تیرہواں باب
استنتاجِ بدیہی جہتی
Eductions
عکس اور عدل
Conversion & Obversion
استنتاجِ بدیہی جہتی سے مُراد وہ طریقِ استدلال ہے جس میں کسی دئیے ہوئے قضیے سے ایسے نئے قضیے (یعنی نتیجے) اخذ کئے جائیں جو اپنے مفہوم کے لحاظ سے تو دئیے ہوئے قضیے کے مُترادف یا برابر ہوں لیکن اپنی شکل اور کیفیّت اور کمیّت کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ بالفاظِ دیگر استنتاجِ بدیہی جہتی میں ہمیں کسی دئیے ہوئے قضیے سے کوئی دوسرا قضیہ (یعنی نتیجہ) اس طرح اخذ کرنا ہوتا ہے کہ اُن دونوں کے مفہوم میں کوئی فرق نہ ہو۔ دراصل استنتاجِ بدیہی جہتی کسی قضیے کے مفہوم کو مختلف شکلوں میں ظاہر کرنے کا نام ہے۔
استنتاجِ بدیہی جہتی کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ عکس اور عدل
١. عکس:۔ عکس، استنتاجِ بلاواسطہ کا وہ عمل ہے جس میں ہم کسی دئیے ہوئے قضیے سے ایک ایسا نیا قضیہ (یعنی نتیجہ) اخذ کرتے ہیں جو مفہوم کے لحاظ سے دیے ہوئے قضیے سے مختلف نہیں ہوتا لیکن جس میں دئے ہوئے قضیے کے موضوع اور محمول آپس میں جگہ بدل لیتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر عکس میں کسی قضیے کے موضوع اور محمول کے مقام کو آپس میں تبدیل کرکے اُس کا اُلٹ لیا جاتا ہے۔ وہ قضیہ جو دیا گیا ہو یعنی جس پر عملِ عکس کرنا منظور ہو معکوس منہ اور وہ قضیہ جو عملِ عکس سے اخذ کیا جائے معکوس کہلاتا ہے۔
قواعدِ عکس:۔ قواعدِ عکس مندرجہ ذیل ہیں۔
١. معکوس میں دئیے ہوئے قضیے کے موضوع اور محمول کو آپس میں بدل دینا چاہیے۔ یعنی موضوع کو محمول کی جگہ اور محمول کو موضوع کی جگہ تبدیل کرنا چاہیے۔
٢. دئیے ہوئے قضیے کی کیفیّت کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی ایک موجبہ قضیے کا معکوس ایک موجبہ قضیہ کا معکوس ایک موجبہ قضیہ اور ایک سالبہ قضیے کا معکوس ایک سالبہ قضیہ ہونا چاہیے۔
٣. معکوس میں کوئی ایسی حد جامع نہیں ہونی چاہیے جو دئیے ہوئے قضیے میں جامع نہ تھی۔ بالفاظِ دیگر اگر دِئیے ہوئے قضیے میں کوئی حدّ غیر جامع ہے تو وہ حد معکوس میں بھی غیر جامع رہنی چاہیے۔ اگر دئیے ہوئے قضیے میں کوئی حدّ غیر جامع ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اُس حدّ کا ایک حصّہ یعنی جزؤ لیا گیا ہے اور اگر نتیجہ میں وہ حد جامع ہوگی تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم نے نتیجے میں وہ حدّ بحیثیتِ کُل لے لی ہے اور یہ بات صریحًا منطقِ استخراجیہ کے قواعدِ استنتاج کے خلاف ہے۔ نتیجہ، دِئیے ہوئے قضیے سے زیادہ جامع نہیں ہوسکتا۔
نوٹ:۔ اگر کوئی حدّ دئیے ہوئے قضیے میں جامع ہو اور معکوس میں وہ غیر جامع ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کُل سے جُزو کا اخذ کرنا یعنی "زیادہ سے کَم" کی طرف آنا کوئی غلطی نہیں۔ جُزؤ سے کُل کا اخذ کرنا یعنی "کم سے زیادہ" کی طرف جانا غلطی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی حدّ دئیے ہوئے قضیے میں جامع ہو اور معکوس میں جامع نہ ہو تو اس میں عکس کے قاعدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ عکس کے قاعدے کی خلاف ورزی اس صورت میں ہوتی ہے جب کہ معکوس منہ کی کوئی غیرجامع حدّ معکوس میں جامع ہو۔ عکس کا قاعدہ محض یہ کہتا ہے کہ مقدمے یعنی دئیے ہوئے قضیے کی ایک غیر جامع حدّ نتیجے میں غیر جامع رہنی چاہیے۔ یہ نہیں کہتا کہ دئیے ہوئے قضیے کی جامع حدّ نتیجے میں بھی ضرور جامع ہو۔
اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قواعدِ عکس کے مطابق ا، ع، ی، و کے معکوس کیا ہیں؟
ا کا عکس:۔ ا قضیہ مُوجِبَۂ کُلِیَّہ ہے چونکہ عکس میں کیفیات کے بدلنے کی ممانعت ہے لہٰذا ا کو ہم یا تو ا میں یا ی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ:۔
ا۔ "تمام س، پ ہے"۔ کا معکوس
یا تو
١. تمام پ، س ہے (ا) ہوگا
یا
٢. کُچھ پ، س ہے (ی) ہوگا
لیکن نمبر ۱ اس لئے غَلَط ہے کہ دئیے ہوئے قضیے میں محمول (پ) غیر جامع تھا اور معکوس میں یہ جامع ہے۔ لہٰذا ا کا معکوس "تمام پ، س ہے" کی بجائے "کُچھ پ، س ہے" ہوگا۔ مثلًا "تمام گھوڑے جانور ہیں" کا عکس "کُچھ گھوڑے جانور ہیں" ہوگا۔ "تمام جانور گھوڑے ہیں" نہیں ہوسکتا کیونکہ اس صورت میں محمول "جانور" جو کہ دئیے ہوئے قضیہ میں غیر جامع تھا معکوس میں جامع ہوجاتا ہے۔
مثالیں
دیا ہوا قضیہ: ١. تمام س، پ ہے۔ (ا)
معکوس: کُچھ پ، س ہے۔ (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٢. تمام کوّے سیاہ ہیں (ا)
معکوس: کُچھ سیاہ چیزیں کوّے ہیں۔ (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٣. تمام مسلمان انسان ہیں۔ (ا)
معکوس: کُچھ انسان مسلمان ہیں۔ (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٤. تمام کیکر درخت ہیں۔ (ا)
معکوس: کُچھ درخت کیکر ہیں۔ (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٥. تمام انڈے سفید ہیں (ا)
معکوس: کُچھ سفید چیزیں انڈے ہیں (ی)
چنانچہ ا کا عکس ی ہے۔ ایسے عکس کو جس میں ایک کُلیّہ قضیے سے ایک جُزئیہ قضیہ بطور نتیجہ اخذ کیا جائے عکسِ ناقص کہتے ہیں۔
ع کا عکس:۔ ع قضیۂ سَالِبہ کُلِیّہ ہے: "کوئی س، پ نہیں" اس قضیے کا عکس مندرجہ ذیل ہوگا۔
"کوئی س، پ نہیں"
یہاں عکس کے تمام قواعد پورے کئے گئے ہیں۔ موضوع کی جگہ محمول نے اور محمول کی جگہ موضوع نے لے لی ہے۔ دیا ہوا قضیہ سالبہ تھا اور معکوس بھی سالبہ ہے۔ چونکہ دیا ہوا قضیہ ع ہے لہٰذا اس میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہیں چنانچہ قضیہ ع میں عکس کے قاعدۂ سوم (کہ اگر دئیے ہوئے قضیے میں کوئی حدّ غیر جامع ہو تو معکوس میں بھی وہ حدّ غیرجامع رہنا چاہیے) کی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ "کوئی س، پ نہیں" کا عکس "کوئی پ، س نہیں" ہوگا۔ "کوئی پاکستانی حبشی نہیں" کا عکس "کوئی حبشی پاکستانی نہیں" ہوگا۔
مثالیں
دیا ہوا قضیہ: ١. کوئی س، پ نہیں (ع)
معکوس: کوئی پ، س نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٢. کوئی مُثلث ∆، دائرہ نہیں (ع)
معکوس: کوئی دائرہ، مُثلث ∆ نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٣. کوئی گھوڑا، گدھا نہیں (ع)
معکوس: کوئی گدھا، گھوڑا نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٤. کوئی کوّا، سفید نہیں (ع)
معکوس: کوئی سفید چیز، کوّا نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٥. کوئی انسان، فرشتہ نہیں (ع)
معکوس: کوئی فرشتہ، انسان نہیں (ع)
چنانچہ ع کا عکس ع ہے۔ ایسے عکس کو جس میں معکوس منہ اور معکوس کی کمیّت یکساں ہو عکسِ سادہ یا عکسِ خالص کہتے ہیں۔
ی کا عکس:۔ ی قضیۂ مَوْجِبَہ ہے۔ لہٰذا اس کا عکس یا تو ا ہوسکتا ہے یا ی (کیونکہ عکس میں کیفیّت کے بدلنے کی اجازت نہیں)۔ لیکن اگر ہم ی کو ا میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں تو ی کا غیر جامع محمول (یعنی پ) معکوس میں جامع ہوجائے گا۔ چنانچہ "کُچھ س، پ ہے" کا معکوس "تمام س، پ ہے" نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ی کا معکوس ی ہی ہوگا۔ "کُچھ س، پ ہے" کا معکوس "کُچھ پ، س ہے" ہوگا۔ "کُچھ کُتّے سیاہ ہیں" کا معکوس "تمام سیاہ چیزیں کُتّے ہیں" نہیں ہوسکتا کیونکہ اس طرح "سیاہ" جو کہ دئیے ہوئے قضیے میں غیر جامع تھا، معکوس میں جامع ہوجاتا ہے، "کُچھ کُتّے سیاہ ہیں" کا معکوس "کُچھ سیاہ چیزیں کُتّے ہیں" ہوگا یہاں موضوع اور محمول نے اپنی جگہیں بدل لی ہیں۔ دیا ہوا قضیہ موجبہ تھا اور معکوس بھی مَوْجِبَہ ہے۔ دئیے ہوئے قضیے میں کوئی حَدّ جامع نہیں تھی اور معکوس میں بھی کوئی حَدّ جامع نہیں۔
مثالیں
دیا ہوا قضیہ: ١. کُچھ س، پ ہے (ی)
معکوس: کُچھ پ، س ہے (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٢. کُچھ مرد ڈاکٹر ہیں (ی)
معکوس: کُچھ ڈاکٹر مرد ہیں (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٣. کُچھ ہندوستانی مسلمان ہیں (ی)
معکوس: کُچھ مسلمان ہندوستانی ہیں (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٤. کُچھ آم میٹھے ہیں (ی)
معکوس: کُچھ میٹھی چیزیں آم ہیں (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٥. کُچھ پھول سُرخ ہیں (ی)
معکوس: کُچھ سُرخ چیزیں پھول ہیں (ی)
و کا عکس:۔ چونکہ و قضیۂ سَالِبَہ ہے لہٰذا اس کا معکوس بھی قضیۂ سَالِبَہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ و کا عکس یا تو ع ہوسکتا ہے یا و (کیونکہ قواعدِ عکس کے مطابق دئیے ہوئے قضیے کی کیفیّت کے بدلنے کی ممانعت ہے) چنانچہ "کُچھ س، پ نہیں" کا معکوس یا تو "کوئی س، پ نہیں" ہوسکتا ہے یا "کُچھ پ، س نہیں"۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں دئیے ہوئے قضیے کا غیر جامع موضوع (یعنی س) معکوس میں جامع ہوجاتا ہے۔ اور چونکہ ان دونوں صورتوں کے علاوہ و کے عکس کی اور کوئی صورت ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا و کا عکس ناممکن ہے۔
خُلاصہ:۔ ا کا عکس ی ہوتا ہے۔
ع کا عکس ع ہوتا ہے۔
ی کا عکس ی ہوتا ہے۔
و کا عکس نہیں ہوسکتا۔
نقشۂ عکس
Table of Conversion
دیا ہوا قضیہ: "تمام س، پ ہے" (س ا پ)
عکس: "کُچھ پ، س ہے" (پ ی س)
دیا ہوا قضیہ: "کوئی س، پ نہیں" (س ع پ)
عکس: "کوئی پ، س نہیں" (پ ع س)
دیا ہوا قضیہ: "کُچھ س، پ ہے" (س ی پ)
عکس: "کُچھ پ، س ہے" (پ ی س)
دیا ہوا قضیہ: "کُچھ س، پ نہیں" (س و پ)
عکس: (اس کا عکس ممکن نہیں)
غَلَط عکس
ILLICT CONVERSION
عکس کے سلسلے میں مُغالطہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ قواعدِ عکس کی خلاف ورزی کی جائے۔ عام طور پر یہ مغالطہ دئیے ہوئے قضیے کی کسی غیر جامع حد کو معکوس یعنی نتیجے میں جامع کردینے سے پیدا ہوتا ہے۔ غَلَط عکس کی مندرجہ ذیل مثالیں ملاحظہ ہوں۔
١. تمام نیک آدمی نمازی ہیں۔ لہٰذا تمام نمازی نیک ہیں۔
٢. تمام حاجتمند مانگتے ہیں۔ لہٰذا تمام مانگنے والے حاجتمند ہیں۔
٣. تمام کنجوس اپنی دولت کا خیال رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ تمام لوگ جو اپنی دولت کا خیال رکھتے ہیں کنجوس ہیں۔
٤. کُچھ زہر قاتل نہیں۔ لہٰذا کُچھ قاتل چیزیں زہر نہیں۔
٥. کُچھ گھوڑے سفید نہیں۔ لہٰذا کُچھ سفید چیزیں گھوڑے نہیں۔
٦. کُچھ آم میٹھے نہیں۔ لہٰذا کُچھ میٹھی چیزیں آم نہیں۔
٧. کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں۔ لہٰذا تمام ڈاکٹر آدمی ہیں۔
٨. کُچھ طلبا پاس ہیں۔ لہٰذا تمام پاس ہونے والے طلبا ہیں۔
الغرض مُغالطۂ عکسِ غَلَط اُس حالت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم قضیہ و کا عکس حاصل کرنے کی کوشش کریں یا قضیہ ا کو قضیۂ ا میں تبدیل کریں یا قضیۂ ی کو قضیۂ ا میں تبدیل کریں۔
٢. عدل:۔ عدل استنتاجِ بدیہی جہتی کا وہ عمل ہے جس میں کسی دِئیے ہوئے قضیے سے ایک ایسا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے جس کا محمول دئیے ہوئے قضیے کے محمول کا نقیض ہوگا، اس لئے ظاہر ہے کہ نتیجے میں دئیے ہوئے قضیے کا مفہوم بالکل بدل جائے گا۔ لیکن جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں استنتاجِ بدیہی جہتی میں دئیے ہوئے قضیے کا مفہوم نتیجے میں بالکل وہی رہنا چاہیے۔ لہٰذا ہمیں دِیے ہوئے قضیے کی کیفیّت کو بدلنا پڑتا ہے۔ چنانچہ عدل استنتاجِ بدیہی کا وہ عمل ہے جس میں ہم کسی دِیے ہوئے قضیے کے مفہوم کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی کیفیّت کو بدل دیتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر عدل سے مُراد ہے ایک موجبہ قضیہ کو اس کے ہم معنیٰ سالبہ قضیے میں اور ایک سالبہ قضیے کو اس کے ہم معنیٰ موجبہ قضیے میں تبدیل کرنا۔
وہ قضیہ جو دیا گیا ہو یعنی جس پر عملِ عدل کرنا مقصود ہو معدول منہ اور وہ قضیہ جو عملِ عدل سے اخذ کیا جائے معدول کہلاتا ہے۔
قواعدِ عدل:۔ قواعدِ عدل مندرجہ ذیل ہیں:۔
١. موضوع اور محمول دونوں اپنی اپنی جگہ پر رہنے چاہئیں۔
٢. دئیے ہوئے قضیے کی کیفیّت کو ضرور تبدیل کرنا چاہیے یعنی اگر دیا ہوا قضیہ موجبہ ہو تو معدول سالبہ ہونا چاہیے اور اگر دیا ہوا قضیہ سالبہ ہو تو معدول موجبہ ہونا چاہیے۔
٣. دیے ہوئے قضیے کی کمیّت کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی ایک کُلیّہ قضیے کا معدول ایک کُلیّہ قضیہ اور ایک جُزئیہ قضیے کا معدول ایک جُزئیہ قضیہ ہونا چاہیے۔
٤. معدول کا محمول دِیے ہوئے قضیے کے محمول کا نقیض ہونا چاہیے۔ اب ہم ا، ع، ی، و کا عدل لیتے ہیں۔
ا کا عدل:۔ ا کُلیّۂ مُوْجِبَہ ہے، قواعدِ عدل کے مطابق اس کی کمیّت تو وہی رہے گی لیکن اس کی کیفیّت بدل جائے گی۔ گویا یہ کُلیّۂ سَالِبَہ (یعنی ع) میں تبدیل ہوگا۔ چنانچہ "تمام س، پ ہے" کا عدل "کوئی س، غیر پ نہیں" ہوگا۔ "تمام انسان فانی ہیں" کا عدل "کوئی انسان غیر فانی نہیں" ہوگا۔ یہاں اگرچہ دئیے ہوئے قضیے کی شکل بدل گئی ہے لیکن اس کا مفہوم وہی رہا ہے۔
مثالیں
دیا ہوا قضیہ: ١. تمام س، پ ہے (ا)
معدول: کوئی س غیر پ نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٢. تمام مدراسی ہندوستانی ہیں (ا)
معدول: کوئی مدراسی غیرہندوستانی نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٣. تمام کوّے سیاہ ہیں (ا)
معدول: کوئی کوّا غیر سیاہ نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٤. تمام افغانستانی بادشاہ مسلمان ہیں (ا)
معدول: کوئی افغانستانی بادشاہ غیر مسلم نہیں (ع)
دیا ہوا قضیہ: ٥: تمام کام ممکن ہیں (ا)
عدل: کوئی کام غیر ممکن نہیں (ع)
چنانچہ ا کا معدول ع پے۔
ع کا عدل:۔ ع کُلیّۂ سَالِبہ ہے اس کا عدل کُلیّہ مَوّجِبَہ (یعنی ا) ہوگا۔ چنانچہ "کوئی س، پ نہيں" کا عدل "تمام س، غیرپ پے" ہوگا۔ "کوئی ہِندؤ مُسلم نہیں" کا عدل "تمام ہِندؤ غیرمسلم ہیں" ہوگا۔ یہاں بھی دِیے ہوئے قضیے کی شکل بدل گئی ہے لیکن اس کا مفہوم بالکل وہی رہا ہے۔
مثالیں
دیا ہوا قضیہ: ١. کوئی س، پ نہیں (ع)
معدول: تمام س، غیر پ ہے (ا)
دیا ہوا قضیہ: ٢. کوئی کوّا سفید نہیں (ع)
معدول: تمام کوّے غیر سفید ہیں (ا)
دیا ہوا قضیہ: ٣. کوئی پھول سُرخ نہیں (ع)
معدول: تمام پھول غیرسُرخ ہیں (ا)
دیا ہوا قضیہ: ٤. کوئی انگریز کاہِل نہیں (ع)
معدول: تمام انگریز غیر کاہِل ہیں (ا)
دیا ہوا قضیہ: ٥. کوئی پتھر جاندار نہیں (ع)
معدول: تمام پتھر غیر جاندار ہیں (ا)
چنانچہ ع کا عدل ا ہے۔
یاد رہے کہ "تمام س، غیر پ پے" قضیۂ سَالِبَہ نہیں۔ یہاں نفی کی علامت (یعنی "غیر") نسبتِ حکمیہ کے ساتھ نہیں ہے بلکہ محمول کے ساتھ ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ایک قضیہ اس صورت میں سَالِبَہ ہوتا ہے جب کہ نفی کی علامت نسبتِ حکمیہ کے ساتھ ہو۔ موضوع اور محمول کے نفی ہونے کی وجہ سے کوئی قضیہ سالبہ نہیں ہوتا۔ "س، پ نہیں" اور "س، غیر پ ہے" دو مختلف قضیے ہیں۔ پہلا قضیہ سَالِبَہ ہے اور دوسرا مُوْجِبَہ۔
ی کا عدل:۔ ی جُزئیہ مُوْجِبَہ ہے۔ اس کا عدل جُزئیہِ سَالِبَہ (یعنی و) ہوگا۔ چنانچہ "کُچھ س، پ ہے" کا عدل "کُچھ س، غیر پ نہیں" ہوگا۔ "کُچھ پھول سُرخ ہیں" کا عدل "کُچھ پھول غیر سُرخ نہیں" ہوگا۔
مثالیں
دیا ہوا قضیہ: ١. کُچھ س، پ ہے (ی)
معدول: کُچھ س، غیر پ نہیں (و)
دیا ہوا قضیہ: ٢. کُچھ کتابیں دلچسپ ہیں (ی)
معدول: کُچھ کتابیں غیردلچسپ نہیں (و)
دیا ہوا قضیہ: ٣. کُچھ آدمی صالح ہیں (ی)
معدول: کُچھ آدمی غیر صالح نہیں (و)
دیا ہوا قضیہ: ٤. کُچھ کُتّے سفید ہیں (ی)
معدول: کُچھ کُتّے غیرسفید نہیں (و)
دیا ہوا قضیہ: ٥. کُچھ افسر دیانتدار ہیں (ی)
معدول: کُچھ افسر غیر دیانتدار نہیں (و)
چنانچہ ی کا عدل و ہے۔
و کا عدل:۔ و جُزئیہ سَالِبَہ ہے۔ اس کا عدل جُزئیہِ مُوْجِبَہ (یعنی ی) ہوگا۔ چنانچہ "کچھ س، پ نہیں" کا عدل "کچھ س، غیر پ ہے" ہوگا۔ "کُچھ پھُول سُرخ نہیں" کا عدل "کُچھ پھُول غیر سُرخ ہیں" ہوگا۔
مثالیں
دیا ہوا قضیہ: ١. کچھ س، پ نہیں (و)
معدول: کُچھ س، غیر پ ہیں (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٢. کُچھ آم تُرش نہیں (و)
معدول: کُچھ آم غیر ترش ہیں (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٣. کُچھ انسان ہِندوستانی نہیں (و)
معدول: کُچھ انسان غیر ہندوستانی ہیں (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٤. کُچھ باتیں درست نہیں (و)
معدول: کُچھ باتیں غیر درست ہیں (ی)
دیا ہوا قضیہ: ٥. کُچھ جواب صحیح نہیں (و)
معدول: کُچھ جواب غیر صحیح ہیں (ی)
چنانچہ و کا عدل ی ہے۔
خُلاصہ:۔ ا کا عدل ع ہوتا ہے۔
ع کا عدل ا ہوتا ہے۔
ی کا عدل و ہوتا ہے۔
و کا عدل ی ہوتا ہے۔
نقشۂ عَدَل
Table of Obversion
پ = غیر پ
دیا ہوا قضیہ: "تمام س، پ ہے" (س ا پ)
عدل: "کوئی س، غیر پ نہیں" (س ع پ)
دیا ہوا قضیہ: "کوئی س، پ نہیں" (س ع پ)
عدل: "تمام س، غیر پ ہیں" (س ا پ)
دیا ہوا قضیہ: "کُچھ س، پ ہیں" (س ی پ)
عدل: "کُچھ س، غیر پ نہیں" (س و پ)
دیا ہوا قضیہ: "کُچھ س، پ نہیں" (س و پ)
عدل: "کُچھ س، غیر پ ہیں" (س ی پ)
نوٹ:۔ یاد رہے کہ معدول میں ہمیں دِیے ہوئے قضیے کے محمول کا نقیض لینا ہوتا ہے نہ کہ ضِدّ مثلًا مُسلم کا نقیض غیرمُسلم ہے ہِندؤ نہیں۔ "مُسلم" اور "ہِندؤ" ایک دوسرے کی ضِدّ ہیں نقیض نہیں۔
غَلَط عَدَل:۔ عدل کے سلسلے میں مُغالطہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ قواعدِ عدل کی خلاف ورزی کی جائے۔ مثلًا "تمام انسان فانی ہیں" اس لئے "کُچھ انسان فانی ہیں"۔
حل شُدہ مثالیں
سُوال مندرجہ ذیل قضیوں کے عکس اور عدل بتاؤ۔
١. کُچھ آم تُرش نہیں۔
عکس؛ چونکہ یہ قضیہ و ہے اس لیے اس کا عکس نہیں ہوسکتا۔عدل؛ کُچھ آم غیر تُرش ہیں۔
٢. تمام گھوڑے چوپائے ہیں۔
عکس؛ کُچھ چوپائے گھوڑے ہیں۔
عدل؛ کوئی گھوڑا غیر چوپایہ نہیں۔
٣. کوئی نیک آدمی بددیانت نہیں۔
عکس؛ کوئی بددیانت نیک آدمی نہیں۔
عدل؛ تمام نیک آدمی دیانتدار ہیں۔
٤. خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کوئی نصب العین رکھتے ہیں۔
اس کی منطقی شکل یہ ہے "تمام نصب العین رکھنے والے لوگ خوش قسمت ہیں"۔
عکس؛ کُچھ خوش قسمت لوگ نصب العین رکھنے والے لوگ ہیں۔ عدل؛ کوئی نصب العین رکھنے والا غیرخوش قسمت نہیں۔
٥. آدمی عمومًا جھوٹ بولتے ہیں۔
عکس؛ اس کی منطقی شکل یہ ہے۔
کُچھ آدمی جھوٹ بولنے والے ہیں۔
عدل؛ کُچھ آدمی نہ جھوٹ بولنے والے نہیں۔
٦. تمام لڑکے ٹوپیاں نہیں پہنتے۔
اس کی منطقی شکل یہ ہے۔
کُچھ لڑکے ٹوپیاں پہننے والے نہیں۔
عکس؛ و کا عکس نہیں ہوتا۔
عدل؛ کُچھ لڑکے نہ ٹوپیاں پہننے والے ہیں۔
٧. تمام پاکستانی ایشیائی ہیں۔
عکس؛ کُچھ ایشیائی پاکستانی ہیں۔
عدل؛ کوئی پاکستانی غیر ایشیائی نہیں۔
٨. بِن بُلائے مہمان کم ہی پسند کیے جاتے ہیں
اس کی منطقی شکل یہ ہے۔
کُچھ بِن بُلائے مہمان پسندیدہ نہیں۔
عکس؛ و کا عکس ممکن نہیں۔
عدل؛ کُچھ بن بلائے مہمان غیر پسندیدہ ہیں۔
٩. بغیر کام کے اندر آنا منع ہے۔
اس کی منطقی شکل یہ ہے
کوئی بغیر کام والا اندر آنے والا نہیں۔
عکس؛ کوئی اندر آنے والا بغیر کام والا نہیں۔
عدل؛ تمام بغیر کام والے نہ اندر آنے والے ہیں۔
١٠. چوری کرنا جُرم ہے۔
اس کی منطقی شکل یہ ہے۔
تمام چوریاں جرائم ہیں۔
عکس؛ کُچھ جرائم چوریاں ہیں۔
عدل؛ کوئی چوری غیر جُرم نہیں۔
سُوال؛ مندرجہ ذیل نتائج کو دیکھو اور بتاؤ کہ وہ صحیح ہیں یا غَلَط
١. تمام تعلیم یافتہ لوگ عقلمند ہیں۔ لہٰذا تمام عقلمند لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔
جواب؛ غَلَط عکس! دِیے ہوئے قضیے میں محمول (عقلمند) جامع نہیں تھا لیکن نتیجہ میں یہ حدّ جامع ہوگئی ہے۔ صحیح عکس یہ ہوگا "کُچھ عقلمند تعلیم یافتہ ہیں"۔
٢. تمام کُتّے سیاہ نہیں۔ لہٰذا کُچھ سیاہ چیزیں کُتے نہیں
جواب؛ غلط عکس! اس کی منطقی شکل یہ ہے کُچھ کُتّے سیاہ نہیں۔ یہ قضیہ و ہے۔ اس کا عکس ممکن نہیں۔ دئیے ہوئے قضیے کا موضوع (کُتّے) غیر جامع ہے۔ لیکن نتیجے میں یہ جامع ہے۔
٣. تمام نیک لوگ خوش ہیں۔ لہٰذا تمام وہ لوگ جو خوش ہیں نیک ہیں۔
جواب؛ غلط عکس! اس کا صحیح عکس یہ ہوگا، کچھ وہ لوگ جو خوش ہیں نیک ہیں۔
٤. کُچھ محنتی طلبا کامیاب نہیں۔ لہٰذا کُچھ کامیاب ہونے والے محنتی طلبا نہیں۔
جواب؛ غَلَط عکس! یہاں و کا عکس حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
٥. تمام انسان فانی ہیں لہٰذا تمام فانی چیزیں انسان ہیں۔
جواب؛ غلط عکس! صحیح عکس یہ ہوگا "کُچھ فانی چیزیں انسان ہیں"۔
٦. تمام کوّے سیاہ ہیں لہٰذا کُچھ کوّے غیر سیاہ ہیں۔
جواب؛ غَلَط عَدَل! صحیح عدل یہ ہوگا۔ کوئی کوّا غیر سیاہ نہیں۔
سوال؛ مندرجہ ذیل قضیوں سے جتنے نتائج ممکن ہوں اخذ کرو
١. تمام امراض مہلک نہیں۔
اس کی منطقی شکل یہ ہے۔
کُچھ امراض مُہلک نہیں۔ (و)
تحکیم؛ کوئی مرض مہلک نہیں۔ (ع)
تناقض؛ تمام امراض مُہلک ہیں۔ (ا)
تضادِ تحتانی؛ کُچھ امراض مُہلک ہیں۔ (ی)
عکس؛ ناممکن ہے کیونکہ یہ قضیۂ و ہے۔
عدل؛ کُچھ امراض غیر مُہلک ہیں۔ (ی)
٢. تمام کچّے پھل مُضر ہیں۔
یہ قضیہ ا ہے۔
تحکیم؛ کُچھ کچّے پھل مُضر ہیں (ی)
تناقض؛ کُچھ کچّے پھل مُضر نہیں۔ (و)
تضاد؛ کوئی کچّا پھل مُضر نہیں (ع)
عکس؛ کُچھ مُضر چیزیں کچے پھل ہیں۔ (ی)
عدل؛ کوئی کچّا پھل غیر مُضر نہیں۔ (ع)
٣. پھُول سُرخ ہیں۔
اس کی منطقی شکل یہ ہے۔
کُچھ پھول سُرخ ہیں۔ (ی)
تحکیم؛ تمام پھُول سُرخ ہیں۔ (ا)
تناقض؛ کوئی پھُول سُرخ نہیں۔ (ع)
تضادِ تحتانی؛ کُچھ پھُول سُرخ نہیں۔ (و)
عکس؛ کُچھ سُرخ چیزیں پھُول ہیں۔ (ی)
عدل؛ کُچھ پھُول غیر سُرخ نہیں۔ (و)
٤. بچّے بالغ نہیں۔
اس کی منطقی شکل یہ ہے۔
کوئی بچّہ بالغ نہیں۔ (ع)
تحکیم؛ کُچھ بچّے بالغ نہیں۔ (و)
تناقض؛ کُچھ بچے بالغ ہیں۔ (ی)
تضاد؛ تمام بچّے بالغ ہیں۔ (ا)
عکس؛ کوئی بچّہ بالغ نہیں (ع)
عدل؛ تمام بچّے غیر بالغ ہیں (ا)
نوٹ؛ کسی دِیے ہوئے قضیے سے نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ دیا ہوا قضیہ منطقی شکل میں ہے یا نہیں۔ اگر نہ ہو تو پہلے اُسے منطقی شکل میں ڈھالنا چاہیے اور پھر اُس سے نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔
صفحات
فقط
سیالکوٹ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں