علم کا بیان
علم کا لغوی معنیٰ: علم لغت میں دانستن (جاننے) کو کہتے ہیں۔
علم کی اصطلاحی تعریف: علم کی اصطلاحی تعریف میں مناطقہ کا اختلاف ہے۔ (۱) تاہم معروف تعریف یہ ہے۔"حُصُولُ صُورَةِ الشَّيْءِ فِي العَقْلِ" کسی شے کی صورت کا عقل میں حاصل ہوجانا۔ یعنی جو چیز ہماری ذہنی آئینہ میں اُتر آتی ہے بس یہی ذہنی صورت اس چیز کا علم ہے اور وہ چیز معلوم ہے اور اس طرح عمر بھر ہمارے ذہن میں چیزوں کی صحیح یا غلط جتنی صورتیں جمع ہوتی رہتی ہیں وہ ہمارے علوم ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے ہم اپنے آپ کو صحیح یا غلط طور پر ان چیزوں کا عالم سمجھتے ہیں۔
علم کی دو قسمیں ہیں۔ ۱۔ حُضُوری، اور ۲۔ حُصُولی
علمِ حُضُوری کی تعریف: جس میں عالِم کے سامنے معلوم کی ذات موجود ہو، جیسے انسان کا علم اپنی ہی ذات پر۔
علمِ حُصُولی کی تعریف: جس میں عالِم کے سامنے معلوم کی ذات موجود نہ ہو جیسے انسان کا علم غیر پر۔
وجۂ حَصَر: شیء مدرک عند المدرک خود موجود ہوگی، یا اس کی صورت موجود ہوگی، اگر خود موجود ہو تو علم حُضُوری اور اگر صورت موجود ہو تو علمِ حُصُولی۔
علمِ حُضُوری کی دو قسمیں ہیں:۔ ۱۔ علمِ حُضُوری قدیم اور، ۲۔ علمِ حُضُوری حادِث
وجۂ حصر: عالِم قدیم ہوگا یا حادِث ہوگا، اگر قدیم ہو تو علمِ حُضُوری قدیم، جیسے اللہ تعالیٰ کا علم اور اگر حادِث ہو تو علمِ حُضُوری حادِث، جیسے انسان کا علم اپنی ذات اور صفات پر۔
علمِ حُصُولی کی دو قسمیں ہیں:۔ ۱۔ علمِ حُصُولی قدیم اور، ۲۔ علمِ حُصُولی حادِث۔
وجۂ حصر: عالِم قدیم ہوگا یا حادِث ہوگا، اگر قدیم ہو تو علمِ حُصُولی قدیم، جیسے عُقُُولِ عشرۃ (دس فرشتے جو بعض مناطقہ کے نزدیک قدیم ہیں) کا علم تمام کائنات پر، اگر حادِث ہو تو علم حصولی حادِث جیسے انسان کا علم غیر پر۔
اس سلسلہ میں جو روایتی بحث ہے وہ بہت ہی الجھانے والی ہے مگر میں کچھ باتیں مزید اضافہ کردیتا ہوں اور یہ بھی کہ علم کی صحیح تعریف موجودہ مناطقہ کے نزدیک کیا ہے۔
علم کی تعریف میں تین مذہب ہیں
الف۔ امام فخر الدین رازی کے بقول علم بدیہی چیز ہے جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں ہم پڑھ چکے ہیں اور وَالبَدِیْـهِِيُّ لَایَحْتَاجُ اِلیٰ التَّعْرِیْفِ لہٰذا اس کی تعریف نہیں ہے۔
ب۔ امام غزالی کے نزدیک جیسا کہ ہم نے پڑھا علم ایک نظری چیز ہے اور نظری چیزیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔
ںـ۱. مُمْکِنُ التَّعْرِیْفِ ںـ۲. مُتَعَسِّرُ التَّعْرِیْفِ
آپ کے نزدیک علم نظری اور مُتَعَسِّرُ التَّعْرِیْفِ ہے۔ یعنی اس کی تعریف ناممکن ہے۔
جـ۔ جمہور علماء اور حکماء کے نزدیک علم ایک نظری شےء ہے اور مُمْکِنُ التَّعْرِیْفِ ہے۔ یعنی اس کی تعریف ممکن ہے۔
علماء کے اتفاق اور اختلاف کی حقیقت
علماء کا اس امر میں تو اتفاق ہے کہ حقیقۃً علم مابہ الانکشاف کا نام ہے یعنی جس شےء کے ساتھ ذہنی تاریکی ختم ہوجائے اور روشنی اور انکشاف پیدا ہوجائے لیکن اختلاف اس کے مصداق میں ہے کہ وہ کیا شےء ہے جس کی وجہ سے انکشاف پیدا ہوتا ہے؟ عالِم اور معلوم کے درمیان جہل کا پردہ اٹھتا ہے؟ کچھ نے سمجھا کہ انکشاف کی وجہ حصول ہے تو انہوں نے حصول کو علم کہا اور کچھ نے سمجھا کہ انکشاف کی وجہ صورتِ حاصلہ ہے تو انہوں نے صورتِ حاصلہ کو علم کہا، کچھ نے حضور و مشاہد کو علم جانا، تو کچھ نے قبول کو علم جانا، متکلمین نے کہا کہ انکشاف کی وجہ نہ حصول ہے نہ صورت نہ ہی حُضور ہے اور نہ ہی قبول کیونکہ ذہن میں تو کوئی چیز جاتی ہی نہیں (عندالمتکلمین) لہٰذا انکشاف کی وجہ عالِم و معلوم کے مابین نسبت ہے لہٰذا انہوں نے نسبت کو علم کہہ دیا۔ الغرض لُــبِّ لُبََاب یہ نکلا کہ علم مابہ الانکشاف کا نام ہے لیکن اختلاف اس کے مصداق میں ہے، کہ وہ کیا ہے؟
علم کی تعریف میں حکماء کا جو اختلاف ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے انسان کا دماغ ایک آئینہ کی مانند بنایا ہے فرق صرف یہ ہے کہ آئینہ میں محسوس مبصر چیزیں آسکتی ہیں جس کی طرف آئینہ کرو اس کی صورت اس میں آجائے گی لیکن غیرمحسوس اور نادیدہ اشیاء اس میں نظر نہیں آئیں گی جیسے محبت، نفرت، دشمنی، عشق وغیرہ لیکن انسان کو جو دماغ خدا نے دیا ہے اس میں محسوس و غیر محسوس مبصر و غیرمبصر ہر طرح کی اشیاء آتی ہیں۔
(بطور مثال) آئینہ کی صورتحال
ںـ١. اس کا رخ جس کی طرف ہوگا اس کی شکل اس میں آجائے گی گویا کہ اس میں نمونہ کا حاصل ہونا معنیٰ مصدری پایا گیا۔
ںـ٢. اس چیز کی صورت آئینہ میں داخل ہوجائے گی۔
ںـ٣. وہ چیز جو اس آئینہ میں ہوگی وہ حاضر یعنی سامنے ہوگی
ںـ٤. وہ آئینہ اس سامنے والی شکل کو قبول بھی کررہا ہوگا تبھی وہ شکل اس میں آرہی ہوگی۔
ںـ٥. اس آئینہ اور اس چیز کے درمیان ایک نسبت و تعلق ہوگا۔
حکماء کے مذہب کو ہم ان پانچ عبارتوں سے سمجھ سکتے ہیں۔
حُصُوْلُ صُوْرَۃِ الشَّیءِ فِي الْعَقْلِ (شے کی صورت اور نمونہ کا عقل میں حاصل ہونا)۔
اَلصُّوْرَۃُ الْحَاصِلَةُ مِنَ الشَّيءِ عِنْدَ الْعَقْلِ (شے کی صورت کا عقل میں گھُس جانا)۔
اَلْحَاضِرُ عِنْدَ المُدْرِکِ (صورت کا عقل کے سامنے حاضر ہونا)۔
قُبُوْلُ النَّفْسِ لِتِلْكَ الصُّوْرَۃِ (عقل کا صورت کو قبول کرلینا)۔
اَلاِضَافَةُ الْحَاصِلَةُ بَیْنَ العَالِمِ وَالمَعْلُوْمِ (وہ تعلق جو عالم و معلوم کے درمیان حاصل ہے)۔
صاحبِ سلم العلوم نے تیسری رائے کو ترجیح دی ہے۔
قواعد
قاعدہ نمبر ۱: امام رازی کے نزدیک علم بدیہی غیرمحتاج الیٰ التعریف ہے، امام الحرمین اور امام غزالي کے نزدیک علم متعسر التحدید ہے یعنی نظری تو ہے مگر اس کی تعریف ناممکن ہے جب کہ جمہور متکلمین اور حکماء کے نزدیک علم نظری متعسر التحدید ہے۔ یعنی اس کی تعریف ہوسکتی ہے۔ (۲)
یاددہانی: علم یا تصورِ مطلق وہ صورتِ ذہنی ہے جو کسی چیز سے ذہن میں آئے، حالتِ ادراکی، منشاء انکشاف، حاضر عندالمدرک سے یہی علم کی تعبیر کرتے ہیں، اور تصورِ ساذج وہ ذہنی صورت یا صورتیں ہیں جن میں حُکم (ایجاب یا سلب کا جزمی فیصلہ) موجود نہ ہو۔
قاعدہ نمبر ۲: علمِ مطلق ادراک کا نام ہے خواہ تصور ہو یا تصدیق ہو یقین ہو یا غیر یقین ہو۔ (۳)
قاعدہ نمبر ۳: اگر عالِم و معلوم کے درمیان علائقِ ثلاثہ عینیت (علم الشیء علیٰ نفسہ)، نعتیت (علم الشیء علیٰ صفاتہ)، معلولیت (علم الشیء علیٰ معلولہ) (اللہ تعالیٰ کا علم جملہ ممکنات پر) میں سے کوئی علاقہ ہو تو علم حضوری ہوگا، بدون صورت علم حصولی کہلائے گا۔ (۴)
قاعدہ نمبر ٤: علم حضوری وہ ہوتا ہے، جس میں عالِم کا معلوم پر علم بغیر صورت کے ہو، جیسے باری تعالیٰ کا علم اپنی ذات و صفات اور ممکنات پر، اور انسان کا علم اپنی ذات و صفات پر۔ (٥)
قاعدہ نمبر ٥: علم حصولی وہ ہوتا ہے، جس میں عالم کا معلوم پر علم صورت کے واسطے سے ہو، جیسے انسان کا علم غیر پر (٦)۔
قاعدہ نمبر ٦: باری تعالیٰ کا علم حُضُوری ہے (۷)(۸)۔
قاعدہ نمبر ۷: نفسِ ناطقہ (انسان) کا اپنی ذات و صفات پر علم حضوری اور غیر پر حصولی ہے (۹)۔
قاعدہ نمبر ۸: علم حضوری میں علم اور معلوم دونوں ذاتًا و اعتبارًا ایک ہوتے ہیں (۱۰)۔
قاعدہ نمبر ۹: علم حُصُولی میں دو وجود ہوتے ہیں ایک وجود ذہنی اور دوسرا وجود خارجی ہوتا ہے، اور علمِ حُضوری کا فقط ایک وجود ذہنی ہوتا ہے (۱۱)۔
قاعدہ نمبر ۱۰: علم حصولی میں صواب اور خطا دونوں کا احتمال ہوتا ہے اور علم حضوری میں خطا کا احتمال نہیں ہوتا (۱۲)۔
قاعدہ نمبر ۱۱: علم حضوری، علمِ حصولی سے اقویٰ ہوتی ہے (۱۳)۔
قاعدہ نمبر ۱۲: علمِ حضوری میں شیء معلوم کا وجودِ علمی عین وجودِ عینی ہوتا ہے اور علم حصولی میں وجود علمی وجود عینی کا غیر ہوتا ہے (١٤)۔
قاعدہ نمبر ۱۳: مناطقہ علمِ حصولی سے بحث کرتے ہیں (۱٥)۔
قاعدہ نمبر ۱۴: جو علم دلیل، برہان، اور قیاس کے ذریعہ حاصل ہو، وہ بھی حصولی کہلاتا ہے (١٦)۔
قاعدہ نمبر ١٥: بعض حضرات نے علم حضوری کو مستقل ماننے سے انکار کیا، اور جملہ علوم کو حصولی قرار دیا ہے (۱۷)۔
قاعدہ نمبر ١٦: علم حصولی کو علمِ انطباعی (علمِ نقشی) بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ علم شےء کے مدرک کے پاس محض پائے جانے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کی صورت کو ذہن میں لانے کے بعد حاصل ہوتا ہے، جیسے ہم اپنی ذات کے علاوہ دیگر خارج میں پائی جانے والی چیزوں کو جاننا چاہتے ہیں تو اس کی صورتیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں۔ یہ صورِ علمیہ ہیں پھر صورِ علمیہ کے ذہن میں آنے کے بعد حالتِ ادراکیہ یعنی جاننے کی صلاحیت اس سے مل جاتی ہے اور وہ صورتیں نقش ہوجاتی ہیں، چیزوں کا علم ہوتا ہے (۱۸)۔
قاعدہ نمبر ۱۷: تصور اور تصدیق کا مُقَسِّم علم حصولیٔ مطلق ہے، کیونکہ حصولی قدیم بھی تصور اور تصدیق ہوسکتا ہے (۱۹)۔
قاعدہ نمبر ۱۸: علم حُضُوری تصوُّر اور تصدیق نہیں ہوسکتا (۲۰)۔
قاعدہ نمبر ۱۹: علم حضوری کو فعلی اور علم حصولی کو انفعالی بھی کہتے ہیں (۲۱)۔
قاعدہ نمبر ۲۰: علم حضوری موجود قبل المعلوم ہوتی ہے اور علم حصولی موجود بعد المعلوم ہوتی ہے (۲۲)۔
قاعدہ نمبر ۲۱: حادِث مسبوق بالعدم اور قدیم غیرمسبوق بالعدم کو کہتے ہیں (۲۳)(۲٤)۔
قاعدہ نمبر ۲۲: جو حادِث کسی کا معلول ہو تو وہ حادِث بالذات کہلاتا ہے۔ جو حادث متأخر عن الغیر ہو تو وہ حادِث بالزمان کہلاتا ہے۔ جو قدیم کسی کا معلول نہ ہو تو وہ قدیم بالذات کہلاتا ہے اور جو قدیم متأخر عن الغیر نہ ہو تو وہ قدیم بالزمان کہلاتا ہے (۲٥)۔
قاعدہ نمبر ۲۳۔ اگر علم الصورۃ الحاصلة سے عبارت ہو تو از مقولۂ کیف ہوگا، اگر قبول الذہن من مبدء الفیاض سے عبارت ہو تو یہ مقولۂ انفعال سے ہوگا، اور اگر الاضافۃ المخصوصۃ بین العالِم والمعلوم سے عبارت ہو تو یہ مقولۂ اضافت سے ہوگا، تاہم پہلی بات اصح ہے (۲٦)۔
مشق
مندرجہ ذیل امثلہ میں علم حضوری اور علم حصولی کی تعیین کیجئے۔ نیز منطقی تطبیق کریں۔
آدمی، شیر، میں کھڑا ہوں، بلاشبہ گھڑی آنے کو ہے، یہ میری چھڑی ہے، اس کی اصل ثابت ہے، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں، میں آپ سے مذاق نہیں کررہا، اور نہ تم مجھ سے مذاق کررہے ہو، آج کوئی سودا بازی نہیں ہے، بےشک انسان ناشکرا ظالم ہے، ہم نے اس کو بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحٰقؑ دئیے، ہم جادو کردی گئی قوم ہیں، یہ سیدھا راستہ ہے، میں بردبار رحم کرنے والا ہوں، بےشک تم منکر قوم ہو، تکبر سے سلام لینا تکبر کا اظہار ہے، حسن اخلاق نیکی ہے، ہمارے بڑوں کی برکت ہے، اسلام کی طرف آنے والا نجات پا گیا، انسانوں میں عظمت والا پرہیزگار ہے، میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہیں، تو ہمارا بھائی اور مددگار ہے، تم امور دنیا میں مجھ سے زیادہ جانکار ہو، زید کھڑا ہے، منافق کی تین نشانیاں ہیں، جو مجھ پر بھروسہ کرتا ہے میں اس کو امن دیتا ہوں، سخی کو چاہیے کہ ظلم کو مال سے دفع کرے۔
حل شدہ مثال: آدمی، موجودِ ذہنی ہے کیونکہ موجود فی الذہن ہے، علم اس لئے کہ حصول صورۃ الشیء فی العقل ہے، علم حصولی انطباعی اس لئے کہ شیء معلوم کی صورت عندالمدرک موجود ہے۔ علم حصولی حادث اس لئے کہ مسبوق بالعدم ہے۔
علم کی جدید مروجہ اور صحیح ترین تعریف میں نے اس مراسلہ میں نشر کردی ہے۔ کیونکہ اس مراسلہ میں علم کی جو بھی تعریف بیان ہوئی ہے وہ قدیم ہے اور اس کا اطلاق صرف واقفیت پر ہوتا ہے ناکہ علم پر۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں