قانونِ عِلّت
چھبیسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کی صُوری بُنیادیں FORMAL GROUNDS OF INDUCTION قانُونِ عِلَّت LAW OF CAUSATION ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ قانُونِ عِلَّت اور قانُونِ یکسانئ فطرت منطقِ اِستِقرائیہ کی صُوری بُنیادیں ہیں۔ منطقِ اِستِقرائیہ کو تعمیم کے لئے انہی دو قوانین کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ چنانچہ یہ قوانین منطقِ اِستِقرائیہ کے لئے مفروضاتِ اولیہ ہیں۔ اس باب میں ہم قانونِ عِلّت کا مطالعہ کریں گے اور اگلے باب میں قانونِ یکسانئ فطرت کا۔ قانونِ عِلَّت قانونِ عِلّت کے یہ معنیٰ ہیں کہ ہر واقعہ کا کوئی نا کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کے لئے جو دنیا میں ظہور پذیر ہوتا ہے کافی وجہ یا عِلّت کا ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں کوئی چیز یا واقعہ یونہی یعنی بلاوجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں کوئی چیز بے وجہ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ چھِڑ جائے یا چاند کو گرہن لگ جائے یا قحط پڑ جائے تو ان واقعات کی ضرور کوئی عِلّت ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم کسی واقعے کی علّت سے بےخبر ہوتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ وہ واقعہ اتفاقیہ طور پر رونما ہوا لیکن "اتفاق" سے مُراد عدمِ عِلّت نہیں بلکہ ہمیں علّت کا علم نہیں۔ جب ہم ایک س...