اِستِقراء کی قسمیں
بائیسواں باب
اِستِقراء کی قِسمیں
Kinds of Induction
اِستقراء کی مختلف قسمیں مندرجہ ذیل نقشے سے ظاہر ہيں۔
اِسْتِقراء کی صحیح اور بہترین صورت عِلمی اِستِقراء ہے۔ جیسا کہ ہم پڑھ چُکے ہیں اس کی ضروری خُصُوصیات یہ ہیں؛
١. یہ ایک عمومی معقولی قضیہ مرتب کرتی ہے۔
٢. اس کی بُنیاد مُشاہدۂ حقایٔق پر ہوتی ہے۔
٣. اس میں اِستِقرائی زَقند پائی جاتی ہے، اور
٤. اس کی بُنیاد حقایٔق کے باہمی عِلّتی رشتوں پر ہوتی ہے۔
اِستِقراء کی باقی قسمیں جن میں یہ خُصُوصیات نہیں پائی جاتی عِلمی اِستِقراء نہیں کہلا سکتیں۔ عِلمی اِستِقراء کا کام جُزئ یا مُنفرِد واقعات کے مُشاہدے اور ان کے باہمی عِلّتی رشتوں کی بنا پر ایک تعمیم قائم کرنا ہوتا ہے۔
اعداد و شُمار یا گِنتی
Simple Enumeration
اگر ہم بہت سی مثالوں (یا اپنے غیر مُتضاد تجربے) کی بنا پر بغیر ان کے باہمی عِلّتی رشتوں کو معلوم کرنے کے کوئی تعمیم یعنی کُلیّہ مرتب کریں تو ایسا عمل گنتی یا اعداد و شمار کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے ہمیشہ سبز رنگ کے کے ہی توتے دیکھیں ہیں تو وہ یہ کہے گا کہ "تمام توتے سبز رنگ کے ہوتے ہیں" اُس نے نہ تو خود ہی کسی اور رنگ کا کوئی توتا دیکھا ہے اور نہ کبھی کسی سے سُنا ہے کہ اور رنگوں کے بھی توتے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اپنے اس تجربے کی بنا پر وہ یہ عُمُومی قضیہ کہ "تمام توتے سبز ہیں" قائم کرلیتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ایسے عُمُومی قضیے کہ "تمام مُسلمان ریاضی میں کمزور ہوتے ہیں"، "تمام ہِندؤ اُردو میں کمزور ہوتے ہیں"، "تمام بطخیں سفید ہوتی ہیں" وغیرہ وغیرہ گِنتی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ گِنتی میں ہمیں جتنی مثالیں دستیاب ہوسکیں ان کو ہم محض گِنتے ہیں۔ اور ان سے ایک کُلیّہ قضیہ مُرتب کرتے ہیں۔ اُس کُلیّہ قضیے پر ہمارے اعتماد اور یقین کا انحصار مِثالوں کی تعداد پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم سبز توتوں کی بہت سی مثالیں دیکھیں تو اس سے قُدرتی طور پر ہمارے کُلیّہ قضیّے (تمام توتے سبز ہوتے ہیں) کو تقویّت ملے گی۔ بقول بیکن گِنتی ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی مُتضاد مثال ہماری نظر سے نہیں گُزرتی، گِنتی کا فارمولا مندرجہ ذیل ہے۔ "فُلاں فُلاں واقعات ایسے ہی دیکھے گئے ہیں۔ کوئی متضاد مثال دیکھنے میں نہیں آئی۔ لہٰذا فُلاں فُلاں واقعات ہمیشہ ایسے ہی ہوں گے"۔
ظاہر ہے کہ گنتی میں عملِ تعمیم یعنی اِستِقرائی زَقند جو کہ علمی اِستِقراء کی ایک ضروری خصوصیت ہے، پائی جاتی ہے۔ گِنتی میں جُزئ واقعات یعنی چند مثالوں سے ایک کُلّی قضیے کی طرف استِدلال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس میں علمی اِستِقراء کی ایک ضروری خُصُوصیت نہیں پائی جاتی۔ یعنی حقائق کے باہمی عِلّتی رشتوں کی دریافت۔ باِلفاظِ دیگر گِنتی میں عِلَّتی رشتوں کی بجائے مثالوں کی بنا پر ایک کُلیّہ قضیہ قائم کرلیا جاتا ہے۔ گِنتی میں یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ جو حکم مُشاہدہ شدہ یعنی جُزئ مثالوں پر صادق آتا ہے وہی حُکم کُل پر صادق آئے گا۔ جب ہم بہت سے سبز توتوں کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ "تمام توتے سبز ہوتے ہیں" تو اس عمل اعداد و شُمار یا گنتی میں "توتاپَن" اور "سبز ہونے" کے باہمی علّتی رشتے کو دریافت نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے گنتی کے نتائج بالکل یقینی نہیں ہوتے۔
تمثیل
Analogy
تمثیل کے معنیٰ ہیں مُشابہت۔ تمثیل میں ہمارا استِدلال اشیاء کی باہمی مشابہت پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر ا اور ب بعض باتوں میں ایک دوسرے سے مُشابہ ہیں اور ا میں ایک نئی بات دیکھنے میں آتی ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ بات ب میں بھی موجود ہوگی استِدلالِ تمثیلی کہلاتا ہے۔ چنانچہ تمثیل میں ہم اشیاء کے چند یکساں پہلوؤں کی بنا پر ان کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں فیصلہ کرلیتے ہیں۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ "گرامرفون انسانوں کی طرح گاتے اور باتیں کرتے ہیں اس لئے وہ انسانوں کی طرح عاقل بھی ہیں" تو یہ استِدلالِ تمثیلی ہوگا۔ اسی طرح یہ کہنا بھی استِدلالِ تمثیلی ہے کہ "چونکہ عورتیں جسمانی لحاظ سے مردوں سے ملتی جُلتی ہیں اس لئے انہیں بھی مَردوں کی طرح سیاست میں حصّہ لینا چاہیے"۔ تمثیل کا فارمولا یہ ہے کہ اگر دو اشیاء چند باتوں میں چند باتوں میں ایک جیسی ہیں تو وہ دیگر باتوں میں بھی ایک جیسی ہوں گی۔ مِل تمثیل کی تعریف یوں کرتا ہے "دو چیزیں ایک (یا ایک سے زیادہ لحاظ سے) ایک دوسری سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ایک خاص تصدیق یا قضیہ ایک کے بارے میں درست ہے اس لیے وہ دوسری کے بارے میں بھی درُست ہوگا"۔ یعنی جو حکم ان میں سے ایک پر صادِق آتا ہے وہ حُکم دوسری پر بھی صادِق آئے گا۔ ویلٹن کے نزدیک جُزئ مشابہت سے مزید مشابہت کا استنتاج تمثیل ہے۔
تمثیل میں علمی اِستقراء کی دو ضروری خصوصیات نہیں پائی جاتیں۔ چونکہ تمثیلی استِدلال "کُچھ مشابہت" سے "کُچھ اور مشابہت" کی طرف استِدلال ہوتا ہے، یعنی تمثیل مشابہت کی ایک یا کُچھ مثالوں سے ایک اور مثال کی طرف جاتی ہے اس لیے اس کا نتیجہ ایک عمومی یا کُلیّہ قضیہ نہیں ہوتا۔ یہ "کُچھ" سے "کُچھ" کی طرف جاتی ہے "کُچھ" سے "تمام" کی طرف نہیں جاتی۔ باِلفاظِ دیگر اس میں عملِ تعمیم یا اِستقرائی زَقند نہیں پائی جاتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ تمثیلی استِدلال عِلّتی رشتوں پر مبنی نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا اِستِدلال ہوتا ہے جس میں مشابہت کی کُچھ مثالوں سے مُشابہت کی ایک اور مثال تک (بغیر ان مشابہتوں کے باہمی عِلّتی رشتوں کو دریافت کرنے کے) نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ گِنتی کے نتائج کی طرح تمثیل کے نتائج بھی عام طور پر یقینی نہیں ہوتے۔
گِنتی اور تمثیل دونوں اِستِقراءِ ناقص بھی کہلاتے ہیں۔
اِستقراءِ غیرصالح
INDUCTION IMPROPERLY SO CALLED
اس عنوان کے تحت اِستِقراء کی مندرجہ ذیل تین غیرصالح قسمیں آتی ہیں۔
Perfect Induction ١. اِستِقراءِ تام
Parity of Reasoning ٢. مُشابہتِ اِستِدلال
Colligation of Facts ٣. مجموعۂ حقایٔق
اِستِقراءِ تام؛ اِستِقراءِ تام میں ہم تمام مثالوں کو دیکھ کر مجموعی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ اعداد و شمار کی طرح اس میں بھی ہمارا نتیجہ مثالوں کی گنتی پر مبنی ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ اعداد و شمار میں ہم تمام مثالوں کو نہیں گنتے۔ لیکن اِستِقراءِ تام میں ہم تمام مثالوں کو گنتے ہیں۔ اس لئے اِستِقراءِ تام کو ہم مکمل گِنتی کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں ہر طالبعلم پاکستانی ہے اور اس سے ہم یہ عُمُومی نتیجہ نکالتے ہیں کہ "ہماری جماعت کے تمام طالبعلم پاکستانی ہیں" اسی طرح ہم سال کے ہر مہینے کو دیکھنے کے بعد اِستِقراءِ تام کی مدد سے یہ عُمُومی قضیہ بطور نتیجہ مرتب کرتے ہیں کہ "سال کے تمام مہینوں کے دِن ۳۲ سے کم ہوتے ہیں"۔
اِستِقراءِ تام کا عمومی نتیجہ بالکل یقینی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ہم "تمام" کے دائرے میں آنے والی ہر مثال کا مُشاہدہ کرلیں تو نتیجہ میں کسی شک و شبہ کا اِمکان باقی نہیں رہے گا۔ لیکن اِستِقراءِ تام میں کُلّی نتیجہ مُشاہدہ شُدہ مثالوں کے بارے میں کوئی نئی اِطلاع نہیں دیتا۔ یہ ان مثالوں کا محض ایک خُلاصہ ہوتا ہے۔ اگر میں اپنی جماعت کے ہر طالبعلم کے متعلق یہ دیکھ کر کہ وہ غیرشادی شُدہ ہے یہ عمومی قضیہ مرتب کرلوں کہ "تمام جماعت غیر شادی شدہ ہے" تو یہ عمومی قضیہ ان مثالوں کا جن کو میں دیکھ چکا ہوں۔ صرف خُلاصہ ہوگا۔ چنانچہ اِستِقراءِ تام میں اِستِقرائی زقند نہیں پائی جاتی۔ یعنی وہ زقند جو جانے ہوئے یا دیکھے ہوئے سے نہ جانے ہوئے یا نہ دیکھے ہوئے کی طرف اور "کُچھ" ہے "تمام" کی طرف جاتی ہے۔ اسی لئے مِل اور بین اِستِقراءِ تام کو صحیح اِستِقراء کا درجہ نہیں دیتے۔
مُشابہتِ اِستِدلال
Parity of Reasoning
مُشابہتِ استِدلال میں ہمارا نتیجہ ایک عُمُومی قضیہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ عمومی قضیہ جُزئ مثالوں کے مُشاہدے پر مبنی ہونے کی بجائے مُشابہتِ اِستِدلال پر مبنی ہوتا ہے۔ مُشابہتِ اِستِدلال میں ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس استِدلال کا اِطلاق ایک مثال پر ہوسکتا ہے اسی استِدلال کا اِطلاق اسی قسم کی دیگر مثالوں پر بھی جو عُمُومی قضیے کے ماتحت آتی ہیں، ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم یہ ثابت کرنے کے بعد کہ ا فانی ہے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ یہی بات "تمام آدمیوں" کے متعلق بھی درُست ہے۔ لیکن اس لئے نہیں کہ یہ ایک آدمی کے متعلق درست ہے بلکہ اسی استِدلال کے باعث جو اسے ایک آدمی کے متعلق درست ثابت کرتا ہے۔ باِلفاظِ دیگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر ا فانی ہے تو مُشابہتِ اِستِدلال کا تقاضا ہے کہ تمام آدمی فانی ہونے چاہئیں۔
ظاہر ہے کہ مُشابہت استِدلال میں ہمارا عُمُومی یا کُلیّہ نتیجہ جُزئ مثالوں کی بنا پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ہم یہ نہیں کہتے کپ تمام آدمی اس لئے فانی ہیں کہ ا یا ب فانی ہے بلکہ اس لئے کہ جس استِدلال کا اطلاق ایک آدمی پر ہوتا ہے اسی استِدلال کا اطلاق تمام آدمیوں پر ہوگا۔ اس لئے اگرچہ مشابہتِ استِدلال اور علمی اِستِقراء اس لحاظ سے کہ دونوں میں نتیجہ ایک کُلیّہ قضیہ ہوتا ہے ایک جیسے ہیں۔ تاہم ان میں فرق یہ ہے کہ علمی اِستِقراء میں کُلیّہ قضیہ جُزئ حقائق پر مبنی ہوتا ہے اور مُشابہتِ اِستِدلال میں کلیّہ قضیہ جُزئ حقائق پر مبنی نہیں ہوتا۔ بقول مِل "مُشابہتِ اِستِدلال میں علمی اِستِقراء کی ایک ضروری خُصُوصیت نہیں پائی جاتی کیونکہ اگرچہ اس میں نتیجہ کُلیّہ قضیہ ہوتا ہے تاہم وہ جُزئ مثالوں کی بنا پر تسلیم نہیں کیا جاتا"۔
مجموعۂ حقائق
Colligation of Facts
مجموعۂ حقائق سے مُراد وہ محمل ہے جس میں بہت سے علـٰحدہ علـٰحدہ حقائق کو ایک واحِد کُلیّہ قضیے کے تحت جمع کیا جاتا ہے۔ مجموعۂ حقائق میں ہم پہلے ایک کُل کے مختلف اجزاء کا علـٰحدہ علـٰحدہ مُشاہدہ کرتے ہیں اور پھر ان سب کو اکٹھا کرکے اس کُل کے متعلق نتیجہ مرتب کرتے ہیں۔ مثلًا ایک نابینا ایک ہاتھی کے کانوں، دانتوں، ٹانگوں، سُونڈ، جسم اور دُم کو علـٰحدہ علـٰحدہ چھُوتا ہے اور پھر اپنے جُزئ مُشاہدات کو اِس واحد قضیے کے تحت جمع کردیتا ہے کہ "یہ جانور ہاتھی ہے" اسی طرح جب ایک جہاز ران سمندر میں خُشکی کا ایک ٹُکڑا دیکھتا ہے تو وہ شُرُوع میں یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ یہ جزیرہ ہے یا نہیں۔ چنانچہ وہ اس کے گرد جہاز چلانا شروع کردیتا ہے اور عین اسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس نے جہاز چلانا شروع کیا تھا۔ اب وہ کہتا ہے کہ یہ جزیرہ ہے۔ ایسا کرنے میں اس نے اپنے جُزئ مُشاہدات کو "جزیرہ" کے تصور کے تحت جمع کردیا ہے۔ اسی طرح کیپلر نے بھی مُریخ کی نقل و حرکت کے سلسلے میں اس کی مختلف حرکات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مریخ بیضوی شکل میں حرکت کرتا ہے۔ اُس نے مریخ کی مختلف حرکات کو "بیضویت" کے تصور کے تحت جمع کردیا۔
ظاہر ہے کہ مجموعۂ حقائق میں اِستِقرائی زقند پائی نہیں جاتی۔ اس میں ہم اپنے مُشاہدات سے آگے نہیں بڑھتے۔ اِستِقراءِ تام کی طرح یہ بھی ہمارے مُشاہدات کا محض ایک خُلاصہ ہوتا ہے۔ اور اس میں مشاہدہ شدہ سے غیر مشاہدہ شدہ کا استنتاج پایا نہیں جاتا۔
فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق
علم منطق کی تعریف
فکر کے اُصُول
حُدود اور ان کی اقسام
حُدود کی تعبیر اور تضمن
حُدود قابلِ الحمل
تعریف
تقسیم
قضیے اور اُن کی قسمیں
قضیوں کی چار اساسی شکلیں
استنتاجِ استخراجیہ کی اقسام
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
استنتاجِ بدیہی جہتی
استنتاجِ بالواسطہ یا نظری
قواعدِ قیاس
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
قیاس کی اشکال
مخلوط شرطیہ قیاس
مخلوط منفصلہ قیاس
معضلہ یا قیاسِ ذوالجہتین
مُغالطے
منطقِ اِستِقرائیہ پر اسباق
منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ
صفحات
موجود کا بیانعلم کا بیان
تصور اور تصدیق کا بیان


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں