اشاعتیں

جنوری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اِستِقرائے ناقص

تصویر
 اٹھائیسواں باب اِستِقرائے ناقص IMPERFECT INDUCTIONS گِنتی اور تمثیل Simple Enumeration and Analogy اِستِقرائے تام اور اِستِقرائے ناقص Perfect Induction and Imperfect Induction  ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطقِ اِستِقرائیہ کا کام تعمیمیں یعنی کلّیہ قضیے مرتب کرنا ہے۔ اور کُلّیہ قضیے مُرتب کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ انفرادی مثالوں کا ملاحظہ کیا جائے اور ان کی گنتی کی جائے۔ مثالوں کی گنتی مکمل بھی ہوسکتی ہے اور نامکمل بھی۔ مکمل گنتی میں ہم تمام مثالوں کو دیکھ کر کُلّیہ قضیہ اخذ کرتے ہیں۔ مثلًا سال کے تمام مہینوں کا مطالعہ کرکے ہم یہ تعمیم مرتب کرتے ہیں کہ سال کے تمام مہینوں کے دن ۳۲ دنوں سے کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح میں یہ دیکھ کر کہ میری جماعت کا ہر طالب علم کنوارا ہے یہ کُلیّہ قضیہ قائم کرسکتا ہوں کہ میری جماعت کے تمام طالب علم کنوارے ہیں۔ لیکن ایسی مکمل گنتی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ ہم تمام مثالوں کو اس لئے نہیں دیکھ سکتے کہ بہت سی مثالیں زمانۂ ماضی میں تھیں۔ بہت سی زمانۂ مستقبل میں ہوں گی اور زمانۂ حال کی بہت سی مثالیں زمانۂ ماضی کی ہماری پہنچ سے باہر ہوسکتی ہیں۔ ایسی صُورت میں ہم نامُکم...

قانونِ یکسانئ فطرت

تصویر
 ستائیسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کی صوری بُنیادیں قانُونِ یکسانئ فطرت LAW OF UNIFORMITY OF NATURE وحدتِ فطرت UNITY OF NATURE ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ تعمیم کی بُنیاد ہمارے اس عقیدے پر ہے کہ فطرت ایک منظم وحدت ہے۔ اگر فطرت ایک منظم وحدت نہ ہوتی تو ممکن ہے کہ سُورج جو ہزاروں سالوں سے آج تک طُلُوع ہوتا رہا ہے کل سے طُلُوع ہونا بند ہوجائے۔ ممکن ہے کہ آگ جو آج تک جلتی رہی ہے کل سے ٹھنڈی ہوجائے۔ ممکن ہے کہ مادّی چیزیں جو آج تک زمین کی طرف گرتی رہی ہیں آئندہ آسمان کی طرف جانا شروع کردیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو ہر طرف ابتری کا عالَم ہو۔ ایسے حالات میں جب کہ ہمیں یقین ہی نہ ہو کہ مستقبل ماضی جیسا ہوگا یا نہیں ہوگا نہ علم ورنہ زندگی ممکن ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے فطرت غیرمنظم حقائق کا نہیں، یہ ایک منظم کُل ہے۔ جس کے مختلف اجزاء آپس میں بھی متعلق ہیں اور کُل کے ساتھ بھی تعلُّق رکھتے ہیں۔ اجزاء کا وُجُود نہ تو ایک دوسرے سے علـٰحدہ ممکن نہیں۔ ایسا کُل جس میں اجزاء خلقی طور پر آپس میں اور کُل کے ساتھ متعلّق ہوں یعنی جو بحیثیتِ کُل اور اجزاء کے نُقطۂِ نظر سے ایک وحدت ہو خلقی کُل کہلاتا ہے۔ ایسا کُل ایک مجمو...

قانونِ عِلّت

تصویر
 چھبیسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کی صُوری بُنیادیں FORMAL GROUNDS OF INDUCTION   قانُونِ عِلَّت LAW OF CAUSATION  ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ قانُونِ عِلَّت اور قانُونِ یکسانئ فطرت منطقِ اِستِقرائیہ کی صُوری بُنیادیں ہیں۔ منطقِ اِستِقرائیہ کو تعمیم کے لئے انہی دو قوانین کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ چنانچہ یہ قوانین منطقِ اِستِقرائیہ کے لئے مفروضاتِ اولیہ ہیں۔ اس باب میں ہم قانونِ عِلّت کا مطالعہ کریں گے اور اگلے باب میں قانونِ یکسانئ فطرت کا۔ قانونِ عِلَّت قانونِ عِلّت کے یہ معنیٰ ہیں کہ ہر واقعہ کا کوئی نا کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کے لئے جو دنیا میں ظہور پذیر ہوتا ہے کافی وجہ یا عِلّت کا ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں کوئی چیز یا واقعہ یونہی یعنی بلاوجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں کوئی چیز بے وجہ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ چھِڑ جائے یا چاند کو گرہن لگ جائے یا قحط پڑ جائے تو ان واقعات کی ضرور کوئی عِلّت ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم کسی واقعے کی علّت سے بےخبر ہوتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ وہ واقعہ اتفاقیہ طور پر رونما ہوا لیکن "اتفاق" سے مُراد عدمِ عِلّت نہیں بلکہ ہمیں علّت کا علم نہیں۔ جب ہم ایک س...