تعریف

 تعریف کسے کہتے ہیں؟ جب ہم کسی شے کی تعریف کرتے ہیں تو ہم اس شے کی وہ صفات بیان کرتے ہیں جن کی موجودگی اس شے کے لئے لازمی ہوتی ہے۔ ایسی صفات کو تضمن کہتے ہیں۔ چنانچہ تعریف سے مُراد ہے کسی شے کا تضمن بیان کرنا۔ ایک شے میں بہت سی صفات پائی جاتی ہیں۔ مگر جب ہم اس شے کی تعریف کرتے ہیں تو اس کی تمام صفات کو بیان نہیں کرتے۔ تعریف میں صرف انہی صفات کو شامل کیا جاتا ہے جو کسی شے کے لئے ضروری ہوتی ہیں اور جن کی عدم موجودگی میں وہ شے وہ نہیں ہوسکتی جو کہ وہ ہے۔ مثلًا انسان کی تعریف میں یہ کہنا کافی ہے کہ انسان حیوانِ عاقل ہے۔ حیوان ہونا اور عاقل ہونا انسان کے لیے ضروری صفات ہیں۔ اگر کوئی شے حیوان نہ ہو اور عاقل نہ ہو تو ہم اسے انسان نہیں کہہ سکتے۔ انسان کا تضمن انہی دو صفات پر مشتمل ہے۔ لہٰذا انسان کی تعریف میں انہی دو صفات کا بیان کرنا کافی ہوگا۔ انسان کی دیگر صفات (مثلًا اس کا سونا، کھانا، پینا، سوچنا، سمجھنا، لکھنا، پڑھنا وغیرہ وغیرہ) انہی دو صفات سے اخذ کی جاسکتی ہیں۔ ایسی صفات اگرچہ تضمن پر مبنی ہوتی ہیں مگر انہیں تضمن میں بیان نہیں کیا جاتا۔ پس کسی شخص کی تعریف سے مُراد اس شے کی وہ صفات ہیں جو اس کے لئے ضروری اور کافی ہوں۔ اور چونکہ ایسی صفات کو تضمن کہتے ہیں لہٰذا تعریف سے مراد کسی شے کا تضمن ہے۔ منطق کے لئے تعریف کا مسئلہ دراصل حدود کے تضمن کی تعیین کا مسئلہ ہے۔

تعریف کی ضرورت اور اہمیّت

تعریف کا مقصد ہمارے الفاظ یا حُدود کے مفہوم کو واضح کرنا ہوتا ہے۔ کسی گفتگو یا بحث میں حدود کے مفہوم کے تعییّن کے بغیر صحیح فکر ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے ہر بحث میں سب سے پہلے الفاظ یا حُدود کی تعریف کی جاتی ہے۔ تعریف سے ہم حُدود کے معانی کی حدّ بندی کرتے ہیں اور اس طرح ان غلطیوں سے بچ سکتے ہیں جو الفاظ کے مبہم ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر بحث کرنے والے اپنے الفاظ کی تعریف کرکے ان کے مفہوم کو متعین کرلیں تو وہ لغو بحثوں میں مبتلا ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ تعریف سے الفاظ یا حدود کے مفہوم متعین اور ان کے معنیٰ صاف ہوجاتے ہیں۔ ارسطو نے سچ کہا ہے کہ تعریف علم کی ابتدا اور انتہا ہے۔ تعریف علم کی ابتدا اس لحاظ سے ہے کہ کسی شے کا علم حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس شے کا صاف اور واضح تصور حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کسی شے کا صاف اور واضح تصور اس کی تعریف سے حاصل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر استاد جب اپنے شاگردوں کو مُثلث ∆ کا سبق پڑھانا چاہتا ہے تو پہلے مُثلث کی تعریف بیان کرتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے شاگرد یہ سمجھ ہی نہیں سکیں گے کہ وہ انہیں کیا پڑھا رہا ہے۔ تعریف علم کی انتہاء اس لحاظ سے ہے کہ علم کا نصب العین اشیاء کی مکمل تعریفوں کو حاصل کرنا ہے۔ کسی شے کی وہ تعریف جو ہم شروع میں کرتے ہیں اس شے کے متعلق مکمل علم نہیں دیتی ایسی تعریف کو ابتدائی تعریف کہتے ہیں۔ ابتدائی تعریف کا مقصد کسی شے کو دیگر اشیاء سے مُمیز کرنا ہوتا ہے۔ ابتدائی تعریف خواہ وہ کتنی ہی صاف اور واضح کیوں نہ ہو۔ ہمیں کسی شے کا مکمل علم نہیں دیتی۔ جوں جوں کسی شے کے متعلق ہمارا علم بڑھتا جاتا ہے ہماری ابتدائی تعریفوں میں ترمیم ہوتی چلی جاتی ہے اور بعد میں جو بھی وسعت ہماری تعریف میں پیدا ہوتی ہے وہ علم کی ابتدا نہیں ہوتی بلکہ انتہا ہوتی ہے۔ چنانچہ کچھ تعریفیں ابتدائی ہوتی ہیں اور کچھ آخری، آخری یعنی مکمل تعریفیں علم کا مقصود ہوتی ہیں۔ تعریف علم کی انتہا اس معنیٰ میں ہے۔

تعریف کس طرح وضع کی جاتی ہے؟

How is Definition Formed? 

ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ تعریف کا کام حدود کے مفہوم کی تعیین یعنی ان کے مفہوم کی حدّ بندی کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ تعریف میں ہمیں کسی شے کا پورا تضمن بیان کرنا ہوتا ہے۔ یعنی وہ صفات بیان کرنا ہوتی ہیں جو کسی شے کے لئے ضروری اور کافی ہوں۔ ایسی صفات کا علم حاصل کرنے لئے ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔

ںـ۱۔ جب ہم کسی شے کی تعریف کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اُس شے اور دیگر اشیاء میں جو اسی شے کی جماعت میں شامل ہیں کونسی صفات مشترک ہیں۔ باالفاظِ دیگر ہمیں اس جماعت کے (جس کی ہم تعریف وضع کررہے ہیں) نمائندہ افراد کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ ان کا بغور مشاہدہ کرنا ہوتا ہے اور پھر ان کا موازنہ کرکے ان صفات کو معلوم کرنا ہوتا ہے جو ان سب افراد میں مشترک ہیں لیکن وہ تمام مشترکہ صفات تعریف میں بیان نہیں کی جاتیں۔ ان میں بہت سی صفات خاصے ہوتی ہیں اور بہت سی عرضِ غیرفارِق۔ چونکہ ایسی صفات تضمن نہیں ہوتیں لہٰذا تعریف میں انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ںـ٢۔ ہمیں کسی جماعت کے (جس کی ہم تعریف وضع کرتے ہیں) نمائندہ افراد ہی کو جمع کرنا نہیں ہوتا بلکہ مخالف یا متضاد جماعت یا جماعتوں کے افراد کو بھی جمع کرنا ہوتا ہے۔ ان دونوں مخالف جماعتوں کے افراد کا مقابلہ کرکے ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ کونسی صفات ہیں جن میں وہ آپس میں مختلف ہیں۔ یہاں پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تعریف میں وہ تمام صفات جن میں وہ افراد آپس میں مختلف ہوتے ہیں بیان نہیں کی جاتیں۔ صرف انہی اختلافات کو بیان کیا جاتا ہے جو ضروری ہوں یعنی کسی جماعت کا طغرائے امتیاز ہوں۔

پہلے عمل سے ہمیں ان صفات کا علم حاصل ہوتا ہے جو کسی فرد اور اس کی جماعت کے دیگر تمام افراد میں مشترک ہیں۔ دوسرے عمل سے ہمیں ان صفات کا علم حاصل ہوجاتا ہے جو کسی فرد یا جماعت کی اپنی خصوصی صفات ہیں۔ چنانچہ ہمیں تعریف وضع کرنے کے لئے کسی جماعت کے افراد کا موازنہ کرنا پڑتا ہے۔ مخالف جماعتوں کے افراد سے اس جماعت کے افراد کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ ضروری اور غیرضروری صفات میں تمیز کرنا پڑتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

تعریف کے وضع کرنے کے سلسلے میں ایک قانون عمومًا بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تعریف، جنس اور فصل دونوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔ باالفاظِ دیگر جب ہمیں کسی حدّ کی تعریف وضع کرنا ہوتی ہے تو ہمیں اس حد کی جنسِ قریب اور فصل کو بیان کرنا چاہیے یعنی پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ حد کس جماعت میں شامل ہے اور پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ اس حد کو کونسی صفات دیگر جماعتوں سے جو اسی حد کی جنس میں شامل ہیں مُمیّز کرتی ہیں۔ جنسِ قریب سے ہمیں ان صفات کا علم حاصل ہوگا جو کسی حدّ میں اور دیگر مخالف جماعتوں کے افراد میں مختلف ہیں۔ اسی طرح ہمیں کسی حد کی اُن تمام ضروری صفات کا علم حاصل ہوجاتا ہے جن کو ہمیں اس حد کی تعریف میں بیان کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم انسان کی تعریف وضع کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہم انسان کی جنسِ قریب لیں گے اور پھر انسان کی فصل، انسان کی جنسِ قریب ہے حیوان، انسان کی فصل ہے عاقل ہونا۔ لہٰذا انسان کی تعریف یہ ہوگی کہ انسان حیوانِ عاقل ہے۔ اسی طرح مُثلث ∆ کی تعریف یہ ہوگی کہ یہ تین اضلاع کی ایک شکل ہے، 'شکل' مثلث ∆ کی جنسِ قریب ہے اور تین اضلاع کا ہونا مثلث کی فصل ہے۔

پس تعریف برابر ہے جنسِ قریب جمع فصل۔

قواعدِ تعریف:۔ تعریف مندرجہ ذیل قواعد کے مطابق ہونی چاہیے۔

پہلا قاعدہ: تعریف میں تعریف شدہ حد کا مکمّل تضمن بیان کیا جانا چاہیے۔ نہ اُس سے کم نہ زیادہ۔

جب ہم کسی حدّ کی تعریف کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اس حد کے تضمن سے نہ کوئی زیادہ صفت بیان کی جائے نہ کم۔ ورنہ وہ تعریف اس حد کی بجائے کسی اور حدّ کی ہوگی۔ غیر ضروری اور غیر اساسی صفات کو تعریف میں شامل نہیں کرنا چاہیے اور ضروری اور اساسی صفات کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔

اگر ہم تضمن سے زیادہ یا کم صفات بیان کریں گے تو ہماری تعریف میں مغالطے پیدا ہوجائیں گے۔

الف۔ اگر تعریف میں تضمن سے کوئی زیادہ صفت شامل کی جائے تو وہ فالتو صفت یا تو خاصہ ہوگی یا عرضِ غیر فارِق یا عرض فارِق۔

١۔ اگر وہ فالتو صفت خاصہ ہوگی تو وہ ایک ایسی صفت ہوگی جو فصل سے اخذ کی جاسکتی ہے۔ اور فصل کے علاوہ اُس کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مثلًا انسان کی یہ تعریف کہ انسان حیوانِ عاقل ہے جو فانی ہے، ایک صحیح تعریف نہیں۔فانی ہونا انسان کا خاصہ ہے جو اس کی حیوانیّت سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ انسان کو حیوان کہنے کے بعد فانی کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح مثلث ∆ کی یہ تعریف کہ مثلث ∆ ایک تین اضلاع کی شکل ہے جس کے تین زاویے ہوتے ہیں، صحیح تعریف نہیں۔ تین اضلاع کے علاوہ تین زاویوں کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔

٢۔ اگر فالتو صفت عرضِ غیر فارِق ہو تو وہ تضمن کا حصّہ نہیں ہوگی۔ لہٰذا اسے تعریف میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ مثلًا انسان کی یہ تعریف کہ انسان ایک حیوانِ عاقل ہے جو ہنس سکتا ہے یا جو کسی جگہ یا وقت پر پیدا ہوتا ہے، ایک غلط تعریف ہوگی۔ انسان کا ہنسنا اور اُس کا کسی جگہ یا وقت پر پیدا ہونا ایسی صفات ہیں جو اگرچہ تمام انسانوں میں پائی جاتی ہیں لیکن انسان کے تضمن میں شامل نہیں۔ لہٰذا وہ انسان کی تعریف میں بیان نہیں کی جاسکتیں۔

٣۔ اگر فالتو صفت عرضِ فارِق ہو (یعنی ایک ایسی صفت ہو جو کسی جماعت کے تمام افراد میں نہ پائی جائے) تو تعریف وسعت کے لحاظ سے تنگ ہوجائے گی۔ ایسی صورت میں تعریف کا اطلاق کسی جماعت کے تمام افراد پر ہونے کی بجائے صرف چند افراد پر ہوگا۔ باالفاظِ دیگر ایسی تعریف کچھ افراد کو غلط طور پر اُن کی اپنی جماعت سے خارِج کردے گی۔ مثلًا انسان کی یہ تعریف کہ وہ حیوانِ عاقل ہے جو مسلمان ہو، ایک غلط تعریف ہوگی۔ اس تعریف سے وہ انسان جو مسلمان نہیں وہ انسان کی تعریف سے خارِج ہوجائیں گے۔ اسی طرح مثلث ∆ کی یہ تعریف کہ مثلث ایک ایسی شکل ہے جس کے تین اضلاع برابر ہوں، ایک غلط تعریف ہوگی۔ اس تعریف سے وہ مثلثیں جو مساوی الاضلاع نہیں مثلث ∆ کی جماعت سے خارِج ہوجائیں گی۔ (انسان کا مسلمان ہونا یا مثلث ∆ کا مساوی الاضلاع ہونا ایک عرضِ فارِق ہے)۔

ب۔ اگر تعریف میں تضمن سے کم صفات بیان کی جائیں تو تعریف، تعریف شدہ حدّ سے زیادہ وسیع ہوجائے گی اور ایسے افراد کو شامل کرلے گی جو اس حد کی تعبیر یا دلالتِ افرادی میں شامل نہیں۔ مثلًا انسان کی یہ تعریف کہ انسان حیوان ہے ایک غلط تعریف ہے کیونکہ اس کے مطابق انسان کی جماعت میں وہ حیوان شامل ہوجاتے ہیں جو انسان نہیں۔ 

غرضی کہ تعریف ایسی ہونی چاہیے جو تعریف شُدہ حدّ یا جماعت کے تمام افراد پر حاوی ہو اور ان کے علاوہ کسی اور فرد پر جو اس جماعت میں شامل نہیں حاوی نہ ہو۔ باالفاظِ دیگر تعریف جامع اور مانع ہونی چاہیے۔ یعنی تعریف اور تعریف شدہ حدّ اپنی تعبیر (دلالتِ افرادی) میں بالکل برابر ہونی چاہئیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ تعریف میں نہ تو تضمن سے زیادہ صفات بیان کی جائیں نہ کم۔

یہ دیکھنے کے لئے کہ کوئی تعریف جامع اور مانع ہے یا نہیں ایک طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تعریف اور تعریف شدہ حدّ آپس میں متبادل ہوں۔ اگر ہم انسان کی یہ تعریف کریں کہ انسان حیوانِ عاقل ہے تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ حیوانِ عاقل انسان ہے (اس برابری یا مساوات کو منطقی مساوات کہتے ہیں اور اس کو علامت ≡ سے ظاہر کیا جاتا ہے) اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ مثلث ∆ تین اضلاع کی شکل ہے تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تین اضلاع کی شکل مثلث ہے۔ لیکن جب تعریف وسیع یا تنگ ہو تو اس صورت میں تعریف اور تعریف شدہ حدّ آپس میں متبادل نہیں ہوتیں۔ مثلًا اگر ہم انسان کی یہ تعریف کریں کہ انسان حیوان ہے (یہ ایک وسیع تعریف ہے) تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حیوان انسان ہے۔ اسی طرح اگر ہم انسان کی یہ تعریف کریں کہ وہ حیوانِ عاقل ہے جو مسلمان ہو (یہ ایک تنگ تعریف ہے) تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ حیوانِ عاقل جو مسلمان ہو انسان ہے۔(ایسے معاملات میں جو منطقی طور پر نامساوی ہوں ≢ کی علامت استعمال ہوتی ہے)

المختصر تعریف میں تعریف شدہ حد کا تضمن بیان کرنا چاہیے۔ تضمن سے نہ کوئی صفت کم اور نہ کوئی صفت زیادہ بیان کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو تعریف یا وسیع ہوجائے گی یا تنگ۔ تعریف صحیح اس صورت میں ہوتی ہے جب کہ وہ جنس اور فصل سے مرکب ہو۔ ایسی تعریف اور تعریف شدہ حدّ آپس میں متبادل ہوتی ہیں۔ 

دوسرا قاعدہ: تعریف مبہم، مشکل اور پیچیدہ الفاظ میں نہیں ہونی چاہیے۔

تعریف، تعریف شدہ حد سے زیادہ صاف اور واضح الفاظ میں ہونی چاہیے۔ تعریف کا مقصد کسی حد کے مفہوم کو واضح کرنا ہوتا ہے اور اگر تعریف مشکل اور مبہم الفاظ میں ہو تو تعریف کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ مثلًا زندگی کی یہ تعریف کہ

 ؏ زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظُہُورِ ترتیب 

اور موت کی یہ تعریف کہ

 ؏ موت کیا ہے؟ انہی اجزاء کا پریشاں ہونا 

صاف تعریفیں نہیں۔ اسی طرح اگر تعریف میں استعارے استعمال کئے جائیں تو اگرچہ زبان کے لحاظ سے تعریف خوبصورت نظر آئے گی لیکن مفہوم کو واضح اور صاف نہیں کرے گی مندرجہ ذیل تعریفیں ملاحظہ ہوں۔

اونٹ ریگستان کا جہاز ہے، حیا عورت کا زیور ہے، ضرورت ایجاد کی ماں ہے، منطق ایک دماغی ورزش ہے، بچپن زندگی کی صُبح ہے، بُڑھاپا زندگی کی شام ہے، روٹی اعصائے زندگی ہے، بادشاہ رعایا کا باپ ہے، وزیر بادشاہ کا دستِ راست ہے، شیر جنگل کا بادشاہ ہے، زندگی مر مر کے جئے جانے کا نام ہے۔ 

منطق کے نزدیک ایسی تعریفوں کی کوئی وقعت نہیں۔

تیسرا قاعدہ: تعریف میں تعریف شدہ حدّ کا نام یا اُس کے مُترادف الفاظ نہیں ہونے چاہیے ہیں۔

تعریف کا مقصد یہ ہے کہ جس چیز کو ہم نہیں جانتے اُسے ایسے الفاظ میں بیان کیا جائے جن سے ہمیں اس کے متعلق علم حاصل ہو لیکن اگر ہم تعریف میں تعریف شدہ چیز کا نام یا اس کا کوئی مترادف لفظ استعمال کردیں تو ایسی تعریف ہمارے علم میں کوئی اضافہ نہیں کرے گی۔ مندرجہ ذیل تعریفیں ملاحظہ ہوں۔

مُنصِف اسے کہتے ہیں جو انصاف کرے، اُستاد اسے کہتے ہیں جس سے تعلیم پائی جائے، نیکی خیر ہے، بُرائی شر ہے، حاکِم وہ ہے جو حکومت کرے، سچائی سچ بولنے کا نام ہے، دلیری بہادری کا نام ہے، مُسلم وہ ہے جو اسلام کو ماننے والا ہو، شاعر وہ ہے جو شعر کہے۔

ایسی تعریفوں میں مُغالطۂ دَور پایا جاتا ہے، لہٰذا انہیں دَوری تعریفیں کہتے ہیں۔ دَوری تعریف ایسی تعریف ہوتی ہے جس میں مُغالطۂ دَور پایا جائے۔ یہ تعریف خود ہی دَوری تعریف کی ایک مثال ہے۔

چوتھا قاعدہ: تعریف حتیٰ الوسع مثبت ہونی چاہیے۔

اگر تعریف سلبی ہو یعنی نفی میں ہو تو وہ ہمیں یہ بتائے گی کہ کوئی چیز کیا نہیں لیکن تعریف کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ کوئی چیز کیا ہے۔ سلبی تعریف سے ہمیں تعریف شدہ چیز کے متعلق کوئی مثبت علم حاصل نہیں ہوتا۔ لہٰذا سلبی تعریفیں علمی لحاظ سے بےسود ہوتی ہیں۔ انسان کی یہ تعریف کہ انسان حیوان نہیں، نیکی کی یہ تعریف کہ نیکی بدی نہیں بےفائدہ تعریفیں ہیں۔ کسی چیز کے متعلق علم حاصل کرنا محض یہی جاننا نہیں ہوتا کہ وہ کیا نہیں جب کسی حَدّ کی مثبت تعریف ممکن ہو تو اس کی سلبی تعریف کرنا مغالطۂ تعریفِ سلبی کہلاتا ہے۔

لیکن اگر کوئی حد منفی یا سلبی ہو تو اس کی سلبی تعریف جائز ہے مثلًا کنوارہ وہ ہے جو شادی شُدہ نہ ہو۔ اندھا وہ ہے جو دیکھ نہ سکے وغیرہ وغیرہ۔ مُغالطۂ تعریفِ سلبی تب پیدا ہوتا ہے جب کسی مثبت حد کی سلبی تعریف کی جائے۔

وہ کونسی حُدود ہیں جن کی تعریف ممکن نہیں؟ 

ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ تعریف کا کام کسی حَدّ کے تضمن کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ اور تضمن کا علم ہمیں کسی حدّ کی جنسِ قریب اور اس کی فصل سے حاصل ہوتا ہے۔ باالفاظِ دیگر جب ہم کسی حد کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے متعلق دو باتیں جانتے ہیں۔ اَوَّل یہ کہ وہ حدّ کس جماعت میں شامل ہے اور دوسرے یہ کہ کونسی صفات اس حدّ کو دیگر انواع سے جو اسی جماعت میں شامل ہیں  ممیز کرتی ہیں۔ تعریف کے وضع کرنے کے سلسلے میں ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ تعریف برابر ہے جنس جمع فصل کے۔ اس قانون سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ:۔

ںـ١. جنسِ اعلیٰ کی تعریف ممکن نہیں۔ تعریف میں تعریف شدہ حدّ کی جنس بیان کی جاتی ہے اور اس لئے جنسِ اعلیٰ کی کوئی جنس نہیں ہوتی لہٰذا اس کی تعریف نہیں ہوسکتی۔

ںـ٢. اسمائے خاص کی بھی تعریف ممکن نہیں کیونکہ تعریف میں تضمن بیان کیا جاتا ہے اور اسمائے خاص میں کوئی تضمن نہیں پایا جاتا۔

ںـ٣. ایک فردِ واحد کی تعریف بھی ممکن نہیں۔ ہم انسان کی تعریف تو کرسکتے ہیں مگر 'اس انسان' کی تعریف نہیں کرسکتے۔ تعریف صرف اس حدّ کی ہوسکتی ہے جو کسی جماعت کو ظاہر کرے۔ ہر فرد کی اپنی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں اور ان خصوصیات کو کسی جماعت کی خصوصیات کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تعریف میں جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں تعریف شدہ حدّ کو کسی جماعت (یعنی اس کی جنس) کے تحت ظاہر کیا جاتا ہے۔

ںـ٤. سادہ ترین تصورات بھی ناقابلِ تعریف ہوتے ہیں۔ ایسے تصورات کی تعریف جو سادہ اور بالکل بدیہی ہوں اس لئے نہیں ہوسکتی کہ ہمیں ان سے زیادہ سادہ اور واضح الفاظ نہیں ملتے۔ ایک سادہ تصور کی تعریف لازمی طور پر یا تو مشکل الفاظ میں ہوگی یا تعریفِ دَوری ہوگی۔ اسی لیے تو یہ مثل مشہور ہے کہ عیاں را چہ بیاں۔

تعریف اور تشبیہہ

چونکہ منطقی تعریف کا وضع کرنا آسان کام نہیں ہوتا لہٰذا ہم اپنی روزمرّہ کی زندگی میں اشیاء کی منطقی تعریفیں دینے کی بجائے محض ان کی تشبیہہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ مثلًا جب ایک بچہ سوال کرتا ہے کہ ہاتھی کیا ہوتا ہے؟ تو ہم اسے ہاتھی کی تصویر دکھا کر یا اگر ہاتھی پاس کھڑا ہو تو اس کی طرف اشارہ کرکے یہ بتلاتے ہیں کہ ہاتھی اس قسم کا جانور ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے بچّے کی تسلی تو ہوجاتی ہے اور ممکن ہے وہ ہاتھی کو آئندہ شناخت کرسکے مگر یہ ہاتھی کی تعریف نہیں ہوگی اور اگر ہمارے پاس نہ تو ہاتھی کی تصویر ہو اور نہ ہی ہاتھی خود موجود ہو تو ہم بچّے کو ہاتھی کی نمایاں خصوصیات بتلائیں گے۔ مثلًا یہ کہ ہاتھی کا جسم بہت بڑا ہوتا ہے، اس کی چار ستون نما ٹانگیں ہوتی ہیں، دس بڑے بڑے پنکھوں جیسے کان ہوتے ہیں، ایک لمبی سونڈ ہوتی ہے، دو چھوٹی چھوٹی آنکھیں ہوتی ہیں اور ایک چھوٹی سی دُم ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہاتھی کی تشبیہہ ہوگی۔ اس کی مدد سے بچّہ اپنی تخیّل سے کام لے کر ہاتھی کا ایک تصوّر قائم کرلے گا۔ اور ممکن ہے اس کا یہ تصوّر ہاتھی کو پہچاننے میں مدد بھی دے لیکن یہ ہاتھی کی تعریف نہیں ہوگی ہاتھی کی تعریف میں محض اس کا تضمن یعنی اس کی وہ ضروری صفات بیان کی جائیں گی جن کی وجہ سے وہ ہاتھی کہلاتا ہے اور جن کی عدم موجودگی میں وہ ہاتھی نہیں کہلا سکتا۔ ہاتھی کی غیر ضروری صفات جن کو ہم تشبیہہ میں بیان کرتے ہیں تعریف میں بیان نہیں ہوں گی۔ تعریف اور تشبیہہ دو مختلف عمل ہیں اور ان میں مندرجہ ذیل اختلاف ہیں۔

ہاتھی کی تصویر "تشبیہہ
ںـ١. تعریف میں صرف تضمن یعنی ضروری صفات بیان کی جاتی ہیں مگر تشبیہہ میں ضروری اور غیر ضروری سبھی قسم کی صفات بیان جاتی ہیں باالفاظِ دیگر تعریف میں جنس اور فصل بیان کی جاتی ہیں۔ مگر تشبیہہ میں اس کے علاوہ خاصے اور عرض بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ تشبیہہ کا تعلق صرف سطحی اور نمایاں صفات سے ہوتا ہے اور تعریف کا تعلق ضروری اور اساسی صفات سے ہوتا ہے۔

ںـ٢. تعریف سے ہمیں کسی چیز کا علم حاصل ہوتا ہے، مگر تشبیہہ سے ہم اپنے ذہن میں کسی چیز کی محض ایک ایسی تصویر قائم کرتے ہیں جس کی مدد سے ہم اس چیز کو شناخت کرسکیں۔

ںـ۳. تعریف کی بنیاد فکر پر ہوتی ہے لیکن تشبیہہ کی بنیاد ادراک، یاد اور تخیل پر ہوتی ہے۔ تعریف میں ہم کسی چیز کی اندرونی اور اصلی صفات کا تجزیہ کرتے ہیں لیکن تشبیہہ میں ہم کسی چیز کی محض ظاہری اور نمایاں صفت کو مدِّ نظر رکھتے ہیں۔

ںـ٤. تعریف صرف جماعتوں کی ہوسکتی ہے ایک فرد کی نہیں ہوسکتی۔ مگر تشبیہہ ایک فرد کی بھی ممکن ہے۔ مثلًا ہم انسان کی تعریف کرسکتے ہیں (انسان ایک جماعت کا نام ہے)۔ مگر ہم کسی ایک انسان کی تعریف نہیں کرسکتے۔ اسی طرح سادہ اور بدیہی تصورات کی تعریف ممکن نہیں مگر ان کی تشبیہہ ممکن ہے۔

ںـ٥۔ تعریف عام طور پر مختصر ہوتی ہے لیکن تشبیہہ مقابلتًا طویل ہوتی ہے۔ مثلًا مثلث ∆ کی تعریف مختصر الفاظ میں یہ ہوگی کہ مُثلث ∆ تین اضلاع کی شکل ہے مگر اس کی تشبیہہ یہ ہوگی کہ مُثلث کے تین اضلاع ہوتے ہیں جن میں سے کوئی دو اضلاع مل کر تیسرے ضلعے سے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے تین زاویے ہوتے ہیں جن کا مجموعہ دو قائموں کے برابر ہوتا ہے۔

حل شُدہ مثالیں

مندرجہ ذیل تعریفوں کو دیکھو اور بتاؤ کہ وہ صحیح ہیں یا غلط

الف۔ انسان ارتقائے حیات کا معراج ہے (یہ تعریف مشکل الفاظ ہے)، ب۔ سائنس فلسفہ نہیں (مُغالطۂ تعریفِ سلبی)، ج۔ اسلام ایک مذہب ہے (وسیع تعریف)، د۔ عقل ایک روشنی ہے جو ہمیں سیدھا راستہ دکھاتی ہے (استعارہ استعمال کیا گیا ہے)، ہ۔ سیاست دان وہ ہے جسے سیاست میں دلچسپی ہو (دَوری تعریف)، و۔ لاہور مغربی پاکستان کا دارالخلافہ ہے (اسمائے خاص کی تعریف نہیں ہوسکتی)، ز۔ انسان حیوانِ مہذّب ہے (تنگ تعریف)، ح۔ جھوٹ کاٹھ کی ہنڈیا ہے (استعارہ استعمال کیا گیا ہے)، ط۔ گھوڑا ایک جانور ہے جو سواری کے کام آتا ہے (وسیع تعریف گھوڑے کے علاوہ بھی بہت سے جانور ہیں جو سواری کے کام آتے ہیں)، ی۔ مثلث ایک تین اضلاع اور تین زوایا کی شکل ہے (خاصہ بیان کیا گیا ہے)، ک۔ بادشاہ ظِلّ اللہ ہے (استعارہ استعمال کیا گیا ہے)، ل۔ سچائی ایک نیکی ہے (وسیع تعریف سچائی کے علاوہ اور نیکیاں بھی ہیں)، م۔ تندرستی ایک دولت ہے (استعارہ استعمال کیا گیا ہے)، ن۔ گدھا ایک جانور ہے (وسیع تعریف)، س۔ وارث وہ ہے جسے وراثت کا حق ہو (دَوری تعریف)، ع۔ بالغ وہ ہے جو نابالغ نہ ہو (سلبی تعریف)، ف۔ یہ کُرسی لکڑی کی بنی ہوئی ہے (ایک فرد کی تعریف نہیں ہوسکتی، یہ تعریف نہیں تشبیہہ ہے)، ص۔ قرض محبت کی قینچی ہے (استعارہ استعمال کیا گیا ہے…)۔

فقط

سُہیل طاہر

سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

علمِ منطق کی تعریف

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اَقسام