اشاعتیں

فکر کے اصول، اصول عینیت، اصول مانع اجتماع نقیضین، اصول خارج الاوسط، اصول وجۂِ کافی، اصول فکر کی خصوصیات لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فکر کے اُصُول

تصویر
فکر کے اُصُول ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ علمِ منطق فکر کے اصولوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ بالفاظِ دیگر اس کا کام ہمیں وہ اُصُول بتانا ہے جن کے بغیر صحیح فکر ممکن ہی نہیں۔ ایسے اُصُول بہت سے ہیں جن میں سے کچھ تو اُصُولِ اوّلیہ ہیں اور کچھ ثانوی یا جزوی اُصُول ہیں جو اُصُولِ اوّلیہ سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ اس باب میں ہم فکر کے اُصُولِ اولیہ سے بحث کریں گے چونکہ یہ وہ اصول ہیں جن پر منطق اور فکر کا دارومدار ہے لہٰذا انہیں فکر کے بنیادی اُصُول یا اُصُولِ اوّلیہ کہا جاتا ہے۔ صحیح فکر ہمیشہ انہی اُصُولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ گویا یہ اُصُول اساسِ فکر ہیں۔ یہ اُصُول چار ہیں۔  ١. اُصُولِ عینیّت Law of Identity  ٢. اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین Law of Non-Contradiction   ٣. اُصُولِ خارجُ الاوسط Law of Excluded Middle   ٤. اُصُولِ وجۂ کافی Law of Sufficient Reason  ١. اُصُولِ عینیت   یہ اُصُول کہتا ہے کہ ہر شےء وہی ہے جو کہ وہ ہے۔ ایک کُتّا کُتّا ہے۔ ایک بِلّی بِلّی ہے۔  ایک چُوہا چُوہا ہے۔ اس اُصُول کو یوں بیان کیا جاتا ہے۔  ” اگر الف ب ہے تو یہ ب ہے “  اگر لو...