استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
بارہواں باب
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
Immediate Inference:
Relation or Opposition of Proposition
قضیوں کے باہمی تعلقات یا اختلافات کی قسمیں:۔
Various Forms of Realtions and Oppositions Between Propositions
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطق میں چار بُنیادی قضیوں یعنی ا، ع، ی، و کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ قضیے کیفیّت کے لحاظ سے یا کمیّت کے لحاظ سے یا کیفیّت یا کمیّت دونوں کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں۔ اختلافِ قضایا سے مُراد ہے دو قضیوں کا (جن کے موضوع اور محمول ایک ہی ہوں) آپس میں کیفیّت یا کمیّت کے اعتبار سے دونوں کا اختلاف ہو۔ مثلًا
ا۔ تمام س، پ ہے ← تمام میز گول ہیں۔
ع۔ کوئی س، پ نہیں ← کوئی میز گول نہیں۔
ی۔ کچھ س، پ ہے ←کُچھ میز گول ہیں۔
و۔ کچھ س، پ نہیں ← کُچھ میز گول نہیں۔
ان قضیوں میں موضوع اور محمول ایک ہی ہیں۔ لیکن یہ سب قضیے ایک دوسرے سے کیفیّت میں یا کمیّت میں یا کیفیّت اور کمیّت دونوں میں مختلف ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات یا تعلقات کو ایک مربع سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جسے مربعِ اختلاف یا مربعِ نسبتی کہتے ہیں۔
استنتاجِ بدیہی نسبتی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا میں کسی ایک قضیے کے سچ یا جھوٹ ہونے سے ہمیں دوسرے قضیوں کے سچ یا جھُوٹ یا مُشتبہ ہونے کے متعلق دریافت کرنا ہوتا ہے۔ یعنی ہمیں یہ دریافت کرنا ہوتا ہے کہ اگر ایک قضیہ سچ یا جھوٹ ہو تو باقی قضیوں کے سچ یا جھوٹ یا مشتبہ (یعنی نامعلوم) ہم کیا نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔
جیسا کہ اوپر دئیے ہوئے مربعِ نسبتی سے ظاہر ہے۔ ا، ع، ی، اور و میں چار قسم کے باہمی اختلافات یا تعلقات ہیں۔
١. ا اور ی میں ایک طرف اور ع اور و میں دوسری طرف تحکیم کا تعلق یا اختلاف ہے۔
٢. ا اور و میں ایک طرف اور ع اور ی میں دوسری طرف تناقض کا تعلق یا اختلاف ہے۔
٣. ا اور ع میں تضاد کا تعلق یا اختلاف ہے۔
٤. ی اور و میں تضادِ تحتانی کا تعلق یا اختلاف ہے۔
اب ہم ان مختلف تعلقات یا نسبتوں کا تفصیل سے مطالعہ کرتے ہیں۔
١. تحکیم:۔ تحکیم کا تعلق یا اختلاف ان دو قضیوں میں ہوتا ہے جن کے موضوع اور محمول ایک ہی ہوں اور جن میں کیفیّت کا اختلاف نہ ہو بلکہ کمیّت کا اختلاف ہو۔ بالفاظِ دیگر تحکیم کا رشتہ ایک کُلیّہ قضیے اور اس کی اپنی کیفیّت والے جزئیہ قضیے میں ہوتا ہے۔ چنانچہ ا (تمام س، پ ہے) اور ی (کُچھ س، پ ہے) میں نسبتِ تحکیم پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ع (کوئی س، پ نہیں) اور و (کُچھ س، پ نہیں) میں بھی تحکیم کی نسبت ہے۔ "تمام انسان فانی ہیں" (ا) اور "کُچھ انسان فانی نہیں" (ی) دونوں قضیوں میں تحکیم کا تعلق ہے۔ اسی طرح "کوئی انسان کامل نہیں" (ع) اور "کُچھ انسان کامِل نہیں" (و) ان دو قضیوں میں بھی تحکیم کا تعلق ہے۔
قضیوں کے ایسے جوڑوں میں جن کا آپس میں تحکیم کا تعلق ہو قضیۂ کُلیّہ کو محکم لہٗ اور قضیۂ جزئیہ کو محکم بہ یا محکوم کہتے ہیں چنانچہ ا، ی کا محکم لہٗ ہے اور ی، ا کا محکوم۔ اسی طرح ع، و کا محکم لہٗ ہے اور و، ع کا محکوم۔ تحکیم کے مندرجہ ذیل قواعد ہیں۔
١. اگر کُلیّہ سچ ہو تو، جُزئیہ بھی سچ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کُلیّہ جھوٹ ہو تو جُزئیہ مُشتبہ یا نامعلوم ہوتا ہے۔
٢. اگر جُزئیہ سچ ہو تو کُلیّہ مُشتبہ یا نامعلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر جُزئیہ جھوٹ ہو تو کُلیّہ بھی جھوٹ ہوتا ہے۔
١. اگر کُلیّہ سچ ہو تو، جُزئیہ بھی سچ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کُلیّہ جھوٹ ہو تو جُزئیہ مُشتبہ (یعنی نامعلوم) ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کُلیّہ کی سچائی سے جُزئیہ کی سچائی اخذ کی جاسکتی ہے۔ لیکن کُلیّہ کے جھوٹ سے جُزئیہ کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اگر ا (تمام انسان فانی ہیں) سچ ہو تو ی (یعنی کُچھ انسان فانی ہیں) بھی لازمی طور پر سچ ہوگا۔ اور اسی طرح ع (کوئی انسان کامل نہیں) سچ ہو تو (کُچھ انسان کامل نہیں) بھی لازمی طور پر سچ ہوگا۔ لیکن اگر ا (تمام انسان ڈاکٹر ہیں) جھوٹ ہو تو ی (کُچھ انسان ڈاکٹر ہیں) مُشتبہ یا نامعلوم ہوگا۔ یعنی ممکن ہے کہ یہ سچ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جھوٹ ہو اسی طرح ع (کوئی انسان ڈاکٹر نہیں) جھوٹ ہو تو (کُچھ انسان ڈاکٹر نہیں) مشتبہ یا نامعلوم ہوگا۔
یہ سمجھنا بالکل آسان ہے کہ اگر کُلیّہ سچ ہو تو جُزئیہ (جو کہ اس کا حصّہ ہوتا ہے) لازمی طور پر سچ ہوگا۔ لیکن اگر کُلیّہ جھوٹ ہو تو ضروری نہیں جُزئیہ (یعنی اس کا حصّہ) جھوٹ ہو۔ وہ سچ بھی ہوسکتا ہے اور جھوٹ بھی۔ یعنی مُشتبہ ہوتا ہے۔
٢. اگر جُزئیہ سچ ہو تو کُلیّہ مُشتبہ یا نامعلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر جُزئیہ جھوٹ ہو تو کُلیّہ بھی جھوٹ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جُزئیہ کی سچائی سے کُلیّہ کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن جُزئیہ کے جھوٹ ہونے سے کُلیّہ کا جھوٹ لازمی طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اگر ی (کچھ انسان عاقل ہیں) سچ ہو تو ا (تمام انسان عاقل ہیں) مشتبہ ہوگا۔ اسی طرح اگر و (کچھ انسان عاقل نہیں) سچ ہو تو ع (کوئی انسان عاقل نہیں) مشتبہ ہوگا۔ لیکن اگر ی (کچھ مرد عورتیں ہیں) جھوٹ ہو تو ا (تمام مرد عورتیں ہیں) لازمی طور پر جھوٹ ہوگا۔ اسی طرح اگر و (کُچھ مُثلثیں ∆ تین اضلاع والی نہیں) جھوٹ ہو تو ع (کوئی مُثلث ∆ تین اضلاع والی شکل نہیں) لازمی طور پر جھوٹ ہوگا۔
یہ سمجھنا بالکل آسان ہے کہ اگر کوئی بات "کُچھ" کے متعلق سچ ہو تو ضروری نہیں کہ وہ "سب" کے متعلق بھی سچ ہو۔ یعنی اگر جُزئیہ سچ ہو تو ضروری نہیں کہ کُلیّہ بھی سچ ہو۔ ممکن ہے یہ جھوٹ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سچ ہو یعنی یہ مُشتبہ ہوگا۔ لیکن اگر کوئی بات "کُچھ" کے متعلق جھوٹ ہو تو "سب" کے متعلق تو وہ اور بھی جھوٹ ہوگی۔ یعنی اگر جُزئیہ جھوٹ ہو تو کُلیّہ بھی لازمی طور پر جھوٹ ہوگا۔
المختصر کُلیّہ کے صدق سے جُزئیہ کا صدق لازم آتا ہے۔ لیکن کُلیہ کے کذب سے جُزئیہ کا صدق یا کذب لازم نہیں آتا۔ اس کے برعکس جُزئیہ کے کذب سے کُلیّہ کا کذب لازم آتا ہے۔ لیکن جُزئیہ کے صدق سے کُلیّہ کا صدق یا کذب لازم نہیں آتا۔ یعنی:۔
اگر ا سچ ہو تو ی بھی سچ ہوگا۔
اگر ا جھوٹ ہو تو ی مشتبہ ہوگا۔
اگر ع سچ ہو تو و بھی سچ ہوگا۔
اگر ع جھوٹ ہو تو و مشتبہ ہوگا۔
اگر ی سچ ہو تو ا مشتبہ ہوگا۔
اگر ی جھوٹ ہو تو ا بھی جھوٹ ہوگا۔
اگر و سچ ہو تو ع مشتبہ ہوگا۔
اگر و جھوٹ ہو تو ع بھی جھوٹ ہوگا۔
٢. تناقض:۔ تناقض کا تعلق یا اختلاف ان دو قضیوں میں ہوتا ہے جو ایک ہی موضوع اور محمول رکھتے ہوئے آپس میں کیفیّت اور کمیّت دونوں کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ بالفاظِ دیگر تناقض کا تعلق ایک کُلیّہ اور ایک مختلف کیفیّت رکھنے والے جُزئیہ کے درمیان ہوتا ہے۔ چنانچہ ا (تمام س، پ ہے) اور و (کچھ س، پ نہیں) اور اسی طرح ع (کوئی س، پ نہیں) اور ی (کچھ س، پ ہیں) میں تناقض کی نسبت پائی جاتی ہے۔ "تمام آدمی ڈاکٹر ہیں" (ا) اور "کُچھ آدمی ڈاکٹر نہیں" (و) یہ دو قضیے اور اسی طرح "کوئی آدمی ڈاکٹر نہیں" اور "کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں" یہ دو قضیے آپس میں تناقض کا تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے مختلف جوڑوں میں دو قضیے نقیضین کہلاتے ہیں۔ چنانچہ ا اور و ایک دوسرے کے نقیض ہیں۔ اسی طرح ع اور ی ایک دوسرے نقیض ہیں۔
نقیضین کے متعلق ہم دوسرے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ وہ آپس میں مانع اور جامع ہوتے ہیں، لہٰذا دونوں ایک ہی وقت میں سچ نہیں ہوسکتے۔ اور چونکہ وہ جامع ہوتے ہیں، لہٰذا وہ دونوں ایک ہی وقت میں جھوٹ بھی نہیں ہوسکتے۔ اُصُولِ مانعِ نقیضین کی رُو سے وہ دونوں بیک وقت سچ نہیں ہوسکتے۔ اُن میں سے ایک ضرور جھُوٹ ہوتا ہے۔ اور اُصُولِ خارِجِ الاوسط کی رُو سے وہ دونوں بیک وقت جھوٹ بھی نہیں ہوسکتے۔ اُن میں سے ایک ضرور سچ ہوتا ہے۔ چنانچہ نقیضین میں سے ایک لازمی طور پر سچ اور دوسرا لازمی طور پر جھوٹ ہوتا ہے۔ لہٰذا تناقض کے متعلق مندرجہ ذیل قاعدہ ہے۔
اگر ایک سچ ہو تو دوسرا لازمی طور پر جھوٹ ہوگا اور اگر ایک جھوٹ ہو تو دوسرا لازمی طور پر سچ ہوگا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کے سچ ہونے سے دوسرے کا جھوٹ ہونا لازمی طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح ایک کے جھوٹ ہونے سے دوسرے کا سچ ہونا لازمی طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اگر ا (تمام انسان فانی ہیں)، تو و (کُچھ انسان فانی نہیں) جھوٹ ہوگا۔ اور اگر ا (تمام آدمی ڈاکٹر ہیں) جھوٹ ہو تو و (کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں) سچ ہوگا۔ اسی طرح اگر و (کُچھ آدمی ڈاکٹر نہیں) سچ ہو تو ا (تمام آدمی ڈاکٹر ہیں) جھُوٹ ہوگا۔ اور اگر و (کُچھ گدھے جانور نہیں) جھوٹ ہو تو ا (تمام گدھے جانور ہیں) سچ ہوگا۔
اسی طرح اگر ع (کوئی مرد عورت نہیں) سچ ہو تو ی (کُچھ مرد عورتیں ہیں) جھُوٹ ہوگا۔ اور اگر ع (کوئی آدمی ڈاکٹر نہیں) جھوٹ ہو تو ی (کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں) سچ ہوگا۔ اسی طرح اگر ی (کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں) سچ ہو تو ع (کوئی آدمی ڈاکٹر نہیں) جھوٹ ہوگا۔ اور اگر ی (کُچھ مرد عورتیں ہیں) جھُوٹ ہو تو ع (کوئی مرد عورت نہیں) سچ ہوگا۔
چنانچہ تناقض میں ایک قضیہ کے صدق سے دوسرے کا کذب لازِم آتا ہے۔ اور ایک قضیے کے کذب سے دوسرے کا صدق لازِم آتا ہے۔ دو متناقض قضیوں کا باہمی اختلاف یا تعلق اتنا واضح اور کامل ہوتا ہے کہ اگر ایک کا سچ یا جھوٹ ہونا معلوم ہو تو دوسرے کے سچ اور جھوٹ ہونے کے متعلق بھی ہمیں قطعی طور پر علم ہوتا ہے۔ قضیوں کے باہمی اختلافات میں سے تناقض کا اختلاف سب سے کامِل اختلاف ہے۔
اگر ا سچ ہو تو و جھوٹ ہوگا۔
اگر ا جھوٹ ہو تو و سچ ہوگا۔
اگر و سچ ہو تو ا جھوٹ ہوگا۔
اگر و جھوٹ ہو تو ا سچ ہوگا۔
اگر ع سچ ہو تو ی جھوٹ ہوگا۔
اگر ع جھوٹ ہو تو ی سچ ہوگا۔
اگر ی سچ ہو تو ع جھوٹ ہوگا۔
اگر ی جھوٹ ہو تو ع سچ ہوگا۔
٣. تضاد:۔ تضاد کا تعلق یا اختلاف اُن دو کُلِیّہ قضیوں میں ہوتا ہے جو ایک ہی موضوع اور محمول رکھتے ہوئے آپس میں کیفیّت کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ بالفاظِ دیگر تضاد کا تعلق مختلف کیفیّات رکھنے والے دو کُلیّہ قضیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ چنانچہ ا (تمام س، پ ہیں) اور ع (کوئی س، پ نہیں) میں تضاد کی نسبت پائی جاتی ہے۔ تمام آدمی ڈاکٹر ہیں اور کوئی آدمی ڈاکٹر نہیں۔ یہ دو قضیے آپس میں تضاد کا تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے مختلف جوڑوں میں دونوں قضیے ضِدیّن کہلاتے ہیں۔ چنانچہ ا اور ع ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
ضِدیّن کے متعلق ہم دوسرے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ وہ آپس میں مانع تو ہوتے ہیں مگر جامع نہیں ہوتے۔ اُن کے درمیان تیسری صورت ممکن ہوتی ہے۔ چونکہ ضِدیّن یعنی دو متضاد قضیے آپس میں مانع ہوتے ہیں، لہٰذا وہ دونوں ایک ہی وقت میں سچ نہیں ہوسکتے۔ اور چونکہ ان کے درمیان تیسری صورت ممکن ہوتی ہے لہٰذا وہ دونوں جھوٹ ہوسکتے ہیں۔ اُن پر اُصُولِ مانعِ نقیضین کا اطلاق تو ہوتا ہے، لہٰذا ان کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اُن میں سے ایک سچ ہو تو دوسرا جھوٹ ہوگا۔ لیکن چونکہ اُن پر اُصُولِ خارج الاوسط کا طلاق نہیں ہوتا، لہٰذا ہم ان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر اُن میں سے ایک جھوٹ ہو تو دوسرا سچ ہوگا (کیونکہ وہ دونوں جھوٹ ہوسکتے ہیں)۔ چنانچہ تضاد کے متعلق مندرجہ ذیل قاعدہ ہے:۔
اگر ایک سچ ہو تو دوسرا جھوٹ ہوگا اور اگر ایک جھوٹ ہو تو دوسرا مُشتبہ ہوگا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کے سچ ہونے سے دوسرے کا جھوٹ ہونا لازمی طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک کے جھوٹ ہونے سے دوسرے کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ چنانچہ اگر ا (تمام انسان فانی ہیں) سچ ہو تو ع (کوئی انسان فانی نہیں) جھوٹ ہوگا۔ لیکن اگر ا (تمام آدمی ڈاکٹر ہیں) جھوٹ ہو تو ع (کوئی آدمی ڈاکٹر نہیں) مُشتبہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ع (کوئی مرد عورت نہیں) سچ ہو تو ا (تمام مرد عورتیں ہیں) جھوٹ ہوگا۔ لیکن اگر ع (کوئی آدمی ڈاکٹر نہیں) جھوٹ ہو تو ا (تمام آدمی ڈاکٹر ہیں) مشتبہ ہوگا۔
پس تضاد میں ایک قضیے کے صِدق سے دوسرے کا کذب لازم آتا ہے۔ لیکن ایک قضیے کے کذب سے دوسرے قضیے کا صِدق یا کِذب لازِم نہیں آتا۔ لہٰذا؛
اگر ا سچ ہو تو ع جھوٹ ہوگا۔
اگر ا جھوٹ ہو تو ع مُشتبہ ہوگا۔
اگر ع سچ ہو تو ا جھوٹ ہوگا۔
اگر ع جھوٹ ہو تو ا مشتبہ ہوگا۔
مندرجہ بالا نتائج کو ہم ایک اور طریقہ سے بھی ثابت کرسکتے ہیں۔
١. اگر ا سچ ہو تو و ناقص کی رُو سے جھوٹ ہوگا۔ اور اگر و جھوٹ ہو تو ع تحکیم کی رُو سے جھوٹ ہوگا لہٰذا اگر ا سچ ہو تو ع جھوٹ ہوگا۔
٢. اگر ا جھوٹ ہو تو و تناقص کی رُو سے سچ ہوگا۔ اور اگر و سچ ہو تو ع تحکیم کی رُو سے مُشتبہ ہوگا۔ لہٰذا اگر ا جھوٹ ہو تو ع مُشتبہ ہوگا۔
٣. اگر ع سچ ہو تو ی تناقض کی رُو سے جھوٹ ہوگا اور اگر ی جھوٹ ہو تو ا تحکیم کی رُو سے جھُوٹ ہوگا۔ لہٰذا اگر ع سچ ہو تو ا جھوٹ ہوگا۔
٤. اگر ع جھوٹ ہو تو ی تناقُض کی رُو سے سچ ہوگا اور اگر ی سچ ہو تو ا تحکیم کی رُو سے مشتبہ ہوگا۔ لہٰذا اگر ع جھوٹ ہو تو ا مُشتبہ ہوگا۔
نُوٹ:۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ دو مُتضاد قضیے (یعنی ضدیّن) ایک ہی وقت میں جھوٹ ہوسکتے ہیں۔ مثلًا "تمام انسان نیک ہیں" اور "کوئی انسان نیک نہیں" یہ دونوں قضیے جھوٹ ہوسکتے ہیں اس بات سے ہمیں ایک سبق حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کُلیّہ قضیے کو اس کی ضد (یعنی ایک کُلیّہ قضیے) سے جھوٹ ثابت نہیں کرنا چاہیے بلکہ اُس کے نقیض (یعنی ایک جُزئیہ قضیے) سے جھوٹ ثابت کرنا چاہیے۔ مثلًا اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ "تمام عورتیں ذہین ہوتی ہیں" تو ہمیں اس دعوے کو جھوٹ ثابت کرنے کے لئے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ "کوئی عورت ذہین نہیں ہوتی" (جو کہ ہمارے حریف کے دعوے کی ضد ہے اور جو ہمارے حریف کے دعوے کی طرح جھوٹ ہوسکتی ہے) بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ "کُچھ عورتیں ذہین نہیں ہوتیں" (جو کہ ہمارے حریف کے دعوے کا نقیض ہے)۔ اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ "کوئی عورت ذہین نہیں ہوتی" تو ہمیں جواب میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ "تمام عورتیں ذہین ہوتی ہیں" بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ "کُچھ عورتیں ذہین ہوتی ہیں"۔ بحث میں اکثر یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ ہم ایک کُلیّہ کے جواب میں ایک اُلٹ کُلیّہ پیش کردیتے ہیں۔ ایسا کرنا ایک غلطی ہے کیونکہ اگر ہمارے حریف کا کُلیّہ جھوٹ ہے تو ہمارا کُلیّہ بھی جھوٹ ہوسکتا ہے۔ ایک کُلیّے کے جواب میں ہمیں ایک جُزئیہ پیش کرنا چاہیے۔ مثلًا اگر کوئی یہ کہے کہ "کوئی عورت ذہین نہیں" تو ہمیں کہنا چاہیے کہ اس کُلیّہ کا نقیض جو کہ ایک جُزئیہ ہے پیش کریں۔ یعنی یہ کہیں کہ "کُچھ عورتیں ذہین ہوتی ہیں" اگر ہم جواب دینے میں ذہین عورت کی صرف ایک مثال پیش کردیں تو بھی ہمارے حریف کا کُلیّہ (کہ کوئی عورت ذہین نہیں ہوتی) جھوٹ ثابت ہوجائے گی۔
دوسرا سبق جو اس بات سے ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک کُلیّہ کو جھوٹ ثابت کرنا آسان ہوتا ہے لیکن ایک جُزئیہ کو جھوٹ ثابت کرنا نسبتًا مشکل ہوتا ہے۔ ایک کُلیّہ صرف ایک اُلٹ مثال (یعنی جُزئیہ) سے غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک جُزئیہ صرف ايک کُلیّہ سے ہی غلط ثابت ہوسکتا ہے اور ایک جُزئیہ کو سچ ثابت کرنا آسان ہوتا ہے لیکن ایک کُلیّہ کو سچ ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا عقلمند انسان اپنے دعوؤں کو کُلیّہ قضیوں میں پیش کرنے کی بجائے جُزئیہ قضیوں میں پیش کرتے ہیں۔
٤. تضادِ تحتانی؛ تحتانی کا تعلق یا اختلاف اُن دو جُزئیہ قضیوں میں ہوتا ہے جو ایک ہی موضوع اور محمول رکھتے ہوئے آپس میں کیفیّات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ بالفاظِ دیگر تضادِ تحتانی کا تعلق مختلف کیفیّت رکھنے والے دو جُزئیہ قضیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ چنانچہ ی (کُچھ س، پ ہے) اور و (کُچھ س، پ نہیں) میں تضادِ تحتانی کی نسبت پائی جاتی ہے۔ کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں اور کُچھ آدمی ڈاکٹر نہیں، یہ قضیے آپس میں تضادِ تحتانی کا تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے مختلف جوڑوں میں دونوں قضیے ضدیّن تحتانی کہلاتے ہیں۔ چنانچہ ی اور و ایک دوسرے کی ضدِّ تحتانی ہیں۔
تضادِ تحتانی کا اختلاف تضاد کے اختلاف سے بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔ تضاد کے سلسلے میں ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ضدیّن آپس میں مانع ہونے کی وجہ سے ایک ہی وقت میں سچ نہیں ہوسکتے اور چونکہ ان کے درمیان تیسری صورت ممکن ہوتی ہے، لہٰذا وہ دونوں جھوٹ ہوسکتے ہیں۔ اُن پر اُصُول مانعِ نقیضین کا اطلاق تو ہوتا ہے لیکن اُصُول خارِج الاوسط کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس تضادِ تحتانی میں ضدیّنِ تحتانی آپس میں مانع نہیں ہوتے۔ لہٰذا وہ دونوں بیک وقت سچ ہوسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ جامع ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان تیسری صورت ممکن نہیں ہوتی، لہٰذا وہ دونوں جھوٹ نہیں ہوسکتے۔ اُن پر اُصُولِ مانعِ نقیضین کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن اُصُولِ خارِج الاوسط کا اطلاق ہوتا ہے۔ "کچھ س، پ ہے" (کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں) اور "کُچھ س، پ نہیں" (کُچھ آدمی ڈاکٹر نہیں) یہ دونوں قضیے ایک ہی وقت میں سچ ہوسکتے ہیں۔ یہ آپس میں مانع نہیں۔ اور چونکہ جامع ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان کوئی تیسری صورت ممکن نہیں۔ لہٰذا یہ دونوں قضیے جھوٹ نہیں ہوسکتے۔ چونکہ اُصُولِ مانعِ نقیضین کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا، لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر ان میں سے ایک سچ ہو تو دوسرا جھوٹ ہوگا (کیونکہ دونوں سچ ہوسکتے ہیں) لیکن چونکہ اُصُول خارج الاوسط کا اطلاق ان پر ہوتا ہے، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک جھوٹ ہو تو دوسرا لازمی طور پر سچ ہوگا۔ چنانچہ تضادِ تحتانی کے متعلق مندرجہ ذیل قاعدہ ہے۔
اگر ایک سچ ہو تو دوسرا مُشتبہ ہوگا اور اگر ایک جھوٹ ہو تو دوسرا لازمی طور پر سچ ہوگا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کے سچ ہونے سے دوسرے کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایک کے جھوٹ ہونے سے دوسرے کا سچ ہونا لازمی طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اگر ی (کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں) سچ ہو تو و (کُچھ آدمی ڈاکٹر نہیں) مشتبہ ہوگا۔ لیکن اگر ی (کُچھ آدمی ڈاکٹر ہیں) جھوٹ ہو تو و (کُچھ آدمی ڈاکٹر نہیں) لازمی طور پر سچ ہوگا۔ اسی طرح اگر و (کُچھ آم میٹھے نہیں) سچ ہو تو ی (کُچھ آم میٹھے ہیں) مُشتبہ ہوگا۔ لیکن اگر و (کُچھ آم میٹھے نہیں) جھوٹ ہو تو ی (کُچھ آم میٹھے ہیں) لازمی طور پر سچ ہوگا۔
پس تضادِ تحتانی میں ایک قضیے کے کذِب سے دوسرے قضیے کا صِدق لازِم آتا ہے لیکن ایک قضیے کے صِدق سے دوسرے قضیے کا صِدق یا کذِب لازِم نہیں آتا لہٰذا:۔
اگر ی سچ ہو تو و مشتبہ ہوگا۔
اگر ی جھوٹ ہو تو و سچ ہوگا۔
اگر و سچ ہو تو ی مشتبہ ہوگا۔
اگر و جھوٹ ہو تو ی سچ ہوگا۔
مندرجہ بالا نتائج کو ہم ایک اور طریقے سے بھی ثابت کرسکتے ہیں۔
١. اگر ی سچ ہو تو ع تناقُض کی رُو سے جھوٹ ہوگا۔ اور اگر ع جھوٹ ہو تو و تحکیم کی رُو سے مُشتبہ ہوگا لہٰذا اگر ی سچ ہو تو و مُشتبہ ہوگا۔
٢. اگر ی جھوٹ ہو تو ع تناقُض کی رو سے سچ ہوگا۔ اور اگر ع سچ ہو تو و تحکیم کی رُو سے سچ ہوگا لہٰذا اگر ی جھوٹ ہو تو و سچ ہوگا۔
٣. اگر و سچ ہو تو ا تناقض کی رُو سے جھوٹ ہوگا۔ اور اگر ا جھوٹ ہو تو ی تحکیم کی رُو سے مُشتبہ ہوگا۔ لہٰذا اگر و سچ ہو تو ی مُشتبہ ہوگا۔
٤. اگر و جھوٹ ہو تو ا تناقض کی رُو سے سچ ہوگا۔ اور اگر ا سچ ہو تو ی تحکیم کی رُو سے سچ ہوگا۔ لہٰذا اگر و جھوٹ ہو تو ی سچ ہوگا۔
استنتاجِ نسبتی کے مختلف نتائج کا خُلاصہ؛
استنتاجِ نسبتی کی مختلف حالتوں میں جس قدر نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں انہیں ہم مندرجہ ذیل نقشے میں پیش کرتے ہیں۔
١. اگر ا سچ ہو تو، ی سچ ہوگا (تحکیم)، و جھوٹ ہوگا (تناقض)، ع جھوٹ ہوگا (تضاد)۔
٢. اگر ا جھوٹ ہو تو، ی مُشتبہ ہوگا (تحکیم)، و سچ ہوگا (تناقض)، ع مُشتبہ ہوگا (تضاد)۔
٣. اگر ع سچ ہو تو، و سچ ہوگا (تحکیم)، و سچ ہوگا (تناقض)، ع مُشتبہ ہوگا (تضاد)۔
٤. اگر ع جھوٹ ہو تو، و مُشتبہ ہوگا (تحکیم)، ی سچ ہوگا (تناقض)، ا مُشتبہ ہوگا (تضاد)۔
٥. اگر ی سچ ہو تو، ا مُشتبہ ہوگا (تحکیم)، ع جھوٹ ہوگا (تناقض)، و مُشتبہ ہوگا (تضادِ تحتانی)۔
٦. اگر ی جھوٹ ہو تو، ا جھوٹ ہوگا (تحکیم)، ع سچ ہوگا (تناقض)، و سچ ہوگا (تضادِ تحتانی)۔
٧. اگر و سچ ہو تو، ع مُشتبہ ہوگا (تحکیم)، ا جھوٹ ہوگا (تناقض)، ی مُشتبہ ہوگا (تضادِ تحتانی)۔
٨. اگر و جھوٹ ہو تو، ع جھوٹ ہوگا (تحکیم)، ا سچ ہوگا (تناقض)، ی سچ ہوگا (تضادِ تحتانی)۔
نوٹ:۔ جیسا کہ ہم اوپر کہہ چکے ہیں، تناقض کا اختلاف تمام اختلافات میں سے کامل ترین اختلاف ہے۔ اس میں اگر ہمیں ایک قضیے کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق علم ہو تو وہ دوسرے قضیے کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق بھی ہمیں علم ہوتا ہے۔ دیگر اختلافات (یعنی تحکیم، تضاد، اور تضادِ تحتانی) میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ اُن میں اگر ایک قضیے کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق ہمیں علم ہو تو بھی بعض صورتوں میں دوسرا قضیہ مشتبہ رہتا ہے۔
استنتاجِ نسبتی کا مُغالطہ؛
Fallacy of False Opposition
اگر ہم کسی دِئیے ہوئے قضیے کے سچ یا جھوٹ ہونے سے کسی اور قضیے کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق غلط نتیجہ اخذ کریں تو یہ استنتاجِ نسبتی کا مُغالطہ ہوگا۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ چونکہ "تمام کھلاڑی شرارتی ہوتے ہیں" جھوٹ ہے لہٰذا "کوئی کھلاڑی شرارتی نہیں ہوتا" سچ ہے، تو ہم استنتاجِ نسبتی کے مغالطے کے مرتکب ہوں گے۔
حل شدہ مثالیں
سُوال نمبر ۱:۔ مندرجہ ذیل قضیوں میں سے کونسے نسبتی قضیے اخذ کئے جاسکتے ہیں؟
١. "کُچھ انسان کاہِل ہیں"، ٢. "کُچھ طالبعلم محنتی نہیں"، ٣. "تمام کوّے سیاہ ہیں"، ٤. "کوئی پاکستانی امریکن نہیں"۔
جواب:۔ ١. یہ قضیۂ ی ہے۔
تحکیم:۔ تمام انسان کاہِل ہیں۔ (ا)
تناقض:۔ کوئی انسان کاہِل نہیں۔ (ع)
تضادِ تحتانی:۔ کُچھ انسان کاہِل نہیں۔ (و)
٢. یہ قضیۂ و ہے۔
تحکیم:۔ کوئی طالبعلم محنتی نہیں۔ (ع)
تناقض:۔ تمام طالبعلم محنتی ہیں۔ (ا)
تضادِ تحتانی:۔ کُچھ طالبعلم محنتی ہیں۔ (ی)
٣. یہ قضیۂ ا ہے۔
تحکیم:۔ کُچھ کوّے سیاہ ہیں (ی)
تناقض:۔ کُچھ کوّے سیاہ نہیں (و)
تضاد:۔ کوئی کوّا سیاہ نہیں (ع)
٤. یہ قضیۂ ع ہے۔
تحکیم:۔ کُچھ پاکستانی امریکن نہیں (و)
تناقض:۔ کچھ پاکستانی امریکن ہیں (ی)
تضاد:۔ تمام پاکستانی امریکن ہیں (ا)
سوال نمبر ۲:۔ مندرجہ ذیل قضیوں سے جو نتائج استنتاجِ نسبتی کے ذریعے سے اخذ کئے جاسکتے ہیں، انہیں بیان کرو۔
١. تمام محنتی انسان خوش ہیں، ٢. تمام انسان مکّار نہیں، ٣. کُچھ سیاستدان خود غرض ہیں، ٤. کوئی گھوڑا گائے نہیں۔
جواب:۔ جب ہمیں کسی قضیے سے استنتاجِ نسبتی کے ذریعے سے اخذ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اگر دئیے ہوئے قضیے کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق کچھ نہ بتایا جائے تو اُسے سچ تصور کرنا چاہیے۔
١. یہ قضیۂ ا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو:۔
الف۔ کُچھ محنتی انسان خوش ہیں (ی) سچ ہوگا (تحکیم)
ب۔ کُچھ محنتی انسان خوش نہیں (و) جھوٹ ہوگا (تناقض)
ت۔ کوئی محنتی انسان خوش نہیں (ع) جھوٹ ہوگا (تضاد)
٢. یہ قضیہ و ہے۔ اس کی منطقی شکل یوں ہوگی۔ "کُچھ انسان مکّار نہیں" اگر یہ سچ ہے تو:۔
الف۔ کوئی انسان مکّار نہیں (ع) مُشتبہ ہوگا (تحکیم)
ب۔ تمام انسان مکّار ہیں (ا) جھوٹ ہوگا (تناقض)
ج۔ کُچھ انسان مکّار ہیں (ی) مشتبہ ہوگا (تضادِ تحتانی)
٣. یہ قضیہ ی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو:۔
الف۔ تمام سیاستدان خود غرض ہیں (ا) مُشتبہ ہوگا (تحکیم)
ب۔ کوئی سیاستدان خود غرض نہیں (ع) جھوٹ ہوگا (تناقض)
ج۔ کُچھ سیاستدان خود غرض نہیں (و) مُشتبہ ہوگا (تضادِ تحتانی)
٤. یہ قضیہ ع ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو:۔
الف۔ کُچھ گھوڑے گائیں نہیں (ا) سچ ہوگا (تحکیم)
ب۔ کُچھ گھوڑے گائیں ہیں (ی) جھوٹ ہوگا (تناقض)
ج۔ تمام گھوڑے گائیں ہیں (ا) جھوٹ ہوگا (تضاد)
سوال نمبر ۳:۔ قضیے کے مندرجہ ذیل جوڑوں میں کیا نسبت (یا تعلق یا اختلاف) ہے؟
الف:۔ ١. ناکام لوگ ہمیشہ دوسروں کے شاکی ہوتے ہیں۔
٢. کُچھ ناکام لوگ دوسروں کے شاکی نہیں ہوتے۔
اس قضیے کی منطقی شکل یہ ہے:۔ "تمام ناکام لوگ دوسروں کے شاکی ہیں" یہ قضیۂ ا ہے اس کے ساتھ دوسرا قضیہ و ہے۔ یہ دونوں قضیے آپس میں متناقض قضیے ہیں۔ ان میں تناقض کی نسبت ہے۔
ب:۔ ١. انسان عمومًا خود غرض ہوتے ہیں۔
٢. تمام انسان خود غرض نہیں ہوتے۔
اس قضیے کی منطقی شکل یہ ہے۔ "کُچھ انسان خود غرض ہیں" (ی) (۲) کی منطقی شکل یہ ہے۔ کُچھ انسان خود غرض نہیں (و) ان دونوں قضیوں میں تضادِ تحتانی کی نسبت ہے۔
ج:۔ ١. تمام انسان جاندار ہیں۔
٢. کوئی انسان جاندار نہیں۔
یہ قضیۂ ا ہے۔ اور دوسرا قضیۂ ع ہے۔ دونوں آپس میں متضاد قضیے ہیں ان میں تضاد کی نسبت ہے۔
د:۔ ١. دائرے مُثلثیں ∆ نہیں۔
٢. کُچھ دائرے مُثلثیں ∆ نہیں۔
اس قضیہ کی منطقی شکل یہ ہے "کوئی دائرہ مُثلث ∆ نہیں" ع اور دوسرا یہ قضیۂ و ہے۔ ان دونوں قضیوں میں تحکیم کی نسبت ہے۔
سُوال نمبر ٤. مندرجہ ذیل قضیے کے سچ سے کون سے سچ، جھوٹ اور مشتبہ قضیے اخذ کئے جاسکتے ہیں
"کُچھ مُہذب انسان غیر دیانتدار ہیں"
جواب:۔ یہ قضیہ ی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو:۔
١. تمام مُہذب انسان غیر دیانتدار ہیں (ا)، مُشتبہ ہوگا (تحکیم)
٢. کوئی مہذب انسان غیر دیانتدار نہیں (ع)، جھوٹ ہوگا (تناقض)
٣. کُچھ مہذب انسان غیر دیانتدار نہیں (و)، مُشتبہ ہوگا (تضادِ تحتانی)
سُوال نمبر ٥. اگر یہ سچ ہو کہ "تمام عُلُوم مُفید ہیں" تو اس سے کونسے سچ یا جھوٹ قضیے اخذ کئے جاسکتے ہیں؟
جواب:۔ دیا ہوا قضیۂ ا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو:۔
١. کُچھ عُلُوم مُفید ہیں (ی)، سچ ہوگا (تحکیم)۔
٢. کُچھ عُلُوم مُفید نہیں (و)، جھوٹ ہوگا (تناقُض)۔
٣. کوئی علم مُفید نہیں (ع)، جھوٹ ہوگا (تضاد)۔
سُوال نمبر ٦:۔ مندرجہ ذیل قضیوں میں سے کون سے قضیے آپس میں ضِدیّن، کون سے نقیضین اور کون سے ضِدیّن تحتانی ہیں؟
١. کوئی احمق کامیاب نہیں
٢. کُچھ احمق کامیاب نہیں
٣. کُچھ احمق کامیاب ہیں
٤. تمام احمق کامیاب ہیں
جواب:۔ ضِدیّن:۔ "کوئی احمق کامیاب نہیں" اور تمام احمق کامیاب ہیں (ع اور ا)
نقیضین:۔ (۱) "کوئی احمق کامیاب نہیں" اور کُچھ احمق کامیاب ہیں" (ع اور ی) (۲) "تمام احمق کامیاب ہیں" اور "کُچھ احمق کامیاب نہیں"۔
ضِدیّنِ تحتانی:۔ "کُچھ احمق کامیاب ہیں" اور "کُچھ احمق کامیاب نہیں" (ی اور و)۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں