حدود قابل الحمل کیا ہیں؟ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ قضیہ موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ سے بنتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمول کو اپنے موضوع کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ موضوع اور محمول میں پانچ قسم کے تعلقات ممکن ہیں اور وہ یہ ہیں۔
Genus ا۔ جنس
Species ب۔ نوع
Differentia ج۔ فصل
Property د۔ خاصہ
Accident ہ۔ عرض
جو حدود کسی قضیہ میں محمول بن سکتی ہیں وہ انہی پانچ اقسام میں سے کسی نہ کسی قسم میں سے ہوتی ہیں باالفاظِ دیگر کسی قضیے میں محمول موضوع کی یا تو اجنس یا نوع یا فصل یا خاصہ یا عرض ہوگا۔
جنس اور نوع
ہم پچھلے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ دو حدود آپس میں اس طرح متعلق ہو سکتی ہیں کہ ایک کی تعبیر دوسری کی تعبیر میں شامل ہو۔ یعنی ایک بلحاظِ تعبیر بڑی جماعت ہو اور دوسری بلحاظِ تعبیر چھوٹی جماعت ہو مثلًا حیوان اور انسان۔ حیوان ایک بڑی جماعت ہے جس میں انسان کی جماعت شامل ہے۔ اور انسان ایک چھوٹی جماعت ہے جو حیوان کی جماعت میں شامل ہے۔ ایسی بڑی جماعت کو جس میں چھوٹی جماعتیں شامل ہوں جنس کہتے ہیں اور ایک چھوٹی جماعت کو جو ایک بڑی جماعت میں شامل ہو نوع کہتے ہیں۔ حیوان اور انسان آپس میں جنس اور نوع ہیں۔ حیوان جنس ہے اور انسان اس کی نوع۔
لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جنس اور نوع کا فرق محض ایک اضافی فرق ہے کیونکہ ایک ہی حد بیک وقت جنس بھی ہوسکتی ہے اور نوع بھی۔ مثلًا انسان حیوان کے مقابلے میں نوع ہے مگر طلبا کے مقابلے میں جنس ہے۔ ایک جماعت ایک ایسی جماعت کے لیے جو اس سے چھوٹی ہو اور اس میں شامل ہو، جنس ہوتی ہے اور ایک ایسی جماعت کے لیے جو اس سے بڑی ہو جس میں وہ خود شامل ہو نوع ہوتی ہے۔ اگر ہم چھوٹی جماعتوں یعنی انواع سے بڑی جماعتوں یعنی اجناس کی طرف جائیں تو آخر میں ہم ایک ایسی جماعت تک پہنچ جائیں گے، جو سب سے بڑی ہے اور جو کسی بڑی جماعت کی نوع نہیں بن سکتی۔ ایسی وسیع ترین جماعت کو جو تمام جماعتوں پر حاوی ہو اور جو کسی جماعت کی نوع نہ بن سکے جنسِ عالی یا جنس الاجناس یا سُمم جینس کہتے ہیں۔
اسی طرح سب سے چھوٹی جماعت کو جس میں کوئی اور اس سے چھوٹی جماعت شامل نہ ہو (یعنی جو کسی جماعت کی جنس نہ بن سکے) نوعِ سافل یا اِنفیما سپیسیز کہتے ہیں۔ جس طرح جنسِ عالی ایک نوع نہیں بن سکتی کیونکہ اس سے اُوپر کوئی اور جماعت نہیں ہوتی اسی طرح نوعِ سافل، جنس نہیں بن سکتی کیونکہ اس سے نیچے کوئی اور جماعت نہیں ہوتی۔ نوعِ سافل کی تقسیم افراد میں ہوسکتی ہے مگر جماعتوں میں نہیں ہوسکتی۔ مثلًا شکلوں کی تقسیم ہم مثلثوں، دائروں، مستطیلوں وغیرہ میں کرسکتے ہیں۔ مثلثوں کی تقسیم پھر تین جماعتوں میں ہوسکتی ہے۔
الف۔ مساوی الاضلاع
ب۔ مساوی الساقین
ج۔ مختلف الاضلاع
اب یہ تین جماعتیں انواعِ سافل ہوں گی۔ ان جماعتوں کو اور چھوٹی جماعتوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ محض افراد میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
المختصر، جنسِ عالی وہ بڑی سے بڑی جماعت ہوتی ہے جو کسی جماعت کی نوع نہ بن سکے۔ جنسِ عالی اور نوعِ سافل کے درمیان جو اجناس اور انواع ہوتی ہیں انہیں اجناسِ متوسطہ یا سبالٹیرن جنیرا اور انواعِ متوسط یا سبالٹیرن سپائیسیز کہتے ہیں۔ اگر ایک جنس اور ایک نوع ایک دوسری کے قریب ہوں تو وہ ایک دوسری کی جنسِ قریب یا پروکسیمیٹ جینس اور نوعِ قریب یا پروکسیمیٹ سپائسیز کہلاتی ہیں۔ اور اگر وہ ایک دوسری سے دور ہوں تو ایک دوسری کی جنسِ بعید یا ریموٹ جینس اور نوعِ بعید یا ریموٹ سپائیسیز کہلاتی ہیں۔ مثلًا حیوان انسان کی جنسِ قریب اور انسان حیوان کی نوعِ قریب ہے۔ مگر طلبا حیوان کی نوعِ بعید اور حیوان طلبا کی جنسِ بعید ہے۔
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ جنس کی تعبیر، نوع کی تعبیر سے وسیع تر ہوتی ہے۔ مثلًا حیوان انسان کی جنس ہے اور انسان حیوان کی نوع ہے۔ حیوانوں کی تعداد انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہے کیونکہ انسانوں کے علاوہ اور بھی حیوان ہیں۔ اسی طرح حیوانوں سے جانداروں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ جانداروں کی جماعت میں حیوانوں کے علاوہ نباتات بھی شامل ہیں۔ تعبیر میں اپنی جنس نوع سے وسیع تر ہوتی ہے مگر تضمن میں نوع اپنی جنس سے وسیع تر ہوتی ہے۔ مثلًا انسان جو حیوان کی ایک نوع ہے بلحاظِ دلالتِ افرادی حیوان سے کم ہے مگر بلحاظ دلالتِ وصفی حیوان سے وسیع تر ہے۔ حیوان میں حیوانیت کی صفت پائی جاتی ہے مگر انسان میں حیوانیت کے علاوہ انسانیت کی صفت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ تو پچھلے باب میں ہم پڑھ ہی چکے ہیں کہ تعبیر کے کم ہونے سے تضمن بڑھتا ہے اور تضمن کے کم ہونے سے تعبیر بڑھتی ہے۔ لہٰذا اگر نوع کی تعبیر، جنس کی تعبیر سے کم ہے تو یقینًا نوع کا تضمن، جنس کے تضمن سے زیادہ ہوگا۔ اور اگر جنس کی تعبیر، نوع کی تعبیر سے زیادہ ہے تو یقینًا جنس کا تضمن، نوع کے تضمن سے کم ہوگا۔
المختصر، دلالتِ افرادی یعنی تعبیر کے لحاظ سے نوع اپنی جنس پر حاوی ہوتی ہے اور دلالتِ وصفی یعنی تضمن کے لحاظ سے جنس اپنی نوع پر حاوی ہوتی ہے۔ جنس اور نوع کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان سے ہمیشہ مراد جماعتیں ہوتی ہیں۔
فصل
ہم نے ابھی پڑھا ہے کہ نوع کا تضمن اپنی جنس کے تضمن سے وسیع تر ہوتا ہے۔ انسان (جو کہ حیوان کی نوع ہے) کا تضمن حیوانیّت اور تعقل ہے اور حیوان کا تضمن حیوانیّت ہے چونکہ نوع کا تضمن، جنس کے تضمن سے زائد ہوتا ہے لہٰذا ظاہر ہے کہ نوع میں جنس کی تمام صفات کے علاوہ کچھ اور صفات بھی پائی جاتی ہیں جو اسے جنس سے ممیّز کرتی ہیں۔ یہ صفات جو نوع کو اس کی جنس سے مُمیّز کرتی ہیں فصل کہلاتی ہیں۔ انسان کی وہ فصل جو اسے حیوان سے ممیّز کرتی ہے انسان کا تعقل ہے۔ لہٰذا تعقل انسان کی فصل ہے۔ اسی طرح مثلث کی فصل ہے تین اضلاع کا ہونا کیونکہ یہی صفت مثلث کو اشکال سے جو مثلث کی جنس ہے میمز کرتی ہے۔ پس فصل سے مُراد وہ صفت یا صفات ہیں جو ایک نوع اپنی جنس سے زیادہ رکھتی ہے۔ باالفاظِ دیگر جنس کے تضمن اور نوع کے تضمن کے فرق کو فصل کہتے ہیں۔ فصل کسی نوع کو نہ صرف اس کی جنس سے ممیز کرتی ہے بلکہ دیگر انواع سے بھی جو اسی جنس کے ماتحت ہیں۔ مثلًا انسان اور درندے دونوں حیوان کی انواع ہیں۔ انسان اور درندے کی فصل ان کی وہ صفات ہوں گی جو انہیں ایک دوسرے سے ممیز کرتی ہیں۔ چنانچہ فصل سے مُراد وہ صفت یا صفات ہیں جو کسی نوع کو اس کی جنس سے اور دیگر انواع سے جو اُسی جنس کے ماتحت ہیں ممیز کرتی ہیں۔
فصلِ نوع برابر ہے نوع کا تضمن منفی جنس کا تضمن، نوع کا تضمن برابر ہے جنس کا تضمن جمع فصلِ نوع، اور جنس کا تضمن برابر ہے نوع کا تضمن منفی فصلِ نوع۔
اب ہم حیوان (جنس) اور انسان (نوع) کی مثال سے مندرجہ بالا مساوات کی تشریح کرتے ہیں۔
انسان کی فصل برابر ہے۔ حیوانیّت جمع تعقل منفی حیوانیت یعنی تعقل۔
انسان کا تضمن برابر ہے۔ حیوانیت جمع تعقل یعنی حیوانیت اور تعقل۔
حیوان کا تضمن برابر ہے۔ حیوانیت جمع تعقل منفی تعقل۔ یعنی حیوانیّت۔
المختصر فصل اس صفت یا ان صفات کو کہتے ہیں جو نوع کی صفات سے جنس کی صفات کو منفی کردینے کے بعد بچتی ہیں۔ اگر نوع کے تضمن یا صفات کو 'ن' سے اور جنس کے تضمن یا صفات کو 'ج' سے اور فصل کو 'ف' سے ظاہر کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ
ف = ن – ج
ن = ج + ف
ج = ن – ف
خاصہ
خاصہ اس صفت یا صفات کو کہتے ہیں جو اگرچہ تضمن میں بیان نہیں کی جاتیں مگر لازمی طور پر تضمن سے اخذ کی جاتی ہیں۔ مثلًا مُثلث کے تین زاویے دو قائموں کے برابر ہوتے ہیں اور اس کے دو اضلاع مل کر تیسرے ضلع سے بڑے ہوتے ہیں۔ یہ صفات مثلث کا خاصہ ہیں اور تمام مثلثوں میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ صفات مثلث کے تضمن میں بیان نہیں کی جاتیں، مگر یہ مثلث کے تضمن سے لازمی طور پر نکلتی ہیں۔ اسی طرح کھانا، پینا، سونا، سوچنا، پڑھنے، لکھنے کے قابل ہونا انسان کے خاصے ہیں۔ یہ انسان کی ایسی صفات ہیں جو اس کے تضمن میں بیان نہیں کی جاتیں مگر اس کے تضمن (یعنی حیوانیّت اور تعقل) سے لازمی طور پر تعلق رکھتی ہیں۔ پس خاصے کی اپنی علٰحِدہ کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ یہ محض تضمن پر مبنی ہوتا ہے۔ اسے نا تو تضمن میں بیان کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے سے کسی شے کو دیگر اشیاء سے مُمیز کیا جاتا ہے۔ مثلًا انسان کو درندوں سے اس کی فصل یعنی تعقل سے ممیز کیا جاتا ہے نہ کہ اس کے خاصوں سے، اسی طرح جب انسان کا تضمن بیان کیا جاتا ہے تو انسان کے خاصوں کو بیان نہیں کیا جاتا بلکہ انسان کی ان صفات کو بیان کیا جاتا ہے جو انسان اور اس کی جنس یعنی حیوان میں مشترک ہیں اور جن کی وجہ سے انسان کو حیوان سے ممیز کیا جاتا ہے۔ انسان کے تضمن میں ہم حیوانیت اور تعقل (جو کہ انسان کی فصل ہے) کو بیان کرتے ہیں مگر انسان کے خاصوں کو بیان نہیں کرتے۔ تاہم خاصے کا تضمن سے لازمی طور پر تعلق ہوتا ہے۔
چونکہ خاصہ، تضمن سے تعلق رکھتا ہے اور تضمن سے مراد ہے کسی نوع کی وہ صفت یا صفات جو اُسے اُس کی جنس سے ممیز کرتی ہیں اور وہ صفت یا صفات جو اس نوع اور اس جنس میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں، لہٰذا خاصہ دو قسم کا ہوسکتا ہے، یعنی خاصۂ نوعی یا سپیسیفک پراپرٹی اور خاصۂ جنسی یا جینیرک پراپرٹی۔ خاصۂ نوعی وہ خاصہ ہوتا ہے جو کسی نوع کی فصل سے تعلق رکھتا ہو۔ اور خاصۂ جنسی وہ خاصہ ہوتا ہے جو کسی نوع کی جنس کے تضمن سے تعلق رکھتا ہو۔ مثلًا انسان کا پڑھنا، لکھنا، سوچنا، سمجھنا خاصۂ نوعی ہیں کیونکہ یہ انسان کی فصل یعنی تعقل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر انسان کا کھانا، پینا، سونا خاصۂ جنسی ہیں کیونکہ یہ انسان کی حیوانیت یعنی انسان کی جنس (حیوان) کے تضمن سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہ صفات ہیں جو انسان اور حیوان میں مشترک طور پر پائی جاتی ہیں۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ فصل اور خاصے میں کیا فرق ہے؟ اگر فصل کسی فرد کے لئے ضروری ہوتی ہے تو کیا خاصہ کسی فرد کے لیے ضروری نہیں ہوتا؟ مثلًا مثلث کے لئے اس کی فصل یعنی تین اضلاع کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن کیا مثلث کے لیے اس کے خاصے (یعنی تین زاویوں کا ہونا یا تینوں زاویوں کا دو قائموں کے برابر ہونا) ضروری نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کسی فرد کے لئے اس کی فصل اور اس کا خاصہ دونوں یکساں طور پر ضروری ہوتے ہیں۔ ان میں فرق صرف یہ ہے کہ فصل تو تضمن میں شامل ہوتی ہے مگر خاصہ، تضمن سے اخذ کیا جاتا ہے۔ خاصہ جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں اپنی علـٰحدہ حیثیت نہیں رکھتا بلکہ تضمن (جس میں فصل بھی شامل ہوتی ہے) پر مبنی ہوتا ہے۔ جب ہمارے ذہن میں کسی فرد کا خیال آتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فصل ہمارے ذہن میں آتی ہے اور اس کا خاصہ یا تو ہمارے ذہن میں بالکل نہیں آتا یا بعد میں آتا ہے۔ مثلًا مثلث کے متعلق فورًا ہمارے ذہن میں اس کی فصل (یعنی تین اضلاع کا ہونا) آتی ہے۔ مثلث کا خاصہ یا تو ہمارے ذہن میں بالکل نہیں آتا یا بعد میں آتا ہے۔ مثلًا مثلث کے متعلق فورًا ہمارے ذہن میں اس کی فصل (یعنی تین اضلاع کا ہونا) آتی ہے۔ مثلث کا خاصہ (یعنی اس کے تینوں زاویوں کا دو قائموں کے برابر ہونا اور اس کے کسی دو اضلاع کا تیسرے ضلع سے بڑے ہونا) ہمارے ذہن میں بعد میں آتا ہے یا بالکل نہیں آتا۔
عرض
عرض سے مراد کسی جنس یا نوع یا فرد کی وہ صفت ہوتی ہے جو نہ تو اس جماعت یا فرد کے تضمن کا جزؤ ہو اور نہ ہی اس کے تضمن سے اخذ کی جاسکے۔ عرض ایسی صفت کو کہتے ہیں جو کسی جماعت یا فرد میں اتفاقی طور پر موجود ہو اور جس کا اِس جماعت یا فرد کی اصلیت سے کوئی تعلق نہ ہو۔
باالفاظِ دیگر یہ ایسی صفت ہوتی ہے جو کسی جماعت یا فرد کے لیے ضروری یا لازِم نہیں ہوتی اور جس کی موجودگی یا عدم موجودگی سے اس جماعت یا فرد کی اصلیّت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مثلًا اگر کوئی آدمی سفید یا سیاہ نہ بھی ہو تو بھی آدمی ہوسکتا ہے۔ انسان کا تضمن اس کی حیوانیت اور تعقل ہیں اور اس کا رنگ نہ تو اس کی حیوانیت سے اخذ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے تعقل سے۔
عرض ایک جماعت کا بھی ہوسکتا ہے اور ایک فرد کا بھی۔ اس کے علاوہ عرضِ فارِق بھی ہوسکتا ہے اور غیرفارِق بھی۔ چنانچہ عرض کی مندرجہ ذیل چار قسمیں ہیں۔
ںـ۱۔ جماعت کا عرضِ فارِق
1. Separable Accident of a Class.
ںـ٢۔ جماعت کا عرضِ غیرفارِق
2. Inseparable Accident of a Class.
ںـ۳۔ فرد کا عرضِ فارِق
3. Separable Accident of a Individual.
ںـ٤۔ فرد کا عرضِ غیرفارِق
4. Inseparable Accident of a Individual.
کسی جماعت کا عرضِ فارِق وہ عرض ہوتا ہے جو اس جماعت کے کچھ افراد میں تو موجود ہو اور کچھ میں نہ ہو۔ مثلًا کُتّوں کا سیاہ ہونا۔ آدمیوں کا امیر ہونا۔ کچھ کُتّے سیاہ ہوتے ہیں اور کچھ کُتّے سیاہ نہیں ہوتے۔ اسی طرح کچھ آدمی امیر ہوتے ہیں اور کچھ آدمی امیر نہیں ہوتے۔ کسی جماعت کا عرضِ غیرفارِق وہ عرض ہوتا ہے جو اس جماعت کے تمام افراد میں موجود ہو۔ مثلًا کووّں کا رنگ سیاہ ہونا، بگلوں کا سفید ہونا، تمام کوّے سیاہ ہوتے ہیں، اور تمام بگلے سفید ہوتے ہیں۔
کسی فرد کا عرضِ فارِق وہ عرض ہوتا ہے جو تبدیل کیا جاسکے یا ترک کیا جاسکے۔ مثلًا کسی آدمی کا نام یا مذہب یا پیشہ وغیرہ۔ کسی فرد کا عرضِ غیرفارِق وہ ہوتا ہے جو تبدیل یا ترک نہ کیا جاسکے۔ مثلًا کسی آدمی کی تاریخ پیدائش یا جائے پیدائش یا ولدیت وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ عرض، فصل، اور خاصے دونوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ نہ تو فصل کی طرح تضمن کا جُزؤ ہوتا ہے اور نہ ہی خاصے کی طرح تضمن سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اسے کسی جماعت یا فرد سے بغیر اس فرد یا جماعت کی اصلیّت میں فرق ڈالنے کے دور کیا جاسکتا ہے۔ مگر فصل اور خاصے کو کسی جماعت یا فرد سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ بعض اوقات کسی جماعت کے عرضِ غیر فارِق اور اس کے خاصے میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دونوں ان دو باتوں میں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں (۱) دونوں کسی جماعت کے تمام افراد میں پائے جاتے ہیں اور (۲) دونوں تضمن میں بیان نہیں کئے جاتے۔ مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ خاصہ تو تضمن سے اخذ کیا جاسکتا ہے لیکن عرضِ غیرفارِق، تضمن سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ باالفاظِ دیگر تضمن میں خاصے کی تو وجہ پائی جاتی ہے مگر عرضِ غیر فارِق کی وجہ پائی نہیں جاتی۔ انسان کے سوچنے اور سمجھنے (جو اس کے خاصے ہیں) کی وجہ اس کے تعقل میں پائی جاتی ہے اور اس کے فانی ہونے (فانی ہونا بھی انسان کا خاصہ ہے) کی وجہ اس کی حیوانیّت میں پائی جاتی ہے (ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ تعقل اور حیوانیّت انسان کا تضمن ہیں) لیکن کسی فرد کی تاریخ پیدائش یا جائے پیدائش یا ولدیت کی وجہ نہ تو اس کے تعقل میں پائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی حیوانیت میں۔ چونکہ خاصے ضروری اور لازمی صفات ہوتے ہیں لہٰذا ان کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا کسی جماعت یا فرد میں ہونا لازم ہے لیکن چونکہ عرضِ غیرفارِق کوئی ایسی صفت نہیں ہوتی جو کسی جماعت یا فرد کے لئے لازمی ہو لہٰذا اس کے متعلق ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہے۔
ہم نے اس باب میں یہ پڑھا ہے کہ محمول کو اپنے موضوع کے ساتھ پانچ قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ان میں سے جنس اور نوع سے مراد تو جماعتیں ہوتی ہیں۔ اور باقی تینوں (یعنی فصل، خاصے اور عرض) سے مُراد صفات ہوتی ہیں۔
حل شدہ مثالیں
الف۔ آدمی حیوان ہیں (جنس)
ب۔ آدمی پنجابی ہیں (نوع)
ت۔ آدمی عاقل ہیں (فصل)
ث۔ آدمی سوچ سکتا ہے (خاصۂ نوعی)
ح۔ آدمی کھانا ہضم کرسکتا ہے (خاصۂ جنسی)
ج۔ کچھ آدمی ہندؤ ہیں (عرضِ فارِق)
خ۔ آدمی کسی جگہ پیدا ہوتے ہیں (عرضِ غیرفارِق)
د۔ مثلث ایک شکل ہے (جنس)
ذ۔ کچھ شکلیں مثلث ہوتی ہیں (نوع)
ر۔ مثلث کے تین اضلاع ہوتے ہیں (فصل)
ز۔ مثلث کے تین زاویے دو قائموں کے برابر ہوتے ہیں (خاصہ)
س۔ مثلث ساتویں جماعت میں پڑھائی جاتی ہے (عرض)
سوال۔ مندرجہ ذیل قضیوں میں محمول کا موضوع سے کیا تعلق ہے؟
الف۔ کچھ آدمی ایماندار ہیں (جماعت کا عرضِ فارِق)، ب۔ کچھ حیوان گھوڑے ہیں (نوع)، ت۔ یہ آدمی یکم اپریل کو پیدا ہوا تھا (فرد کا عرضِ غیرفارِق)، ث۔ تمام لاڈلے بچے ماں باپ کے لئے تکلیف دہ ہوتے ہیں (خاصہ)، ح۔ مساوی الاضلاع مثلثیں مساوی الزوایا ہوتی ہیں (خاصہ)، ج۔ وہ میز سیاہ ہے (فرد کا عرضِ فارِق)، د۔ کالج ایک ادارہ ہے (جنس)، ذ۔ انصاف ایک نیکی ہے (جنس)، ر۔ لاہور مغربی پاکستان کا دارالخلافہ ہے (فرد کا عرضِ فارِق)، ز۔ لاہور امرتسر سے جنوب کی طرف ہے (فرد کا عرضِ غیرفارِق)، س۔ اس مثلث کے تینوں اضلاع ایک ایک اِنچ ہیں (عرض)۔
فقط
سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں