قیاس کی اشکال
سولھواں باب
قیاس کی اشکال
FORMS OF SYLLOGISM
اشکال اور ضروب
FIGURES AND MOODS
قیاس کی اشکال؛ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ہر قیاس میں حدِّ اوسط دو دفعہ موجود ہوتی ہے۔ ایک دفعہ کُبریٰ میں اور ایک دفعہ صُغریٰ میں۔ ظاہر ہے کہ مقدمات میں (یعنی کُبریٰ اور صُغریٰ میں) حدِ اوسط کے لئے چار جگہیں ہوسکتی ہیں۔ یعنی (۱) یا تو یہ دونوں مقدمات میں موضوع ہوں گی، یا (۲) دونوں مقدمات میں محمول ہوگی۔ یا (٣) کُبریٰ میں موضوع اور صُغریٰ میں محمول ہوگی۔ یا (٤) کُبریٰ میں محمول اور صُغریٰ میں موضوع ہوگی۔ ان چار جگہوں کے علاوہ حدِّ اوسط کے لئے اور کوئی مقام ممکن نہیں۔
Four Figures of Syllogism
حدِ اوسط کی ان چار جگہوں یا نشستوں سے قیاس کی چار شکلیں پیدا ہوتی ہیں۔ جن کو قیاس کی اشکالِ اربعہ کہا جاتا ہے۔ جب حدِّ اوسط کُبریٰ میں موضوع ہو اور صُغریٰ میں محمول ہو تو قیاس کی اس شکل کو شکلِ اَوَّل کہتے ہیں۔ جب حدِّ اوسط دونوں مقدمات میں محمول ہو تو قیاس کی اس شکل کو شکلِ دؤم کہتے ہیں۔ جب حَدِّ اوسط دونوں مقدمات میں موضوع ہو تو قیاس کی اس شکل کو شکلِ سوم کہتے ہیں۔ جب حدِ اوسط کُبریٰ میں محمول ہو اور صُغریٰ میں موضوع ہو تو قیاس کی اس شکل کو شکلِ چہارم کہتے ہیں۔
مندرجہ ذیل خاکہ قیاس کی اشکالِ اربعہ کو ظاہر کرتا ہے۔
یہاں م سے مراد حدِ اوسط، پ سے مُراد حدِ اکبر اور س سے مُراد حدِ اصغر ہے۔ شکلِ اَوَّل اور شکلِ چہارُم ایک دوسری کی اُلٹ ہیں۔ اسی طرح شکل دوم اور شکل سؤم بھی ایک دوسرے کی اُلٹ ہیں۔
MOODS OF SYLLOGISM قیاس کی ضربیں
ایک قیاس میں مقدمات کے باہم ملنے سے جو جوڑا بنتا ہے اُسے اصطلاحِ منطق میں ضرب کہتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر کسی دو مقدمات کے جوڑے کو ضرب کہتے ہیں۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ہر قیاس میں دو مقدمات ہوتے ہیں اور ہر مقدمہ ا یا ع یا ی یا و ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ان چار قضیوں میں سے ہم کسی قضیے کو بطورِ کُبریٰ لے کر اُس کے ساتھ ان چار قضیوں میں سے کوئی قضیہ بطور صُغریٰ ملا سکتے ہیں۔ اس طرح ہم ا، ع، ی، اور و کو آپس میں بطورِ کُبریٰ اور صُغریٰ ملا کر تمام ممکن جوڑے یعنی ضربیں حاصل کرسکتے ہیں۔ ا، ع، ی، و کے مندرجہ ذیل سولہ جوڑے یا ضربیں ممکن ہیں۔
(ان جوڑوں میں پہلا قضیہ کُبریٰ اور دوسرا قضیہ صُغریٰ ہے)
چونکہ یہ سولہ ضربیں قیاس کی ہر شکل میں ممکن ہیں لہٰذا کُل ١٦ × ٤ یعنی ٦٤ ضربیں ممکن ہیں۔ لیکن قیاس کے قواعد کی رُو سے یہ تمام سولہ ضربیں صحیح نہیں۔ ان میں سے مندرجہ ذیل آٹھ ضربیں ایسی ضربیں ہیں جن سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
چنانچہ آٹھ ضربیں صحیح ہیں اور وہ یہ ہیں۔ ا ا، ا ع، ا ی، ا و، ع ا، ع ی، ی ا، و ا۔ لیکن یہ تمام آٹھ ضربیں قیاس کی تمام شکلوں میں صحیح نہیں۔ ممکن ہے ایک ضرب ایک شکل میں صحیح ہو اور کسی دوسری شکل میں غلط ہو۔ مثال کے طور پر ضرب ا ا کو لی جئے۔ چاروں شکلوں میں اس کی یہ حالت ہوگی۔
شکلِ اَوَّل
تمام م، پ ہے۔
تمام س، م ہے۔
لہٰذا تمام س، پ ہے۔
شکلِ دؤم
تمام پ، م ہے۔
تمام س، م ہے۔
(یہاں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا)
شکلِ سؤم
تمام م، پ ہے۔
تمام م، س ہے۔
لہٰذا کُچھ س، پ ہے۔
شکلِ چہارُم
تمام پ، م ہے۔
تمام م، س ہے۔
لہٰذا کُچھ س، پ ہے۔
چنانچہ ضرب ا ا شکلِ اول، شکلِ سوم، اور شکلِ چہارُم میں تو صحیح ہے لیکن شکل دوم میں مُغالطۂ غیر جامع حدِ اوسط کی وجہ سے صحیح نہیں۔ اور جن اشکال میں یہ ضرب صحیح ہے ان میں بھی حدِ اوسط کے مختلف جگہوں پر ہونے کی وجہ سے نتیجہ ہر شکل میں ایک جیسا نہیں۔ شکل اول میں نتیجہ ا ہے لیکن شکل سوم اور چہارم میں نتیجہ ی ہے۔ اگر ان دو شکلوں میں بھی ہم دئیے ہوئے مقدمات سے نتیجہ ا اخذ کرنے کی کوشش کریں تو مُغالطۂ حدِ عمل ناجائز حدِ اصغر لازم آئے گا۔
اگر ہم مندرجہ بالا آٹھ ضربوں کو ہر شکل میں لکھ کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان میں سے چار ضربیں شکلِ اوّل میں، چار ضربیں شکل دؤم میں، چھ ضربیں شکلِ سوم میں اور پانچ ضربیں شکلِ چہارم میں صحیح ہیں۔ چنانچہ چاروں شکلوں میں کُل ۱۹ ضربیں صحیح ہیں۔
صحیح ضربوں کی دریافت؛
Determination of Valid Moods
قیاس کی صحیح ضربوں کو دریافت کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ ا، ع، ی اور و میں سے ہر قضیے کو بطور کُبریٰ لے کر اُس کے ساتھ ا، ع، ی اور و کو بطور صُغریٰ ملاؤ۔ اس طرح آپ کو قضیوں کے سولہ جوڑے (اا، اع، ای، او، ع ا، ع ع، ع ی، ع و، ی ا، ی ع، ی ی، ی و، وا، وع، وی اور وو) مل جائیں گے۔ اب اگر آپ ان جوڑوں میں سے ہر جوڑے کے ساتھ ا، ع، ی اور و کو بطور نتیجہ ملائیں تو آپ کے پاس کُل ٦٤ جوڑے یا ضربیں ہوں گی۔ ان تمام ٦٤ ضربوں کو لکھ لو (ااا، ااع، اای، ااو، اع ا، اع ع، اع ی، اع و، ای ا، ای ع، ای ی، ای و، اوا، اوع، اوی، اوو، ع اا، ع اع، ع ای، ع او، ع ع ا، ع ع ع، ع ع ی، ع ع و، ع ی ا، ع ی ع، ع ی ی، ع ی و، ع وا، ع وع، ع وی، ع وو، ی اا، ی اع، ی ای، ی او، ی ع ا، ی ع ع، ی ع ی، ی ع و، ی ی ا، ی ی ع، ی ی ی، ی ی و، ی و ا، ی و ع، ی و ی، ی وو، واا، واع، وای، واو، وع ا، وع ع، وع ی، وع و، وی ا، وی ع، وی ی، و ی و، ووا، ووع، ووی، ووو) اور دیکھو کہ ان میں کونسی ضربیں قواعدِ قیاس کے خلاف ہیں۔ اُن ضربوں کو کاٹ دو۔ باقی آپ کے پاس صحیح ضربیں رہ جائیں گی۔ صحیح ضربوں کو دریافت کرنے کے لیے یہ ایک سادہ لیکن لمبا اور بھدّا طریقہ ہے۔
اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ ا، ع، ی اور و میں سے ہر ایک کو بطور کُبریٰ لے کر یہ دیکھیں کہ اُس کے ساتھ ا، ع، ی اور و میں سے کونسا قضیہ بطور صُغریٰ صحیح طور پر ملایا جاسکتا ہے۔
ا؛ اگر ا کو بطور کُبریٰ لیا جائے تو اس کے ساتھ ا، ع، ی اور و بطور صُغریٰ ملائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ اس صورت میں ہمارے پاس یہ ضربیں ہوں گی۔ اا، اع، ای، او۔
ع؛ اگر ع کو بطور کُبریٰ لیا جائے تو اس کے ساتھ صرف موجبہ قضیے ہی بطور صُغریٰ ملائے جاسکتے ہیں۔ چُنانچہ اس صورت میں ہمارے پاس یہ ضربیں ہوں گی۔ ع ا، ع ی۔
ی: اگر ی کو بطور کُبریٰ لیا جائے تو اس کے ساتھ صرف ایک موجبہ کُلیّہ ہی بطور صُغریٰ ملایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس صورت میں ہمارے پاس صرف ایک ہی ضرب ہوگی۔ یعنی ی ا۔
و؛ اگر و کو بطور کُبریٰ لیا جائے تو اس کے ساتھ صرف ایک موجبہ کُلیّہ ہی بطور صُغریٰ ملایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس صورت میں ہمارے پاس صرف ایک ہی ضرب ہوگی۔ یعنی و ا۔
اس طرح ہمیں تمام صحیح ضربیں مل جائیں گی جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
اا، اع، ای، او، ع ا، ع ی، ی ا، وا
ان صحیح ضربوں کو دریافت کرنے کا ایک اور طریقہ بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ نتیجے سے شروع کریں اور یہ دیکھیں کہ کونسی ضربوں سے ا، ع، ی اور و بطور نتیجہ حاصل ہوسکتے ہیں۔
ا؛ نتیجہ ا ہمیں اسی صورت میں مل سکتا ہے جب کہ دونوں مقدمات کُلیّہ اور مُوْجِبَہ ہوں۔ لہٰذا نتیجہ ا کے لئے صرف ایک ہی ضرب ممکن ہے یعنی اا۔
ع؛ نتیجہ ع کے لئے دونوں مُقدمات کُلیّہ ہونا چاہئیں اور ایک مقدمہ لازمی طور پر سَالِبَہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا نتیجہ ع کے لئے یہ ضربیں ہوسکتی ہیں۔ اع اور ع ا۔
ی؛ نتیجہ ی کے لئے دونوں مقدمات موجبہ ہونے چاہئیں اور مقدمہ جُزئیہ بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا نتیجہ ی کے لئے یہ ضربیں ہوسکتی ہیں۔ ای، ی ا (ضرب اا بھی ہمیں ی نتیجہ دے سکتی ہے)۔
و؛ نتیجہ و کے لئے ایک مقدمہ لازمی طور پر سَالِبَہ ہونا چاہیے اور ایک مقدمہ جُزئیہ بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا نتیجہ و کے لئے یہ ضربیں ہوسکتی ہیں۔ ع ی، وا، او، (اع، اور ع ا سے بھی نتیجہ و حاصل ہوسکتا ہے)۔
چنانچہ اس طریقے سے بھی ہمیں وہی آٹھ صحیح ضربیں مل جائیں گی۔
مُختلف اشکال کی صحیح ضربیں
Valid Moods of Different Figures
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ صحیح ضربیں صرف آٹھ ہیں اور وہ یہ ہیں اا، اع، ای، او، ع ا، ع ی، ی ا، و ا۔ لیکن یہ تمام آٹھ ضربیں ہر شکل میں صحیح نہیں۔ ان آٹھ ضربوں کو ہم ہر شکل میں لکھ کر دیکھتے سکتے ہیں کہ ان میں سے کونسی ضربیں کس شکل میں صحیح ہیں۔
شَکَلِ اَوَّل کی ضربیں؛ شکلِ اَوَّل میں ان آٹھ ضربوں میں سے صرف چار ضربیں صحیح ہیں اور وہ یہ ہیں اا، ع ا، ای، ع ی۔ اب ہم ان ضربوں کو شکلِ اَوَّل میں لکھتے ہیں۔
١. تمام م، پ ہے (ا)
تمام انسان فانی ہیں (ا)
تمام س، م ہے (ا)
تمام فلسفی انسان ہیں (ا)
لہٰذا تمام س، پ ہے (ا)
لہٰذا تمام فلسفی انسان ہیں (ا)
چنانچہ صرف اا سے شکلِ اَوَّل میں ہمیں نتیجہ ا حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہم نتیجے کو بھی کُبریٰ اور صُغریٰ کے ساتھ ظاہر کریں تو یہ ضرب ااا ہوگی۔ اس ضرب کو اصطلاحی زبان میں برابابا کہتے Barbara ہیں۔
٢. کوئی م، پ نہیں (ع)
کوئی انسان درندہ نہیں (ع)
تمام س، م ہے (ا)
تمام فلسفی انسان ہیں (ا)
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (ع)
لہٰذا کوئی فلسفی درندہ نہیں (ع)
چنانچہ ضرب ع ا سے شکلِ اوَّل میں ہمیں نتیجہ ع حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب ع ا ع ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام شعاعتجہ ہے۔ Celarent.
٣. تمام م، پ ہے (ا)
تمام انسان ذی عقل ہیں (ا)
کُچھ س، م ہے
کُچھ ہستیاں انسان ہیں
لہٰذا کُچھ س، پ ہے
لہٰذا کُچھ ہستیاں ذی عقل ہیں
چنانچہ ضرب ای سے شکلِ اوّل میں ہمیں نتیجہ ی حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب ا ی ی ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام دھاقینی ہے۔
Darli
٤. کوئی م، پ نہیں (ع)
کوئی مُثلث ∆ دائرہ نہیں
(ی) کُچھ س، م ہے
کُچھ شکلیں مُثلث ہیں
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ شکلیں دائرہ نہیں
چنانچہ ضرب ع ی سے شکلِ اَوَّل میں ہمیں نتیجہ و حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب ع ی و ہوئی۔ اس کا صطلاحی نام فعیوقہ ہے۔ Ferio
غرضیکہ شکلِ اَوَّل میں چار ضربیں ہیں ااا (برابابا)، ع ا ع (شعاعتجہ)، ای ی (دھاقینی) اور ع ی و (فعیوقہ)۔
شکلِ دوم کی ضربیں؛ شکلِ دوم میں صحیح ضربیں یہ ہیں ع ا، ع ا، ع ی اور او۔ اب ہم ان ضربوں کو شکلِ دوم میں لکھتے ہیں۔
١. کوئی پ، م نہیں (ع)
کوئی انسان درندہ نہیں
تمام س، م ہے (ا)
تمام کُتّے درندے ہیں
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (ع)
لہٰذا کوئی کُتّا انسان نہیں
چنانچہ ضرب ع ا سے شکلِ دؤم میں ہمیں نتیجہ ع حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب ع ا ع ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام شعراعن ہے۔ Cesare
٢. تمام پ، م ہے (ا)
تمام انسان ذی عقل ہیں
کوئی س، م نہیں (ع)
کوئی درندہ ذی عقل نہیں
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (ع)
لہٰذا کوئی درندہ انسان نہیں
چنانچہ ضرب ا ع سے شکلِ دؤم میں ہمیں نتیجہ ع حاصل ہوگا۔ پس یہ ضرب ا ع ع ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام شرامعسعس ہے۔ Camesters
٣. کوئی پ، م نہیں (ع)
کوئی مُثلث ∆ دائرہ نہیں (ع)
کُچھ س، م ہے (ی)
کُچھ شکلیں دائرے ہیں (ی)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ شکلیں مُثلث ∆ نہیں (و)
چنانچہ ضرب او سے شکلِ دؤم میں ہمیں نتیجہ و حاصل ہے۔ پس یہ ضرب ع ی و ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام فعسینو ہے۔ Festino
٤. تمام پ، م ہے (ا)
تمام انسان ذی عقل ہیں
کُچھ س، م نہیں
کُچھ ہستیاں ذی عقل نہیں
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں
لہٰذا کُچھ ہستیاں انسان نہیں
چنانچہ ضرب او سے شکلِ دؤم میں ہمیں نتیجہ و حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب اوو ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام براوکوہ ہے۔ Bocardo
غرضیکہ شکلِ دؤم میں چار ضربیں ہیں۔ ع ا ع (شعراعن)، ا ع ع (شرامسعس)، ع ی و (فعسینو) اور اوو (براوکوہ)۔
شکلِ سؤم کی ضربیں؛ شکلِ سؤم میں صحیح ضربیں یہ ہیں۔ اا، ی ا، ای، ع ا، وا، ع ی۔ اب ہم ان ضربوں کو شکلِ سؤم میں لکھتے ہیں۔
١. تمام م، پ ہے (ا)
تمام انسان فانی ہیں (ا)
تمام م، س ہے (ا)
تمام انسان ذی عقل ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
لہٰذا کُچھ ذی عقل فانی ہیں (ی)
چنانچہ ضرب اا سے شکلِ سؤم میں ہمیں نتیجہ ی حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب اای ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام دراارضی ہے۔ Darapti
١. کُچھ م، پ ہے (ی)
کُچھ انسان نیک ہیں (ی)
تمام م، س ہے (ا)
تمام انسان ذی عقل ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
لہٰذا کُچھ ذی عقل نیک ہیں (ی)
چنانچہ ضرب ی ا سے شکلِ سؤم میں ہمیں نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب ی ا ی ہوئی۔ اس کا صطلاحی نام دیس امیس ہے۔ Disamis
٣. تمام م، پ ہے (ا)
تمام انسان فانی ہیں (ا)
(ی) کُچھ م، س ہے
(ی) کُچھ انسان عقلمند ہیں
(ی) لہٰذا کُچھ س، پ ہے
(ی) لہٰذا کُچھ عقلمند فانی ہیں
چنانچہ ضرب ای سے شکلِ سوم میں ہمیں نتیجہ ی حاصل ہوا۔پس یہ ضرب ا ی ی ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام دطاطیسی ہے۔ Datisi
٤. کوئی م، پ نہیں (ع)
کوئی انسان کامل نہیں (ع)
تمام م، س ہے (ا)
تمام انسان ذی عقل ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (ع)
لہٰذا کوئی ذی عقل کامل نہیں (ع)
چنانچہ ضرب ع ا سے شکلِ سؤم میں ہمیں نتیجہ و حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب ع ا و ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام فعارضتون ہے۔ Felapton
٥. کُچھ م، پ نہیں (و)
کُچھ انسان عقلمند نہیں (و)
تمام م، س ہے (ا)
تمام انسان فانی ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ فانی عقلمند نہیں (و)
چنانچہ ضرب وا سے شکلِ سؤم میں ہمیں نتیجہ و حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب و ا و ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام بوکارو ہے۔ Baroco
٦. کوئی م، پ نہیں
کوئی حیوان کامل نہیں
کُچھ م، س ہے
کُچھ حیوان انسان ہیں
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں
لہٰذا کُچھ انسان کامل نہیں
چنانچہ ضرب ع ی سے شکلِ سوم میں ہمیں نتیجہ و حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب ع ی و ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام فعیسورن ہے۔ Ferison
غرضیکہ شکلِ سؤم میں چھ ضربیں ہیں۔ اای (دراارضی)، ی ا ی (دیس امیس)، ا ی ی (دطاطیسی)، ع ا و (فعارضتون)، و ا و (بوکارو) اور ع ی و (فعیسورن)۔
شکل چہارُم کی ضربیں؛ شکلِ چہارُم میں صحیح ضربیں یہ ہیں اا، اع، ی ا، ع ا، ع ی۔ اب ہم ان ضربوں کو شکلِ چہارم میں لکھتے ہیں۔
١. تمام پ، م ہے (ا)
(ا)تمام انسان فانی ہیں
تمام م، س ہے (ا)
تمام فانی جاندار ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
لہٰذا کُچھ جاندار انسان ہیں (ی)
چنانچہ ضرب اا سے شکل چہارُم میں ہمیں نتیجہ ی حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب اای ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام براماطیض ہے۔ Bramantip
٢. تمام پ، م ہے (ا)
تمام انسان فانی ہیں (ا)
کوئی م، س نہیں (ع)
کوئی فانی فرشتہ نہیں (ع)
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (ع)
لہٰذا کوئی فرشتہ انسان نہیں (ع)
چنانچہ ضرب اع سے شکل چہارُم میں ہمیں نتیجہ ع حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب اع ع ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام سامعنعس ہے۔ Camenes
٣. کُچھ پ، م ہیں (ی)
کُچھ حیوان انسان ہیں (ی)
تمام م، س ہیں (ا)
تمام انسان جاندار ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
لہٰذا کُچھ جاندار حیوان ہیں
چنانچہ ضرب ی ا سے شکلِ چہارُم میں ہمیں نتیجہ ی حاصل ہوتا Dimarisہے۔ پس یہ ضرب ی ای ہوئی۔ اس کا نام دیماطیس ہے۔
٤. کوئی پ، م نہیں (ع)
(ع) کوئی انسان گدھا نہیں
تمام م، س ہے (ا)
تمام گدھے حیوان ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ حیوان انسان نہیں (و)
چنانچہ ضرب ع ا سے ہمیں نتجہ و حاصل ہوتا ہے۔ پس یہ ضرب Fesapoع ا و ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام فعساضو ہے۔
٥. کوئی پ، م نہیں (ع)
کوئی گدھا انسان نہیں (ع)
کُچھ م، س ہے (ی)
کُچھ انسان جاندار ہیں (ی)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ جاندار گدھے نہیں (و)
چنانچہ ضرب ع ی سے شکلِ چہارُم میں ہمیں نتیجہ و حاصل ہوتا ہے پس یہ ضرب ع ی و ہوئی۔ اس کا اصطلاحی نام Fresison فرعسیون ہے۔
غرضیکہ شکل چہارُم میں پانچ ضربیں ہیں اای (براماطیض)، اع ع (سامعنعس)، ی ا ی(دیماطیس)، ع او (فعساضو) اور ع ی و (فرعسیون)۔
چاروں شکلوں میں کُل انیس صحیح ضربیں ہیں جن میں سے چار ضربیں پہلی شکل میں ہیں۔ چار دوسری شکل میں۔ چھ تیسری شکل میں اور پانچ چوتھی شکل میں۔ ان ضربوں کے اصطلاحی نامی اسمائے رمزی کہلاتے ہیں۔ یہ اسمائے رمزی لاطینی اسمائے رمزی کا ترجمہ ہیں۔ ہر باب میں ا، ی، ع، و میں سے تین حرف ہیں۔ ان میں سے پہلا حرف کُبریٰ کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرا صُغریٰ کو اور تیسرا نتیجے کو۔
مندرجہ بالا نقشے سے ظاہر ہے کہ نتیجہ ا صرف ایک ضرب یعنی برابابا اور صرف پہلی شکل میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔ نتیجہ ع چار ضربوں میں اور سوائے تیسری شکل کے باقی تمام شکلوں میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔ نتیجہ و آٹھ ضربوں میں اور ہر شکل میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔
بالفاظِ دیگر ا، ع، ی، و میں سے ا سب سے کم ضربوں اور سب سے کم شکلوں میں ثابت کیا جاسکتا ہے اور و سب سے زیادہ ضربوں اور سب سے زیادہ شکلوں میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ و، ا کا نقیض ہے لہٰذا ظاہر ہے کہ ا کو غلط ثابت کرنا آسان ترین اور صحیح ثابت کرنا مشکل ترین بات ہے۔
آٹھ صحیح ضربوں کی اشکالِ اربعہ میں پڑتال
Examination of the 8 Valid Moods In All The Four Figures
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ مقدمات کے صرف آٹھ صحیح جوڑے ممکن ہیں اور وہ یہ ہیں۔ اا، اع، ای، او، ع ا، ع ی، ی ا، وا۔ یہ تمام ضربیں تمام شکلوں میں صحیح نہیں۔ ان میں سے بعض ضربیں بعض شکلوں میں صحیح ہیں اور بعض میں غلط ہیں۔ اب ہم ان تمام ضربوں کو تمام شکلوں میں استعمال کرکے دیکھتے ہیں کہ ان میں سے کونسی ضربیں کس شکل میں صحیح ہیں اور کس شکل میں غلط۔
١. اا
پہلی شڪل
تمام م، پ ہے (ا)
تمام س، م ہے (ا)
لہٰذا تمام س، پ ہے (ا)
(صحیح ہے۔ یہ ضرب برابابا ہے)
دوسری شڪل
تمام پ، م ہے (ا)
تمام س، م ہے (ا)
نتیجہ ×
(غلط ہے بوجۂ مُغالطۂِ غیر جامع حَدِّ اوسط)
تیسری شڪل
تمام م، پ ہے (ا)
تمام م، س ہے (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
(صحیح ہے، یہ ضرب دراارضی ہے)
چوتھی شڪل
تمام پ، م ہے (ا)
تمام م، س ہے (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
(صحیح ہے، یہ ضرب براماطیض ہے)
٢. اع
١. پہلی شڪل
تمام م، پ ہے (ا)
کوئی س، م نہیں (ع)
× نتیجہ
(غلط ہے، ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے جس کی وجہ سے نتیجہ سَالِبَہ ہوگا اور حدِ اکبر جو کہ کُبریٰ میں غیر جامع ہے نتیجے میں جامع ہوگی اور اسی طرح مُغالطۂ عَمَلِ ناجائزِ حدِ اکبر لازِم آجائے گا)
٢. پہلی شڪل
تمام پ، م ہے (ا)
کوئی س، م نہیں (ع)
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (ع)
(صحیح ہے، یہ ضرب سرامعسعس ہے)
٣. تیسری شڪل
تمام م، پ ہے (ا)
کوئی م، س نہیں (ع)
× نتیجہ
(غلط ہے، ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے جس کی وجہ سے نتیجہ سَالِبَہ ہوگا اور حدِ اکبر جو کہ کُبریٰ میں غیر جامع ہے نتیجے میں جامع ہوگی اور اسی طرح مُغالطۂ عَمَلِ ناجائزِ حدِ اکبر لازِم آجائے گا)
٤. چوتھی شڪل
تمام پ، م ہے (ا)
کوئی م، س نہیں (ع)
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب سامعنعس ہے)
٣. ای
١. پہلی شڪل
تمام م، پ ہے (ع)
کُچھ س، م ہے (ی)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
(صحیح ہے، یہ ضرب دھاقینی ہے)
٢. دوسری شڪل
تمام پ، م ہے (ا)
کُچھ س، م ہے (ی)
× نتیجہ
(غلط ہے، یہاں مُغالطۂِ غیر جامع حدِّ اوسط ہے)
٣. تیسری شڪل
تمام م، پ ہے (ا)
کُچھ س م ہے (ی)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
(صحیح ہے، یہ ضرب دطاطیسی ہے)
٤. چوتھی شڪل
تمام پ، م ہے (ا)
کُچھ م، س ہے (ک)
× نتیجہ
(غلط ہے، یہاں مُغالطۂِ غیر جامع حدِّ اوسط ہے)
٤. او
١. پہلی شڪل
تمام م، پ ہے
کُچھ س، م نہیں
× نتیجہ
(غَلَط ہے، ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے۔ جس کی وجہ سے نتیجہ سَالِبَہ ہوگا۔ اور مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حدِّ اکبر لازم آئے گا)
٢. دوسری شڪل
تمام پ، م ہے (ا)
کُچھ س، م نہیں (و)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب براکوہ ہے)
٣. تیسری شڪل
تمام م، پ ہے (ا)
کُچھ م، س نہیں (و)
× نتیجہ
(غَلَط ہے، ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے۔ جس کی وجہ سے نتیجہ سَالِبَہ ہوگا۔ اور مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حدِّ اکبر لازم آئے گا)
٤. چوتھی شکل
تمام پ، م ہے (ا)
کُچھ م، س نہیں (و)
× نتیجہ
(غَلَط ہے، یہاں مُغَالِطَۂِ غیر جامع حَدِّ اَوسط لازم آئے گا)
٥. ع ا
١. پہلی شڪل
کوئی م، پ نہیں (ع)
تمام س، م ہے (ا)
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (ع)
(صحیح ہے، یہ ضرب شعاعتجہ ہے)
٢. دوسری شڪل
کوئی پ، م نہیں (ع)
تمام س، م ہے (ا)
لہٰذا کوئی س، پ نہیں (ع)
(صحیح ہے، یہ ضرب شعراعن ہے)
٣. تیسری شڪل
کوئی م، پ نہیں (ع)
تمام م، س ہے (ا)
کُچھ س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب فعارضتون ہے)
٤. چوتھی شڪل
کوئی پ، م نہیں (ع)
تمام م، س ہے (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں
(صحیح ہے، یہ ضرب فعساضو ہے)
٦. ع ی
١. پہلی شڪل
کوئی م، پ نہیں (ع)
کُچھ س، م ہے (ی)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب فعیوقہ ہے)
٢. دوسری شڪل
کوئی پ، م نہیں (ع)
کُچھ س، م ہے (ی)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب فرعسیون ہے)
٣. تیسری شڪل
کوئی م، پ نہیں (ع)
کُچھ م، س ہے (ی)
کُچھ س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب فعیسورن ہے)
٤. چوتھی شڪل
کوئی پ، م نہیں (ع)
کُچھ م، س ہے (ی)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب فرعسیون ہے)
٧. ی ا
١. پہلی شڪل
کُچھ م، پ ہے (ی)
تمام س، م ہے (ا)
× نتیجہ
(غَلَط ہے، یہاں مُغَالِطَۂِ غیرجامع حَدِّ اَوسط لازم آئے گا)
٢. دوسری شڪل
کُچھ پ، م ہے (ی)
تمام س، م ہے (ا)
× نتیجہ
(غَلَط ہے، ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے۔ جس کی وجہ سے نتیجہ سَالِبَہ ہوگا۔ اور مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حدِّ اکبر لازم آئے گا)
٣. تیسری شڪل
کُچھ م، پ ہے (ی)
تمام م، س ہے (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
(صحیح ہے، یہ ضرب دیس امیس ہے)
٤. چوتھی شکل
کُچھ پ، م ہے (ی)
تمام م، س ہے (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
(صحیح ہے، یہ ضرب دیماطیس ہے)
٨. وا
١. پہلی شڪل
کُچھ م، پ نہیں (و)
تمام س، م ہے (ا)
× نتیجہ
(غَلَط ہے، یہاں مُغَالِطَۂ غیرجامع حَدِّ اوسط لازم آئے گا)
٢. دوسری شڪل
کُچھ پ، م نہیں (و)
تمام س، م ہے (ا)
× نتیجہ
(غَلَط ہے، ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے۔ جس کی وجہ سے نتیجہ سَالِبَہ ہوگا۔ اور مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حدِّ اکبر لازم آئے گا)
٣. تیسری شڪل
کُچھ م، پ نہیں (و)
تمام م، س ہے (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
(صحیح ہے، یہ ضرب بوکارو ہے)
٤. چوتھی شڪل
کُچھ پ، م نہیں (و)
تمام م، س ہے (ا)
× نتیجہ
(غَلَط ہے، ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے۔ جس کی وجہ سے نتیجہ سَالِبَہ ہوگا۔ اور مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حدِّ اکبر لازم آئے گا)
Subaltern Moods ضُرُوبِ تحتانی
جب دوکُلیّہ مقدمات سے ایک کُلیّہ نتیجہ اخذ ہوسکتا ہو اور ہم اس کُلیّہ نتیجے کی بجائے ایک جُزئیہ نتیجہ اخذ کریں تو ایسی صورت میں ضرب کو ضربِ تحتانی کہتے ہیں۔ چنانچہ ضربِ تحتانی وہ ضرب ہوتی ہے جس میں ہم ایسے کُلیّہ مقدمات سے جو ہمیں کُلیّہ نتیجہ دے سکتے ہیں جُزئیہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ اگر ہم چاروں ضربوں کی شکلوں کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اُن کی کُل اُنیس ضربوں میں سے پانچ ضربوں میں نتیجے کُلیّہ ہیں۔ پہلی شکل میں برابابا (ااا) اور شعاعتجہ (ع ا ع) دوسری شکل میں شعراعن (ع ا ع) اور شرامعنعس (ا ع ع) اور چوتھی شکل میں سامعنعس (ا ع ع)۔ اگر ہم ان پانچ ضربوں میں کُلیّہ نتیجوں کی بجائے جُزئیہ نتیجے اخذ کریں تو ہمارے پاس پانچ تحتانی ضربیں ہوں گی۔ یعنی پہلی شکل میں برابابی (اای) اور شعاوتجہ (ع او)۔ دوسری شکل میں شعراون (ع ا و) اور شرامعسوس (اع و) اور چوتھی شکل میں سامعنوس (اع و)۔ ان ضربوں میں اگرچہ مقدمات ہمیں کُلیّہ نتیجے دے سکتے ہیں لیکن ہم اُن کُلیّہ نتیجوں کی بجائے کمزور جُزئیہ نتیجے اخذ کرتے ہیں۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ اگر کُلیّہ سچ ہو تو اصولِ تحکیم کے مطابق جُزئیہ بھی سچ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب مقدمات ہمیں ا یا ع نتیجہ دیں تو ہم اُن کی بجائے ی اور و نتیجے بھی اخذ کرسکتے ہیں۔
چونکہ چاروں شکلوں میں صرف پانچ ہی ایسی ضربیں ہیں جن میں نتیجے کُلیّہ ہیں۔ لہٰذا چاروں شکلوں میں صرف پانچ ہی ضروبِ تحتانی ممکن ہیں۔ پہلی شکل میں دو اور چوتھی شکل میں ایک۔ تیسری شکل میں کوئی ضرب تحتانی ممکن ہیں کیونکہ اس میں تمام ضربوں کے نتیجے پہلے ہی جُزئیہ ہیں۔ یاد رہے کہ اگر مقدمات لازمی طور پر ہمیں جُزئیہ نتیجہ دیں تو اس صورت میں ضربِ تحتانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہر ضربِ تحتانی میں نتیجہ جُزئیہ ہوتا ہے لیکن اُس کا اُلٹ صحیح نہیں۔ بالفاظِ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی ضرب، ضربِ تحتانی ہو تو اس میں نتیجہ جُزئیہ ہوگا۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جب بھی نتیجہ جُزئیہ ہو تو لازمی طور پر ضرب، ضربِ تحتانی ہوگی۔ ضربِ تحتانی وہ ضرب ہوتی ہے جس میں اگرچہ مقدمات ہمیں کُلیّہ نتیجہ دیتے ہیں لیکن ہم دانستہ جُزئیہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کیونکہ اُصُولِ تحکیم کے مطابق ہمیں ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔
اب ہم ان ضُرُوبِ تحتانی کو علـٰحده علـٰحده لکھتے ہیں۔
١. برابابی (اای۔ پہلی شڪل)
تمام م، پ ہے (ا)
تمام جاندار فانی ہیں (ا)
تمام س، م ہے (ا)
تمام انسان جاندار ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ ہے (ی)
لہٰذا کُچھ انسان فانی ہیں (ی)
ان مثالوں میں ہم "تمام س، پ ہے" اور "تمام انسان فانی ہیں" نتیجے اخذ کرسکتے تھے۔
٢. شعاوتجہ (ع او۔ پہلی شڪل)
کوئی م، پ نہیں (ع)
کوئی انسان کامل نہیں (ع)
تمام س، م ہے (ا)
تمام فلسفی انسان ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ فلسفی کامل نہیں (و)
ان مثالوں میں ہم "کوئی س، پ نہیں" اور "کوئی فلسفی کامل نہیں" نتیجے اخذ کرسکتے تھے۔
٣. شعراون (ع او۔ دوسری شڪل)
کوئی پ، م نہیں (ع)
کوئی انسان کامل نہیں (ع)
تمام س، م ہے (ا)
تمام فرشتے کامل ہیں (ا)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ فرشتے انسان نہیں (و)
ان مثالوں میں ہم "کوئی س، پ نہیں" اور "کوئی فرشتہ انسان نہیں" نتیجے اخذ کرسکتے تھے۔
٤. شرامعسوس (اع و۔ دوسری شڪل)
تمام پ، م ہے (ا)
تمام گھوڑے چوپائے ہیں (ا)
کوئی س، م نہیں (ع)
کوئی پرندہ چوپایہ نہیں (ع)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ پرندے گھوڑے نہیں (و)
ان مثالوں میں ہم "کوئی س، پ نہیں" اور "کوئی پرندہ گھوڑا نہیں" نتیجے اخذ کرسکتے تھے۔
٥. سامعنوس (اع و۔ چوتھی شکل)
تمام پ، م ہے (ا)
تمام انسان فانی ہیں (ا)
کوئی م، س نہیں (ع)
کوئی فانی فرشتہ نہیں (ع)
لہٰذا کُچھ س، پ نہیں (و)
لہٰذا کُچھ فرشتے انسان نہیں (و)
ان مثالوں میں ہم "کوئی س، پ نہیں" اور "کوئی فرشتہ انسان نہیں" نتیجے اخذ کرسکتے تھے۔
اشکالِ اربعہ کی خُصُوصیات
CHARACTERISTICS OF THE FOUR FIGUERS
اشکالِ اربعہ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں؛
پہلی شکل؛ ١. یہی ایک شکل ہے جس میں چاروں حملیہ قضیے یعنی ا، ع، ی اور و بطور نتائج موجود ہیں۔
٢. یہی ایک شکل ہے جس میں نتیجہ ا ثابت کیا جاسکتا ہے۔ سائنسوں میں عمومًا اسی شکل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اسے سائنٹفک شکل یعنی علمی شکل بھی کہتے ہیں۔ اگر ہمیں کسی قانون یعنی قاعدہ کُلیّہ کا اطلاق کسی ایک مثال پر کرنا ہو تو ہم شکل اَوَّل کی ضرب ااا (برابابا) میں استدلال کرتے ہیں۔ مثلًا اگر ہم یہ دیکھیں کہ لوہا گرم ہونے پر پھیلتا ہے تو ہمارا استدلال یوں ہوگا۔
تمام مادّی اشیاء گرمی سے پھیلتی ہیں
لوہا ایک مادّی شے ہے
لہٰذا لوہا گرمی سے پھیلتا ہے
٣. ہمارا روزمرّہ کا فکر و استدلال اسی شکل میں ہوتا ہے۔ یہی ایک شکل ہے جس میں ایک دلیل نہایت آسانی اور فطری طریقے سے ظاہر کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ منطق سے ناآشنا ہوتے ہیں وہ بھی اسی شکل میں استدلال کرتے ہیں۔ مثلًا
تمام انسان فانی ہیں
تمام بادشاہ انسان ہیں
لہٰذا تمام بادشاہ فانی ہیں
٤. یہی ایک شکل ہے جو قانونِ ارسطو کے عین مطابق ہے اسی لئے ارسطو نے اس شکل کو شکلِ کامل کا نام دیا تھا۔
دوسری شکل؛ ١. اس شکل میں تمام نتیجے سَالِبَہ ہیں۔ لہٰذا یہ شکل اشیاء کے باہمی امتیازات یا اختلافات کے ثُبُوت کے لئے ایک موزوں شکل ہے۔ امتیازات ہمیشہ سالبہ قضیوں میں ظاہر کئے جاتے ہیں۔ مثلًا
١. کُتے عاقِل نہیں
انسان عاقِل ہیں
لہٰذا انسان کُتے نہیں
٢. مُثلثیں ∆ تین اضلاع رکھتی ہیں
دائرے تین اضلاع نہیں رکھتے
لہٰذا دائرے مُثلثیں ∆ نہیں
٢. یہ شکل منفصلہ قیاسات میں خاص طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ مثلًا اگر ہمارا کوئی لیڈر کسی تحریک کو شروع کرے اور ہمیں یہ ثابت کرنا ہو کہ وہ تحریک بےفائدہ نہیں تو ہم یوں استدلال کریں گے۔
یہ تحریک یا تو سمجھ کر شروع کی جارہی ہے یا بغیر سمجھنے کے شروع کی جارہی ہے۔ لیکن ہمارا لیڈر بے سمجھ نہیں۔ لہٰذا یہ تحریک بغیر سمجھنے کے شروع نہیں کی جارہی تو اس کے تکلیف دہ نتائج یا تو کسی فائدے کے لئے برداشت کئے جارہے ہیں یا بے فائدہ برداشت کئے جارہے ہیں۔ لیکن تکلیف دہ نتائج بےفائدہ برداشت نہیں کئے جاتے۔ لہٰذا یہ تحریک بغیر سمجھنے کے اور بے فائدہ شروع نہیں کی جارہی۔
چنانچہ اس شکل کی مدد سے ہم کسی سوال کے متعلق مختلف مفروضات میں سے ایک ایک کو مُستثنیٰ (یعنی اس کا انکار) کرتے جاتے ہیں اور آخر کار اس ایک مفروضہ کو جو باقی رہ جاتا ہے قبول کرلیتے ہیں۔ لہٰذا اس شکل کو استثنائی شکل یا انکاری شکل Exclusive Figure بھی کہتے ہیں۔
تیسری شکل؛ ١. اس شکل میں صرف جُزئیہ قضیے ثابت کئے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ جُزئیہ قضیے کُلیّہ قضیوں کی مُستثنیات ہوتے ہیں لہٰذا اگر ہمیں کسی حریف کے کُلیّہ دعوے کو توڑنا منظور ہو تو اس مقصد کے لئے یہ شکل نہایت موزوں ہے۔ مثلًا اگر کوئی یہ کُلیّہ دعویٰ کرے کہ "کوئی دھات پانی پر نہیں تیرتی" تو ہم اسے غلط ثابت کرنے کے لئے تیسری شکل میں یوں استدلال کرسکتے ہیں۔
پوٹاشیم پانی پر تیرتا ہے
پوٹاشیم ایک دھات ہے
لہٰذا کُچھ دھاتیں پانی پر تیرتی ہیں
٢. جب حدِ اوسط اسمِ معرفہ ہو تو ہمارا استدلال فطری طور پر تیسری شکل میں ہوتا ہے۔ مثلًا
١. ماؤنٹ ایورسٹ پر ہمیشہ برف رہتی ہے
ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کا سب سے بُلند پہاڑ ہے
لہٰذا دُنیا کے سب سے بُلند پہاڑ پر ہمیشہ برف رہتی ہے
٢. سُقراط عقلمند ہے
سُقراط ایک فلسفی ہے
لہٰذا کُچھ فلسفی عقلمند ہیں
چوتھی شکل؛ یہ شکل استدلال کے فطری انداز کے مطابق نہیں اسی وجہ سے یہ شکل بہت کم استعمال میں لائی جاتی ہے۔ بعض منطقی اس کو منطق میں اسے جگہ ہی نہیں دیتے۔ ارسطو نے محض اس کے امکان کی طرف اشارہ کرنے کے علاوہ اس کو مزید توجہ نہیں دی تھی۔ اُس کے نزدیک یہ شکل پہلی شکل کی ایک بھدّی اور بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ابنِ رُشد کا (جو کہ سپین کا ایک مُسلم فلاسفر تھا) خیال ہے کہ یہ شکل جالینوس نے (جو کہ دوسری صدی بعد مسیحؑ میں یونان کا ایک مشہور طبیب گُزرا ہے) منطق میں داخل کی تھی۔ چنانچہ اسی وجہ سے اس شکل کو شکلِ جالینوس بھی کہتے ہیں۔ اگرچہ یہ شکل چنداں مُفید نہیں تاہم یہ قیاس کی ایک جائز اور ممکن شکل ہے اور اسے قیاس سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔
حل شُدہ مثالیں
سُوال؛ دوسری شکل میں تمام نتیجے سَالِبَہ کیوں ہیں؟
جواب؛ دوسری شکل میں حَدِّ اوسط دونوں مقدمات میں محمول ہوتی ہے اور حدِ اوسط کو کم ازکم ایک مقدمے میں ہمیں ضرور جامع کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ حدِّ اوسط دونوں مقدمات میں محمول ہے؛ لہٰذا اسے جامع کرنے کے لئے ایک قضیہ ضرور سَالِبَہ ہوگا (کیونکہ محمول سَالِبَہ قضیہ میں ہی جامع ہوسکتا ہے) اور اگر ایک قضیہ سَالِبَہ ہوگا تو نتیجہ لازمی طور پر سَالِبَہ ہوگا۔
سُوال؛ دوسری شکل میں حدِ اوسط دونوں مقدمات میں کیوں نہیں جامع ہوسکتی؟
جواب؛ دوسری شکل میں حدِّ اوسط دونوں مقدمات میں محمول ہوتی ہے۔ یہ دونوں مقدمات میں اسی صورت میں جامع ہوسکتی ہے جب کہ دونوں مقدمات سَالِبَہ ہوں۔ لیکن اگر دونوں مقدمات سَالِبَہ ہوں گے تو اُن سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوگا۔ لہٰذا دوسری شکل میں حَدِّ اوسط دونوں مقدمات میں جامع نہیں ہوسکتی۔
سُوال: اگر قیاس میں نتیجہ ا ہو تو ضرب اور شکل معلوم کرو
جواب؛ چونکہ نتیجہ مُوْجِبَہ اور کُلِیّہ ہے لہٰذا دونوں مقدمات مُوْجِبَہ اور کُلِیّہ ہوں گے۔ اگر نتیجہ ا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہے کہ حَدِّ اصغر نتیجے میں جامع ہے چنانچہ حَدِّ اصغر صُغریٰ میں بھی جامع ہوگی۔ یعنی حَدِّ اصغر صُغریٰ میں موضوع ہوگی۔ اگر حدِ صغر صُغریٰ میں موضوع ہے تو حدِ اوسط صُغریٰ میں محمول ہوگی۔ لیکن اگر حدِ اوسط صُغریٰ میں محمول ہوگی تو وہاں یہ جامع نہیں ہوگی کیونکہ صُغریٰ مُوْجِبَہ ہے۔ اور مُوْجِبَہ قضیوں میں محمول جامع نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا حدِ اوسط کو کُبریٰ میں جامع کرنا پڑے گا۔ حَدِّ اوسط کو کُبریٰ میں جامع کرنے کے لئے اُسے کُبریٰ میں موضوع بنانا پڑے گا کیونکہ کُبریٰ مُوْجِبَہ کُلیّہ ہے اور مُوْجِبَہ کُلیّہ میں صرف موضوع ہی جامع ہوسکتا ہے۔ اگر حَدِّ اوسط کُبریٰ میں موضوع ہوگی تو حَدِّ اَکبَر لازمی طور پر کُبریٰ میں محمول ہوگی۔
غرضیکہ حَدِّ اوسط کُبریٰ میں موضوع ہوگی اور صُغریٰ میں محمول۔ یعنی یہ پہلی شکل ہوگی۔ دونوں مقدمات مُوْجِبَہ کُلیّہ (یعنی ا) ہوں گے۔ نتیجہ بھی ا ہے۔ چنانچہ یہ ضرب ااا (برابابا) ہے اور پہلی شکل ہے۔
سُوال؛ اگر کسی قیاس میں صُغریٰ و ہو تو ضرب اور شکل معلوم کرو
جواب؛ اگر صُغریٰ و ہے تو کُبریٰ لازمی طور پر ا ہوگا کیونکہ و کے ساتھ دوسرا مقدمہ نہ ع ہوسکتا ہے، نہ و ہوسکتا ہے اور نہ ی ہوسکتا ہے۔ چونکہ صُغریٰ سَالِبَہ اور جُزئیہ ہے۔ لہٰذا نتیجہ بھی سَالِبَہ اور جُزئیہ ہوگا۔ یعنی و ہوگا نتیجے میں حَدِّ اکبر لازمی طور پر جامع ہوگی۔ لہٰذا حَدِّ اَکْبَر کو کُبریٰ میں بھی جامع ہونا چاہیے۔ چونکہ کُبریٰ ا ہے اس لئے حَدِّ اکبر کو جامع کرنے کے لئے اسے کُبریٰ میں موضوع بنانا پڑے گا۔ اگر حَدِّ اَکْبَر کُبریٰ میں موضوع ہوگی تو حَدِّ اوسط کُبریٰ میں محمول ہوگی۔ چونکہ کُبریٰ ا ہے اور حَدِّ اوسط اس میں محمول ہے لہٰذا حَدِّ اوسط کُبریٰ میں جامع نہیں ہوگی۔ چنانچہ ہمیں حدِّ اوسط کو صغریٰ میں جامع کرنے کے لئے محمول بنانا پڑے گا۔ غرضیکہ حدِ اوسط دونوں مقدمات میں محمول ہوگی۔ یعنی یہ دوسری شکل ہوگی اور مقدمات ا اور و ہوں گے۔ نتیجہ و ہے۔ پس یہ ضرب اوو ہے اور دوسری شکل ہے۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ پہلی شکل میں کُبریٰ کبھی ی یا و نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ اگر کُبریٰ پہلی شکل میں ی ہو تو حدِ اوسط کُبریٰ میں جامع نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا حدِ اوسط کو صغریٰ میں جامع کرنا پڑے گا لیکن حدِ اوسط صُغریٰ میں محمول ہے اس لئے اسے جامع کرنے کے لئے صُغریٰ سَالِبَہ لینا پڑے گا اور اگر صُغریٰ سَالِبَہ ہوگا تو تو نتیجہ بھی سَالِبَہ ہوگا۔ اگر نتیجہ سَالِبَہ ہوگا تو حَدِّ اکبر نتیجے میں جامع ہوگی۔ لیکن حَدِّ اکبر کُبریٰ میں غیر جامع ہے کیونکہ کُبریٰ ی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں مُغالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اکبر لازم آئے گا۔ اگر حدِ اکبر اس کے عمل ناجائز سے بچنے کے لئے ہم صُغریٰ مُوْجِبَہ لے لیں تو اُس صورت میں مُغَالِطَۂ غیر جامع حَدِّ اَوسط لازم آئے گا۔ لہٰذا پہلی شکل میں کُبریٰ کبھی ی نہیں ہوسکتا۔
پہلی شکل میں کُبریٰ و بھی نہیں ہوسکتا۔ اگر کُبریٰ و ہو تو صُغریٰ لازمی طور پر ا ہوگا۔ چونکہ حَدِّ اَوسط کُبریٰ میں جامع نہیں ہوگی لہٰذا اسے صُغریٰ میں بھی جامع کرنا پڑے گا۔ لیکن چونکہ صُغریٰ ا ہے اس لیے حدِ اوسط اس میں جامع نہیں ہوسکتی کیونکہ حدِ اوسط صُغریٰ میں محمول ہے اور ا میں محمول جامع نہیں ہوتا۔ چنانچہ پہلی شکل میں کُبریٰ و ہو تو مُغالِطَۂِ غیر جامع حدِ اوسط لازم آتا ہے۔ لہٰذا پہلی شکل میں کُبریٰ کبھی و نہیں ہوسکتا۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ پہلی شکل میں صُغریٰ کبھی و نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ اگر صُغریٰ و ہو تو کُبریٰ ا ہوگا۔ چونکہ ایک قضیہ سَالِبَہ ہے لہٰذا نتیجہ بھی سَالِبَہ ہوگا اور اگر نتیجہ سَالِبَہ ہوگا تو حَدِّ اکبر نتیجے میں جامع ہوگی۔ لیکن اگر حدِ اکبر کُبریٰ میں غیر جامع ہے کیونکہ کُبریٰ ا ہے اور حدِ اکبر اس میں محمول ہے۔ لہٰذا پہلی شکل میں صُغریٰ و ہو تو مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائزِ حَدِّ اَکْبَر لازم آتا ہے۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ تیسری شکل میں صُغریٰ و نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ اگر صُغریٰ و ہو تو کُبریٰ ا ہوگا۔ ایک قضیے کے سَالِبَہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ بھی سَالِبَہ ہوگا اور حَدِّ اَکْبَر نتیجے میں جامع ہوگی۔ لیکن کُبریٰ میں حَدِّ اَکْبَر جامع نہیں کیونکہ کُبریٰ ا ہے اور حَدِّ اکبر اس میں محمول ہے۔ لہٰذا اگر تیسری شکل میں صُغریٰ و ہو تو مُغَالِطَۂِ عَمَلِ ناجائزِ حَدِّ اَکْبَر لازِم آتا ہے۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ دوسری شکل میں کُبریٰ و نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ چونکہ ایک مقدمہ سَالِبَہ ہے اس لئے نتیجہ بھی سَالِبَہ ہوگا اور حَدِّ اَکْبَر نتیجے میں جامع ہوگی۔ لیکن حَدِّ اَکْبَر کُبریٰ میں غیرجامع ہے کیونکہ کُبریٰ و ہے۔ اور حَدِّ اَکْبَر اس میں موضوع ہے لہٰذا اگر دوسری شکل میں کُبریٰ و ہو تو مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اَکْبَر لازِم آتا ہے۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ چوتھی شکل میں کُبریٰ و نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ یہاں بھی مُغَالِطَۂِ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اَکْبَر لازِم آتا ہے۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ چوتھی شکل میں صُغریٰ و نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ اگر صُغریٰ و ہو تو کُبریٰ ا ہوگا۔ اگر چوتھی شکل میں صُغریٰ و ہو اور کُبریٰ ا ہو تو حَدِّ اوسط دونوں مقدمات میں غیر جامع رہے گی۔ یعنی مُغَالِطَۂِ غیر جامع حَدِّ اوسط لازم آئے گا۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ دوسری، تیسری اور چوتھی شکل میں نتیجہ ا ممکن نہیں۔
جواب؛ نتیجہ ا کے لئے دونوں مقدمات ا ہونا چاہئیں۔
اگر دوسری شکل میں دونوں مقدمات ا ہوں تو حَدِّ اوسط دونوں مقدمات میں غیرجامع رہے گی اور مُغَالِطَۂِ غیر جامع حدِ اوسط لازم آئے گا۔
تیسری شکل میں اگر دونوں مقدمات ا ہوں تو نتیجہ ا نہیں ہوگا بلکہ ی ہوگا۔ اگر ہم نتیجہ ا اخذ کریں گے تو مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اصغر لازم آئے گا۔
چوتھی شکل میں اگر دونوں مقدمات ا ہوں گے تو نتیجہ ی ہوگا۔ ا نہیں ہوگا۔ اگر ہم نتیجہ ا اخذ کریں گے تو مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اصغر لازم آئے گا۔
نوٹ؛ ضربوں اور شکلوں کے ایسے سوالات میں قیاس کی چاروں شکلوں کے خاکے لکھ لینے چاہئیں تاکہ حَدِّ اَوسط، حَدِّ اَکْبَر اور حَدِّ اَصْغَر کی جگہیں واضح رہیں۔
صفحات
فقط
سیالکوٹ






تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں