اشاعتیں

منطقِ اِستِقرائیہ کے مُغالطے

تصویر
 تیتسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کے مُغالِطے  FALLACIES OF INDUCTIVE LOGIC مُغالطہ اُس غَلَطی کو کہتے ہیں جو منطق کے کسی قاعدے کے ٹوٹنے سے پیدا ہو۔ لیکن تمام غلطیاں مُغالطے نہیں ہوتیں۔ صرف وہ غلطیاں مُغالطے کہلاتی ہیں جو بظاہر صحیح معلوم ہوں لیکن درحقیقت ایسی نہ ہوں۔ ایک ایسی بات کو جو بظاہر غَلَط معلوم ہو لیکن درحقیقت صحیح ہو انگریزی میں Paradox کہتے ہیں۔ بقول ویٹلے مُغالطہ ایک ایسا غَلَط استِدلال ہوتا ہے جو بظاہر قابلِ قبول اور مسئلۂِ زیرِ بحث کے متعلق فیصلہ کُن معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ ایک مُغالطہ دانستہ طور پر بھی کیا جاسکتا ہے اور نادانستہ طور پر بھی۔ اگر کوئی مغالطہ عمدًا کیا جائے اور اس سے فریقِ مخالف کو دھوکا دینا مقصود ہو تو اسے سفسطہ Sophism کہتے ہیں۔ قدیم یونان میں معلموں کا ایک گروہ تھا جو اُجرت لے کر فلسفہ اور فَنِ خطابت کی تعلیم دیا کرتا تھا۔ یہ لوگ سوفسطائی Sophisis کہلاتے تھے۔ غَلَط استِدلال سے دوسروں کو دھوکا دینے میں یہ لوگ بڑی مہارت رکھتے تھے۔ ایک ایسا مغالطہ جو عمدًا کسی کو دھوکا دینے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور جس کے غَلَط ہونے کے متعلق...

اصطفاف

تصویر
 بتیسواں باب اصطفاف یا جماعت بندی CLASSIFICATION کلوسیم، روم جماعت بندی کی نوعیت اور مقصد NATURE AND PURPOSE OF CLASSIFICATION   قدیم روم میں ایک رواج تھا کہ تمام لوگ خاص خاص وقتوں پر اکٹھے کیے جاتے تھے۔ اس تقریب کو لاطینی زبان میں کلاسِس کہتے تھے۔ جس کا مطلب ہے "اکٹھا کرنا"۔ رفتہ رفتہ یہ نام لوگوں کی ایک منظم جماعت (مثلًا فوج) کے لیے استعمال ہونے لگا اور آخر کار تمثیلًا یہ اشیاء کے ہر ایسے مجموعے کے متعلق جس میں اشیاء کو ترتیب دی گئی ہو استعمال ہونے لگا۔ چنانچہ اب جماعت بندی سے مُراد ہے اشیاء میں ترتیب اور تنظیم پیدا کرکے اُن کی جماعتیں یا گروہ بنانا۔ اشیاء کی جماعت بندی ان کی مُشابہتوں کی بنا پر کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اشیاء جو مختلف ہوتی ہیں وہ مختلف جماعتوں میں رکھی جاتی ہیں۔ مختلف اشیاء کے موازنے سے ہمیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کِس حد تک مشابہ اور کس حد تک مختلف ہیں۔ اس کے بعد حالات کے مطابق انہیں ایک ہی جماعت میں یا مختلف جماعتوں میں رکھا جاتا ہے۔ ہر جماعت میں وہ اشیاء اکٹھی رکھی جاتی ہیں جو چند ضروری خواص میں مشابہہ ہوتی ہیں۔ جس قدر زیادہ اور ضروری مشابہتیں...

توجیہہ

تصویر
 اکتیسواں باب توجیہہ EXPLANATION توجیہہ کی نوعیت اور مقصد NATURE AND FUNCTION OF EXPLANATION   توجیہہ سے مُراد ہے کسی چیز کی وجہ بیان کرنا۔ بعض اوقات انہی معنوں میں "تشریح" کا لفظ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ "تشریح" کا مطلب ہے کسی چیز کی شرح کرنا۔ یعنی اُسے کھول کر بیان کرنا۔ ظاہر ہے کہ تشریح کسی ایسی چیز کی ہی کی جائے گی جو مبہم ہو یا جسے ہم نہ سمجھتے ہوں۔ دنیا میں بہت سی چیزیں یا واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم نہیں سمجھتے اور انہیں سمجھنے کے لیے ہمیں تشریح یا توجیہہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ توجیہہ سے مراد ہے کسی چیز یا واقعہ کی عِلَّت کو بیان کرکے اس کے راز کو دُور کرنا۔ جب تک کسی نامعلوم واقعہ کی توجیہہ نہیں ہوتی ہمیں ایک قسم کی بے اطمینانی سی رہتی ہے۔ لیکن توجیہہ سے ہماری تسلی یا اطمینان ہوجاتا ہے۔ توجیہہ سے محض ہمارے شوقِ تحقیق ہی کی تسکین نہیں ہوتی بلکہ عملی طور پر بھی ہمیں فائدہ ہوتا ہے۔ جب مظاہرِ قُدرت کی توجیہہ ہوجاتی ہے تو ہم اُن پر قابو پا لیتے ہیں۔ حیوان واقعات کی توجیہہ نہیں کرتے۔ وہ واقعات کے متعلق "کیا" اور "کیوں" کو نہیں جانتے۔ لہٰذا انہ...