انیسواں باب
معضلہ یا قیاس ذوالجہتین
DILEMMA
Hypothetical Disjunctive Syllogism
معضلہ مخلوط قیاس کی وہ قسم ہے جس میں کُبریٰ شرطیہ اور صُغریٰ منفصلہ ہوتا ہے اس لئے اسے شرطیہ منفصلہ قیاس بھی کہتے ہیں۔
ایک معضلہ کا کُبریٰ دراصل دو شرطیہ قضیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی کُبریٰ میں دو مقدم اور دو تالی ہوتے ہیں۔ اور صُغریٰ ایک منفصلہ قضیہ ہوتا ہے جس میں دو بَدَل ہوتے ہیں۔
عُرفِ عام میں معضلہ ایسے استدلال کو کہتے ہیں جس میں حریف کو ایک ایسی مشکل میں ڈال دیا جاتا ہے کہ اُس کے لیے "گویم مشکل ور نگوئیم مشکل" والی بات ہوتی ہے۔ یعنی اس کے سامنے دو ایسے بدل پیش کئے جاتے ہیں جو اس کے لئے یکساں طور پر تکلیف دہ اور ناقابلِ قبول ہوتے ہیں۔
معضلہ کی قسمیں؛ جب صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدموں کا اقرار کیا جائے تو معضلہ اقراری یا تعمیری کہلاتا ہے۔ اور جب صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالیوں کا انکار کیا جائے تو معضلہ انکاری یا تخریبی کہلاتا ہے۔
معضلہ کا نتیجہ حملیہ بھی ہوسکتا ہے اور منفصلہ بھی۔ جب نتیجہ حملیہ ہو تو معضلہ سادہ کہلاتا ہے اور جب نتیجہ منفصلہ ہو تو معضلہ مرکب کہلاتا ہے۔ چنانچہ معضلہ کی مندرجہ ذیل چار قسمیں ہیں۔
١. سادہ اقراری
٢. مُرکب اقراری
٣. سادہ انکاری
٤. مرکبِ انکاری
معضلہ کے اقراری یا انکاری ہونے کا پتا اُس کے صُغریٰ سے چلتا ہے اور اُس کے سادہ یا مرکب ہونے کا پتا اُس کے نتیجہ سے چلتا ہے۔ اگر صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدموں کا اقرار کیا جائے تو معضلہ اقراری ہوتا ہے اور اگر صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالیوں کا انکار کیا جائے تو معضلہ انکاری ہوتا ہے۔ اگر نتیجہ حملیہ ہو تو معضلہ سادہ ہوتا ہے اور اگر نتیجہ مُنفصلہ ہو تو معضلہ مرکب ہوتا ہے۔
سادہ اقراری معضلہ؛ ایک سادہ اقراری معضلہ وہ ہوتا ہے جس میں کُبریٰ کے مقدموں کا صُغریٰ میں اقرار کیا جاتا ہے اور نتیجہ حملیہ ہوتا ہے۔ مثلًا
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے اور اگر ل، م ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
یا ا، ب ہے یا ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا ج، د ہے (نتیجہ)
مثالیں
١. اگر میں اپنی رائے کے مطابق کام کروں تو لوگ اعتراض کرتے ہیں اور اگر میں اوروں کی رائے کے مطابق کام کروں تو بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں (کُبریٰ)
یا میں اپنی رائے کے مطابق کام کروں گا یا اوروں کی رائے کے مطابق کام کروں گا (صُغریٰ)
لہٰذا لوگ ہر حالت میں مجھ پر اعتراض کریں گے (نتیجہ)
٢. اگر طلبا قابل ہیں تو امتحان بےفائدہ ہیں اور اگر طلبا نالائق ہیں تو امتحان بےفائدہ ہیں (کُبریٰ)
یا طلبا قابل ہیں یا نالائق ہیں (صُغریٰ)
لہٰذا امتحان بےفائدہ ہیں (نتیجہ)
٣. اگر مجھے مرنا ہے تو علاج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر مجھے تندرست ہونا ہے تو بھی علاج کی کوئی ضرورت نہیں (کُبریٰ)
یا مجھے مرنا ہے یا تندرست ہونا ہے (صُغریٰ)
لہٰذا مجھے علاج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں (نتیجہ)
٤. اگر میں آگے بڑھوں تو موت لازمی ہے اور اگر میں پیچھے ہٹوں تو بھی موت لازمی ہے (کُبریٰ)
یا میں آگے بڑھوں گا یا میں پیچھے ہٹوں گا (صُغریٰ)
لہٰذا میرے لئے ہر حالت میں موت لازمی ہے (نتیجہ)
یاد رہے کہ سادہ اقراری معضلہ میں یہ ضروری ہے کہ کُبریٰ کے شرطیہ قضیوں میں مقدم تو مختلف ہوں لیکن تالی ایک ہی ہوں۔ اگر تالی ایک نہ ہوں گے تو نتیجہ حملیہ نہ ہوسکے گا۔
مُرکب اقراری معضلہ؛ ایک مرکب اقراری معضلہ وہ ہوتا ہے جس میں کُبریٰ کے مقدموں کا صُغریٰ میں اقرار کیا جاتا ہے اور نتیجہ منفصلہ ہوتا ہے۔ مثلًا
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے اور اگر ل، م ہے تو ن، و ہے (کُبریٰ)
یا ا، ب ہے یا ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا یا ج، د ہے یا ن، و ہے (نتیجہ)
مثالیں
١. اگر تم سچ بولو گے تو دُنیا ناراض ہوگی، اور اگر تم جھوٹ بولو گے تو خُدا ناراض ہوگا (کُبریٰ)
یا تم سچ بولو گے یا تم جھوٹ بولو گے (صُغریٰ)
لہٰذا یا یہ دُنیا ناراض ہوگی یا خُدا ناراض ہوگا (نتیجہ)
٢. اگر تمہاری کتابیں قُرآن کے مطابق ہیں تو فالتو ہیں۔ اور اگر تمہاری کتابیں قُرآن کے خلاف ہیں تو بُری ہیں (کُبریٰ)
یا تمہاری کتابیں قُرآن کے مطابق ہیں یا قُرآن کے خلاف ہیں (صُغریٰ)
لہٰذا یا تمہاری کتابیں فالتو ہیں یا بُری ہیں (نتیجہ)
(کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ٦٤٠ھ میں اسکندریہ میں لائبریری کے متعلق یہ معضلہ پیش کرکے اُس کو جلا دیا تھا۔ لیکن یہ بات تاریخی طور پر غلط ثابت ہوچکی ہے)
٣. اگر ایک لیڈر اپنی رائے پر قائم رہے تو وہ ضدّی ہوتا ہے اور اگر وہ اپنی رائے بدل لے تو متلوّن مزاج ہوتا ہے (کُبریٰ)
ایک لیڈر اپنی رائے پر قائم رہتا ہے یا وہ اپنی رائے بدل لیتا ہے (صُغریٰ)
لہٰذا یا ایک لیڈر ضدی ہوتا ہے یا متلوّن مزاج ہوتا ہے (نتیجہ)
٤. اگر بادشاہ یہ جانتا ہے کہ اس کی رعایا کو تکلیف دی جاتی ہے تو وہ ظالم ہے۔ اگر وہ یہ نہیں جانتا تو وہ اپنے فرض سے غافِل ہے (کُبریٰ)
یا تو بادشاہ یہ جانتا ہے کہ اس کی رعایا کو تکلیف دی جاتی ہے یا نہیں جانتا (صُغریٰ)
لہٰذا یا بادشاہ ظالم ہے یا اپنے فرض سے غافل ہے (نتیجہ)
٥. اگر وہ اپنی غلطی کو سمجھتا ہے تو بُرا ہے اور اگر وہ اپنی غلطی کو نہیں سمجھتا تو احمق ہے (کُبریٰ)
یا وہ اپنی غلطی کو سمجھتا ہے یا نہیں سمجھتا (صُغریٰ)
لہٰذا یا وہ بُرا ہے یا احمق ہے (نتیجہ)
٦. اگر وہ کام کرتا ہے تو پاس ہوگا اور اگر وہ کام نہیں کرتا تو فیل ہوگا (کُبریٰ)
یا وہ کام کرتا ہے یا نہیں کرتا (صُغریٰ)
لہٰذا یا وہ پاس ہوگا یا فیل ہوگا (نتیجہ)
٧. اگر تم شادی کرو گے تو تم پر ذمہ داریاں ہوں گی اور اگر تم کنوارے رہو گے تو اکیلاپن محسوس کرو گے (کُبریٰ)
یا تم شادی کرو گے یا کنوارے رہو گے (صُغریٰ)
لہٰذا یا تم پر ذمہ داریاں ہوں گی یا تم اکیلا پن محسوس کرو گے (نتیجہ)
یاد رہے کہ مرکب اقراری معضلہ میں یہ ضروری ہے کہ کُبریٰ کے شرطیہ قضیوں میں دونوں مقدم اور دونوں تالی ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اگر دونوں تالی ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں گے تو نتیجہ منفصلہ نہیں ہو سکے گا۔
سادہ انکاری معضلہ؛ ایک سادہ انکاری معضلہ وہ ہوتا ہے جس میں کُبریٰ کے تالیوں کا صُغریٰ میں انکار کیا جاتا ہے اور نتیجہ حملیہ ہوتا ہے۔ مثلًا؛
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے۔ اگر ا، ب ہے تو ل، م ہے (کُبریٰ)
یا ج، د نہیں یا ل، م نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا ا، ب نہیں (نتیجہ)
مثالیں
١. اگر میں وقت ضائع کروں گا تو فیل ہوجاؤں گا۔ اگر میں وقت ضائع کروں گا تو نقصان اٹھاؤں گا (کُبریٰ)
یا میں فیل نہیں ہوں گا یا نقصان نہیں اُٹھاؤں گا (صُغریٰ)
لہٰذا میں وقت ضائع نہیں کروں گا (نتیجہ)
٢. اگر یہ کالج اچھّا ہے تو اس کے پروفیسر خوش ہوں گے۔ اگر یہ کالج اچھا ہے تو اس کے طلبا لائق ہوں گے (کُبریٰ)
یا اس کالج کے پروفیسر خوش نہیں یا اس کے طلبا لائق نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا یہ کالج اچھا نہیں (نتیجہ)
اگر بارش ہو تو موسم ٹھنڈا ہوتا ہے، اگر بارش ہو تو گرمی کم ہوتی ہے (کُبریٰ)
یا موسم ٹھنڈا نہیں یا گرمی کم نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا بارش نہیں ہورہی (نتیجہ)
یاد رہے کہ سادہ انکاری معضلہ میں یہ ضروری ہے کہ کُبریٰ کے شرطیہ قضیوں میں دونوں مقدم ایک ہی ہوں۔ اگر دونوں مقدم ایک نہ ہوں تو نتیجہ حملیہ نہیں ہوسکے گا۔
مُرکب انکاری معضلہ؛ ایک مرکب انکاری معضلہ وہ ہوتا ہے جس میں کُبریٰ کے تالیوں کا صُغریٰ میں انکار کیا جاتا ہے اور نتیجہ منفصلہ ہوتا ہے۔ مثلًا؛
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے اور اگر ل، م ہے تو ن، و ہے (کُبریٰ)
یا ج، د نہیں یا ن، و نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا یا ا، ب نہیں یا ل، م نہیں (نتیجہ)
مثالیں
١. اگر وہ عقلمند ہے تو اپنی غلطی کو سمجھ لے گا اور اگر وہ دیانتدار ہے تو اپنی غلطی کو تسلیم کرے گا (کُبریٰ)
یا وہ اپنی غلطی کو نہیں سمجھتا یا تسلیم نہیں کرتا (صُغریٰ)
لہٰذا یا وہ عقلمند نہیں یا دیانتدار نہیں (نتیجہ)
٢. اگر وہ امیر ہے تو غریبوں کی مدد کی استطاعت رکھتا ہے اور اگر وہ رحمدل ہے تو غریبوں کے لئے ہمدردی رکھتا ہے (کُبریٰ)
یا وہ غریبوں کی مدد کی استطاعت نہیں رکھتا یا وہ غریبوں کے لئے ہمدردی نہیں رکھتا (صُغریٰ)
لہٰذا وہ یا امیر نہیں یا رحمدل نہیں (نتیجہ)
٣. اگر تم وقت ضائع کرو گے تو فیل ہوجاؤ گے اور اگر تم لاپرواہ رہو گے تو نقصان اٹھاؤ گے (کُبریٰ)
یا تم فیل نہیں ہوگے یا نقصان نہیں اٹھاؤ گے (صُغریٰ)
لہٰذا یا تم وقت ضائع نہیں کرو گے یا لاپرواہ نہیں رہو گے (نتیجہ)
یاد رہے کہ مرکبِ انکاری معضلہ میں یہ ضروری ہے کہ کُبریٰ کے شرطیہ قضیوں میں دونوں مقدم اور دونوں تالی ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اگر دونوں مقدم ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں گے تو نتیجہ منفصلہ نہیں ہوسکے گا۔
Rules of Dilemma معضلہ کے قواعد؛
معضلہ کے مندرجہ ذیل قواعد ہیں؛
١. کُبریٰ دو شرطیہ قضیوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔
٢. صُغریٰ ایک منفصلہ قضیہ ہونا چاہیے جس میں کُبریٰ کے مقدموں کا اقرار ہونا چاہیے یا کُبریٰ کے تالیوں کا انکار ہونا چاہیے۔
٣. نتیجہ یا حملیہ ہونا چاہیے یا منفصلہ ہونا چاہیے۔
٤. کُبریٰ میں مقدموں اور تالیوں کا تعلق صحیح ہونا چاہیے غلط نہیں ہونا چاہیے۔
٥. صُغریٰ کے بدل آپس میں مانع ہونا چاہئیں۔
٦. صُغریٰ کے بدل جامع ہونا چاہئیں۔
پہلے تین قواعد صوری قواعد ہیں جو معضلہ کی صوری صحت سے تعلق رکھتے ہیں۔ پچھلے تین قواعد مادی قواعد ہیں جو معضلہ کی مادی صحت سے تعلق رکھتے ہیں۔
معضلہ کے مُغالطے
اگر معضلہ مندرجہ بالا قواعد کے مطابق ہو تو صحیح ہوتا ہے۔ لیکن معضلہ عام طور پر غلط ہی ہوتا ہے۔ مغالطہ یا تو معضلہ کے کُبریٰ میں پایا جاتا ہے یا صُغریٰ میں۔ معضلہ کے کُبریٰ میں یہ مُغالطہ ہوسکتا ہے کہ جو تعلق مقدموں اور تالیوں میں بیان کیا گیا ہے غَلَط ہو۔ مثلًا؛
اگر طلبا محنتی ہیں تو امتحان بےفائدہ ہیں اور اگر طلبا کاہِل ہیں تو بھی امتحان بےفائدہ ہیں (کُبریٰ)
یا طلبا محنتی ہیں یا قابل ہیں (صُغریٰ)
لہٰذا امتحان بےفائدہ ہیں (نتیجہ)
یہاں مقدموں اور تالیوں میں جو تعلق بیان کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں۔ یہ کہنا کہ اگر طلبا محنتی ہیں تو امتحان بےفائدہ ہیں ایک غلط بات ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اگر طلبا کامل ہیں تو امتحان بےفائدہ ہیں ایک غَلَط بات ہے۔ معضلہ کے صُغریٰ میں مغالطہ یہ ہوسکتا ہے کہ؛
١. صُغریٰ میں مقدموں کا انکار کیا جائے ٢. صُغریٰ میں تالیوں کا اقرار کیا جائے ٣. صُغریٰ کے بدل آپس میں مانع نہ ہو ٤. صُغریٰ کے بدل جامع نہ ہوں۔
عام طور پر معضلہ میں یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ صُغریٰ کے بدل جامع نہیں ہوتے۔ مندرجہ ذیل معضلے ملاحظہ ہوں۔
١. اگر میں طویل خط لکھوں تو ان سے میرا دوست اکتا جائے گا اور اگر میں مختصر خط لکھوں تو میرا دوست ناراض ہوگا (کُبریٰ)
یا میں طویل خط لکھوں گا یا مختصر خط لکھوں گا (صُغریٰ)
لہٰذا میرا دوست یا اکتا جائے گا یا ناراض ہوگا (نتیجہ) (اس لئے
(میں بالکل خط نہیں لکھوں گا)
یہاں صُغریٰ میں جو بدل پیش کئے گئے ہیں وہ جامع نہیں ہیں طویل اور مختصر خطوں کے علاوہ ایسے خط بھی ہوسکتے ہیں جو نہ طویل ہوں اور نہ مختصر۔
٢. اگر مجھے مرنا ہے تو علاج کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر مجھے تندرست ہونا ہے تو بھی مجھے علاج کی کوئی ضرورت نہیں (کُبریٰ)
یا مجھے مرنا ہے یا تندرست ہونا ہے (صُغریٰ)
لہٰذا مجھے علاج کی کوئی ضرورت نہیں (نتیجہ)
یہاں صُغریٰ کے بدل جامع نہیں۔ مرنے اور تندرست ہونے کے علاوہ ایک تیسرا امکان بھی ہے یعنی بیمار رہنا۔
٣. اسی طرح اسکندریہ کی لائبریری کے متعلق جو معضلہ بیان کیا جاچکا ہے اس میں صُغریٰ کے بدل جامع نہیں۔ قُرآن کے مطابق یا قُرآن کے مخالف کتابوں کے علاوہ ایسی کتابیں بھی ہوسکتی ہیں جو نہ قرآن کے مطابق ہوں اور نہ قرآن کے مخالف ہوں۔
٤. ایک مشہور یونانی فلسفی زینو نے حرکت کے متعلق مندرجہ ذیل معضلہ پیش کیا تھا۔
اگر ایک چیز حرکت کرے تو وہ یا تو اس جگہ پر حرکت کرے گی جہاں کہ وہ ہے یا اس جگہ پر حرکت کرے گی جہاں کہ وہ نہیں (کُبریٰ)۔ لیکن ایک چیز اس جگہ پر حرکت نہیں کرسکتی جہاں کہ وہ ہے اور نہ ہی اُس جگہ پر حرکت کرسکتی ہے جہاں کہ وہ نہیں(صُغریٰ)۔ لہٰذا ایک چیز حرکت کر ہی نہیں سکتی (نتیجہ) یعنی حرکت ناممکن ہے۔
اس معضلہ میں دو بدل یہ ہیں (ا) وہ جگہ جہاں ایک چیز ہے اور (۲) وہ جگہ جہاں کہ ایک چیز نہیں۔ ان دو جگہوں کے علاوہ ایک تیسری جگہ بھی ہے جہاں ایک چیز حرکت کرسکتی ہے۔ یعنی ان دونوں جگہوں کے درمیان۔ جب ایک چیز حرکت کرتی ہے تو اُس جگہ پر حرکت نہیں کرتی جہاں کہ وہ اور نہ ہی اُس جگہ پر حرکت کرتی ہے جہاں کہ وہ نہیں بلکہ اُس جگہ "ہے" جہاں کہ وہ ہے اُس "جگہ" تک جہاں کہ وہ نہیں حرکت کرتی ہے۔
چنانچہ عام طور پر معضلہ میں یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ صُغریٰ کے بدل جامع نہیں ہوتے۔
اگر صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدموں کا انکار کیا جائے یا تالیوں کا اقرار کیا جائے تو مغالطہ صوری ہوگا۔ لیکن اگر کُبریٰ کے مقدموں اور تالیوں میں باہمی تعلق صحیح نہ ہو یا صُغریٰ کے بدل آپس میں مانع اور جامع نہ ہوں تو مغالطہ مادّی ہوگا۔ معضلہ میں عام طور پر مادی مغالطہ ہی ہوتا ہے۔ صوری مغالطہ نہیں ہوتا۔
REFUTATION OF A DILEMMA معضلہ کا ردّ
کسی معضلہ کے رَدّ سے مُراد یہ ہے کہ اُس معضلہ میں مُغالطے دکھلائے جائیں۔ جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں مُغالطہ معضلہ کے کُبریٰ میں بھی ہوسکتا ہے اور صُغریٰ میں بھی۔ کُبریٰ میں مُغالطہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُس کے مقدموں اور تالیوں میں تعلق صحیح نہ ہو۔ صُغریٰ میں یہ مُغالطہ ہوسکتا ہے کہ (ا) مقدموں کا انکار کیا جائے یا تالیوں کا اقرار کیا جائے (۲) بدل آپس میں مانع نہ ہوں، اور (۳) بدل آپس میں جامع نہ ہوں۔
کسی معضلہ کو غلط ثابت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں مندرجہ بالا مغالطوں میں سے کوئی مُغالطہ پکڑا جائے۔
معضلہ عام طور پر صحیح قسم کی دلیل نہیں ہوتا۔ معضلہ کے ذریعہ سے ہم اپنے حریف کے سامنے ایسے بدل پیش کردیتے ہیں کہ اُس کے لیے دونوں میں سے ہر بدل کا قبول کرنا ایک مشکل بات ہوتی ہے۔ جب ایک شخص کو معضلہ کی مشکل درپیش ہو تو انگریزی زبان میں اسے
To be on the Horns of a Dilemma
یعنی "معضلہ کے سینگوں" پر ہونا کہتے ہیں۔
اگر ہم کسی معضلہ کے کُبریٰ میں مغالطہ پکڑیں تو اسے "معضلہ کو سینگوں سے پکڑنا" کہتے ہیں۔ یعنی
Taking a Dilemma by The Horns
کُبریٰ میں دو شرطیہ قضیے ہوتے ہیں۔ اگر ہم صرف ایک شرطیہ قضیے میں مُغالطہ پکڑیں یعنی صرف ایک مقدم اور ایک تالی کے تعلق کو غلط ثابت کردیں تو اِسے "معضلہ کو ایک سینگ سے پکڑنا"
Taking a Dilemma by one Horn
کہتے ہیں۔ اور اگر ہم دونوں شرطیہ قضیوں میں مغالطہ پکڑیں یعنی دونوں مقدموں اور تالیوں کے باہمی تعلق کو غلط ثابت کریں تو اِسے "معضلہ کو دونوں سینگوں سے پکڑنا" یعنی
Taking a Dillemma by both Horns
کہتے ہیں۔
بعض دفعہ کُبریٰ کے صرف ایک ہی شرطیہ قضیے میں مغالطہ ہوتا ہے اور بعض دفعہ کُبریٰ کے دونوں شرطیہ قضیوں میں مُغالِطہ ہوتا ہے۔
اگر کسی معضلہ کے کُبریٰ میں مغالطہ نہ ہو یعنی اس کے مقدموں اور تالیوں میں جو تعلق بیان کیا گیا ہے وہ صحیح ہو تو اس صورت میں ہمیں معضلہ کے صُغریٰ کو دیکھنا چاہیے۔ صُغریٰ میں جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں عام طور پر یہ مُغالِطہ ہوتا ہے کہ دونوں بدل جامع نہیں ہوتے۔ یعنی ان کے علاوہ کوئی تیسرا امکان بھی باقی ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی معضلہ کے صُغریٰ میں یہ مغالطہ دکھا دیں (یعنی یہ دکھا دیں کہ اس کے دو بدلوں کے علاوہ کوئی تیسرا امکان ہے) تو اسے "معضلہ کے سینگوں میں سے بچنا" یعنی
Escaping between the Horns of a Dilema
کہتے ہیں۔ ہم نے اسکندریہ کی لائبریری کی مثال سے، مرنے اور تندرست ہونے کی مثال سے، طویل اور مختصر خطوں کی مثال سے، زینو کی مثال سے کہ حرکت ناممکن ہے، یہ واضح کردیا ہے کہ ان دلائل میں دو بدلوں کے علاوہ تیسرا بدل بھی ممکن ہے۔ بعض دفعہ صُغریٰ کے بدل آپس میں مانع نہیں ہوتے۔ مثلًا
اگر میں اپنی رائے کے مطابق کام کروں تو لوگ اعتراض کرتے ہیں اور اگر میں اوروں کی رائے کے مطابق کام کروں تو بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں (کُبریٰ)
یا میں اپنی رائے کے مطابق کام کروں گا یا اوروں کی رائے کے مطابق کام کروں گا (صُغریٰ)
لہٰذا لوگ ہر حالت میں مجھ پر اعتراض کریں گے (نتیجہ)
اس مثال میں صُغریٰ کے دو بدل ہیں (۱) یا میری اپنی رائے (۲) یا اوروں کی رائے۔ اور یہ ضروری نہیں کہ یہ دونوں بدل آپس میں مانع ہوں کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ میری رائے اور اوروں کی رائے ایک ہی ہو۔ ایک اور مثال ملاحظہ ہو
اگر وہ تاجر ہے تو امیر ہے اور اگر وہ تعلیم یافتہ ہے تو عقلمند ہے (کُبریٰ)
یا وہ تاجر ہے یا تعلیم یافتہ ہے (صُغریٰ)
لہٰذا یا وہ امیر ہے یا عقلمند ہے (نتیجہ)
اس مثال میں بھی صُغریٰ کے بدل آپس میں مانع نہیں۔ ضروری نہیں کہ تاجر ہونا اور تعلیم یافتہ ہونا دو علـٰحدہ چیزیں ہوں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر ایک شخص تاجر ہے تو وہ تعلیم یافتہ نہیں اور اگر ایک شخص تعلیم یافتہ ہے تو وہ تاجر نہیں۔
جب کسی معضلہ میں صُغریٰ کے بدل آپس میں مانع نہ ہوں تو ہم یہ مغالطہ ظاہر کرکے اُس معضلہ کو ردّ کرسکتے ہیں۔ اسے بھی "معضلہ کے سینگوں سے بچنا" کہتے ہیں۔ چنانچہ ہم دو طرح معضلہ کے سینگوں میں سے بچ سکتے ہیں (۱) یہ ظاہر کرکے کہ صُغریٰ کے بدل جامع نہیں، اور (۲) یہ ظاہر کرکے کہ صُغریٰ کے بدل آپس میں مانع نہیں۔
الغرض معضلہ کا رَدّ دو طرح ممکن ہے (۱) معضلہ کو سینگوں سے پکڑنا اور (۲) معضلہ کے سینگوں میں سے بچنا۔
معضلہ کو سینگوں سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ کُبریٰ کے مقدموں اور تالیوں کے باہمی تعلق کو غلط ثابت کیا جائے۔ اور معضلہ کے سینگوں میں سے بچنے کا مطلب یہ ہے کہ صُغریٰ کے بدلوں کے متعلق یہ ظاہر کیا جائے کہ وہ جامع اور مانع نہیں۔
Rebutial of Dilemma معضلہ کی بازگشت
ایک معضلہ کے مقابلہ میں ایک جوابی معضلہ پیش کرنا جس کا نتیجہ پہلے معضلے کے نتیجے کا الٹ ہو معضلہ کی بازگشت کہلاتا ہے۔ لیکن کسی معضلہ کی بازگشت دراصل اس معضلے کا رَدّ نہیں ہوتا۔ یہ محض ایک جواب ہوتا ہے جو ممکن ہے وقتی طور پر حریف کو چُپ کرادے۔ لیکن منطقی نُقطۂ نظر سے اس کی کوئی اہمیّت نہیں ہوتی۔
معضلہ کی بازگشت کا طریقہ یہ ہے کہ؛
١. کُبریٰ کے تالیوں کو آپس میں بدل دیا جائے۔ یعنی پہلے تالی کو دوسرے مقدم کے ساتھ اور دوسرے تالی کو پہلے مقدم کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔
٢. کُبریٰ کے تالیوں کی کیفیت کو بدل دیا جائے۔ (صُغریٰ ویسا ہی رہے گا)۔ مثلًا
معضلہ؛
اگر ا، ب تو ج، د ہے اور اگر ل، م ہے تو ن، و ہے (کُبریٰ)
یا ا، ب ہے یا ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا یا ج، د ہے یا ن، و ہے (نتیجہ)
بازگشت؛
اگر ا، ب ہے تو ن، و نہیں۔ اور اگر ل، م ہے تو ج، د نہیں (کُبریٰ)
یا ا، ب ہے یا ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا یا ن، و نہیں یا ج، د نہیں (نتیجہ)
(یا ج، د نہیں یا ن، و نہیں)
مثالیں
١. معضلہ؛ اگر مہاجر غیرمفید ہیں تو جس ملک سے آئیں اس ملک پر بار ہوں گے اور اگر وہ مفید ہیں جو جس ملک سے آئیں اس ملک کو نقصان ہوگا (کُبریٰ)
یا مہاجر غیرمفید ہیں یا مفید ہیں (صُغریٰ)
لہٰذا وہ جس ملک میں آئیں اس ملک پر بار ہوں گے یا جس ملک سے آئیں اس ملک کو نقصان ہوگا (نتیجہ)
بازگشت؛ اگر مہاجر غیرمفید ہیں تو جس ملک سے آئیں اس ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اگر وہ مفید ہیں تو جس ملک میں آئیں اس ملک پر بار نہیں ہوں گے (کُبریٰ)
یا مہاجر غیرمفید یا مفید ہیں (صُغریٰ)
لہٰذا جس ملک سے وہ آئیں اس ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا یا جس ملک کو وہ آئیں اس ملک پر وہ بار نہیں ہوں گے (نتیجہ)
٢. معضلہ؛ اگر میں شادی کروں تو مجھے ایک بیوی کی دیجھ بھال کرنا پڑے گی اور اگر میں شادی نہ کروں تو میرے پاس اپنی دیکھ بھال کے لئے کوئی بیوی نہ ہوگی (کُبریٰ)
یا میں شادی کروں گا یا نہیں کروں گا (صُغریٰ)
لہٰذا یا مجھے ایک بیوی کی دیکھ بھال کرنا پڑے گی یا میرے پاس میری دیکھ بھال کے لئے کوئی بیوی نہیں ہوگی (نتیجہ)
بازگشت؛ اگر میں شادی کروں تو میرے پاس میری اپنی دیکھ بھال کے لئے بیوی ہوگی اور اگر میں شادی نہ کروں تو مجھے کسی بیوی کی دیکھ بھال نہیں کرنا پڑے گی (کُبریٰ)
یا میں شادی کروں گا یا نہیں کروں گا (صُغریٰ)
لہٰذا یا تو میرے پاس میری اپنی دیکھ بھال کے لئے بیوی ہوگی یا مجھے کسی بیوی کی دیکھ بھال نہیں کرنا پڑے گی (نتیجہ)
بازگشت معضلہ کی تین مشہور مثالیں عمومًا درسی کتابوں میں دی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں۔
١. کہتے ہیں کہ قدیم یونان میں ایک ماں نے اپنے بیٹے کو سیاسی زندگی سے باز رکھنے کے لئے یہ معضلہ پیش کیا۔
اگر تم سچ کہو گے تو لوگ تم سے ناراض ہوں گے اور اگر تم سچ نہیں کہو گے تو خُدا تم سے ناراض ہوگا (کُبریٰ)
یا تم سچ کہو گے یا تم سچ نہیں کہو گے (صُغریٰ)
لہٰذا یا تم سے لوگ ناراض ہوں گے یا خُدا ناراض ہوگا (نتیجہ)(اس لئے تم سیاست میں حصّہ نہ لو)
بیٹے نے اس معضلے کی مندرجہ ذیل بازگشت پیش کی
اگر میں سچ کہوں گا تو خُدا مجھ سے ناراض نہیں ہوگا اور اگر میں سچ نہیں کہوں گا تو لوگ مجھ سے ناراض نہیں ہوں گے (کُبریٰ)
یا میں سچ کہوں گا یا میں سچ نہیں کہوں گا (صُغریٰ)
لہٰذا یا مجھ سے خُدا ناراض نہیں ہوگا یا لوگ ناراض نہیں ہوں گے (نتیجہ)(اس لئے میں سیاست میں ضرور حصّہ لوں گا)
٢. قدیم یونان کے مشہور ترین سوفسطائی پرطاغورس کے پاس ایک نوجوان علمِ قانون پڑھنے کے لئے آیا۔ پڑھائی کی فیس کے متعلق استاد اور شاگرد میں یہ معاہدہ ہوا کہ آدھی فیس تو پیشگی ادا کی جائے گی اور باقی آدھی فیس اس وقت ادا کی جائے گی جب شاگرد فارغ التحصیل ہو کر عدالت میں اپنا پہلا مقدمہ جیتے گا۔ شاگرد نے فارغ التحصیل ہوکر کوئی مقدمہ نہ لیا۔ استاد نے یہ خیال کیا کہ شاگرد باقی ماندہ آدھی فیس سے بچنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس نے آدھی فیس کے لئے شاگرد پر عدالت میں مقدمہ دائر کردیا اور عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا
اگر یہ اس مقدمے میں ہار گیا تو اسے عدالت کے حکم کے مطابق میری فیس ادا کرنی پڑے گی۔ اور اگر یہ اس مقدمے میں جیت گیا تو اسے ہمارے معاہدے کے مطابق میری فیس ادا کرنا پڑے گی (کُبریٰ)
یا یہ اس مقدمے میں ہارے گا یا جیتے گا (صُغریٰ)
لہٰذا اسے یا عدالت کے حکم کے مطابق میری فیس ادا کرنا پڑے گی یا ہمارے معاہدے کے مطابق میری فیس ادا کرنا پڑے گی (نتیجہ) (یعنی بہرصورت میری فیس ادا کرنا ہوگی)
شاگرد نے استاد کے معضلہ کے جواب میں مندرجہ ذیل بازگشت پیش کی۔
اگر میں اس مقدمے میں ہار گیا تو اپنے معاہدے کے مطابق مجھے فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی اور اگر میں اس مقدمے میں جیت گیا تو مجھے عدالت کے حکم کے مطابق فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی (کُبریٰ)
یا میں اس مقدمے میں ہاروں گا یا جیتوں گا (صُغریٰ)
لہٰذا یا مجھے اپنے معاہدے کے مطابق فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی یا عدالت کے حکم کے مطابق فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی (نتیجہ)(یعنی بہرصورت فیس ادا نہیں کرنا ہوگی)
٣. ایک دفعہ ایک مگرمچھ نے ایک عورت کا بچّہ پکڑ لیا۔ جب عورت نے مگرمچھ سے اپنا بچّہ مانگا تو مگرمچھ نے کہا کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ میں تمہیں تمہارا بچّہ واپس دوں گا یا نہیں؟ اگر تمہارا جواب درست ہوا تو میں تمہیں بچّہ واپس دے دوں گا۔ اُس عورت نے اس ڈر سے کہ اگر میں نے یہ کہا کہ تم میرا بچّہ دے دو گے تو یہ میرے بچّے کو کھا کر میرے جواب کو غَلَط ثابت کردے گا یہ جواب دیا کہ تم میرا بچّہ مجھے واپس نہیں دو گے اور مندرجہ ذیل معضلہ پیش کیا۔
اگر میرا جواب غلط ہے تو تمہیں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میرا جواب غلط ہے میرا بچّہ واپس دے دینا چاہیے۔ اور اگر میرا جواب درست ہے تو تمہیں اپنے وعدے کے مطابق میرا بچّہ واپس دے دینا چاہیے (کُبریٰ)
یا میرا جواب غلط ہے یا درست ہے (صُغریٰ)
یا تمہیں میرے جواب کو غلط ثابت کرنے کے لئے میرا بچّہ واپس دے دینا چاہیے یا اپنے وعدے کے مطابق میرا بچّہ واپس دے دینا چاہیے (نتیجہ) (یعنی بہرصورت میرا بچّہ مجھے واپس لوٹا دینا چاہیے)
مگرمچھ نے اس معضلہ کی یہ بازگشت پیش کی؛
اگر تمہارا جواب غلط ہے تو مجھے اپنے وعدے کے مطابق تمہارا بچّہ واپس نہیں دینا چاہیے اور اگر تمہارا جواب درست ہے تو مجھے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ تمہارا جواب درست ہے بچّہ واپس نہیں دینا چاہیے (کُبریٰ)
یا تمہارا جواب غلط ہے یا درست ہے (صُغریٰ)
لہٰذا یا تو مجھے اپنے وعدے کے مطابق تمہارا بچّہ واپس نہیں دینا چاہیے یا مجھے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ تمہارا جواب درست ہے بچہ واپس نہیں دینا چاہیے (نتیجہ) (یعنی بہرصورت بچّہ واپس نہیں دینا چاہیے)
نوٹ؛ یاد رہے کہ بازگشت صرف مرکب اقراری معضلہ کی ہی ممکن ہوتی ہے۔ سادہ اقراری معضلہ میں کُبریٰ کے دونوں تالی ایک ہی ہوتے ہیں اس لئے ان کی جگہیں آپس میں بدلی نہیں جاسکتیں اور انکاری معضلہ کی صورت میں بازگشت کا طریقہ استعمال کرنے سے مغالطۂِ اقرارِ تالی پیدا ہوتا ہے۔
Analysis of Dilemma معضلہ کی تحلیل
چونکہ معضلہ محض دو مخلوط شرطیہ قیاسوں کا مجموعہ ہوتا ہے لہٰذا یہ مخلوط شرطیہ قیاس ہی کے قوانین پر مبنی ہوتا ہے یعنی مخلوط شرطیہ قیاس کی طرح اس میں بھی ہم یا تو مقدم کا اقرار کرسکتے ہیں یا تالی کا انکار۔ معضلہ کی صوری صحت کا انحصار اسی قاعدے پر ہوتا ہے۔ ہم معضلہ کی تحلیل اس کے اجزاء (جو کہ دو مخلوط شرطیہ قیاسات ہوتے ہیں) میں کرکے معضلہ کی صوری صحت کو پرکھ سکتے ہیں۔
سادہ اقراری معضلہ کی تحلیل
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے اور اگر ل، م ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
یا ا، ب ہے یا ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا ج، د ہے (نتیجہ)
یہ معضلہ مندرجہ ذیل دو مخلوط شرطیہ قیاس کے برابر ہے۔
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
ا، ب ہے (صُغریٰ)
لہٰذا ج، د ہے (نتیجہ)
٢. اگر ل، م ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا ج، د ہے (نتیجہ)
مرکب اقراری معضلہ کی تحلیل
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے اور اگر ل، م ہے تو ن، و ہے (کُبریٰ)
یا ا، ب ہے یا ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا یا ج، د ہے یا ن، و ہے (نتیجہ)
یہ معضلہ مندرجہ ذیل دو مخلوط شرطیہ قیاسات کے برابر ہے۔
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
ا، ب ہے (صُغریٰ)
لہٰذا ج، د ہے (نتیجہ)
٢. اگر ل، م ہے تو ن، و ہے (کُبریٰ)
ل، م ہے (صُغریٰ)
لہٰذا ن، و ہے (نتیجہ)
سادہ انکاری معضلہ کی تحلیل
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے اگر ا، ب ہے تو ل، م ہے (کُبریٰ)
یا ج، د نہیں یا ل، م نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا ا، ب نہیں (نتیجہ)
یہ معضلہ مندرجہ ذیل دو مخلوط شرطیہ قیاسات کے برابر ہے۔
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
ج، د نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا ا، ب نہیں (نتیجہ)
٢. اگر ا، ب ہے تو ل، م ہے (کُبریٰ)
ل، م نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا ا، ب نہیں (نتیجہ)
مرکب انکاری معضلہ کی تحلیل
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے اور اگر ل، م ہے تو ن، و ہے (کُبریٰ)
یا ج، د نہیں یا ن، و نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا یا ا، ب نہیں یا ل، م نہیں (نتیجہ)
یہ معضلہ مندرجہ ذیل دو مخلوط شرطیہ قیاسات کے برابر ہے۔
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
ج، د نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا ا، ب نہیں (نتیجہ)
٢. اگر ل، م ہے تو ن، و ہے (کُبریٰ)
ن، و نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا ل، م نہیں (نتیجہ)
چنانچہ معضلہ مخلوط شرطیہ قیاس ہی کی ایک مرکب شکل ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کے صوری مُغالطے مخلوط شرطیہ قیاس کے قواعد کی شکست سے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں معضلہ میں عام طور پر مادی مُغالطے ہوتے ہیں جو کُبریٰ میں تالیوں اور مقدموں کے غَلَط باہمی تعلق یا صُغریٰ کے بدلوں کے آپس میں مانع اور جامع نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
حل شُدہ مثالیں
سُوال؛ مندرجہ ذیل معضلوں کی بازگشت پیش کرو
١. معضلہ؛ اگر اُس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو وہ کہتا ہے تو وہ شیطان ہے اور اگر اُس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو وہ کہتا ہے تو وہ چالاک ہے (کُبریٰ) یا اُس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو وہ کہتا ہے یا اُس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو وہ کہتا ہے (صُغریٰ) لہٰذا یا وہ شیطان ہے یا چالاک ہے (نتیجہ)
بازگشت؛ اگر اُس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو وہ کہتا ہے تو وہ چالاک نہیں اور اگر اُس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو وہ کہتا ہے تو وہ شیطان نہیں (کُبریٰ) اگر اُس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو وہ کہتا تو وہ شیطان نہیں (صُغریٰ) یا اس کا مطلب وہ ہوتا ہے جو وہ کہتا ہے یا اس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو وہ کہتا ہے (نتیجہ)
٢. معضلہ؛ تمہیں یہ کتاب نہیں لکھنی چاہیے کیونکہ اگر لوگ تمہارے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں تو انہیں اس کتاب کی ضرورت نہیں اور اگر لوگ تمہارے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے تو وہ اس کتاب کو پڑھیں گے ہی نہیں۔
اس معضلہ کی منطقی شکل یہ ہے؛
اگر لوگ تمہارے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں تو انہیں تمہاری کتاب کی ضرورت نہیں اور اگر لوگ تمہارے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے تو وہ تمہاری کتاب کو پڑھیں گے نہیں (کُبریٰ) یا لوگ تمہارے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے (صُغریٰ) لہٰذا یا لوگوں کو تمہاری کتاب کی ضرورت نہیں یا وہ تمہاری کتاب پڑھیں گے نہیں (نتیجہ)(اس لئے تمہیں یہ کتاب نہیں لکھنی چاہیے)
بازگشت؛ اگر لوگ میرے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں تو وہ میری کتاب کو پڑھیں گے اور اگر لوگ میرے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے تو انہیں میری کتاب کی ضرورت ہے (کُبریٰ) یا لوگ میرے ساتھ اتفاق کریں گے یا اتفاق نہیں کریں گے (صُغریٰ) لہٰذا یا لوگ میری کتاب کو پڑھیں گے یا انہیں میری کتاب کی ضرورت ہے (نتیجہ)
٣. طلبا کو خواہ وہ پاس ہوں خواہ فیل کبھی خوشی نہیں مل سکتی۔ کیونکہ اگر وہ فیل ہوں تو انہیں پاس ہونے کی خوشی نہیں ملتی اور اگر وہ پاس ہوں تو آئندہ امتحانوں سے نجات کی خوشی نہیں ملتی۔
اس معضلہ کی منطقی شکل یہ ہے؛
اگر طلبا فیل ہوں تو انہیں پاس ہونے کی خوشی حاصل نہیں ہوتی اور اگر طلبا پاس ہوں تو انہیں آئندہ امتحانوں سے نجات کی خوشی حاصل نہیں ہوتی (کُبریٰ) یا طلبا فیل ہوتے ہیں یا پاس (صُغریٰ) لہٰذا یا طلبا کو پاس ہونے کی خوشی حاصل نہیں ہوتی یا نہیں آئندہ امتحانوں سے نجات کی خوشی حاصل نہیں ہوتی (نتیجہ)
بازگشت؛ اگر طلبا فیل ہوں تو انہیں آئندہ امتحانوں سے نجات کی خوشی حاصل ہوتی ہے اور اگر طلبا پاس ہوں تو انہیں پاس ہونے کی خوشی حاصل ہوتی ہے (کُبریٰ) یا طلبا فیل ہوتے ہیں یا پاس (صُغریٰ) لہٰذا یا طلبا کو آئندہ امتحانوں سے نجات کی خوشی حاصل ہوتی ہے یا انہیں پاس ہونے کی خوشی حاصل ہوتی ہے (نتیجہ)
سُوال؛ ایک ایسا معضلہ بناؤ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ "نصیحت کرنا بےفائدہ ہے" اور اس کی بازگشت پیش کرو
جواب؛ معضلہ؛ اگر تم کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کرو جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ تو تمہاری نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر تم کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کرو جو وہ نہیں کرنا چاہتا تو تمہاری نصیحت رائیگاں جاتی ہے (کُبریٰ) یا تم کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کرو گے جو وہ کرنا چاہتا ہے یا تم کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کرو گے جو وہ نہیں کرنا چاہتا (صُغریٰ) لہٰذا یا تمہاری نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی یا تمہاری نصیحت رائیگاں جاتی ہے (نتیجہ)
بازگشت؛ اگر میں کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کروں جو وہ کرنا چاہتا ہے تو میری نصیحت رائیگاں نہیں جاتی اور اگر میں کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کروں جو وہ نہیں کرنا چاہتا تو اسے میری نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے (کُبریٰ) یا کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کروں گا جو وہ کرنا چاہتا ہے یا میں کسی کو وہ کام کرنے کی نصیحت کروں گا جو وہ نہیں کرنا چاہتا (صُغریٰ) لہٰذا یا میری نصیحت رائیگاں نہیں جاتی یا میری نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے (نتیجہ)(اس لئے نصیحت کرنا بےفائدہ نہیں)
سُوال؛ ایسے معضلے بناؤ جن میں یہ نتیجے ہوں گے کہ "لوگوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی" اور "سزا بےفائدہ ہے" ان کی بازگشت بھی پیش کرو۔
جواب؛ ١. معضلہ؛ اگر لوگوں پر طاقت سے حکومت کی جائے تو وہ باغی ہوجاتے ہیں اور اگر ان پر عقل سے حکومت کی جائے تو وہ لاپرواہ ہوجاتے ہیں (کُبریٰ) یا لوگوں پر طاقت سے حکومت کی جاتی ہے یا عقل سے (صُغریٰ) لہٰذا یا لوگ باغی ہوجاتے ہیں یا لاپرواہ ہوجاتے ہیں (نتیجہ)(اس لیے لوگوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی)
بازگشت؛ اگر لوگوں پر طاقت سے حکومت کی جائے تو وہ لاپرواہ نہیں ہوتے اور اگر ان پر عقل سے حکومت کی جائے تو وہ باغی نہیں ہوتے (کُبریٰ) یا لوگوں پر طاقت سے حکومت کی جاتی ہے یا عقل سے (صُغریٰ) لہٰذا یا لوگ لاپرواہ نہیں ہوتے یا باغی نہیں ہوتے (نتیجہ)(اس لئے لوگوں پر حکومت کی جاسکتی ہے)
٢. معضلہ؛ اگر لوگ اچھے ہوں تو سزا کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر لوگ بُرے ہوں تو سزا کا کوئی اثر نہیں ہوتا (کُبریٰ) یا لوگ اچھے ہیں یا بُرے (صُغریٰ) لہٰذا یا سزا کی ضرورت نہیں ہوتی یا سزا کا کوئی اثر نہیں ہوتا (نتیجہ)(اس لئے سزا بےفائدہ ہے)
بازگشت؛ اگر لوگ اچھے ہوں تو سزا کا اثر ہوتا ہے اور اگر لوگ بُرے ہوں تو سزا کی ضرورت ہوتی ہے (کُبریٰ) یا لوگ اچھے ہیں یا بُرے (صُغریٰ) لہٰذا یا سزا کا اثر ہوتا ہے یا سزا کی ضرورت ہوتی ہے (نتیجہ)(اس لئے سزا بےفائدہ نہیں)۔
صفحات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں