اشاعتیں

محصوراتِ اربعہ، قضیہ حملیہ، موجبہ کلیہ، سالبہ کلیہ، موجبہ جزئیہ، سالبہ جزئیہ، منطقی اشکال، علمِ منطق، لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

قضیوں کی چار اساسی شکلیں

تصویر
 دسواں باب قضیوں کی چار اساسی شکلیں Four Standard Forms of Propositions  ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ کمیّت کے لحاظ سے قضیوں کی دو قسمیں ہیں۔ یعنی کُلیّہ اور جُزئیہ۔ اور کیفیت کے لحاظ سے بھی قضیوں کی دو قسمیں ہیں۔ یعنی مُوجِبَہ اور سَالِبَہ۔ اگر ہم کمیّت اور کیفیّت کو یک جا کردیں تو ہمیں کُل چار قضیے ملیں گے۔ یعنی (۱) کُلیّہ اور مُوجِبَہ، (۲) کُلِیّہ اور سَالِبَہ، (۳) جُزئیہ اور مُوجِبَہ، اور (٤) جُزئیہ اور سَالِبَہ۔ قضیوں کی یہی چار اساسی شکلیں ہیں اور باقی تمام قضیوں کو ان چار شکلوں میں سے کسی ایک شکل میں ڈالا جاتا ہے۔ ان چار اساسی قضیوں کو چار نام یا نشان دئیے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ کُلِیّۂ مُوجِبَہ = ا کُلِیّۂ سَالِبَہ = ع جُزئیۂ مُوجِبَہ = ی جُزئیۂ سَالِبَہ = و ا (کُلِیّۂ مُوجِبَہ) {تمام میز گول ہیں، تمام آم میٹھے ہیں، تمام کھلاڑی ذہین ہیں} تمام ا، ب ہے۔ ع (کُلِیّۂ سَالِبَہ) {کوئی میز گول نہیں، کوئی آم میٹھا نہیں، کوئی کھلاڑی ذہین نہیں} کوئی ا، ب نہیں۔ ی (جُزئیۂ مُوجِبَہ) {کچھ میز گول ہیں، کچھ آم میٹھے ہیں، کچھ کھلاڑی ذہین ہیں} کچھ ا، ب ہے۔ و (جُزئیہ سَالِبَہ) {کچھ میز گول...