قانونِ ارسطو اور قواعد قیاس کا باہمی تعلق

  قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق

RELATION BETWEEN ARISTOTLE'S DICTUM AND RULES OF SYLLOGISM 

استدلال دراصل فکر کے اُن اساسی قوانین پر مبنی ہے جن کا مطالعہ ہم دوسرے باب میں کرچکے ہیں۔ مثلًا تمام حملیہ قیاس جو موجبہ ہوتے ہیں اُصُولِ عینیّت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر س، م ہو اور م، پ ہو تو اُصُولِ عینیّت کے مطابق س، پ ہوگا۔ اسی طرح تمام حملیہ قیاس جو سَالِبَہ ہوں اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر س، م ہو اور م، پ نہ ہو تو اُصُولِ مانعِ اجتماعِ نقیضین کے مطابق س، پ نہیں ہوگا۔ کیونکہ س ایک ہی وقت میں م اور پ نہیں ہوسکتا جب کہ م، پ نہ ہو۔ اسی طرح تمام شرطیہ قیاس اُصُولِ وجۂ کافی پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثلًا؛ 

اگر ایک شخص لالچی ہو تو وہ ناخوش ہوگا

اگر ایک شخص خود غرض ہو تو وہ لالچی ہوگا

لہٰذا اگر ایک شخص خود غرض ہو تو وہ ناخوش ہوگا

اس قیاس میں یہ قضیہ "اگر ایک شخص لالچی ہو" (جو حدِ اوسط کا کام کرتا ہے) وجۂ کافی کو ظاہر کرتا ہے۔

ارسطو نے (جو علمِ منطق کا بانی تھا) قیاس کا ایک ایسا جامع قانون وضع کیا تھا جس سے قیاس کے مختلف قواعد (جن کا ہم مطالعہ کرچکے ہیں) اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ وہ قانون یہ ہے۔ ”اگر کسی بات کا اقرار یا انکار کسی پوری جماعت کے متعلق کیا جائے تو اس بات کا اقرار یا انکار اس جماعت کے اجزا یا افراد کے متعلق بھی لازم آئے گا“۔ اسے قانونِ ارسطو کہتے ہیں۔ مختصرًا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بات کسی کُل کے متعلق کہی جائے وہ بات اس کُل کے تمام اجزاء کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے۔

مثلًا ”تمام انسان فانی ہیں“۔ اس قضیے میں ہم نے فانی ہونے کا اقرار انسان کی تمام جماعت کے متعلق کیا ہے۔ چنانچہ فانی ہونے کا اقرار ہم انسان کی جماعت کے کسی جُزؤ یا کسی فرد کے متعلق بھی کرسکتے ہیں یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”تمام بادشاہ“ یا ”زید“ (جو انسان کی جماعت میں شامل ہیں فانی ہیں)۔ اسی طرح ”کوئی انسان کامل نہیں“ اس قضیے میں ہم نے کامل ہونے کا انکار انسان کی تمام جماعت کے متعلق کیا ہے۔ چنانچہ کامل ہونے کا انکار ہم انسان کی جماعت کے کسی جزؤ یا کسی فرد کے متعلق بھی کرسکتے ہیں۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”تمام بادشاہ“ یا ”زید“ (جو انسان کی جماعت میں شامل ہیں) کامِل نہیں۔ ان مثالوں کو ہم قیاس کی شکل میں یوں ظاہر کرسکتے ہیں۔

١. تمام انسان فانی ہیں

تمام بادشاہ انسان ہیں

لہٰذا تمام بادشاہ فانی ہیں

٢. تمام انسان فانی ہیں

زید انسان ہے

لہٰذا زید فانی ہے

٣. کوئی انسان کامل نہیں

تمام بادشاہ انسان ہیں

لہٰذا کوئی بادشاہ کامل نہیں

٤. کوئی انسان کامل نہیں

زید انسان ہے

لہٰذا زید کامل نہیں

قانونِ ارسطو قیاس کی بنیاد ہے۔ چنانچہ قیاس کے تمام قواعد قانونِ ارسطو سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ 

١. تین حدیں؛ قانونِ ارسطو میں تین حدوں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔

ا۔ وہ بات جس کا اقرار یا انکار کیا جائے (حَدِّ اَکْبَر)

ب۔ وہ پوری جماعت جس کے متعلق اُس بات کا اقرار یا انکار کیا جائے (حَدِّ اَوسط) 

ت۔ وہ اجزا یا افراد جو اس جماعت میں شامل ہیں (حَدِّ اصغر)

٢. تین قضیے؛ قانونِ ارسطو میں تین قضیوں کی طرف اشارہ بھی پایا جاتا ہے۔

ا۔ کسی جماعت کے متعلق جس بات کا اقرار یا انکار کیا گیا ہے (کُبریٰ)

م، پ ہے یا م، پ نہیں

ب۔ وہ اجزاء یا افراد جو اس جماعت میں شامل ہیں (صُغریٰ)

س، م ہے 

ت۔ جس بات کا اقرار یا انکار اُس جماعت کے متعلق کیا گیا ہے، اُس بات کا اقرار یا انکار اُن اجزاء یا افراد کے متعلق بھی لازم آئے گا جو اُس جماعت میں شامل ہیں (نتیجہ)

س، پ ہے یا س، پ نہیں 

٣. حَدِّ اَوسط کا جامع ہونا؛ قانونِ ارسطو کہتا ہے ”وہ بات جس کا اقرار یا انکار کسی "پوری جماعت" کے متعلق کیا جائے“ اور جیسا کہ ہم اوپر کہہ چکے ہیں یہ "جماعت" حَدِّ اوسط ہے۔ قانونِ ارسطو میں صاف طور پر حدِ اوسط کے جامع ہونے کی طرف اشارہ ہے (اس میں "پوری" جماعت کا ذکر کیا گیا ہے)۔

٤. حَدِّ اَکْبَرْ یا حَدِّ اَصْغَرْ کا عَمَلِ ناجائز؛ قانونِ ارسطو سے ظاہر ہے کہ وہ بات جس کا (کسی جماعت کے متعلق) اقرار یا انکار کیا گیا ہے۔ "اُتنی ہی بات" کا اقرار یا انکار — نہ کہ اُس سے "زیادہ" کا اقرار یا انکار — (جس کا مطلب یہ ہے کہ حَدِّ اَکْبَر کا عملِ ناجائز نہیں ہونا چاہیے) لازم آئے گا کسی ایسے جزؤ یا فرد کے متعلق — نہ کہ اُس سے "زیادہ" کے متعلق ― (جس کا مطلب یہ ہے کہ حدِ اصغر کا عمل ناجائز نہیں ہونا چاہیے) جو اس جماعت میں شامل ہے۔

٥. دو سَالِبَہ مُقدمات؛ قانونِ ارسطو سے یہ ظاہر ہے کہ ایک مُقدمہ (صُغریٰ) مُوْجِبَہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ قانون صاف طور پر کہتا ہے کہ اگر کسی بات کا اقرار یا انکار ان اجزاء یا افراد کے متعلق بھی لازِم آئے گا جو اُس جماعت میں شامل "ہیں"۔

٦. اگر ایک مقدمہ سَالِبَہ ہو تو نتیجہ بھی سَالِبَہ ہوگا اور اگر نتیجہ سَالِبَہ ہو تو ایک مقدمہ سَالِبَہ ہوگا؛ قانونِ ارسطو صاف طور پر کہتا ہے کہ (۱) اگر کسی بات کا کسی جماعت کے متعلق اقرار کیا جائے تو اس بات کا اقرار اس جماعت کے اجزاء یا افراد کے متعلق بھی لازم آئے گا۔ اور (۲) اگر کسی بات کا انکار کسی جماعت کے متعلق کیا جائے تو اس بات کا انکار اس جماعت کے اجزاء یا افراد کے متعلق بھی لازم آئے گا۔ پہلی بات سے یہ صاف طور پر ظاہر ہے کہ اگر مقدمات مُوْجِبَہ ہوں تو نتیجہ بھی مُوْجِبَہ ہوگا اور اگر نتیجہ مُوْجِبَہ ہو تو مقدمات بھی مُوْجِبَہ ہوں گے۔ اسی طرح دوسری بات یہ صاف طور پر ظاہر ہے کہ اگر ایک مقدمہ سَالِبَہ ہو (دونوں مقدمات سَالِبَہ نہیں ہوسکتے کیونکہ جیسا کہ ہم ثابت کرچکے ہیں قانونِ ارسطو کہتا ہے کہ ایک مقدمہ لازمی طور پر مُوْجِبَہ ہونا چاہیے) تو نتیجہ بھی سَالِبَہ ہوگا اور اگر نتیجہ سَالِبَہ ہو تو ایک مقدمہ لازمی طور پر سَالِبَہ ہوگا۔

المختصر قیاس کے تمام قواعد قانونِ ارسطو سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔

حل شدہ مثالیں

سُوال؛ ایسے قیاسات وضع کرو جن میں مندرجہ ذیل قضیے نتیجہ ہوں۔
١. تمام کتابیں مُفید ہیں، ٢. کُچھ ٹیکس ضروری ہیں، ٣. کوئی آدمی آزاد نہیں، ٤. کُچھ پھُول خوبصورت نہیں۔
جواب؛ 
١. تمام علم دینے والی چیزیں مُفید ہیں 
تمام کتابیں علم دینے والی چیزیں ہیں
لہٰذا تمام کتابیں مُفید ہیں
٢. تمام وہ چیزیں جو ملک کے لئے مفید ہیں ضروری ہیں
کُچھ ٹیکس ملک کے لئے مفید ہیں
لہٰذا کُچھ ٹیکس ضروری ہیں
٣. کوئی مجبور چیز آزاد نہیں
تمام آدمی مجبور ہیں
لہٰذا کوئی آدمی آزاد نہیں
٤. کوئی بدبودار چیز خوبصورت نہیں
کُچھ پھُول بدبودار ہیں
لہٰذا کُچھ پھُول خوبصورت نہیں
سُوال؛ مندرجہ ذیل مقدمات میں سے کون سے نتیجے اخذ کئے جاسکتے ہیں؟ 
١. تمام طلبا کھلاڑی ہیں، تمام طلبا محنتی ہیں۔ ٢. تمام کتابیں مُفید ہیں، تمام عُلُوم مُفید ہیں۔ ٣. تمام انسان جاندار ہیں، تمام جاندار فانی ہیں۔ ٤. کوئی مرد عورت نہیں، تمام مرد انسان ہیں ٥. تمام بھیڑئیے خونخوار ہیں، تمام شیر دلیر ہیں۔ ٦. کوئی گھوڑا بھینس نہیں، کوئی گائے گھوڑا نہیں۔
جواب؛ (۱) نتیجہ۔ کُچھ محنتی لوگ کھلاڑی ہیں یہاں ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ تمام محنتی لوگ کھلاڑی ہیں کیونکہ حد "محنتی" (یعنی حَدِّ اَصْغَر) اپنے مقدمے یعنی صُغریٰ میں غیر جامع ہے۔ (۲) ان دو مقدمات میں سے ہم کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کیونکہ حَدِّ اوسط (مُفید) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔ (۳) نتیجہ۔ کُچھ فانی چیزیں انسان ہیں۔ یہاں ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ تمام فانی چیزیں انسان ہیں کیونکہ حَدّ‌ "فانی" اپنے مقدمے میں غیر جامع ہے۔ (٤) نتیجہ۔ کُچھ انسان عورتیں نہیں۔ ہم یہاں یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ کوئی انسان عورت نہیں کیونکہ حد "انسان" اپنے مقدمے میں غیر جامع ہے۔ (٥) ان مقدمات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں چار حدیّں ہیں۔ یعنی بھیڑئیے، خونخوار شیر اور دلیر ان مقدمات میں کوئی حَدِّ اَوسط نہیں۔ (٦) ان مقدمات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دونوں سَالِبَہ قضیے ہیں۔ 
سُوال؛ مندرجہ ذیل قیاسات کو دیکھو اور بتاؤ کہ وہ صحیح ہیں یا غَلَط؟ 
١. ا ع ع، ٢. ی ع ع ٣. ا ا ع، ٤. ی ع و، ٥. ی ی ی، ٦. و و و، ٧. ع ی و، ٨. ع و ی، ٩. ع ا ا، ١٠. ع ا ع، ١١. ا ی ا، ١٢. و ع و۔
جواب؛ (۱) ا ع ع:- یہ قیاس صحیح ہے۔ ایک قضیہ سَالِبَہ ہے اور نتیجہ بھی سَالِبَہ ہے۔ نتیجہ کُلیّہ ہے اور دونوں قضیے بھی کُلیّے ہیں۔ (۲) ی ع ع:- یہ قیاس غَلَط ہے۔ اگر کُبریٰ ایک جُزئیہ ہو اور صُغریٰ ایک سَالِبَہ ہو تو ان سے کوئی نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ یہاں مُغالطۂ عمل ناجائز حدِ اَکبر لازم آتا ہے۔ (۳) ا ا ع:- یہ قیاس غَلَط ہے دو مُوجِبَہ قضیوں سے سَالِبَہ نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔ (٤) ی ع و:- یہ قیاس غَلَط ہے۔ اگر کُبریٰ جُزئیہ ہو اور صُغریٰ سَالِبَہ ہو تو ان سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا یہاں مُغالطۂِ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اَکْبَر لازم آتا ہے۔ (٥) ی ی ی:- یہ قیاس غَلَط ہے۔ دو جُزئیہ قضیوں سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔ یہاں مُغَالِطۂِ غیر جامع حَدِّ اَوسط لازم آتا ہے۔ (٦). و و و:- یہ قیاس غلط ہے۔ دو سَالِبَہ قضیوں سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔ (٧) ع ی و:- یہ قیاس صحیح ہے، ایک قضیہ سَالِبَہ ہے اور نتیجہ بھی سَالِبَہ ہے۔ ایک قضیہ جُزئیہ ہے اور نتیجہ بھی جُزئیہ ہے۔ (۸) ع و ی:- یہ قیاس غلط ہے دو سَالِبَہ قضیوں سے کوئی نتیجہ نہیں اخذ ہوسکتا۔ (۹) ع ا ا:- یہ قیاس غلط ہے۔ اگر ایک قضیہ سَالِبَہ ہو تو نتیجہ سَالِبَہ ہوتا ہے لیکن یہاں نتیجہ ا ہے جو مُوْجِبَہ ہے۔ (۱۰) ع ا ع:- یہ قیاس صحیح ہے۔ ایک قضیہ سَالِبَہ ہے اور نتیجہ بھی سَالِبَہ ہے۔ نتیجہ کُلیّہ ہے اور دونوں قضیے بھی کُلیّے ہیں۔ (۱۱) ا ی ا:- یہ قیاس غلط ہے اگر ایک قضیہ جُزئیہ ہو تو نتیجہ بھی جُزئیہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں نتیجہ ا ہے جو کہ کُلیّہ ہے۔ (۱۲) و ع و:- یہ قیاس غلط ہے۔ دو سَالِبَہ قضیوں سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔
سُوال:۔ مندرجہ ذیل قیاسات کو دیکھو اور بتاؤ کہ وہ صحیح ہیں یا غَلَط؟ 
١. تمام سیب پھل ہیں۔
کوئی نارنگی سیب نہیں۔
لہٰذا کوئی نارنگی پھل نہیں۔
اس قیاس میں مُغالطۂ عمل ناجائزِ حدِ اکبر پایا جاتا ہے۔ حدِ اکبر (پھل) کُبریٰ میں غیر جامع ہے لیکن نتیجے میں جامع ہے۔
٢. تمام کتابیں غلط ہوسکتی ہیں۔
تمام کتابیں انسانی دماغ کی پیداوار ہیں۔
لہٰذا تمام وہ چیزیں جو انسانی دماغ کی پیداوار ہیں غَلَط ہوسکتی ہیں۔
اس قیاس میں مُغالطۂِ عملِ ناجائزِ حدِ اصغر پایا جاتا ہے۔ حدِ اصغر (انسانی دماغ کی پیداوار) صُغریٰ میں غیر جامع ہے لیکن نتیجے میں جامع ہے۔
٣. تمام بے ضرر چیزیں قابلِ اجازت ہیں۔
کُچھ خوشیاں بےضرر نہیں۔
لہٰذا کُچھ خوشیاں قابلِ اجازت نہیں۔
اس قیاس میں مُغالطۂ عملِ ناجائز حدِ اکبر پایا جاتا ہے۔ حدِ اکبر (قابلِ اجازت) کُبریٰ میں غیر جامع ہے لیکن نتیجے میں جامع ہے۔
٤. تمام وہ لوگ جو اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتے ہیں فُضُول خرچ ہیں۔
کُچھ طلبا فضول خرچ ہیں۔
لہٰذا کُچھ طلبا اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے والے لوگ ہیں۔
اس قیاس میں مُغالطۂِ غیر جامع حدِ اوسط پایا جاتا ہے۔ حدِّ اوسط (فُضُول خرچ) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔
٥. میرا قلم کاغذ کو چھُو رہا ہے۔
میرا ہاتھ قلم کو چھُو رہا ہے۔
لہٰذا میرا ہاتھ کاغذ کو چھُو رہا ہے۔
اس قیاس میں مُغالطۂ حُدودِ اربعہ پایا جاتا ہے۔ یہاں چار حدّیں ہیں اور ان میں کوئی حدِّ اوسط نہیں۔
٦. زید نیک ہے کیونکہ وہ سچا ہے اور تمام نیک لوگ سچے ہوتے ہیں۔
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے 
تمام نیک لوگ سچے ہیں
زید سچا ہے
لہٰذا زید نیک ہے
اس قیاس میں مُغالطۂِ غیر جامع حدِّ اوسط پایا جاتا ہے۔ حدِّ اوسط (سچے) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔
٧. تمام انسان محنتی نہیں۔
زید محنتی ہے۔
لہٰذا زید انسان نہیں۔
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے
کُچھ انسان محنتی نہیں
زید محنتی ہے
لہٰذا زید انسان نہیں
اس قیاس میں مُغالطۂ عملِ ناجائز حدِ اکبر پایا جاتا ہے۔ حدِ اکبر (انسان) کُبریٰ میں غیر جامع ہے لیکن نتیجے میں جامع ہے۔
٨. کُچھ کارآمد دھاتیں کمیاب ہورہی ہیں۔
لوہا ایک کارآمد دھات ہے۔
لہٰذا لوہا کمیاب ہورہا ہے۔
اس قیاس میں مُغالطۂ غیرجامع حدِ اوسط پایا جاتا ہے۔ (کارآمد دھاتیں) دونوں مقدمات میں غیرجامع ہے۔
٩. زید اس آسامی کے لئے موزوں نہیں کیونکہ وہ گریجوایٹ نہیں اور گریجوایٹ ہی اس آسامی کے لئے موزوں ہیں۔
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے۔
تمام گریجوایٹ اس آسامی کے لئے موزوں ہیں
زید گریجوایٹ نہیں
لہٰذا زید اس آسامی کے لئے موزوں نہیں
اس قیاس میں مُغالطۂ عمل ناجائز حدِ اکبر پایا جاتا ہے، حدِ اکبر (اس آسامی کے لئے موزوں) کُبریٰ میں غیر جامع اور نتیجہ میں جامع ہے۔
١٠. ارسطو ایک منطقی تھا کیونکہ وہ ایک فلسفی تھا اور تمام منطقی فلسفی ہوتے ہیں۔
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے
تمام منطقی فلسفی ہیں
ارسطو ایک فلسفی ہے
لہٰذا ارسطو ایک منطقی ہے
اس قیاس میں مغالطۂِ غیر جامع حدِ اوسط پایا جاتا ہے۔ حدِ اوسط (فلسفی) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔
١١. سُقراط عقلمند نہیں کیونکہ تمام انسان عقلمند نہیں ہوتے اور سُقراط انسان تھا۔
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے
کُچھ انسان عقلمند نہیں
سُقراط انسان ہے
لہٰذا سُقراط عقلمند نہیں
اس قیاس میں مُغالطۂِ غیر جامع حدِ اوسط پایا جاتا ہے۔ حدِ اوسط (انسان) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔
١٢. صرف نیک لوگ قابل اعتبار ہیں اور چونکہ زید قابلِ اعتبار ہے لہٰذا زید نیک ہے۔
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے 
تمام نیک لوگ قابل اعتبار ہیں
زید قابلِ اعتبار ہے
لہٰذا زید نیک ہے
اس قیاس میں مُغالطۂِ غیر جامع حدِ اوسط پایا جاتا ہے۔ حدِ اوسط (قابلِ اعتبار) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔
١٣. تمام لوگ تعلیم کے مخالف ہیں
تمام لوگ جنگ کے مخالف ہیں
لہٰذا تمام جنگ کے مخالف تعلیم کے مخالف ہیں
اس قیاس میں مُغالطۂ عمل ناجائز حد اصغر پایا جاتا ہے۔ حدِ اصغر (جنگ کے مخالف) صُغریٰ میں غیر جامع ہے لیکن نتیجے میں جامع ہے۔
١٤. ڈاک گاڑیوں کے سوا یہاں کوئی گاڑی نہیں ٹھہرتی
اور چونکہ گاڑی یہاں نہیں ٹھہرتی لہٰذا یہ ڈاک گاڑی ہے
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے 
تمام یہاں ٹھہرنے والی گاڑیاں ڈاک گاڑیاں ہیں
یہ یہاں ٹھہرنے والی گاڑی نہیں
لہٰذا یہ ڈاک گاڑی نہیں
اس قیاس میں مُغالطۂِ عمل ناجائزِ حدِ اکبر پایا جاتا ہے، حدِ اکبر (ڈاک گاڑی) کُبریٰ میں غیر جامع ہے لیکن نتیجے میں جامع ہے۔
١٥. سونا ایک ٹھوس چیز ہے کیونکہ یہ مائع نہیں اور کوئی ٹھوس چیز مائع نہیں۔
اس قیاس کی منطقی شکل یہ ہے
کوئی ٹھوس مائع نہیں
سونا مائع نہیں
لہٰذا سونا ٹھوس ہے
یہاں دونوں مقدمات سالبہ قضیے ہیں۔ لہٰذا ان سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ جب نتیجہ کُلیّہ ہو تو حدِّ اوسط مقدمات میں صرف ایک ہی دفعہ جامع ہوسکتی ہے۔
جواب؛ جب نتیجہ کُلیّہ ہو تو یہ یا ا ہوگا یا ع۔ اگر نتیجہ ا ہو تو دونوں مقدمات ا ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مقدمات میں صرف دو حدّیں جامع ہوں گی۔ ان دو جامع حدوں میں ایک لازمی طور پر حدِّ اصغر ہوگی۔ کیونکہ نتیجے میں حدِّ اصغر جامع ہے اور اگر مقدمۂ صُغریٰ میں یہ جامع نہ ہو تو مُغالطۂِ عَمَلِ ناجائز حدِ اصغر لازم آئے گا۔ دوسری جامع حدّ حدِ اوسط ہوگی چنانچہ جب نتیجہ ا ہو تو حد اوسط مقدمات میں صرف ایک ہی دفعہ جامع ہوسکتی ہے۔
اگر نتیجہ ع ہو تو ایک مقدمہ ضرور ع ہوگا اور دوسرا مقدمہ ا ہوگا (دونوں مقدمات کُلیّہ ہونا چاہئیں ورنہ نتیجہ کُلیّہ نہیں ہوگا اور ایک مقدمہ سَالِبَہ ہونا چاہیے ورنہ نتیجہ سَالِبَہ نہیں ہوگا) جب ایک مقدمہ ع ہو اور دوسرا ا ہو تو مقدمات میں کُل تین حدّیں جامع ہوں گی۔ ان تین جامع حدوں میں سے ایک حدِّ اکبر ہوگی اور ایک حدِ اصغر ہوگی کیونکہ نتیجے میں یہ دونوں جامع ہیں لہٰذا انہیں مقدمات میں بھی جامع ہونا چاہیے تاکہ مُغالطۂِ عمل ناجائز پیدا نہ ہو۔ تیسری حد جو مقدمات میں جامع ہے وہ حدِ اوسط ہوگی۔ چنانچہ جب نتیجہ ع ہو تو حدِ اوسط مقدمات میں صرف ایک ہی دفعہ جامع ہوسکتی ہے۔ پس جب بھی نتیجہ کُلیّہ ہو یعنی ا یا ع ہو تو حدِ اوسط مقدمات میں صرف ایک ہی دفعہ جامع ہوسکتی ہے۔ 
سُوال؛ ثابت کرو کہ جب حدِّ اصغر اپنے مقدمے میں محمول ہو تو نتیجہ ا نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ یہاں ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ یا تو نتیجہ سالبہ ہوگا یا اگر موجبہ ہوگا تو ا نہیں ہوگا۔
ہمیں یہ بتلایا گیا ہے کہ حدِّ اصغر اپنے مقدمے میں محمول ہے۔ ظاہر ہے یا تو یہ جامع ہوگی یا غیرجامع۔ اگر یہ اپنے مقدمے میں جامع ہے تو یہ مقدمہ لازمی طور پر سَالِبَہ ہوگا کیونکہ ایک سَالِبَہ قضیے میں ہی محمول جامع ہوسکتا ہے۔ اور اگر ایک مقدمہ سَالِبَہ ہوگا تو نتیجہ لازمی طور پر سَالِبَہ ہوگا یعنی ا نہیں ہوگا۔ اور اگر حدِ اصغر اپنے مقدمے میں غیر جامع ہے تو یہ نتیجے میں بھی لازمی طور پر غیر جامع ہوگی۔ اور اگر حدِ اصغر نتیجے میں غیر جامع ہوگی تو نتیجہ جُزئیہ ہوگا۔ یعنی ا نہیں ہوگا۔
چنانچہ اگر حدِ اصغر اپنے مقدمے میں محمول ہو تو نتیجہ کبھی ا نہیں ہوگا۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ اگر مُقدمۂِ صُغریٰ سَالِبَہ ہو تو مُقدمۂِ کُبریٰ لازمی طور پر کُلیّہ ہوگا۔
جواب؛ اگر صُغریٰ سَالِبَہ ہو تو کُبریٰ لازمی طور پر مُوْجِبَہ ہوگا۔ کیونکہ دونوں مقدمات سَالِبَہ نہیں ہونا چاہئیں۔ لیکن کُبریٰ جُزئیہ نہیں ہوسکتا کیونکہ صُغریٰ سَالِبَہ ہے۔ (ایک جُزئیہ کُبریٰ اور سَالِبَہ صُغریٰ سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا)۔ چنانچہ اگر صُغریٰ سَالِبَہ ہو تو کُبریٰ لازمی طور پر کُلیّہ ہوگا۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ اگر حدِ اوسط دونوں مقدمات میں جامع ہو تو نتیجہ کُلیّہ نہیں ہوسکتا۔
جواب؛ ہمیں یہاں یہ ثابت کرنا ہے کہ نتیجہ جُزئیہ ہوگا، کُلیّہ نہیں ہوگا۔ یا تو دونوں مقدمات مُوْجِبَہ ہوں گے یا ایک مقدمہ مُوْجِبَہ ہوگا اور ایک سَالِبَہ۔ اگر دونوں مقدمات مُوْجِبَہ ہیں تو وہ دونوں ا ہوں گے ورنہ حدِ اوسط دونوں میں جامع نہیں ہوسکتی اور ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ حدِ اوسط دونوں مقدمات میں جامع ہے۔ اگر دونوں مقدمات ا ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک حد کُبریٰ میں جامع ہے اور ایک حد صُغریٰ میں جامع ہے۔ اور یہ حد جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے حدِ اوسط ہے۔ چنانچہ حدِ اصغر صُغریٰ میں غیر جامع ہوگی اور اگر حدِ اصغر صُغریٰ میں غیر جامع ہوگی تو یہ نتیجہ میں بھی غیر جامع ہوگی یعنی نتیجہ جُزئیہ ہوگا کُلیّہ نہیں ہوگا۔
اور اگر ایک مقدمہ مُوْجِبَہ ہے اور دوسرا سَالِبَہ اور حدِ اوسط دونوں مقدمات میں جامع ہے تو کوئی مقدمہ ی نہیں ہوسکتا کیونکہ ی میں کوئی حد جامع نہیں ہوتی۔ چنانچہ مُوْجِبَہ مقدمہ ا ہوگا اور سَالِبَہ مقدمہ یا و ہوگا یا ع۔
اگر ایک مقدمہ ا اور دوسرا ع تو حَدِّ اوسط ایک دفعہ مقدمہ ا میں اور ایک دفعہ مقدمہ ع میں جامع ہوگی (کیونکہ یہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ حد اوسط دونوں مقدمات میں جامع ہے) تیسری حَدّ جو مقدمات میں جامع ہے وہ حَدِّ اکبر ہوگی کیونکہ ایک مقدمہ ع یعنی سَالِبَہ ہے اور نتیجہ بھی ہوگا جس کی وجہ سے نتیجے میں حدِ اکبر جامع ہوگی۔ لہٰذا حَدِّ اکبر کا اپنے مقدمے میں جامع ہونا لازمی ہے تاکہ مُغالطۂ عملِ ناجائز حَدِّ اکبر واقع نہ ہو۔ اگر تیسری حَدّ جو مقدمات میں جامع ہے حَدِّ اکبر ہے تو حَدِّ اصغر لازمی طور پر اپنے مقدمے میں غیر جامع ہوگی (کیونکہ جب مقدمات ا اور ع ہوں تو اُن میں صرف تین حدّیں جامع ہوسکتی ہیں)۔ اور اگر حدِّ اصغر اپنے مقدمے میں غیر جامع ہے تو یہ نتیجے میں بھی غیر جامع ہوگی۔ یعنی جُزئیہ ہوگا کُلیّہ نہیں ہوگا۔ 
پس جب بھی حَدِّ اوسط دونوں مقدمات میں جامع ہو تو نتیجہ کُلیّہ نہیں ہوسکتا۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ اگر صُغریٰ سَالِبَہ ہو تو کُبریٰ لازمی طور پر ا ہوگا۔
جواب؛ اگر کُبریٰ سَالِبَہ ہے تو کُبریٰ لازمی طور پر مُوْجِبَہ ہوگا یعنی یا ا ہوگا یا ی ہوگا۔ لیکن یہ ی نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک جُزئیہ کُبریٰ اور ایک سَالِبَہ صُغریٰ سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اگر صُغریٰ سَالِبَہ ہو تو کُبریٰ لازمی طور پر ا ہوگا۔
سُوال؛ ثابت کرو کہ اگر حَدِّ اکبر کُبریٰ میں محمول ہو تو صُغریٰ لازمی طور پر مُوْجِبَہ ہوگا۔
جواب؛ حدِ اکبر کُبریٰ میں یا جامع ہوگی یا غیر جامع۔ اگر یہ جامع ہے تو کُبریٰ ضرور سَالِبَہ ہوگا (کیونکہ ایک سَالِبَہ قضیے میں ہی محمول جامع ہوسکتا ہے) اور اگر کُبریٰ سَالِبَہ ہوگا تو صُغریٰ لازمی طور پر مُوْجِبَہ ہوگا۔
اگر حَدِّ اَکْبَر کُبریٰ میں غیر جامع ہے تو یہ نتیجے میں بھی غیر جامع ہوگی۔ یعنی نتیجہ مُوْجِبَہ ہوگا۔ اور اگر نتیجہ مُوْجِبَہ ہو تو دونوں مقدمات مُوْجِبَہ ہوں گے۔ یعنی صُغریٰ مُوْجِبَہ ہوگا۔
چنانچہ جب حدِ اکبر کُبریٰ میں محمول ہو تو صُغریٰ لازمی طور پر مُوْجِبَہ ہوتا ہے۔
سُوال؛ قیاس کی مندرجہ ذیل صورتوں میں نتیجہ کیا ہوگا؟ 
١. جب کہ صرف ایک حد ایک دفعہ جامع ہو۔
٢. جب کہ صرف ایک حد دو دفعہ جامع ہو۔
٣. جب کہ دو حدیں جامع ہوں اور ہر حد صرف ایک دفعہ جامع ہو۔
٤. جب کہ دو حدیں جامع ہوں اور ہر حد دو دفعہ جامع ہو۔
جواب؛ ١:- جب صرف ایک ہی حد جامع ہو تو وہ حد لازمی طور پر حدِ اوسط ہوگی۔ اور چونکہ اور کوئی حد جامع نہیں لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حدِّ اکبر اور حَدِّ اصغر مقدمات اور نتیجے میں غیر جامع ہیں یعنی نتیجہ ی ہوگا۔
٢. جب صرف ایک ہی حد دو دفعہ جامع ہے تو وہ حد لازمی طور پر حدِ اوسط ہوگی اور چونکہ اور کوئی حد مقدمات اور نتیجے میں جامع نہیں لہٰذا نتیجہ ی ہوگا۔
٣. جب دو حدیں جامع ہوں تو ان میں سے ایک حد ضرور حدِّ اوسط ہوگی۔ دوسری جامع حدّ (خواہ وہ حَدِّ اَکبر ہو یا حَدِّ اصغر) نتیجے میں جامع نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اُس صورت میں اُس حد کو اپنے مقدمے میں بھی جامع ہونا پڑے گا۔ اور اسی طرح ہمارے پاس تین جامع حدیں ہوجائیں گی۔ لیکن ہمیں بتایا یہ گیا ہے کہ صرف دو حدیّں جامع ہیں۔ لہٰذا کوئی حد نتیجے میں جامع نہیں۔ یعنی نتیجہ ی ہے۔
٤. جب دو حدّیں جامع ہوں تو اُن میں سے ایک حد ضرور حدِ اوسط ہوگی۔ چونکہ ہمیں بتایا یہ گیا ہے کہ ہر جامع حُد دو دفعہ جامع ہے لہٰذا حدِ اوسط ایک دفعہ کُبریٰ میں جامع ہے اور ایک دفعہ صُغریٰ میں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ دوسری جامع حد کونسی حد ہے۔ یعنی دوسری جامع حد، حدِّ اکبر ہے یا حَدِّ اصغر ہے۔
اگر یہ حَدِّ اصغر ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حَدِّ اصغر دو دفعہ جامع ہے۔ ایک دفعہ صُغریٰ میں اور ایک دفعہ نتیجہ میں۔ اگر حَدِّ اصغر نتیجے میں جامع ہو تو نتیجہ کُلیّہ ہوگا۔ یعنی یا ا ہوگا یا ع۔ لیکن نتیجہ ع نہیں ہوسکتا کیونکہ ع کی صورت میں حدِّ اکبر بھی جامع ہوجائے گی اور ہمارے پاس دو جامع حدوں کی بجائے تین جامع حدّیں ہوجائیں گی۔ لیکن ہمیں بتایا یہ گیا ہے کہ صرف دو حدیں جامع ہیں۔ اگر نتیجہ ا ہو تو دونوں مقدمات ا ہوں گے۔ اور اس صورت میں کامل تین جامع ہوں گی۔ (دو مقدمات میں اور ایک نتیجہ میں) لیکن ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ دو حدّیں جامع ہیں اور ہر حد دو دفع جامع ہے۔ یعنی کُل چار جامع حدیّں ہیں۔ لہٰذا نتیجہ ا بھی نہیں ہوسکتا اور دوسری جامع حد حدِّ اصغر بھی نہیں ہوسکتی۔
پس یہ دوسری جامع حد، حدِّ اکبر ہے۔ اگر یہ دوسری جامع حد، حدِ اکبر ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حدِّ اکبر دو دفعہ جامع ہے۔ ایک دفعہ کُبریٰ میں اور ایک دفعہ نتیجے میں۔ اور اگر حدِّ اکبر نتیجے میں جامع ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نتیجہ سَالِبَہ ہے۔ یعنی ع ہے یا و۔ لیکن نتیجہ ع نہیں ہوسکتا کیونکہ اس صورت میں حدِّ اصغر بھی جامع ہوجائے گی۔ اور ہمارے پاس تین جامع حدیں ہوجائیں گی جو کہ دی ہوئی بات کے خلاف ہے لہٰذا نتیجہ و ہوگا۔
چنانچہ جب دو حدِّیں جامع ہوں اور ہر حد دو دفعہ جامع ہو تو وہ دو جامع حدیں حدِ اوسط اور حدِ اکبر ہوں گی اور نتیجہ و ہوگا۔
فقط
سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق
صفحات

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

علمِ منطق کی تعریف

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اَقسام