تصور اور تصدیق کا بیان

 علمِ حُصُولی کی دو قسمیں ہیں:۔ ۱۔ تَصَوُّر اور، ۲۔ تَصْدِیق

تَصَوُّر کی تعریف: وہ علم ہے، جس میں حُکم نہ ہو، یا جس میں نسبت کا اعتقاد نہ ہو، جیسے زید اور قائم جب کسی کے قیام کا یقین نہ ہو۔ 

تَصْدِیق کی تعریف: وہ علم ہے، جس میں کسی قسم کا حکم ہو، یا جس میں نسبتِ خبریہ کا اعتقاد ہو جیسے زید قائم اور زید لیس بقائم وغیرہ۔

وجۂ حصر: علم بدون الحکم ہوگا یا مع الحکم، اگر بدون الحکم ہو تو تَصَوُّر اور اگر مع الحکم ہو تو تَصْدِیق۔(۱)

قواعد

قاعدہ نمبر ۱: اکثر مناطقہ کے نزدیک تَصَوُّر اور تَصْدِیق کے لئے مُقَسِّم، علمِ حصولی حادِث ہے۔ بعض کے نزدیک مطلق علم ہے اور بعض کے نزدیک مطلق علمِ حُصُولی (خواہ حادِث ہو یا قدیم) ہے، تیسرا قول راجح ہے (۲)۔

قاعدہ نمبر ۲: ادراک بلاحُکم کو تَصَوُّر اور ادراک مع الحکم کو تَصْدِیق کہتے ہیں (۳)۔

قاعدہ نمبر ۳: تَصْدِیق کے لئے جملۂ خبریہ کا ذہن میں ہونا شرط ہے (٤)۔

فائدہ نمبر ۱: کسی کو کسی کی طرف ایجابًا یا سلبًا منسوب کرنے کو حُکُم کہتے ہیں۔ ایجاب ایقاعِ نسبت کا نام ہے۔ جیسے "اللہ احد"، اور سلبِ انتزاع نسبت کا نام ہے، جیسے "لم یلد" وغیرہ جس قضیہ میں حُکمِ ایجابی ہو اسے قضیۂ مؤجبہ اور جس میں حُکُمِ سلبی ہو اسے قضیۂ سالبہ کہتے ہیں۔

قاعدہ نمبر ٤۔ تصدیق جملۂ خبریہ کے اعتقاد کا نام ہے خواہ جملہ اسمیہ ہو یا جملہ فعلیہ ہو، واقعہ کے مطابق ہو جیسے "لَآ اِلـٰهَ اِلَّا الـلّٰهُ" یا واقعہ کے مُطابق نہ ہوں، جیسے هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا اور لَست مُرسلا وغیرہ، راسخ ہو یا نہ ہو، جیسے النیة لیست بشرط فی الوضوء علیٰ ما قال ابوحنیفة جازم ہو یا نہ ہو، جیسے دور سے دیکھ کر کسی چیز پر انسان کا حکم لگانا، اگرچہ وہ انسان ہو، لیکن غیر انسان کا احتمال بھی ہے (٥)۔

قاعدہ نمبر ٥۔ اگر جملہ میں ایک جُزؤ مخذوف یا مُستتر ہو تو نحات اس کا اعتبار کرکے اسے جملہ کہتے ہیں، تو اسی طرح مناطقہ بھی اس کا اعتبار کرکے اس کو تصدیق کہتے ہیں، جیسے لم یلد و لم یولد میں ھو مستتر مانی جاتی ہے، لہٰذا یہ تصدیق ہے، اسی طرح مَاھٰذا؟ کے جواب میں کتاب کہا جائے تو تقدیر یوں ہے ھٰذا کتاب اور یہ تصدیق ہے (٦)۔

قاعدہ نمبر ٦۔ حکماء کے نزدیک تصدیق صرف حکم کا نام ہے، یعنی تصدیق عینِ حکم ہے اور حکم عینِ تصدیق ہے، امام رازی کے نزدیک تصدیق تصوراتِ ثلاثۃ (تصور، موضوع، تصورِ محمول، تصور نسبتِ تامہ) اور حکم کے مجموعے کا نام ہے، اور صاحبِ مطالع کے نزدیک تصدیق تصوراتِ ثلاثہ کے مجموعہ بشرط الحکم کا نام ہے (۷)۔

قاعدہ نمبر ۷۔ حکما کے نزدیک تصدیق بسیط (جس کا کوئی جُزؤ نہ ہو) ہے اور امام رازی کے نزدیک مرکب ہے (۸)۔

قاعدہ نمبر ۸۔ تَصَوُّر اور تَصْدِیق کا مُقَسِّم مُطْلَق تصور (یعنی حُضُور ذہنی مُطْلَق خواہ اس میں حکم ہو یا نہ ہو) ہے، اور جس تصور میں عدم حکم کا اعتبار کیا جائے تو اسے تصورِ ساذج اور تصورِ لفظ کہتے ہیں (۹)۔

قاعدہ نمبر ۹۔ اگر تَصَوُّر میں بشرطِ شیء یعنی حکم معتبر ہو تو اس کو تَصْدِیق کہتے ہیں اور اگر تَصَوُّر میں بشرطِ لاشیء کا اعتبار کیا جائے تو تَصَوُّر ساذج ہوگا، اور اگر تَصَوُّر میں لابشرط شیء کا اعتبار ہو (یعنی نہ اس میں حکم کی شرط ہو اور نہ عدم حکم کی شرط) وہ تصور مُطْلَق کہلاتا ہے۔

قاعدہ ۱۰۔ تَصْدِیق کا مقابل و قَسِیم تصور مُطْلَق نہیں، بلکہ تَصَوُّرِ ساذج ہے (۱۰)۔

قاعدہ ۱۱۔ تَصْدِیق کا تَحَقُّق بدون التَّصَوُّر محال ہے (۱۱)(۱۲)۔

مشق

مندرجہ ذیل امثلہ میں تَصَوُّر اور تَصْدِیْق کی تعیین کیسے کریں؟ نیز منطقی تطبیق کریں۔

احمد، زید کھڑا ہے، اصحاب، حق آیا، کھلم کھلا جادو، بشیر، نذیر، جنگیں، تماثیل، مدینہ، گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا، حمد کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدے کرنے والے، بےشک ابراہیمؑ بردبار حلیم تھے، ایمان کی غیرت، یتیم کو رونا مت سکھائیں، باطل بنیاد نہیں رکھتا، لوگ احسان کے پرستار ہیں، لوگ غالب کی اتباع کرتے ہیں، حرکت میں برکت ہے، چور پر چوری واقع ہونا، بھید اہل کے پاس بہتر ہیں، آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، نشہ برائیوں کا مجموعہ ہے، غیبت زنا سے سخت ہے، زید، عمرو، اللہ قدیر۔

حل شدہ مثالیں

احمد۔۔۔۔۔ موجودِ ذہنی کیونکہ موجود فی الذہن ہے۔ علم اس لئے کہ حصول صورۃ الشئ فی العقل ہے۔ علم حصولی انطباعی اس لیے کہ شیء معلوم کی صورت عند المدرک موجود ہے۔ علم حصولی حادث اس لیے کہ مسبوق بالعدم ہے۔ تصور اس لیے کہ علم بدون الحکم ہے۔

زید قائم۔۔۔۔۔۔ موجودِ ذہنی کیونکہ موجود فی الذہن ہے۔ علم اس لیے کہ حصول صورۃ الشیء فی العقل ہے۔۔۔۔۔ علم حُصُولی انطباعی اس لیے کہ شیء معلوم کی صورت عند المدرک موجود ہے علم حصولی حادِث اس لیے کہ مسبوق بالعدم ہے تصدیق اس لیے کہ علم بدون الحکم ہے۔

باز زید موجود، موجودِ ذہنی اس لئے کہ موجود فی الذہن ہے۔ علم اس لئے کہ حصول صورۃ الشیء فی العقل ہے۔ علم حصولی انطباعی اس لئے کہ شیء معلوم کی صورت عند المدرک موجود ہے۔ علم حصولی حادث اس لیے کہ مسبوق بالعدم ہے۔ تصور اس لئے کہ علم بدون الحکم ہے۔

ںـ۱. حاصل یہ ہے کہ تَصَوُّر اشیاء کی ان ذہنی صورت یا صورتوں کو کہتے ہیں جن میں حُکم نہ ہو، جیسے تنہا زید یا تنہا قائم کی صورتِ ذہنیہ۔ اور تَصْدِیق اشیاء کی ان چند ذہنی صورتوں کو کہتے ہیں جن میں حکم موجود ہو جیسے زید قائم ہے۔ اور حکم کی تعریف یہ ہے کہ اتحاد یا عدم اتحاد، ارتباط یا عدم ارتباط، انفصال یا عدم انفصال کا وہ جزمی فیصلہ جو دو یا زائد تصورات میں پایا جائے [ملخصًا معین المنطق ۸]۔

ںـ۲. [قاضی مُبارک ۳۵؛ ضیاءالنُجُوم ۱۰؛ کشف النجوم ۱۳۰]۔ 

ںـ٣. [مِرزا قُطبی ٦٨-٧٠؛ شرح الکوکب المُنیر ٥٨

ںـ٤. [توضیح المنطق ٦]۔

ںـ٥. [مُلّا حسن ۳۲؛ اساس المنطق ۲۱/٦]۔

ںـ٦.  [اساس المنطق ۲۲/۲؛ الحواشی ٦]۔

ںـ٧. [ضیاء النجوم ۱۳؛ بدرالنجوم ۱۲۰]۔

ںـ٨. [قُطبی ۵۱؛ ضیاءالنجوم ۱۳؛ ہامش مرقاۃ ۷]۔

ںـ٩. [قُطبی ٥٤]۔

ںـ١٠. [قُطبی ٥٤]۔

ںـ١١. [میر قُطبی ۱۸]۔

ںـ١٢. حاصل یہ ہے کہ جب کسی چیز کی صورت ہمارے ذہن میں آتی ہے تو یہی صورت اس چیز کا علم ہے جس کو تصور اور مفہوم بھی کہتے ہیں ایسی چیزوں کی صورتیں اگر ہمارے ذہن میں اس طور سے جمع ہوجائیں کہ ہم ان کے آپس میں اتحاد یا عدم اتحاد، ارتباط یا عدم ارتباط، انفصال یا عدم انفصال کے فیصلے کو حکم اور اگر ان میں ہم یہ حکم اور فیصلہ نہ کریں یا نہ کرسکیں تو ان کو محض تصور کہیں گے۔ مثلًا ہمارے ذہن میں زید، عمرو، احمد،  کھڑا، آیا، گیا، ہے، نہیں، کی صورتیں جب الگ الگ حاصل ہوجائیں گی تو یہ سب تصورات کہلائیں گے اور جب زید اور آیا کو ملا کر ان میں اتحاد یا عدم اتحاد کا جزمی فیصلہ کرکے ہم یوں کہیں کہ زید آیا ہے یا زید نہیں آیا ہے، تو اب یہ تصدیق کہلائے گی، اسی طرح (اگر آفتاب نکلا ہو تو دن ہوگا) میں ہم جزئی ارتباط اور (عدد زوج ہوگا یا طاق) میں جزمی انفصال کا فیصلہ کریں تو یہ تصدیق کہلائے گی، ورنہ تصور [معین المنطق حصّہ اَوَّل ۸،۷]۔

فقط

سُہیل طاہر

سیالکوٹ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

علمِ منطق کی تعریف

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اَقسام