علم حاصل کرلینے کے بعد بھی ڈاکٹر بیمار ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح علم منطق کے مطالعے کے بعد بھی ہم فکری غلطیوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اور اگر علم طب بےفائدہ نہیں سمجھا جاتا خواہ طبیب اس کے مطالعہ کے باوجود بھی بیماریوں میں مبتلا ہوجائیں تو علم منطق کو بھی بےفائدہ نہیں سمجھنا چاہیے خواہ اس کے مطالعہ کے باوجود بھی ہم اپنے فکر و استدلال میں غلطیاں کریں
٣) دیگر علوم ہمیں محض اطلاعات دیتے ہیں۔ مثلًق علم کیمیا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مل کر بنتا ہے۔ لیکن منطق کا مقصد ہمارے ذہن کی تشکیل ہے ذہن کے لئے اطلاعات بہم پہنچانے کی نسبت ذہن کی تشکیل بہت زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ صحیح تعلیم کا یہی ایک اہم مقصد ہے اور یہ مقصد منطق کماحقہ پورا کرتی ہے۔ انسان کے لئے منطقی ذہن رکھنا بہترین دولت ہے
٤) دیگر علوم کے لئے بھی منطق نہایت مفید ہے ہر علم کو صحیح فکر و استدلال کی ضرورت ہے اور صحیح فکر و استدلال کے قانون بتانا منطق کا کام ہے، اس لئے منطق کو علم العلوم کہا جاتا ہے
٥) منطق ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی ہمارے لئے بیحد مفید ہے ہم اپنی روزمرّہ کی گفتگو اور دلائل میں نادانستہ طور پر منطق کے اصولوں کو استعمال میں لاتے ہیں لیکن اگر ہم اس علم کی تحصیل کے بعد دانستہ طور پر اس کے اصولوں کو عمل میں لائیں تو ہم صحیح استدلال کی مدد سے اوروں کو اپنی صحیح باتوں کی معقولیت کا قائل کرسکتے ہیں۔ اُستادوں، وکیلوں، واعظوں اور مقرروں کے لئے تو بالخصوص یہ علم نہایت ضروری اور کارآمد ہے۔
فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
منطقِ اِستِقرائیہ کے اسباق
منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ
منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں
علم کا بیان
تصور اور تصدیق کا بیان
تصور اور تصدیق کی قسمیں


ماشاءاللہ 🖤
جواب دیںحذف کریںبہت ہی عمدہ 🖤
جزاک اللہ خیرًا 🌹
حذف کریں❤️
جواب دیںحذف کریںدوسرے بھی پڑھ کر تبصرہ کردیں
حذف کریں