قانونِ عِلّت
چھبیسواں باب
منطقِ اِستِقرائیہ کی صُوری بُنیادیں
FORMAL GROUNDS OF INDUCTION
قانُونِ عِلَّت
LAW OF CAUSATION
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ قانُونِ عِلَّت اور قانُونِ یکسانئ فطرت منطقِ اِستِقرائیہ کی صُوری بُنیادیں ہیں۔ منطقِ اِستِقرائیہ کو تعمیم کے لئے انہی دو قوانین کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ چنانچہ یہ قوانین منطقِ اِستِقرائیہ کے لئے مفروضاتِ اولیہ ہیں۔
اس باب میں ہم قانونِ عِلّت کا مطالعہ کریں گے اور اگلے باب میں قانونِ یکسانئ فطرت کا۔
قانونِ عِلَّت
قانونِ عِلّت کے یہ معنیٰ ہیں کہ ہر واقعہ کا کوئی نا کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کے لئے جو دنیا میں ظہور پذیر ہوتا ہے کافی وجہ یا عِلّت کا ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں کوئی چیز یا واقعہ یونہی یعنی بلاوجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں کوئی چیز بے وجہ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ چھِڑ جائے یا چاند کو گرہن لگ جائے یا قحط پڑ جائے تو ان واقعات کی ضرور کوئی عِلّت ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم کسی واقعے کی علّت سے بےخبر ہوتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ وہ واقعہ اتفاقیہ طور پر رونما ہوا لیکن "اتفاق" سے مُراد عدمِ عِلّت نہیں بلکہ ہمیں علّت کا علم نہیں۔ جب ہم ایک سکّے کو ہوا میں اُچھالتے ہیں اور وہ زمین پر گِرتا ہے تو کبھی اس کا چہرہ اور کبھی اس کی پُشت اوپر کی طرف ہوتی ہے لیکن درحقیقت ہوا میں اُچھالے جانے سے پہلے سکّے کی قلابازیاں وغیرہ وغیرہ اُس کے چہرے یا پُشت پر گرنے کی عِلّت ہے۔ اسی طرح جب ایک طالبعلم کمرۂ امتحان میں یکایک پیٹ درد محسوس کرتا ہے اور اپنے پرچے کو نامکمل چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ بےچارا طالب علم ایک اتفاقی حادثے کا شکار ہوا۔ لیکن کیا یہ بات درست ہے؟ کیا وہ غذا جو اس نے امتحان سے پہلے کھائی تھی اس کے پیٹ درد کی وجہ نہیں؟ یا کیا امتحان کے متعلق اس کی تشویش یا اضطراب اس واقعہ کا باعث نہیں؟ اور اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی اس کے پیٹ درد کی وجہ نہیں تو پھر کوئی اور وجہ ہوگی جس کا ہمیں علم نہیں۔ چنانچہ جب بھی ہمیں کسی واقعہ کی صحیح عِلّت کا علم نہ ہو تو ہم اسے ایک "اتفاقی" واقعہ کہہ دیتے ہیں۔ لیکن جونہی ہمیں کسی واقعہ کی عِلّت کا علم ہوجاتا ہے ہم اسے "اتفاقی" کہنے کی بجائے اُس عِلّت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مکمل علم کے حاصل ہوجانے پر یعنی واقعات کی عِلّتوں کے معلوم ہوجانے پر ہمارا "اتفاقیت" پر یقین بھی جاتا رہتا ہے۔ جو چیز شروع میں ہمیں اتفاقی نظر آتی ہے وہ بعد میں کسی عِلَّت سے متعلق ثابت ہوجاتی ہے۔ چنانچہ قانونِ عِلّت یہ کہتا ہے کہ دُنیا میں کوئی چیز اتفاقی یا بے وجہ نہیں ہوتی۔ دُنیا غیرمنظم واقعات کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر چیز اور ہر واقعہ کسی عِلّت سے تعلق رکھتا ہے۔ اب سُوال پیدا ہوتا ہے کہ "عِلّت" کا کیا مطلب ہے؟ یہ سوال فلسفیوں کے لئے بڑی مدت تک موضوعِ بحث رہا ہے اور شائد ابھی تک وہ اس کے متعلق آپس میں متفق نہیں۔ اب ہم قانونِ عِلَّت کے متعلق مختلف نظریات کا علـٰحدہ علـٰحدہ مطالعہ کرتے ہیں۔
ارسطو کا نظریۂ تعلِیل
ARISTOTLE'S VIEW OF CAUSATION
ارسطو کے نزدیک عِلّت کی چار قسمیں ہیں۔
Material Cause ١. علّتِ مادّی
Formal Cause ٢. عِلَّتِ صُوری
Efficient Cause ٣. عِلَّتِ فاعلی
Final Cause ٤. عِلَّتِ غائی
کسی چیز کی عِلَّتِ مادّی سے مُراد وہ مادّہ ہے جس سے وہ چیز بنی ہو۔ کسی چیز کی عِلَّتِ صوری سے مُراد وہ شکل یا صورت ہے جو اس چیز کو دی گئی ہو۔ کسی چیز کی عِلَّتِ فاعلی سے مُراد وہ قُوَّتِ عاملہ ہے جو اُس چیز کے بنانے میں صرف ہوئی ہو اور کسی چیز کی عِلَّتِ غائی سے مُراد وہ مقصد یا غرض ہے جس کے لئے وہ چیز بنائی گئی ہو۔ مثال کے طور پر ایک کُرسی کی عِلَّتِ مادِّی لکڑی یا لوہا یا وہ مادّہ ہے جس کی وہ کُرسی بنی ہوئی ہے۔ اس کی عِلَّتِ صوری اس کی شکل ہے۔ اس کی عِلَّتِ فاعلی بڑھئی کی محنت یا قوت ہے اور اس کی عِلَّتِ غائی بڑھئی کا وہ مقصد (مثلًا اپنی روزی کمانا) ہے جس کے لئے اُس نے وہ کُرسی بنائی۔
یہ زمانۂ قدیم میں عِلَّت کے متعلق ارسطو کا نظریہ تھا۔ ارسطو کا یہ نظریہ اشیاء کی تعریفیں وضع کرنے میں ہمارے لئے بڑا مُفید ثابت ہوتا ہے۔ ہم اکثر اشیاء کی تعریفیں وضع کرتے وقت ان کی عِلَّتِ مادِّی، عِلَّتِ صُوری، عِلَّتِ فاعلی اور عِلَّتِ غائی کا ذکر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم روپیہ کی یوں تعریف کرتے ہیں کہ یہ چاندی کا ایک گول سکّہ ہے جسے حکومت خرید و فروخت کے لئے بطور ذریعہ مُبادلہ گھڑتی ہے۔ اسی طرح ایک مجسمے کی تعریف ہم یوں کرتے ہیں کہ یہ لوہے، سنگِ مَرمَر، یا کسی اور دھات یا پتھر کا بُت ہوتا ہے جو کسی بڑے آدمی کی شبیہہ ہوتا ہے اور اس کی یاد کو قائم رکھنے کے لئے بنایا جاتا ہے۔
زمانۂ وسطیٰ میں قوتِ فاعلی کی اہمیت پر بہت زور دے دیا گیا تھا اور عِلَّت کا مطلب محض عِلَّتِ فاعلی تھا۔ مادّہ بالکل بےجان اور بے قوت ہونے کی وجہ سے عِلَّت کہلانے کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں عِلَّت کو ایسی طاقت یا قوت خیال کیا جاتا تھا جو معلول کو پیدا کرتی ہے۔
ہیوم کا نظریۂِ تعلِیل
HUME'S VIEW OF CAUSATION
![]() |
| داؤد ہیومؔ |
اٹھارویں صدی میں ہیوم نے عِلّت کے اس نظریہ کی کہ یہ ایک قسم کی طاقت یا قوت ہے جو معلول کو "پیدا" کرتی ہے مخالفت کی۔ وہ کہتا ہے کہ معلول کے مقابلے میں عِلّت کی حیثیت ایک فاعل کی نہیں بلکہ صرف ایک مقدم کی ہے۔ یعنی عِلّت معلول کو "پیدا" نہیں کرتی بلکہ صرف اس سے پہلے واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح معلول عِلّت کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ صرف اس کا مؤخر یا تالی ہوتا ہے۔ چنانچہ ہیوم کے نزدیک رشتۂ تعلیل محض تقدّم اور تاخُّر کا رشتہ ہے۔ ایک واقعہ پہلے وقوع پذیر ہوتا ہے اور ہم اسے عِلّت کہہ دیتے ہیں ایک اور واقعہ بعد میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور ہم اُسے معلول کہہ دیتے ہیں۔ علّت و معلول کے اس رشتۂ تعلِیل میں ہم عِلّت کی فعلیّت کا مشاہدہ نہیں کرتے بلکہ محض ان کے تسلسلِ زمانی کا مُشاہدہ کرتے ہیں۔ مثلًا اگر خُشک سالی قحط کی عِلّت ہو تو ہیوم کے نزدیک خشک سالی نے "قحط" کو پیدا نہیں کیا بلکہ یہ محض ایک واقعہ ہے جو قحط سے پہلے وقوع پذیر ہوا۔ چنانچہ عِلّت اور معلول محض دو واقعے ہوتے ہیں۔ ایک پہلے آتا ہے دوسرا بعد میں۔
لہٰذا عِلَّت ایک واقعہ ہے جو معلول سے پہلے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ محض معلول کا مقدم ہوتا ہے۔ لیکن ہر مقدم عِلّت کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔ مثلًا اگر ایک جنگ کے چھِڑنے سے پہلے سورج گرہن واقعہ ہو تو سورج گرہن جنگ کا مقدم تو ہوگا لیکن جنگ کی علّت نہیں کہلاسکتا۔ اسی طرح اگر کسی مکان کو آگ لگنے سے پہلے سورج طُلُوع ہو تو سورج کا طُلُوع ہونا آگ لگنے کا باعث یا عِلّت نہیں کہلاسکتا۔ کیونکہ آگ رات کے وقت بھی جب کہ سورج نہیں ہوتا لگ سکتی ہے۔ لہٰذا صرف وہ مقدم عِلّت کہلاسکتا ہے جو معلول کے وقوع پذیر ہونے کے لیے ضروری ہو۔ یعنی جس کے بغیر معلول نہ ہو سکے۔ ایک معلول سے پہلے بہت سے واقعات یعنی مقدمات وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ہیوم کے نزدیک ان میں سے صرف وہ مقدم عِلّت ہوتا ہے جو مستقل طور پر یعنی ہمیشہ معلول سے پہلے آئے۔ اگر ایک واقعہ کبھی تو معلول سے پہلے وقوع پذیر ہو اور کبھی نہ ہو تو وہ اس معلول کا ایک غیرمستقل مقدم ہوگا اور اس لئے اس معلول کی عِلّت نہیں ہوگا۔
غرضیکہ ہیوم یہ کہتا ہے کہ عِلّت، معلول کا مستقل مقدم ہوتا ہے اور اسی طرح معلول علّت کا مستقل مؤخر یا تالی ہوتا ہے چنانچہ ہیوم کے نظریے کے مطابق عِلَّت میں دو صفتیں پائی جاتی ہیں یعنی تقدم اور اِستِقلال
مِل کا نظریۂِ تعلِیل
Mill's view of Causation
![]() |
| جان سٹوارٹ مِل |
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ہیوم کے نزدیک رشتۂ تعلیل محض ایک مستقل رشتہ ہے۔ مِل نے اس نظریے میں کُچھ ترمیم کردی۔ وہ کہتا ہے کہ محض مستقل رشتہ تعلیل نہیں کہا جاسکتا۔ ہوسکتا ہے کہ ایک واقعہ ایک دوسرے واقعے سے ہمیشہ یعنی مستقل طور پر پہلے وقوع پذیر ہو لیکن اس کی عِلَّت نہ ہو۔ مثلًا سوموار ہمیشہ منگلوار سے پہلے آتا ہے دِن ہمیشہ رات سے پہلے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ لیکن کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سوموار، منگلوار کی عِلَّت ہے یا دِن، رات کی عِلَّت ہے؟ ہیوم کے ساتھ مِل اس بات پر متفق ہے کہ عِلّت ایک ایک مستقل مقدم ہوتا ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ اگرچہ استِقلال عِلَّت کے لیے ضروری ہے لیکن کافی نہیں۔ مِل کے نزدیک عِلَّت کے لیے محض مستقل ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ غیر مشروط ہونا بھی ضروری ہے۔ علّت کے غیرمشروط ہونے سے مِل کی مُراد یہ ہے کہ علّت کو خود مکتفی ہونا چاہیے۔ بقول بین عِلَّت معلول کے لئے بذاتِ خود کافی ہوتی ہے اس کا ہونا معلول کے لئے اور اس کا نہ ہونا معلول کے نہ ہونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ دن کو ہم اس لئے رات کی عِلَّت قرار نہیں دے سکتے کہ یہ رات کے ہونے کے لیے غیرمشروط عِلَّت نہیں بلکہ اس کا انحصار اس شرط پر ہوتا ہے کہ زمین سورج کے سامنے اپنے مِحوّر پر گردش کرے۔ اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ محنت کامیابی کی علّت ہے بشرطیکہ قسمت اچھی ہو تو ہم محنت کو کامیابی کی عِلت قرار نہیں دے سکتے کیونکہ یہ غیرمشروط طور پر کامیابی کی وجہ نہیں۔ عِلّت کا غیرمشروط ہونا محض اس کا خود مکتفی ہونا ہے۔
لیکن علت کے غیرمشروط ہونے سے مِل کی مراد ہیوم کی طرح یہ نہیں تھی کہ علّت صرف ایک مقدم پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔ بلکہ اس کا خیال یہ ہے کہ عِلَّت بہت سے مقدمات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مِل عِلَّت میں ان تمام مقدمات یا اسباب کو شامل کرتا ہے جو معلول کے وقوع پذیر ہونے کا باعث ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی واقعہ کا صرف ایک ہی سبب ہوتا ہے۔ عام طور پر بہت سے اسباب مِل کر ایک واقعہ کو پیدا کرتے ہیں اور ان سب اسباب کو اس واقعہ کی عِلَّت میں شامل کرنا چاہیے۔ مثلًا کسی شخص کی سیرت کا انحصار صرف اس کی وراثت پر ہی نہیں ہوتا۔ صرف چوکیدار کی غفلت ہی چوری کا باعث نہیں ہوتی۔ صرف بادلوں کا آسمان پر چھا جانا ہی بارش کی وجہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ عِلَّت صرف ایک ہی مقدم پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ بہت سے مقدمات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اگر ایک شخص کسی غذا کے کھانے کے بعد مر جائے تو صرف وہی غذا اس کی موت کی وجہ نہیں ہوگی بلکہ اس کی موجودہ صحت، آب و ہوا وغیرہ وغیرہ سبھی اسباب مل کر اس واقعہ کے باعث ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہی غذا کسی اور شخص کے لئے یا اس شخص کے لئے دیگر حالات میں مُہلک ثابت نہ ہوتی۔ چنانچہ مِل عِلّت کی یوں تعریف کرتا ہے کہ یہ مستقل اور غیر مشروط مقدمات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ عِلَّت کے متعلق ہیوم کی بیان کی ہوئی دو صفتوں یعنی تقدم اور استقلال میں مِل نے دو اور صفتوں یعنی غیر مشروط ہونے اور مرکب ہونے کا اضافہ کردیا۔ ہیوم اور مِل کا نظریہ نظریۂِ تسلسلِ تعلیل کہلاتے ہیں۔ Sequence View of Causation
تعلیل بطور بقائے قوت و مادّہ
Causation as Conservation of Energy and Matter
موجودہ زمانے میں قانونِ بقائے قوت و مادّہ کے تحت عِلَّت اور معلول کا بلحاظِ کمیت مطالعہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قانونِ بقائے قوت و مادّہ یہ کہتا ہے کہ گو قوت و مادہ اپنی شکلیں بدلتے رہتے ہیں لیکن نظامِ عالم میں ان کی مجموعی مقدار یکساں رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک شکل سے کسی اور شکل میں تبدیل ہونے میں قوت اور مادّہ نہ تو فنا ہوتے ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ مثلًا جب ہم ایک برتن میں پانی کو کافی گرم کرتے ہیں تو وہ برتن خالی ہوجاتا ہے۔ لیکن اس عمل میں کُچھ بھی ضائع نہیں ہوتا۔ جو چیز پہلے پانی تھی وہ بعد میں بھاپ بن جاتی ہے۔ یعنی جو چیز ظاہری طور پر فنا ہوگئی ہے اس نے دراصل ایک اور شکل اختیار کرلی ہے۔ قوت اور مادّہ ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن ان کی مجموعی مقدار میں نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے نہ کمی۔ اگر چند عناصر کو کیمیاوی طور پر ملا دیا جائے تو ان سے پیدا شدہ مرکب کا وزن ان عناصر کے مجموعی وزن کے برابر ہوگا۔ جب ہائیڈروجن کی کُچھ مقدار اور آکسیجن کی کُچھ مقدار کو کیمیاوی طور پر ملا کر ان سے پانی پیدا کیا جاتا ہے تو اس پانی کا وزن بالکل ہائیڈروجن اور آکسیجن کے مجموعی وزن کے برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح نمک کا وزن سوڈیم اور کلورین (جن کی کیمیاوی ملاوٹ سے نمک پیدا ہوتا ہے) کے مجموعی وزن کے برابر ہوتا ہے۔
اس قانون بقائے قوت و مادہ کا قانونِ تعلیل پر بڑا اثر ہوا ہے۔ اس قانون کے مطابق تعلیل سے مراد محض مادہ اور قوت کا ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہونا ہے۔ یعنی عِلَّت محض معلول کی شکل میں تبدیل ہوتی ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ بھاپ ریلوے انجن کی حرکت کو "پیدا" کرتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھاپ ہی ریلوے کے انجن کی حرکت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بھاپ (جو کہ عِلَّت ہے) اور ریلوے انجن کی حرکت (جو کہ معلول ہے) محض ایک ہی قوت کی دو مختلف شکلیں ہیں۔ اسی طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ سیاہی کا قطرہ کاغذ پر گِر کر دھبہ "پیدا" کردیتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سیاہی کے قطرے کا کاغذ پر گِرنا ہی دھبہ ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ برف گرم ہوا کر پانی "پیدا" کرتی ہے اور پانی گرم ہوکر بھاپ "پیدا" کرتا ہے تو حقیقت یہ ہوتی ہے کہ برف گرم ہوکر پانی بن جاتی ہے اور پانی گرم ہو کر بھاپ بن جاتا ہے۔ برف، پانی اور بھاپ تین مختلف چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی چیز کی تین مختلف شکلیں ہیں۔
چنانچہ عِلَّت اور معلول ایک ہی مادہ یا قوت کی دو مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ عِلَّت معلول کو "پیدا" نہیں کرتی بلکہ معلول بن جاتی ہے یا معلول میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بجلی روشنی کو "پیدا" نہیں کرتی بلکہ روشنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ لہٰذا معلول محض تبدیل شدہ عِلَّت ہوتی ہے۔ باِلفاظِ دیگر عِلَّت اور معلول ایک ہی واقعہ کے دو مختلف نام ہیں۔ تبدیل ہونے سے پہلے وہ واقعہ عِلَّت کہلاتا ہے اور تبدیل ہونے کے بعد معلول۔ عِلَّتِ محض مخفی معلول ہے اور معلول محض آشکارہ عِلَّت ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب عِلَّت معلول میں تبدیل ہوتی ہے تو اس تبدیلی کے عمل میں کوئی قوت یا مادّہ نہ پیدا ہوتا ہے نہ فنا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عِلَّت اور معلول بلحاظِ کمیّت یا مقدار ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں۔ اگر عِلَّت معلول سے زیادہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کُچھ قوت یا مادہ ضائع ہوگیا ہے اور اگر عِلَّت معلول سے کم ہو تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ کُچھ قوت یا مادہ پیدا ہوگیا ہے لیکن قانون بقائے مادّہ و قوّت کے مطابق نہ تو مادّہ اور قوّت ضائع ہوتے ہیں اور نہ ان میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی مقدار یکساں رہتی ہے۔ لہٰذا عِلَّت اور معلول ایک دوسرے سے نہ زیادہ ہوسکتے ہیں نہ کم۔ یعنی وہ بالکل ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں۔
غرضیکہ قانون بقائے مادّہ و قوّت ہمیں یہ بتاتا ہے کہ عِلَّت، معلول کو "پیدا" نہیں کرتی بلکہ معلول میں تبدیل ہوجاتی ہے اور مقدار میں معلول کے برابر ہوتی ہے چنانچہ عِلَّت کی ایک اور صفت اس کی معلول کے ساتھ مقداری یا کمیاتی مساوات ہے۔
نظریۂِ تسَلسُلِ تعلِیل کے مدارج
Development of the Sequence View of Causation
ہم نے تعلیل کے متعلق جن مختلف نظریات کا مطالعہ کیا ہے وہ یہ ہیں؛
١. فاعلی نظریہ؛ جو یہ کہتا ہے کہ عِلّت ایک طاقت ہے جو معلول کو "پیدا" کرتی ہے۔ Efficiency View
٢. تسلسلی نظریہ؛ جو یہ کہتا ہے کہ عِلَّت ان مقدمات کا مجموعہ ہوتی ہے جو مستقل اور غیرمشروط طور پر معلول سے پہلے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ Sequence View
٣. بقائی نظریہ؛ جو یہ کہتا ہے کہ عِلَّت اور معلول ایک ہی قوت یا مادّے کی دو مُختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ ان تینوں نظریات میں سے عِلَّت کا تسلسلی نظریہ منطقیوں کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول ہے۔ بقول وین یہ نظریہ مندرجہ ذیل مختلف مدارج میں سے گُزرتا ہے۔ Conservation View
Popular Stage ١. عوامی منزل
Scientific Stage ٢. علمی منزل
Speculative Stage٣. فکری منزل
عوامی منزل
یہ عوام الناس کی منزل ہے۔ اس منزل پر تعلیل اور محض ہم موجودیّت میں کوئی تمیز نہیں کی جاتی۔ اگر ا اور ب محض ہم موجود ہوں، یعنی ہمیشہ اکٹھے پائے جائیں تو اُن کی ہم موجودیّت ان کی باہمی تعلیل سمجھی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ایک عام آدمی مرکّب عِلَّت میں سے صرف ایک ہی مقدم کو انتخاب کرکے اسے علّت کہہ دیتا ہے۔ اسی طرح مرکّب معلول میں سے صرف ایک ہی مؤخّر کو چُن کر اسے معلول کہہ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک مریض کسی دوا سے صحت یاب ہوجائے تو عام طور پر اس کی صحت یابی صرف دوا ہی کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور باقی تمام اسباب (مثلًا اس کی تیمارداری، پرہیزی غذا، مکمل آرام وغیرہ وغیرہ) کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ صحت یابی کی صحیح عِلَّت ان تمام اسباب کا مجموعہ ہے صرف دَوَا نہیں۔ اسی طرح اگر کسی ٹیم کو میچ میں جیت حاصل ہوجائے تو وہ جیت عام طور پر صرف کپتان کی طرف منسوب کی جاتی ہے حالآں کہ جیت کا انحصار ساری ٹیم پر ہوتا ہے۔ صرف اکیلے کپتان یا کسی ایک کھِلاڑی پر نہیں ہوتا۔
اسی طرح ایک عام آدمی موخّرات کے سارے مجموعے میں سے صرف ایک موخّر کو چُن کر معلول کہہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ کہتا ہے کہ طاعون سے بھی موت پیدا ہوتی ہے اور ہیضے سے بھی موت پیدا ہوتی ہے۔ یہاں بھی اس نے موخّرات کے سارے مجموعے میں صرف ایک موخّر کو چُن کر اسے معلول کہہ دیا ہے۔
علمی منزل
یہ منزل عوامی منزل سے آگے ہے۔ اس منزل پر تعلیل اور ہم موجودیت میں تمیز کی جاتی ہے اور علمی لحاظ سے تعلیل کو ہم موجودیت سے زیادہ اہم قرار دیا جاتا ہے۔
دوسرے اس منزل پر عِلَّت اور معلول کے تسلسل میں ان کے اتِّصال یا قُرب پر زور دیا جاتا ہے۔ اگر عِلَّت اور معلول کے درمیان بہت لمبا وقفہ ہو تو عِلَّت غیرمشروط نہیں رہ سکتی کیوں کہ اس اثناء میں اور عِلَّتوں کی مداخلت کا بھی اِمکان ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ عِلَّت فورًا معلول سے پہلے اور معلول فورًا عِلَّت کے بعد واقع ہو۔ ایک ایسا مقام جو زمانی طور پر معلول سے بعید ہو اُس کی عِلَّت نہیں کہلاسکتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص کی موت کی عِلَّت اس کی وہ بیماری ہوتی ہے جو اسے حال ہی میں ہوئی تھی نہ کہ وہ بیماری جو اسے بچپن میں ہوئی تھی۔ لیکن اگرچہ عِلَّت، معلول سے فورًا پہلے واقع ہوتی ہے تاہم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بعض حالات میں مقدماتِ بعید بھی قابِ توجہ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ معلول سے ناگزیر طور پر تعلق رکھتے ہوں۔ مثال کے طور پر ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک ظالم حکومت، بغاوت کی وجہ ہوتی ہے۔ لیکن بغاوت پر آمادہ ہونے سے پہلے لوگ عام طور پر کئی سالوں تک ظلم کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔ ان کی بےاطمینانی کا مواد مدت تک اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور آخر کار کوئی واقعہ مثلًا ان کے کسی محبوب لیڈر کی گرفتاری ان کی بغاوت کی فوری عِلَّت بن جاتی ہے۔ یہاں اگرچہ بغاوت کی فوری عِلَّت ان کے محبوب لیڈر کی گرفتاری ہے لیکن اس معلول کے مقدماتِ بعید بھی خاصی اہمیّت رکھتے ہیں۔ پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ عِلَّت اور معلول کا باہمی قُرب نہایت ضروری ہے۔ باِلفاظِ دیگر عِلَّت کے لیے معلول سے فورًا پہلے واقع ہونا اور معلول کے لیے عِلَّت کے فورًا بعد واقع ہونا ضروری ہے۔ میلون کہتا ہے کہ "ہمارے پاس (۱) علت ہے۔ مثلًا کسی زندہ جسم میں جراثیم کا داخل ہونا، اور (۲) اس کا معلول۔ یعنی ایک خاص بیماری کا کچھ دیر کے بعد ظاہر ہونا۔ اس مثال میں (عِلَّت اور معلول کے) ظاہری بُعد کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے فوری معلول کو مدِّنظر نہیں رکھا۔ بلکہ اس کے ایک خاص حد تک پہنچ جانے تک انتظار کیا ہے اور اسے معلول قرار دیا ہے (دراصل) عِلَّت اور معلول کو محض ایک ایسی ریاضیاتی لکیر ایک دوسرے سے جُدا کرتی ہے جس کی کوئی چوڑائی نہیں ہوتی۔ ہمارا ذہن اس لکیر کو حالات کی رَو میں بطور ایک حَدِّ فاصل ڈال دیتا ہے۔ اس (لکیر) کے ایک طرف ہم عِلَّت کو رکھتے ہیں اور دوسری طرف معلول کو۔ لیکن درحقیقت (عِلَّت اور معلول میں) کوئی توقف نہیں ہوتا۔ سارا عمل مسلسل اور غیر منقطع طور پر واقع ہوتا ہے۔ عِلَّت کا کام اسی وقت شروع ہوجاتا ہے جب کہ معلول پیدا ہونا شروع ہوتا ہے"۔
فکری منزل
یہ منزل، علمی منزل سے ایک قدم آگے ہے۔ اس منزل پر معلول کو بھی علّت کی طرح مرکب یعنی موخّرات کا ایک مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک شخص زہر کھا لیتا ہے اور مر جاتا ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ زہر سے موت واقع ہوئی ہے۔ لیکن حقیقت میں موت بہت سے موخّرات میں سے صرف ایک موخّر ہے اور صحیح معلول تمام موخّرات کا مجموعہ ہے۔ چنانچہ عوامی نظریہ جس کے مطابق مرکّب معلول میں سے ایک نمایاں موخّر کو چُن لیا جاتا ہے صحیح نہیں۔
نشانات کی مدد سے ہم مندرجہ بالا تینوں منزلوں کے فرق کو یوں بیان کرسکتے ہیں۔
١. عوامی منزل = ع → م
٢. علمی منزل = ع → م
٣. فکری منزل = ع → م
نوٹ؛ چھوٹے ع اور چھوٹے م سے مُراد یہ ہے کہ مُرکّب عِلّت میں سے صرف ایک مقدم کو اور مرکّب معلول میں سے صرف ایک موخّر کو چُن لیا گیا ہے۔ بڑے ع اور بڑے م سے مُراد یہ ہے کہ عِلَّت اور معلول دونوں مرکب ہیں۔
عِلَّت اور اسباب
CAUSE AND CONDITIONS
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ عِلَّت بہت سے عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ معلول صرف ایک ہی مقدم سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ بہت سے مقدّّمات کے مجموعے سے پیدا ہوتا ہے جن میں سے ہر ایک کو "سبب" کہتے ہیں۔ چنانچہ عِلّت ان تمام اسباب پر مشتمل ہوتی ہے جن سے معلول پیدا ہوتا ہے۔ ہر وہ چیز یا واقعہ جو معلول پر اثر انداز ہو اور اس کے وقوع پذیر ہونے کے لیے ضروری ہو سبب کہلاتا ہے۔
معلول پر ایک سبب کا اثر دو طرح ہوسکتا ہے۔ ایک تو اس کو پیدا کرنے کا اور دوسرے اس کو روکنے کا۔ دوسرے لفظوں میں ایک سبب یا تو مثبت ہوسکتا ہے یا منفی۔ ایک مثبت سبب وہ ہوتا ہے جو معلول کو وقوع پذیر ہونے میں مدد دے۔ یعنی جس کی موجودگی کے بغیر معلول وقوع پذیر نہ ہوسکے۔ باِلفاظِ دیگر ایک مثبت سبب وہ ہوتا ہے جس کا معلول ہونا معلول کے ہونے کے لئے ضروری ہو۔ معلول کے ہونے کے لئے مثبت سبب کی موجودگی اور منفی سبب کی غیر موجودگی ضروری ہوتی ہے مثال کے طور پر لکڑی کے ایک ٹکڑے کو جلانے کے لیے آکسیجن کا ہونا اور نمی کا نہ ہونا ضروری ہیں۔ لہٰذا جلنے کے لئے آکسیجن ایک مثبت سبب اور نمی ایک منفی سبب ہے۔ چنانچہ اسباب مثبت بھی ہوسکتے ہیں اور منفی بھی اور وہ تمام مل کر عِلَّت بنتے ہیں لیکن ہم اپنی روزمرّہ کی زندگی میں بہت سے اسباب میں سے صرف ایک ہی سبب کو چُن کر عِلّت کہہ دیتے ہیں۔ عام طور پر اُس سبب کو عِلَّت کہا جاتا ہے جو یا تو بہت نمایاں ہو یا معلول سے فورًا پہلے واقع ہوا ہو لیکن یہ عوامی نظریہ جس کے متعلق صرف ایک ہی سبب کو بطورِ عِلَّت چُن لیا جاتا ہے اور باقی تمام اسباب کو نظرانداز کردیا جاتا ہے، علمی لحاظ سے صحیح نہیں۔ علمی لحاظ سے عِلَّت تمام اسباب (مثبت اور منفی) کا مجموعہ ہوتی ہے۔
مِل کا نظریۂِ کثرتِ عِلَل
MILL'S DOCTRINE OF PLURALITY OF CAUSES
ہم سب یہ مانتے ہیں کہ ایک ہی عِلَّت ہمیشہ ایک ہی معلول کو پیدا کرتی ہے۔ لیکن اس کا اُلٹ کہ "ایک ہی معلول ہمیشہ ایک ہی علت سے پیدا ہوتا ہے" ہم نہیں مانتے۔ مثلًا ہم تو یہ مانتے ہیں کہ آگ ہمیشہ گرمی پیدا کرتی ہے۔ زہر ہمیشہ موت پیدا کرتا ہے۔ سُورج ہمیشہ روشی پیدا کرتا ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں مانتے کہ گرمی ہمیشہ آگ سے پیدا ہوتی ہے۔ یا موت ہمیشہ زہر سے پیدا ہوتی ہے۔یا روشنی ہمیشہ سورج سے پیدا ہوتی ہے۔ باِلفاظِ دیگر ہم یہ مانتے ہیں کہ ہم عِلَّت سے معلول کی طرف تو اِستِدلال کرسکتے ہیں لیکن معلول سے عِلَّت کی طرف اِستِدلال نہیں کرسکتے۔ یعنی ہم یہ مانتے ہیں کہ ایک ہی معلول مختلف عِلَّتوں سے پیدا ہوسکتا ہے۔ مثلًا گرمی بجلی سے بھی پیدا ہوسکتی ہے اور آگ سے بھی۔ موت ہیضے سے بھی پیدا ہوسکتی ہے اور ڈوبنے سے بھی۔ رُوشنی سورج سے بھی پیدا ہوسکتی ہے اور ایک موم بتی سے بھی۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہر معلول کے لیے کثرتِ علل ممکن ہے۔ یہ تھا مِل کا نظریۂِ کثرتِ عِلل۔ وہ لکھتا ہے کہ "یہ درست نہیں کہ ایک معلول صرف ایک ہی عِلَّت سے تعلُّق رکھتا ہو۔ یا ایک واقعہ صرف ایک ہی طرح پیدا ہوسکتا ہو۔ کئی عِلَّتیں حرکت پیدا کرسکتی ہیں۔ کئی عِلَّتیں موت پیدا کرسکتی ہیں۔ ایک معلول کبھی ایک عِلَّت کا نتیجہ ہوتا ہے اور کبھی اس عِلَّت کے بغیر ہی کسی اور عِلَّت سے بھی بالکل اُسی طرح پیدا ہوسکتا ہے"۔
چنانچہ مِل کا عقیدہ ہے کہ بالکل ایک ہی معلول مختلف عِلَّتوں سے پیدا ہوسکتا ہے۔ یعنی بالکل ایک ہی معلول کبھی ایک عِلَّت اور کبھی دوسری عِلَّت کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ایک ہی معلول ا کبھی تو عِلّت ب سے پیدا ہوسکتا ہے اور کبھی عِلَّت ج یا د سے۔
یاد رہے کہ کثرتِ عِلَل اور اور اجتماعِ عِلَل میں بڑا فرق ہے۔ اجتماعِ عِلَل کا یہ مطلب ہے کہ بہت سی عِلَّتیں مل کر ایک مجموعی معلول کو پیدا کرتی ہیں لیکن کثرتِ عِلَل کا یہ مطلب ہے کہ بہت سی عِلَّتیں علـٰحدہ علـٰحدہ ایک ہی معلول کو پیدا کرسکتی ہیں۔ اس فرق کو ہم نشانات کی مدد سے ہم یوں ظاہر کرسکتے ہیں۔
فرض کیجئے کہ ا ایک معلول ہے۔ اگر یہ معلول ب+ج+د سے پیدا ہو تو یہ اِجتِماعِ عِلَل کی مثال ہوگی۔ لیکن اگر یہ معلول ب یا ج یا د سے پیدا ہو تو یہ کثرتِ عِلَل کی مثال ہوگی۔ باِلفاظِ دیگر نظریۂِ کثرتِ عِلَل یہ کہتا ہے کہ مختلف عِلَّتیں علـٰحدہ علـٰحدہ ایک ہی معلول کو پیدا کرسکتی ہیں۔ اس نظرئیے کو بعض اوقات نظریۂِ قائم مقامئ عِلَل بھی کہتے ہیں۔
اعتراضات
١. مِل کا نظریۂِ کثرتِ عِلَل مِل کے اپنے نظریۂِ تعلیل کے خِلاف ہے۔ اس نے خود ہی عِلَّت کی یہ تعریف کی ہے کہ عِلَّت مُستَقِل اور غیر مشروط مُقدمات کا مجموعہ ہے۔ اس تعریف کے مطابق اگر ایک عِلَّت کا معلول دیگر عِلَّتیں بھی پیدا کرسکیں تو وہ عِلَّت، عِلَّت ہی نہیں کہلاسکتی۔ اگر بقول مِل مِل عِلَّت کے لیے غیرمشروط اور مستقل ہونا ضروری ہے تو اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک ہی معلول کا مختلف عِلَّتوں سے پیدا ہونا ناممکن ہے۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مختلف عِلَّتیں ایک ہی معلول کو پیدا کرسکتی ہیں تو ان عِلَّتوں میں سے ہر ایک عِلَّت ایک غیرمستقل مقدم ہوگی اور اس لئے وہ مِل کی اپنی دی ہوئی تعریف کے مطابق عِلَّت نہیں ہوگی۔ نظریۂِ کثرتِ عِلَل یہ کہتا ہے کہ ب یا ج یا د ایک ہی معلول ا کی عِلَّتیں ہوسکتی ہیں۔ لیکن ہم ب یا ج یا د کو کیسے ا کی عِلَّت قرار دے سکتے ہیں جن میں سے ہر ایک ا کا غیرمستقل مقدم ہے؟
عِلَّت اسے کہتے ہیں جس کی موجودگی میں معلول ضرور موجود ہو اور جس کی غیر موجودگی میں معلول ضرور غیر موجود ہو۔ اب اگر ا اُس صورت میں بھی موجود ہوسکتا ہے جب کہ ب یا ج یا د موجود نہ ہو تو ہم ب، ج اور د میں سے کسی کو بھی ا کی عِلَّت نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ اگر عِلَّت کو ہم معلول کے مستقل مقدم کے معنیٰ میں لیں تو یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ ایک ہی معلول کئی مختلف عِلَّتوں سے پیدا ہوسکتا ہے۔
٢. علاوہ بریں مختلف عِلَّتیں بالکل ایک جیسا معلول پیدا کر بھی نہیں سکتیں۔ اگر ہم مختلف عِلَّتوں کے معلولات کا اچھی طرح تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ معلولات بالکل ایک جیسے نہیں ہیں۔ مثلًا وہ موت جو زہر سے واقع ہوتی ہے اس موت سے جو ڈوبنے یا ہیضے سے واقع ہوتی ہے مختلف ہوتی ہے۔ ان تینوں صورتوں میں معلول مختلف ہوں گے۔ زہر، ہیضہ اور ڈوبنا مختلف قسم کی اموات پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح سورج اور موم بتی سے مختلف قسم کی روشنیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لہٰذا کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ مختلف علتیں بالکل ایک جیسا معلول پیدا کرسکتی ہیں؟مختلف معلولات کے باہمی اختلافات کو نظرانداز کرنے سے ہی نظریۂِ کثرتِ عِلَل پیدا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مختلف معلولات میں کوئی ایک عنصر بالکل ایک جیسا بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمیں سارے کے سارے معلول کو دیکھنا چاہیے اور اس میں سے صرف ایک ہی موخّر کو جو بہت سے معلولات میں مُشترک ہے نہیں چُننا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو نظریۂِ کثرتِ عِلَل کی غلطی صاف ظاہر ہوجائے گی۔ یہ نظریہ اُسی صورت میں درست نظر آتا ہے جب کہ ہم معلول کو عوامی یا غیر علمی نُقطۂِ نظر سے دیکھیں۔ یعنی معلول میں سے صرف ایک ہی مُوخّر کو چُن کر باقی مُوخّرات کو نظرانداز کردیں۔
٣. نظریۂِ کثرتِ عِلَل قانُونِ یکسانئ فطرت کے بھی مخالف ہے۔ قانون یکسانئ فطرت کے مطابق ایک عِلَّت ایک ہی معلول کو پیدا کرتی ہے اور ایک معلول صرف ایک ہی عِلَّت سے پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس نظریۂِ کثرتِ عِلَل یہ کہتا ہے کہ ایک ہی معلول مختلف عِلَّتوں سے پیدا ہوسکتا ہے۔
چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نظریۂِ کثرتِ عِلَل غلط ہے اور ایک معلول صرف ایک ہی عِلَّت کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ مختلف عِلَّتیں کبھی ایک جیسا معلول پیدا نہیں کرسکتیں۔ جس طرح یہ بات درست ہے کہ ایک عِلَّت ایک ہی معلول کو پیدا کرسکتی ہے اسی طرح یہ بات بھی درست ہے کہ ایک معلول ایک ہی عِلَّت سے پیدا ہوسکتا ہے۔
نظریۂِ کثرتِ عِلَل کے حق میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ہمارے عوامی نظریۂ تعلیل کے مطابق ہے۔ جب ہم اپنی روزمرّہ کی زندگی میں مختلف عِلَّتوں کو تقریبًا ایک ہی جیسا معلول پیدا کرتے دیکھتے ہیں تو ہمیں نظریۂِ کثرتِ عِلَّل کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ مثلًا ایک طالبعلم خواہ اپنی بیماری کی وجہ سے فیل ہو یا غفلت کی وجہ سے، خواہ ایک فصل خُشک سالی کی وجہ سے تباہ ہو یا بارش کی کثرت کی وجہ سے، خواہ ایک مکان بجلی کے گِرنے کی وجہ سے جلے یا آگ سے، نتیجہ عملی طور پر ہر صورت میں یکساں ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ نظریۂِ کثرتِ عِلَل اگرچہ علمی نقطۂِ نظر سے غَلَط ہے لیکن عوامی یا عملی نقطۂِ نظر سے قابلِ قُبُول ہی نظر آتا ہے۔
اجتماعِ عِلَل اور آمیزشِ معلولات
COMPOSITION OF CAUSES AND INTER-MIXTURE OF EFFECTS
بہت سی عِلَّتوں کے بیک وقت جمع ہوجانے کو اجتماعِ عِلَل کہتے ہیں اور ان عِلَّتوں کے معلولات کے آپس میں مِل جانے کو آمیزشِ معلولات کہتے ہیں۔ اگر مختلف عِلَّتیں علـٰحدہ علـٰحدہ رہیں تو ظاہر ہے کہ اُن کے معلولات بھی علـٰحدہ علـٰحدہ رہیں گے۔ لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ہم ایک عِلَّت یا ایک معلول کو شاذ و نادر ہی اکیلا پاتے ہیں۔ عام طور پر بہت سی عِلَّتیں اکٹھی ہوجاتی ہیں اور ان کے اکٹھا ہوجانے کی وجہ سے ان کے معلولات بھی آپس میں مل جاتے ہیں۔ مختلف عِلَّتوں کا اکٹھا ہونا اجتماعِ عِلَل کہلاتا ہے اور مختلف معلولات کا آپس میں ملنا آمیزشِ معلولات کہلاتا ہے۔ چنانچہ اجتماعِ عِلَل ہی آمیزشِ معلولات کی وجہ ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر چائے کی ایک پیالی میں کھانڈ کی مٹھاس، دودھ اور چائے کا ذائقہ اور خوشبو مل کر ایک مجموعی معلول پیدا کرتے ہیں۔
اِجتِماعِ عِلَل اور کثرتِ عِلَل کو آپس میں خَلَط مَلَط نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں۔ کثرتِ عِلَل کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی عِلَّتیں علـٰحدہ علـٰحدہ ایک ہی معلول کو پیدا کرسکتی ہیں۔ لیکن اجتماعِ عِلَل کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی عِلَّتیں مل کر ایک مجموعی معلول کو پیدا کرتی ہیں۔ عِلَّتیں اور معلولات مندرجہ ذیل دو طریقوں سے آپس میں مل سکتے ہیں۔
١. میکانکی اِجتِماعِ عِلَل اور ہم جنس آمیزشِ معلولات
MECHANICAL COMPOSITION OF CAUSES LEADING TO HOMOGENEOUS INTER-MIXTURE OF EFFECTS
اگر بہت سی عِلَّتیں اس طرح اکٹھی ہوں کہ ان کا مجموعی معلول بلحاظ قِسم ان کے علـٰحدہ علـٰحدہ معلولات جیسا ہی ہو تو عِلَّتوں کے ایسے اجتماع کو میکانکی اجتماعِ عِلَل کہتے ہیں اور معلولات کی ایسی آمیزش کو ہم جنس آمیزشِ معلولات کہتے ہیں۔ چنانچہ میکانکی اجتماعِ عِلَل ہم جنس آمیزشِ معلولات کو پیدا کرتا ہے۔ ایسی آمیزش کو "ہم جنس" اس لیے کہتے ہیں کہ مجموعی معلول اسی قسم کا ہوتا ہے جس قسم کے مختلف معلولات ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں مجموعۂ معلول مختلف معلولات کے مجموعے کے عین برابر ہوتا ہے اور ہم اس سے مختلف معلولات کی کھوج بھی لگا سکتے ہیں۔ اس صورت میں مجموعی معلول محض ایک آمیزہ یا مجموعی ماحصل ہوتا ہے۔
مثالیں؛ اگر دو انجن بیک وقت ایک مشین میں کام کررہے ہوں تو ان کی کُل طاقت دونوں انجنوں کی مجموعی طاقت کے برابر ہوگی۔ ا دو مَن وزن اٹھا سکتا ہے ب تین مَن وزن اٹھا سکتا ہے ا اور ب مل کر پانچ مَن وزن اٹھا سکیں گے۔ ایک دس موم بتّی کی طاقت رکھنے والا بلب دس موم بتّیوں کی سی روشنی پیدا کرتا ہے۔ اور تین ایسے بلب تیس موم بتّیوں کی سی روشنی پیدا کریں گے۔
٢. کیمیاوی اِجتماعِ عِلَل اور غیر جنسی آمیزشِ معلولات
CHEMICAL COMPOSITION OF CAUSES LEADING TO HETROGENEOUS INTER-MIXTURE OF EFFECTS
اگر بہت سی عِلَّتیں اس طرح اکٹھی ہوں کہ ان کا مجموعی معلول بلحاظِ قسم ان کے علـٰحدہ علـٰحدہ معلولات سے مختلف ہو تو عِلَّتوں کے ایسے اِجتِماع کو کیمیاوی اِجتِماعِ عِلَل کہتے ہیں اور معلولات کی ایسی آمیزش کو غیرجنسی آمیزشِ معلولات کہتے ہیں۔ چنانچہ کیمیاوی اجتماعِ عِلَل غیر جنسی آمیزشِ معلولات کو پیدا کرتا ہے۔ ایسی آمیزش کو "غیرجنسی" اس لیے کہتے ہیں کہ مجموعی معلول اُسی قسم کا نہیں ہوتا جس قسم کے مختلف معلولات ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں مجموعی معلول علـٰحدہ علـٰحدہ معلولات سے بالکل مختلف ہوتا ہے اور اس سے ہم مختلف معلولات کا کھوج بھی نہیں لگا سکتے۔ علـٰحدہ علـٰحدہ معلول خود تو غائب ہوجاتے ہیں اور ان کی آمیزش سے ایک بالکل نیا معلول پیدا ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں مجموعی معلول محض ایک آمیزہ یا مجموعی ماحَصَل نہیں ہوتا بلکہ ایک مرکّب ہوتا ہے۔
مثالیں؛ جب ہائیڈروجن اور آکسیجن ایک خاص نسبت میں ملتی ہیں تو ان کی آمیزش سے پانی پیدا ہوجاتا ہے۔ جس کے خواص ہائیڈروجن اور آکسیجن کے خواص سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن خود جلتی ہے اور آکسیجن جلنے میں مدد دیتی ہے لیکن پانی جو ان دو گیسوں (فارغات) کا مجموعی معلول ہے نہ خود جلتا ہے نہ جلنے میں مدد دیتا ہے۔ چنانچہ پانی سے ہم ہائیڈروجن اور آکسیجن کے خواص کا کھوج نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح نمک، سوڈیم اور کلورین کا کیمیاوی مرکّب ہے۔ سوڈیم ایک دھات ہے اور کلورین ایک گیس (فارغہ) ہے۔ لیکن نمک جو ان کی آمیزش سے پیدا ہوتا ہے نہ دھات ہے نہ گیس۔ اس کے علاوہ سوڈیم پانی کے ساتھ مل کر القلی پیدا کرتا ہے اور کلورین پانی کے ساتھ مل کر تیزاب پیدا کرتی ہے لیکن نمک پانی کے ساتھ مل کر نہ القلی اور نہ تیزاب پیدا کرتا ہے بلکہ بےرنگ رہتا ہے۔ چنانچہ نمک کے خواص سوڈیم اور کلورین کے خواص سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح روٹی، دودھ، سبزیوں وغیرہ سے ہمارا خون، ہڈیاں اور گوشت پیدا ہوتے ہیں۔ ان تمام صورتوں میں عِلَّتوں کا اجتماعِ کیمیاوی ہوتا ہے اور عِلَّتوں کے ایسے اجتماع سے غیر جنسی آمیزش معلولات پیدا ہوتی ہے۔
غیرجنسی معلولات دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ اَوَّل قابلِ تبدیل اور دوسرے ناقابلِ تبدیل، قابلِ تبدیل معلولات وہ ہوتے ہیں جن میں علل اور معلولات باہمی طور پر تبدیل ہوسکیں۔ یعنی عِلَّت معلول میں اور معلول عِلََّت میں تبدیل ہوسکے۔ مثلًا ہائیڈروجن اور آکسیجن سے پانی پیدا ہوتا ہے اور پانی سے (جب کہ اس میں سے برقی رَو گُزاری جائے) ہائیڈروجن اور آکسیجن پیدا ہوتی ہیں۔ ناقابلِ تبدیل معلولات وہ ہوتے ہیں جن میں معلول اپنی عِلَّتوں میں تبدیل نہ کئے جاسکیں۔ مثلًا ہمارے جسم کا خون، ہڈیاں اور گوشت اپنی عِلَّتوں میں تبدیل نہیں ہوسکتے۔
بعض اوقات بہت سی عِلَّتیں آپس میں ایک دوسری کی دافع یا توڑ ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُن عِلَّتوں کے معلول ضائع ہوگئے ہیں۔ لیکن دراصل ایسا نہیں ہوتا۔ مثلًا اگر آپ کُرسی کو میری طرف دھکیلیں اور میں کُرسی کو آپ کی طرف برابر قوت سے دھکیلوں تو کُرسی حرکت نہیں کرے گی۔ اسی طرح رسّہ کشی میں جب دونوں طرف کے کھلاڑی رسّے کو یکساں قوت سے مخالف سمتوں میں کھینچتے ہیں تو رسّہ بے حرکت نظر آتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر کھینچنے والے کی قوّت رسّے پر کام کررہی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں یہ کہنا ایک غلطی ہے کہ عِلَّتیں اپنے معلولات کو پیدا نہیں کررہیں۔ دراصل عِلَّتیں اپنے معلولات کو پیدا کررہی ہوتی ہیں۔ لیکن وہ معلول مخفی طور پر ایک رُجحان کی شکل میں محفوظ رہتے ہیں۔ رُجحان سے مُراد وہ عِلَّت ہے جس کا معلول دیگر مخالِف عِلَّتوں کی مزاحمت کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتا۔ چنانچہ جب مخالِف معلول ایک دوسرے کے لیے دافع ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ معلول موجود نہیں یا فنا ہوگئے ہیں۔
عِلَّت اور معلول کا باہمی تعلُّق
MUTUALITY OF CAUSE AND EFFECT
عِلَّت اور معلول دونوں ایک دُوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں مثلًا بے خوابی سے دردِ سر پیدا ہوتا ہے اور دردِ سر سے مزید بےخوابی پیدا ہوتی ہے۔ ایک شخص کی ناعاقبت اندیشی اس کے مقروض ہونے کی وجہ ہوتی ہے اور اُس کا مقروض ہونا اُسے اور ناعاقبت اندیش بنا دیتا ہے۔ ہمدردی سے اتِّحاد پیدا ہوتا ہے اور اتِّحاد سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ انگلستان کا سرمایہ اس کی صنعت و حُرفت کا باعث ہوا اور اس کی صنعت و حُرفت اس کے سرمائے کا باعث ہوئی۔ کسی مُلک کا افلاس اس کی صنعتی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کی صنعتی کمزوری اس کے افلاس کی وجہ ہوتی ہے۔ ان مثالوں سے عِلَّت اور معلول کا باہمی تعلُّق ظاہر ہوتا ہے۔
سر جی۔سی لیوس نے بجا طور پر کہا ہے کہ "جب وہ حقائق کے درمیان تعلیل کا رشتہ ہو تو یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ ان میں سے کون عِلَّت اور کون معلول ہے کیوں کہ وہ دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور دونوں باری باری ایک دوسرے کی عِلَّت اور معلول ہوتے ہیں۔ مثلًا محنت کرنے کی عادت سے دولت حاصل ہوتی ہے اور دولت کا حُصُول محنت کرنے کی عادت پیدا کرتا ہے۔ مُطالعے کی عادت سے سمجھ پیدا ہوتی ہے اور سمجھ کے پیدا ہونے سے مُطالعے کی مزید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اپنی آبادی کی کثرت کی وجہ سے مزدور لوگ بُرے مکانوں میں رہتے ہیں اور بُرے مکانوں میں رہنے کی وجہ سے ان کی اخلاقی حالت اور بھی پست ہو جاتی ہے اور اس سے آبادی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ ایک قوم کے عقلمند ہونے کی وجہ سے اچھی حکومت پیدا ہوتی ہے اور اچھی حکومت قوم کو اور زیادہ عقلمند اور صائب الرّائے بنا دیتی ہے"۔
فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ
منطقِ اِستِخراجیہ کے اسباق
علم منطق کی تعریففکر کے اُصُول
حُدود اور ان کی اقسام
حُدود کی تعبیر اور تضمن
حُدود قابلِ الحمل
تعریف
تقسیم
قضیے اور اُن کی قسمیں
قضیوں کی چار اساسی شکلیں
استنتاجِ استخراجیہ کی اقسام
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
استنتاجِ بدیہی جہتی
استنتاجِ بالواسطہ یا نظری
قواعدِ قیاس
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
قیاس کی اشکال
مخلوط شرطیہ قیاس
مخلوط منفصلہ قیاس
معضلہ یا قیاسِ ذوالجہتین
مُغالطے
منطقِ اِستِقرائیہ کے اسباق
منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہاِستِقراء کی قسمیں
تعمیم
منطقِ اِستِقرائیہ کی بنیادیں
منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں
صفحات
موجود کا بیانعلم کا بیان
تصور اور تصدیق کا بیان




👏👏👏
جواب دیںحذف کریں👍👍👍
حذف کریں