اشاعتیں

منطقِ استقرائیہ، استقراء، سائنسی طریقہ کار، استدلال کی اقسام، مشاہدہ اور تجربہ، علمِ منطق، فکری ارتقاء لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

منطقِ اِستقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ

تصویر
 اکیسواں باب منطقِ اِستقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ NATURE AND USE OF INDUCTIVE LOGIC Need of induction منطقِ استقرائیہ کی ضرورت جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں منطق صحیح فکر کے قوانین کا علم ہے۔ بالفاظِ دیگر منطق کا تعلق صحّتِ فکر سے ہے۔ ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں صحت سے مُراد یہ ہے کہ (۱) فکر میں خود اپنی ہی تردید پائی نہ جائے اور (۲) فکر حقیقت کے مُطابق ہو۔ صحت پہلے معنوں میں صوری اور دوسرے معنوں میں مادّی کہلاتی ہے۔ صوری صحت میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فکر اپنے آپ سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ اور مادّی صحت میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فکر بیرونی حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ صحت کے انہی دو معنوں کی وجہ سے منطق دو حصّوں میں منقسم ہے یعنی منطقِ استخراجیہ اور منطقِ استقرائیہ منطقِ استخراجیہ استِدلال کی صرف صوری صحت سے تعلق رکھتی ہے اور مقدمات اور نتائج کی مادّی صحت کی جانچ پڑتال نہیں کرتی۔ مقدمات کو صحیح مان کر منطقِ استخراجیہ یہ دیکھتی ہے کہ نتیجہ مانے ہوئے مقدمات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ بالفاظِ دیگر منطقِ استخراجیہ یہ دیکھتی ہے کہ نتیجہ دِئیے ہوئے مقدمات سے لازمی طور پر نکلتا ہے یا نہیں۔ مقدمات ...