اشاعتیں

deductive logic لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

قانونِ ارسطو اور قواعد قیاس کا باہمی تعلق

تصویر
  قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق RELATION BETWEEN ARISTOTLE'S DICTUM AND RULES OF SYLLOGISM  استدلال دراصل فکر کے اُن اساسی قوانین پر مبنی ہے جن کا مطالعہ ہم دوسرے باب میں کرچکے ہیں۔ مثلًا تمام حملیہ قیاس جو موجبہ ہوتے ہیں اُصُولِ عینیّت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر س، م ہو اور م، پ ہو تو اُصُولِ عینیّت کے مطابق س، پ ہوگا۔ اسی طرح تمام حملیہ قیاس جو سَالِبَہ ہوں اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر س، م ہو اور م، پ نہ ہو تو اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین کے مطابق س، پ نہیں ہوگا۔ کیونکہ س ایک ہی وقت میں م اور پ نہیں ہوسکتا جب کہ م، پ نہ ہو۔ اسی طرح تمام شرطیہ قیاس اُصُولِ وجۂ کافی پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثلًا؛  اگر ایک شخص لالچی ہو تو وہ ناخوش ہوگا اگر ایک شخص خود غرض ہو تو وہ لالچی ہوگا لہٰذا اگر ایک شخص خود غرض ہو تو وہ ناخوش ہوگا اس قیاس میں یہ قضیہ "اگر ایک شخص لالچی ہو" (جو حدِ اوسط کا کام کرتا ہے) وجۂ کافی کو ظاہر کرتا ہے۔ ارسطو نے (جو علمِ منطق کا بانی تھا) قیاس کا ایک ایسا جامع قانون وضع کیا تھا جس سے قیاس کے مختلف قواعد (جن کا ہم مطالعہ کرچکے ہیں) ا...

قضیے اور اُن کی قسمیں

تصویر
(دوسرا حصّہ ― قضیے) نواں باب قضیے اور اُن کی قِسمیں Propositions   قضیے کسے کہتے ہیں؟  حُدود کے بعد ہم اپنی توجہ قضیوں کی طرف مبذول کرتے ہیں۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ جب ایک  تصدیق  کو الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے تو اسے منطق کی اصطلاح میں  قضیہ  کہتے ہیں۔ ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ ایک قضیے کے تین اجزاء ہوتے ہیں۔  موضوع ،  محمول  اور  نسبتِ حکمیہ ۔ دو حدود کے متعلق کچھ کہنا، یعنی ان کے باہمی تعلق کا اقرار یا انکار کرنا،  تصدیق  کہلاتا ہے۔ چنانچہ  قضیہ  دو حُدود کے متعلق ایک  تصدیق  ہوتا ہے ایسی  تصدیق  جو ان دو حدود کے باہمی اتحاّد یا اختلاف کو ظاہر کرے۔ بالفاظِ دیگر  قضیّہ  دو حُدود کے باہمی تعلق کا اقرار یا انکار ہوتا ہے۔ انسان فانی ہے، چاک سفید ہے، کوّے چوپائے نہیں، مُثلثیں دائرے نہیں، وغیرہ وغیرہ قضیے ہیں کیونکہ ان میں ہم نے کسی چیز کے متعلق کچھ کہا ہے۔ یعنی کسی چیز کے متعلق کسی چیز کا اقرار یا انکار کیا ہے۔ ان قضیوں میں ہم نے انسان اور چاک کے متعلق یہ کہا کہ وہ کیا ہیں۔ اور کووّں اور مثلثوں...

تقســــــيم

تصویر
  منطقی تقسیم کسے کہتے ہیں؟ :۔ منطقی تعریف سے مُراد یہ ہے کسی حدّ کے تضمن کا تجزیہ اور منطقی تقسیم سے مراد ہے کسی تعبیر کی حدّ کا تجزیہ۔ باالفاظِ دیگر منطقی تقسیم سے مُراد ہے کسی جنس کو اس کی انواع میں (یعنی کسی بڑی جماعت کو اس کی مشمولہ چھوٹی جماعتوں میں) تقسیم کرنا۔ مثلًا آدمیوں کی مسلمانوں، ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں وغیرہ میں تقسیم ایک منطقی تقسیم ہے۔ 'آدمی' ایک بڑی جماعت ( جنس ) ہے اور مسلمان، ہندؤ، عیسائی، سِکھ وغیرہ اس کی چھوٹی جماعتیں ( انواع ) ہیں لیکن اگر ہم آدمیوں کی تقسیم احمد، موہن، چارلس وغیرہ میں کریں تو یہ منطقی تقسیم نہیں ہوگی کیونکہ احمد، موہن، چارلس وغیرہ جماعتیں نہیں ہیں۔ کسی جماعت کو اس کے افراد میں تقسیم کرنا منطقی تقسیم نہیں کہلاتا ایسے عمل کو گنتی کہتے ہیں۔ منطقی تقسیم کو دیگر عملوں سے جنہیں عام طور پر تقسیم ہی کہا جاتا ہے صاف طور پر ممیز کرنا چاہیے یہ عمل تین ہیں۔ ،تحلیلِ طبعی  Physical Analysis  مابعد الطبیعاتی تجزیہ  Metaphysical Analysis اور گنتی  Enumeration  اگر کسی جماعت کو اس کی چھوٹی جماعتوں میں تقسیم کیا ...

تعریف

تصویر
  تعریف کسے کہتے ہیں؟ جب ہم کسی شے کی تعریف  کرتے ہیں تو ہم اس شے کی وہ صفات بیان کرتے ہیں جن کی موجودگی اس شے کے لئے لازمی ہوتی ہے۔ ایسی صفات کو تضمن کہتے ہیں۔ چنانچہ تعریف  سے مُراد ہے کسی شے کا تضمن  بیان کرنا۔ ایک شے میں بہت سی صفات پائی جاتی ہیں۔ مگر جب ہم اس شے کی تعریف کرتے ہیں تو اس کی تمام صفات کو بیان نہیں کرتے۔ تعریف میں صرف انہی صفات کو شامل کیا جاتا ہے جو کسی شے کے لئے ضروری ہوتی ہیں اور جن کی عدم موجودگی میں وہ شے وہ نہیں ہوسکتی جو کہ وہ ہے۔ مثلًا انسان کی تعریف میں یہ کہنا کافی ہے کہ انسان حیوانِ عاقل ہے۔ حیوان ہونا اور عاقل ہونا انسان کے لیے ضروری صفات ہیں۔ اگر کوئی شے حیوان نہ ہو اور عاقل نہ ہو تو ہم اسے انسان نہیں کہہ سکتے۔ انسان کا تضمن انہی دو صفات پر مشتمل ہے۔ لہٰذا انسان کی تعریف میں انہی دو صفات کا بیان کرنا کافی ہوگا۔ انسان کی دیگر صفات (مثلًا اس کا سونا، کھانا، پینا، سوچنا، سمجھنا، لکھنا، پڑھنا وغیرہ وغیرہ) انہی دو صفات سے اخذ کی جاسکتی ہیں۔ ایسی صفات اگرچہ تضمن پر مبنی ہوتی ہیں مگر انہیں تضمن میں بیان نہیں کیا جاتا۔ پس کسی شخص کی تع...