استنتاجِ بالواسطہ یا نظری
(چودھواں باب)
استنتاجِ بالواسطہ یا نظری
MEDIATE INFERENCE
قیاس
Syllogism
قیاس کی تعریف اور خصُوصیّت:۔
Definition and Characteristics of Syllogism
ہم استنتاجِ بدیہی یا استنتاجِ بلاواسطہ کی مختلف اقسام کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ اب ہم استنتاجِ بالواسطہ کو لیتے ہیں۔ استنتاجِ بدیہی میں ہم ایک ہی قضیے سے بغیر کسی قسم کے واسطے کے نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ مثلًا
تمام انسان فانی ہیں
لہٰذا کوئی انسان غیر فانی نہیں
مگر "تمام انسان فانی ہیں" سے ہم "تمام بادشاہ فانی ہیں"۔ نتیجہ نہیں نکال سکتے۔ یہ نتیجہ نکالنے کے لئے ہمیں ایک اور قضیے (یعنی تمام بادشاہ انسان ہیں) کی ضرورت ہوگی۔
تمام انسان فانی ہیں
تمام بادشاہ انسان ہیں۔
ایسا استنتاج جس میں نتیجہ ایک سے زیادہ مقدمات کو ملانے سے پیدا ہو استتنتاجِ بلواسطہ یا قیاس کہلاتا ہے۔ قیاس میں ہم دو دِیے ہوئے قضیوں کو (جنہیں مقدمات کہتے ہیں) آپس میں اس طرح ملاتے ہیں کہ اُن سے لازمی طور پر ایک نیا قضیہ (جسے نتیجہ کہتے ہیں) نکلتا ہے۔ اوپر دی ہوئی مثال میں "تمام انسان فانی ہیں" اور "تمام بادشاہ انسان ہیں" سے لازمی طور پر "تمام بادشاہ فانی ہیں" نتیجہ نکلتا ہے۔ یہ نتیجہ اکیلے ایک قضیہ سے نہیں نکلتا بلکہ دونوں قضیوں کے آپس میں ملنے سے نکلتا ہے۔ چنانچہ ہم قیاس کی یوں تعریف کرسکتے ہیں کہ یہ ایک استنتاجِ بلواسطہ ہے جس میں ہم دو قضیوں کو آپس میں ملا کر ایک تیسرا قضیہ جو کہ لازمی طور پر ان سے نکلتا ہے بطور نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
قیاس کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔
١. قیاس میں نتیجہ دونوں دِیے ہوئے قضیوں (یعنی مُقدمات) سے مُشترکہ طور پر نکلتا ہے۔ کسی ایک قضیہ سے نہیں نکلتا۔ اوپر دی ہوئی مثال میں نتیجہ "تمام بادشاہ فانی ہیں" نہ تو "تمام انسان فانی ہیں" سے اور نہ "تمام بادشاہ انسان ہیں" سے نکل سکتا ہے۔ اگر ہم یہ جانتے ہوں کہ تمام انسان فانی ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ تمام بادشاہ فانی ہیں۔ اسی طرح اگر ہم یہ جانتے ہوں کہ تمام بادشاہ انسان ہیں تو اس سے بھی یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ "تمام بادشاہ فانی ہیں"۔ قیاس میں نتیجہ دو قضیوں کو آپس میں ملانے سے اخذ کیا جاتا ہے۔ علـٰحدہ علـٰحدہ قضیوں سے اخذ نہیں کیا جاتا۔ یہی خصوصیت قیاس کو استنتاجِ بدیہی سے مُمَیَّز کرتی ہے۔
٢. جب تک دو قضیوں میں کوئی رابطۂ اتحاد نہ ہو اُن سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ نتیجہ کوئی سے دو قضیوں سے ملنے سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ ایسے دو قضیوں کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے جن میں کوئی رابطۂ اتحاد ہو۔ مثلًا "تمام انسان فانی ہیں" اور "تمام تجارتی شہر گُنجان آباد ہیں" سے کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ "تمام انسان فانی ہیں" اور "تمام فلسفی انسان ہیں" تو ان دو قضیوں سے یہ نتیجہ پیدا ہوتا ہے کہ "تمام فلسفی فانی ہیں"۔ ان دو قضیوں میں حدّ انسان رابطۂ اتحاد کا کام کرتی ہے۔ اس لیے نتیجہ پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ "تمام تجارتی شہر گُنجان آباد ہیں" اور "کراچی ایک تجارتی شہر ہے"، تو چونکہ دونوں قضیوں میں حدّ "تجارتی شہر" رابطۂ اتحاد کا کام کرتی ہے لہٰذا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ "کراچی ایک گُنجان آباد شہر ہے"۔
٣. قیاس میں نتیجے کی محض صوری صحت دیکھی جاتی ہے۔ قیاس کا تعلق مقدمات اور نتیجے کی مادّی صحت سے نہیں ہوتا۔ اس میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ مقدمات میں مادّی صحت پائی جاتی ہے یا نہیں۔ ہمیں مقدمات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اور یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اگر مقدمات کو تسلیم کیا جائے تو اُن سے کونسا نتیجہ لازمی طور پر نکلتا ہے۔ مثلًا اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ "پرندے اُڑتے ہیں" اور یہ بھی تسلیم کرلیں کہ "گھُوڑے پرندے ہیں" تو لازمی طور پر ہمیں اس نتیجے کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ "گھُوڑے اُڑتے ہیں"۔ قیاس کا کام محض یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ مقدمات اور نتیجہ میں مطابقت ہے یا نہیں۔ یعنی نتیجہ لازمی طور پر مقدمات سے نکلتا ہے یا نہیں۔ اسے مقدمات اور نتیجے کی مادی صحت سے کوئی سروکار نہیں۔
٤. قیاس میں نتیجہ ہمیشہ مقدمات کی نسبت بلحاظِ تعبیر کم وسیع ہوتا ہے۔ نتیجہ چونکہ مقدمات سے نکلتا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ نتیجہ مقدمات سے زیادہ وسیع نہ ہو۔ جو کچھ مقدمات میں کہا گیا ہو اُس سے زیادہ ہم نتیجے میں نہیں کہہ سکتے۔ البتہ کم کہہ سکتے ہیں۔ ہم "زیادہ" سے "کم" بطور نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ لہٰذا قیاس میں نتیجہ مقدمات سے زیادہ وسیع نہیں ہوسکتا۔
Structure of Syllogism قیاس کی ساخت؛
قیاس میں دو دِیے ہوئے قضیے ہوتے ہیں اور ایک نتیجہ دِئیے ہوئے قضیے جن سے نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے مقدمات کہلاتے ہیں۔ اور جو قضیہ بطور نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے اُسے نتیجہ کہتے ہیں۔ مندرجہ ذیل مثال کو دیکھو۔
تمام انسان فانی ہیں
تمام طلبا انسان ہیں
لہٰذا تمام طلبا فانی ہیں
یہاں پہلے دو قضیے مقدمات ہیں اور تیسرا قضیہ نتیجہ ہے۔ مقدمات میں وہ حدّ جو ان میں رابطۂ اتحاد پیدا کرتی ہے حَدِّ اَوسط کہلاتی ہے۔ نتیجے کے محمول کو حدِّ اکبر اور نتیجے کے موضوع کو حَدِّ اَصغر کہتے ہیں۔ اُوپر دی ہوئی مثال میں "انسان" حَدِّ اوسط ہے۔ "فانی" حَدِّ اکبر ہے اور "طَلَبا" حَدِّ اصغر ہے۔ نشانات سے ہم قیاس کی شکل کو یوں ظاہر کرسکتے ہیں۔
مقدمات
م، پ ہے
س، م ہے
نتیجہ
لہٰذا س، پ ہے
یہاں م حَدِّ اَوسط ہے۔ پ حَدِّ اَکبَر ہے اور س حَدِّ اَصْغَر ہے۔
وہ مقدمہ جس میں حَدِّ اَکْبَر ہوتی ہے۔ مُقَدمۂ کُبریٰ (یا محض کُبریٰ) کہلاتا ہے۔ اور وہ مقدمہ جس میں حَدِّ اَصْغَر ہوتی ہے۔ مُقَدمۂ صُغریٰ (یا محض صُغریٰ) کہلاتا ہے۔ مندرجہ ذیل مثال ملاحظہ ہو۔
تمام مخلوق فانی ہے (کُبریٰ)
(پ)(م)
تمام انسان مخلوق ہیں (صُغریٰ)
(م)(س)
لہٰذا تمام انسان فانی ہیں (نتیجہ)
(پ)(س)
یہاں "تمام مخلوق فانی ہے" مُقَدمۂ کُبریٰ ہے۔ اور "تمام انسان مخلوق ہیں" مُقَدمۂ صُغریٰ ہے۔
الغرض قیاس تین قضیوں (مُقدمۂ کُبریٰ، مُقدمۂ صُغریٰ اور نتیجہ) اور تین حُدود (حَدِّ اَوْسَط، حدِّ اَکْبَر اور حَدِّ اَصْغَر) سے مرکب ہوتا ہے۔
١. مُقَدمۂ کُبریٰ میں حَدِّ اَکْبَر اور حَدِّ اَوْسَط ہوتی ہے۔
٢. مُقَدمۂ صُغْریٰ میں حَدِّ اَصْغَر اور حَدِّ اَوْسَط ہوتی ہے۔
٣. نتیجے میں حَدِّ اَصْغَر اور حَدِّ اَکْبَر ہوتی ہیں۔
٤. حَدِّ اَوْسَط دو جگہ ہوتی ہے۔ مُقَدمۂ کُبریٰ میں حَدِّ اَکْبَر کے ساتھ اور حَدِّ صُغْریٰ میں حَدِّ اَصْغَر کے ساتھ، نتیجے میں حَدِّ اَوْسَط نہیں ہوتی۔
٥. حَدِّ اَکْبَر دو جگہ ہوتی ہے۔ مُقدمۂ کُبریٰ میں حَدِّ اَوْسَط کے ساتھ اور نتیجے میں بطور محمول۔
٦. حَدِّ اَصْغَر دو جگہ ہوتی ہے۔ مُقَدمَۂ صُغْریٰ میں حَدِّ اَوْسَط کے ساتھ اور نتیجے میں بطورِ موضوع۔ حَدِّ اَصْغَر اور حَدِّ اَکْبَر کو طرفین بھی کہتے ہیں۔
نوٹ: یاد رہے کہ حَدِّ اَصْغَر اور حَدِّ اَکْبَر صرف نتیجے میں اکٹھی ہوتی ہیں اور مقدمات میں علـٰحدہ علـٰحدہ ہوتی ہیں۔ حَدِّ اَوْسَط مُقدمۂ کُبریٰ میں بھی ہوتی ہے اور مُقَدمۂ صُغْریٰ میں بھی، لیکن نتیجے میں نہیں ہوتی۔ قیاس کی اس ساخت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں