قواعدِ قیاس
(پندرھواں باب)
قواعدِ قیاس
Rules of Syllogism
قیاس کی صحت کا انحصار مندرجہ ذیل قواعد پر ہے۔ اِن قواعد کے بغیر قیاس صحیح نہیں ہوسکتا۔
قیاس کی ساخت سے متعلّق قواعد؛
Rules Regarding The Structure of Syllogism
١. قیاس میں تین اور صرف تین حدیں ہونی چاہئیں۔
٢. قیاس میں تین اور صرف تین قضیے ہونے چاہئیں۔
قیاس کی کمیّت سے متعلّق قواعد؛
Rules Regarding The Quantity of Syllogism
٣. حَدِّ اوسط کو مقدمات میں کم ازکم ایک بار ضرور جامع ہونا چاہیے۔
٤. جو حد مقدمات میں جامع نہ ہو اسے نتیجے میں ہرگز جامع نہیں ہونا چاہیے۔
قیاس کی کیفیّت سے متعلق قواعد؛
Rules Regarding The Quality of Syllogism
٥. دو سَالِبَہ مُقدمات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔
٦. اگر ایک مقدمہ سَالِبَہ ہو تو نتیجہ ضرور سَالِبَہ ہوگا اور اگر نتیجہ سَالِبَہ ہو تو ایک مقدمہ ضرور سَالِبَہ ہوگا۔
حاصلات
٧. دو جُزئیہ مقدمات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔
٨. اگر ایک مقدمہ جُزئیہ ہو تو نتیجہ ضرور جُزئیہ ہوگا۔
٩. ایک جُزئیہ کُبریٰ اور ایک سَالِبَہ صُغریٰ سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔
اب ہم ان قواعد کی علـٰحدہ علـٰحدہ تشریح کرتے ہیں۔
اَوَّل قیاس کی ساخت کو لے کر قواعد کی شرح؛
قیاس میں صرف تین قضیے ہونے چاہئیں۔ نہ کم نہ زیادہ۔ قیاس کی تعریف میں ہی یہ بات پائی جاتی ہے کہ اس میں تین قضیے ہونے چاہئیں۔ دو مقدمات (یعنی کُبریٰ، صُغریٰ) اور ایک نتیجہ۔
اگر تین قضیوں سے کم قضیے ہوں تو وہ یا تو دو قضیے ہوں گے یا ایک۔ اگر ایک ہی قضیہ ہو تو اس میں استنتاج نہیں ہوگا۔ "تمام انسان فانی ہیں" محض ایک قضیہ ہے۔ اس میں کوئی استنتاج نہیں۔ قیاس استنتاج کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا قیاس ایک قضیے پر مشتمل نہیں ہوسکتا۔ اگر دو قضیے ہوں اور اُن میں استنتاج پایا جائے تو وہ استنتاج بدیہی ہوگا، قیاس نہیں ہوگا۔ مثلًا "تمام انسان فانی ہیں"۔ "لہٰذا کوئی انسان غیر فانی نہیں" یہاں دو قضیے ہیں جن میں استنتاج موجود ہے لیکن یہ استنتاجِ بدیہی ہے، قیاس نہیں۔
اگر تین قضیوں سے زیادہ قضیے ہوں تو وہ ایک قیاس نہیں ہوگا بلکہ ایک سے زیادہ قضیے ہوں گے۔ مثلًا
تمام م، پ ہیں
(تمام حیوان فانی ہیں)
تمام ک، م ہیں
(تمام انسان حیوان ہیں)
تمام س، ک ہیں
(تمام فلسفی، انسان ہیں)
لہٰذا تمام س، پ ہیں
(لہٰذا تمام انسان فانی ہیں)
یہاں چار قضیے ہیں۔ لیکن دراصل یہ چار قضیے نہیں بلکہ چھ ہیں اور ایک قیاس نہیں بلکہ دو قیاس ہیں۔ ہر قیاس میں آخر کار تین ہی قضیے ہیں۔
١. تمام م، پ ہیں
(تمام حیوان فانی ہیں)
تمام ک، م ہیں
(تمام انسان حیوان ہیں)
لہٰذا تمام ک، پ ہیں
(لہٰذا تمام انسان فانی ہیں)
٢. تمام ک، پ ہیں
(تمام انسان فانی ہیں)
تمام س، ک ہیں
(تمام فلسفی انسان ہیں)
لہٰذا تمام س، پ ہیں
(لہٰذا تمام فلسفی فانی ہیں)
چنانچہ قیاس میں نہ تو تین قضیوں سے کم ہوسکتے ہیں، نہ زیادہ۔ اگر تین قضیوں سے کم قضیے ہوں تو یا تو ان میں استنتاج ہی نہیں ہوگا یا استنتاجِ بدیہی ہوگا۔ اگر تین قضیوں سے زیادہ قضیے ہوں تو وہ ایک قیاس نہیں ہوگا بلکہ دو یا دو سے زیادہ قیاسات کا مجموعہ ہوگا اور آخر کار ہر قیاس میں تین قضیے ہی ہوں گے۔
قیاس میں صرف تین حدیں ہونا چاہئیں نہ کم، نہ زیادہ۔ یہ بات بھی قیاس کی تعریف میں پائی جاتی ہے۔ قیاس میں دو حدوں (یعنی حَدِّ اکبر اور حَدِّ اصغر) کا آپس میں تعلق ایک تیسری حد (یعنی حَدِّ اَوسط) کی وساطت سے پیدا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قیاس میں صرف تین حدیں ہوسکتی ہیں۔
تین حدوں سے کم یا تو دو حدیں ہوسکتی ہیں یا ایک۔ ایک حَدّ کی صورت میں استنتاج تو درکنار ایک قضیہ بھی نہیں ہوتا۔ مثلًا انسان۔ اگر دو حدیں ہوں تو اُن میں زیادہ سے زیادہ استنتاجِ بدیہی ہوسکتا ہے۔ مثلًا "تمام طلبا انسان ہیں لہٰذا کچھ انسان طلبا ہیں"۔ یہاں صرف دو حدیں ہیں۔ "انسان" اور "طلبا"۔ لیکن یہ استنتاجِ بدیہی ہے قیاس نہیں۔ چنانچہ قیاس میں تین سے کم حدیں نہیں ہوسکتیں۔
اگر تین سے زیادہ حدیں ہوں تو یا تو وہ قیاس ہی نہیں ہوگا یا ایک سے زیادہ قیاس ہوں گے۔ مثلًا
تمام انسان فانی ہیں
تمام کوّے سیاہ ہیں
یہاں چار حدیں ہیں۔ "انسان"، "فانی"، "کوّے" اور "سیّاہ"۔ لیکن ان میں کوئی حدِّ اوسط نہیں۔ لہٰذا یہ قیاس نہیں۔ اب مندرجہ ذیل قیاس ملاحظہ ہو۔
١. تمام م، پ ہے
تمام ک، م ہے
تمام س، ک ہے
لہٰذا تمام س، پ ہے
٢. تمام حیوان فانی ہیں
تمام انسان، حیوان ہیں
تمام فلسفی انسان ہیں
لہٰذا تمام فلسفی فانی ہیں
یہاں بھی چار حدیں ہیں۔ نمبر ۱ میں م، پ، ک اور س اور نمبر ۲ میں حیوان، فانی، انسان اور فلسفی۔ لیکن جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں یہ ایک قیاس نہیں بلکہ دو قیاسات کا مجموعہ ہے اور یہ چار حدیں نہیں بلکہ چھ ہیں۔ اگر ان قیاسات کا تجزیہ کیا جائے تو ہر قیاس میں ہمیں صرف تین حدیں ہی ملیں گی۔
قیاس میں چار حدوں کا ہونا مُغالطۂ حُدودِ اربعہ کہلاتا ہے۔
قیاس میں کوئی حدّ ذو معنیٰ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی حد ذو معنیٰ ہوگی تو وہ دو حدوں کے برابر ہوگی اور اس صورت میں بھی مُغالطۂِ حُدودِ اربعہ لازم آئے گا۔ چنانچہ قیاس میں تمام حدیں یعنی حدِ اوسط (جو ایک دفعہ کُبریٰ میں آتی ہے اور ایک دفعہ صُغریٰ میں) حدِ اکبر (جو ایک دفعہ کُبریٰ میں آتی ہے اور ایک دفعہ نتیجے میں بطور محمول) اور حدِ اصغر (جو ایک دفعہ صُغریٰ میں آتی ہے اور ایک دفعہ نتیجے میں بطور موضوع) اپنی دونوں جگہوں پر ایک ہی معنیٰ میں استعمال ہونی چاہئیں۔
Fallacy of Ambiguous Middle
اگر حدِ اوسط کُبریٰ میں ایک معنیٰ میں لی جائے اور صُغریٰ میں کسی اور معنیٰ میں تو یہ مُغالطۂ مُبہم حدِّ اوسط ہوگا۔
Fallacy of Ambiguous Major
اسی طرح اگر حدِّ اکبر کُبریٰ میں ایک معنیٰ میں لی جائے اور نتیجے میں کسی اور معنیٰ میں تو یہ مُغالطۂ مُبہم حدِّ اکبر ہوگا۔
Fallacy of Ambiguous Minor
علیٰ ھٰذا القیاس اگر حدِ اصغر صُغریٰ میں ایک معنیٰ میں لی جائے اور نتیجہ میں کسی اور معنیٰ میں تو یہ مُغالطۂ مُبہم حدِ اصغر ہوگا۔
مُغالطۂِ مُبہم حدِّ اوسط کی مثالیں
١. ٹھوس اشیاء میں کششِ اتصال پائی جاتی ہے۔
اس کا علم ٹھوس ہے۔
لہٰذا اس کے علم میں کششِ اتصال پائی جاتی ہے۔
٢. تمام ماہرینِ فن فاضل انسان ہیں۔
تمام چور اپنے فَن میں ماہر ہیں۔
لہٰذا تمام چور فاضل انسان ہیں۔
٣. جو بات درست ہو وہ قانونًا نافذ ہونا چاہئیے۔
کششِ ثقل ایک ضروری بات ہے۔
لہٰذا کششِ ثقل قانونًا نافذ ہونا چاہیے۔
٤. کمیاب چیزیں مہنگی ہوتی ہیں۔
ایک گھوڑا ایک روپے میں کمیاب ہے۔
لہٰذا ایک گھوڑا ایک روپے میں مہنگا ہے۔
٥ . کسی چیز کی انتہا اس کا تکمل ہے۔
موت زندگی کی انتہا ہے۔
لہٰذا موت زندگی کی تکمیل ہے۔
مُغالطۂِ مُبہم حَدِّ اکبر کی مثالیں
١. بہادر نہیں بھاگتے۔
شیر بہادر ہے۔
لہٰذا شیر نہیں بھاگتا۔
٢. لوہا سخت ہے۔
انسان لوہا نہیں۔
لہٰذا انسان سخت نہیں۔
مُغالطۂِ مُبہم حَدِّ اصغر کی مثالیں
١. آدمی کاغذ نہیں۔
دستے آدمی ہیں۔
لہٰذا دستے کاغذ نہیں۔
٢. دھات کی بنی ہوئی چیزیں انسانی جسم کا حصّہ نہیں ہوتیں۔
پنجہ دھات کی بنی ہوئی چیز ہے۔
لہٰذا پہنجہ انسانی جسم کا حصّہ نہیں ہوتا۔
مُغالطۂ مُبہم حدِّ اوسط، مُبہم حدِ اکبر، اور مبہم حدِّ اصغر دراصل مُغالطۂ حُدودِ اربعہ ہے۔ مُغالطۂ حدودِ اربعہ کی چند اور مثالیں ملاحظہ ہوں۔
١. میز فرش کو چھُو رہا ہے۔
میرا ہاتھ میز کو چھُو رہا ہے۔
لہٰذا میرا ہاتھ فرش کو چھُو رہا ہے۔
٢. زمین سورج کے گِرد گھومتی ہے۔
چاند زمین کے گِرد گھومتا ہے۔
لہٰذا چاند سورج کے گِرد گھومتا ہے۔
٣. ا، ب کا دوست ہے۔
ب، ج کا دوست ہے۔
لہٰذا ج، ا کا دوست ہے۔
مثال نمبر (۱) میں اگر ہم قیاس کو منطقی شکل میں لائیں تو چار حدیں صاف طور پر نظر آجائیں گی۔ اپنی منطقی شکل میں یہ قیاس یوں ہوگا۔
میز ایک چیز ہے جو فرش کو چھُو رہی ہے]
میرا ہاتھ ایک چیز ہے جو میز کو چھُو رہی ہے
[لہٰذا میرا ہاتھ ایک چیز ہے جو فرش کو چھُو رہی ہے
یہاں چار حدیں یہ ہیں۔ (۱) میز، (۲) ایک چیز جو فرش کو چھُو رہی ہے، (۳) میرا ہاتھ، (٤) ایک چیز جو میز کو چھو رہی ہے۔
اسی طرح مثال نمبر (۲) کی منطقی شکل یہ ہوگی۔
زمین ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد گھومتا ہے]
چاند ایک سیارہ ہے جو زمین کے گرد گھومتا ہے
[لہٰذا چاند ایک سیارہ ہے جو سورج کے گِرد گھومتا ہے
یہاں چار حدیں ہیں (۱) زمین، (۲) ایک سیارہ جو سورج کے گرد گھومتا ہے، (۳) چاند، (٤) ایک سیارہ جو زمین کے گرد گھومتا ہے۔
مثال نمبر (۳) میں وہ چار حدیں یہ ہیں۔ (۱) ا، (۲) ب کا دوست، (۳) ج، (٤) ج کا دوست۔
دوم قیاس کی کمیّت کو لے کر قواعد کی شرح؛
حدِ اوسط مقدمات میں کم ازکم ایک بار ضرور جامع ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں مقدمات میں سے کم ازکم ایک مقدمے میں حدِ اوسط ضرور اپنی پوری تعبیر یعنی دلالتِ افرادی میں استعمال ہونی چاہیے۔ حد اکبر اور حد اصغر میں حدِ اوسط تعلق پیدا کرتی ہے۔ اگر یہ مقدمۂِ کُبریٰ میں غیر جامع ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مقدمۂ کُبریٰ میں اس کا ایک حصہ لیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر یہ مُقدمۂ صُغریٰ میں غیرجامع ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مقدمۂ صُغریٰ میں اس کا ایک حصّہ لیا گیا ہے۔ بالفاظِ دیگر اگر حدِ اوسط دونوں مقدمات میں غیرجامع ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا ایک حصّہ حدِ اکبر سے تعلق رکھتا ہے اور ایک حصّہ حد اصغر سے تعلق رکھتا ہے۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں حصے ایک دوسرے سے بالکل علـٰحدہ ہوں۔ یعنی حدِ اکبر کا تعلق حد اوسط کے ایک حصے سے ہو اور حدِ اصغر کا تعلق حدِ اوسط کے کسی اور حصے سے ہو۔ ایسی صورت میں حدِ اوسط، حدِ اکبر اور حدِ اصغر کے درمیان تعلق پیدا نہیں کرسکے گی اور مقدمات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکے گا۔
Fallacy of Undistributed Middle
اگر حدِ اوسط دونوں مقدمات میں غیرجامع ہو تو مغالطۂ غیر جامع حدِ اوسط لازم آتا ہے۔
(كُبریٰ) ١. تمام پ، م ہے
(صُغریٰ) تمام س، م ہے
(نتیجہ) ×
٢. تمام پنجابی، انسان ہیں (کُبریٰ)
تمام سندھی، انسان ہیں
(نتیجہ) ×
مثال نمبر (۱) میں میں حدِ اوسط (یعنی م) کُبریٰ اور صُغریٰ دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حدِ اکبر (پ) م کے ایک حصّے سے تعلق رکھتی ہو اور حدِ اصغر (س) م کے کسی اور حصے سے تعلق رکھتی ہو۔ ایسی صورت میں چونکہ م، س اور پ میں کوئی تعلق پیدا نہیں کرتا، لہٰذا ان مقدمات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔
مثال نمبر (۲) میں بھی حدِ اوسط (انسان) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہے۔ لہٰذا ان مقدمات کی بنا پر ہم سندھی اور پنجابی کے باہمی تعلق کی نسبت کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ کُبریٰ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام پنجابی انسان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام پنجابی "انسان" کی جماعت کا ایک حصہ ہیں یعنی کچھ انسان پنجابی ہیں۔ اسی طرح صُغریٰ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام سندھی انسان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام سندھی "انسان" کی جماعت کا ایک حصہ ہیں یعنی کُچھ انسان سندھی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ "کُچھ انسان" جو پنجابی ہیں اور "کُچھ انسان" جو سندھی ہیں ایک دوسرے سے علـٰحدہ ہوں۔ یہ بات مندرجہ ذیل شکل سے واضح ہے۔
دِئیے ہوئے مقدمات کی بنا پر ہم انسان کے دائرے میں پنجابی کے دائرے اور سندھی کے دائرے کو ایک دوسرے سے بالکل علـٰحدہ جہاں چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ گویا "سندھی" اور "پنجابی" میں (جو کہ حدِ اصغر اور حدِ اکبر ہیں) کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
مُغالطۂِ غیر جامع حدِ اوسط کی مثالیں
١. تمام پھُول خوبصورت ہیں
تمام گُلاب خوبصورت ہیں
لہٰذا تمام گُلاب پھُول ہیں
٢. تمام چوپائے جانور ہیں
تمام گھوڑے جانور ہیں
لہٰذا تمام گھوڑے چوپائے ہیں
٣. تمام صحیح قیاس تین حدیں رکھتے ہیں
یہ قیاس تین حدیں رکھتا ہے
لہٰذا یہ قیاس صحیح ہے
٤. تمام وظیفہ پانے والے طلبا محنتی ہیں
زید محنتی ہے
لہٰذا زید وظیفہ پانے والا طالبعلم ہے
٥. تمام مُسلمان خدا کو مانتے ہیں
تمام ہِندؤ خدا کو مانتے ہیں
لہٰذا تمام ہِندؤ مسلمان ہیں
نتیجے میں کوئی حد جامع نہیں ہونا چاہیے جب تک کہ وہ اپنے مقدمے میں جامع نہ ہو۔ کیونکہ نتیجے میں حدِ اصغر اور حدِ اکبر ہی ہوتی ہیں لہٰذا یہ قاعدہ انہی دو حدوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حدِ اصغر اپنے مقدمے (یعنی مقدمۂ صُغریٰ) میں جامع نہیں تو نتیجے میں بھی اسے غیر جامع رہنا چاہیے۔ اسی طرح اگر حَدِّ اکبر اپنے مقدمے (یعنی مُقدمۂ کُبریٰ) میں جامع نہیں تو اسے نتیجے میں بھی غیر جامع رہنا چاہیے۔
اگر مقدمات میں حدِ اصغر اور حدِ اکبر جُزی طور پر لی گئی ہوں اور نتیجے میں ہم انہیں کلّی طور پر لے لیں تو یہ بات قیاس کے اُصُولوں کے خلاف ہوگی قیاس میں کُل سے جُزو کے اخذ کرنے کی تو اجازت ہے لیکن جُزو سے کل کے اخذ کرنے کی ممانعت ہے۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ قیاس میں نتیجہ مقدمات سے کم وسیع ہوسکتا ہے لیکن زیادہ وسیع نہیں ہوسکتا۔
اگر ہم ایک حد کو جو اپنے مقدمے میں غیر جامع ہو نتیجے میں جامع لے لیں تو مغالطۂ عمل ناجائز لازم آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عمل ناجائز حدِ اصغر اور حد اکبر کا ہی ہوگا کیونکہ نتیجے میں یہی دو حدیں ہوتی ہیں۔ اگر حدِ اصغر مقدمۂ صغریٰ میں غیر جامع لی گئی ہو اور نتیجہ میں ہم اُسے جامع لے لیں تو یہ مغالطۂِ عملِ ناجائز حدِ اصغر ہوگا۔ اسی طرح اگر حدِ اکبر مقدمۂ کُبریٰ میں غیر جامع لی گئی ہو اور ہم اُسے جامع لے لیں تو یہ مُغالطۂِ عملِ ناجائز حدِ اکبر ہوگا۔
مُغالطۂِ عملِ ناجائز حدِّ اصغر کی مثالیں
Examples of Fallacy of the Illicit Process of the Minor Term
١. تمام م، پ ہے
کُچھ س، م ہے
لہٰذا تمام س، پ ہے
٢. تمام کوّے سیاہ ہیں
کُچھ پرندے کوّے ہیں
لہٰذا تمام پرندے سیاہ ہیں
مثال نمبر (۱) میں س مقدمۂ صُغریٰ میں غیر جامع ہے لیکن نتیجہ میں یہ جامع ہے۔ اسی طرح مثال نمبر (۲) میں "پرندے" (جو کہ حدِ اصغر ہے) صُغریٰ میں غیر جامع ہے۔ لیکن نتیجے میں یہ جامع ہے۔ لہٰذا یہ مغالطۂِ عملِ ناجائز حدِ اصغر ہے۔
مُغالطۂِ عملِ ناجائز حدِ اکبر کی مثالیں
Examples of the Illicit Process of the Major Term
١. تمام م، پ ہے
کوئی س، م نہیں
لہٰذا کوئی س، پ نہیں
٢. تمام توتے پرندے ہیں
کوئی کوّا توتا نہیں
لہٰذا کوئی کوّا پرندہ نہیں
مثال نمبر (۱) میں پ مقدمۂِ کُبریٰ میں غیرجامع ہے۔ (قضیۂ ا میں محمول غیرجامع ہوتا ہے) لیکن نتیجے میں پ جامع ہے۔ کیونکہ نتیجہ قضیۂ ع ہے، جس میں موضوع اور محمول دونوں جامع ہوتے ہیں۔ اسی طرح مثال نمبر (۲) میں "پرندے" (جو کہ حدِ اکبر ہے) مُقدمۂِ کُبریٰ میں غیرجامع ہے لیکن نتیجے میں یہ جامع ہے۔ لہٰذا یہ مُغالطۂِ عملِ ناجائز حدِّ اکبر ہے۔
مندرجہ ذیل مثالوں میں مغالطۂِ عمل ناجائز حدِ اصغر اور مُغالطۂ عمل ناجائز حد اکبر یعنی حد اصغر اور حد اکبر دونوں کا عملِ ناجائز پایا جاتا ہے۔
١. تمام م، پ ہے
کُچھ س، م نہیں
لہٰذا کوئی س، پ نہیں
٢. تمام انسان فانی ہیں
کُچھ جاندار انسان نہیں
لہٰذا کوئی جاندار فانی نہیں
مثال نمبر (۱) میں س اور پ اپنے اپنے مقدمے میں غیر جامع ہیں لیکن نتیجے میں دونوں جامع ہیں۔ اسی طرح مثال (۲) میں فانی (جو کہ حدِ اکبر ہے) اور "جاندار" (جو کہ حدِ اصغر ہے) اپنے اپنے مقدمے میں غیر جامع ہیں لیکن نتیجے میں یہ دونوں حدّیں جامع ہیں۔
مُغالطۂِ عملِ ناجائز حدِ اکبر کی کچھ اور مثالیں ملاحظہ ہوں۔
١. تمام گھوڑے چوپائے ہیں
کوئی پرندا گھوڑا نہیں
لہٰذا کوئی پرندا چوپایہ نہیں
٢. تمام صاف گو انسان نیک ہیں
زید صاف گو انسان نہیں
لہٰذا زید نیک نہیں
٣. کُچھ انسان شاعر ہیں
کوئی گھوڑا انسان نہیں
لہٰذا کوئی گھوڑا شاعر نہیں
مندرجہ ذیل مثالیں مُغالطۂِ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اَصْغَر کی مثالیں ہیں۔
١. کوئی جھوٹا قابل اعتبار نہیں
کُچھ آدمی جھوٹے ہیں
لہٰذا کوئی آدمی قابل اعتبار نہیں
٢. تمام انسان فانی ہیں
کُچھ ہستیاں انسان ہیں
لہٰذا تمام ہستیاں فانی ہیں
٣. کوئی انسان کامل نہیں
تمام انسان جاندار ہیں
لہٰذا کوئی جاندار کامل نہیں
٤. تمام مادّی اشیاء وزن رکھتی ہیں
تمام مادّی اشیاء پھیلتی ہیں
لہٰذا تمام پھیلنے والی اشیاء وزن رکھتی ہیں
نوٹ:۔ مُغالطَۂِ عَمَلِ ناجائز اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ایک حَدّ اپنے مقدمے میں تو غیر جامع ہو لیکن نتیجے میں جامع ہو۔ اس کے برعکس اگر کوئی حد اپنے مقدمے میں جامع ہو اور نتیجے میں غیر جامع ہو تو اس صورت میں مُغَالِطَۂِ عَمَلِ ناجائز پیدا نہیں ہوتا۔ یہ مُغالطہ کُل سے جُزؤ کے اخذ کرنے میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ جُزؤ سے کُل کے اخذ کرنے میں پیدا ہوتا ہے۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی حد اپنے مقدمے میں جامع نہیں تو نتیجے میں بھی وہ جامع نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر کوئی حد اپنے مقدمے میں جامع ہے تو نتیجے میں بھی وہ جامع ہونی چاہیے۔ مندرجہ ذیل قیاس ملاحظہ ہو۔
تمام انسان فانی ہیں
تمام طلبا انسان ہیں
لہٰذا کچھ طلبا فانی ہیں
اس قیاس میں کوئی غلطی نہیں۔ حَدِّ اَصغَر (طلبا) مُقدمۂ صُغریٰ میں جامع ہے لیکن نتیجے میں غیرجامع (کُچھ طلبا) ہے۔ یہاں ہم نے "تمام طلبا فانی ہیں" کی بجائے "کُچھ طلبا فانی ہیں" نتیجہ اخذ کیا ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں۔ غلطی جُزؤ سے کُل کے اخذ کرنے میں ہوتی ہے نہ کہ کُل سے جُزؤ کے اخذ کرنے میں۔چنانچہ اگر کوئی حد اپنے مقدمے میں جامع ہو اور نتیجے میں غیر جامع ہو تو اس صورت میں مُغالطۂ عَمَلِ ناجائز پیدا نہیں ہوتا۔
سوم قیاس کی کیفیت کو لے کر قواعد؛
دو سَالِبَہ مقدمات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔
ایک سَالِبہ قضیے میں حدوں کا آپس میں تعلق انکار کا ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر مُقدمۂ کُبریٰ سَالِبَہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حَدِّ اَوسط اور حَدِّ اَکْبَر کا باہم تعلق انکار کا ہے۔ اسی طرح اگر مُقدمۂ صُغریٰ سَالِبَہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حد اوسط اور حد اصغر کا باہم تعلق انکار کا ہے۔ یعنی اگر دونوں مقدمات سالبہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حدِ اکبر اور حدِ اصغر دونوں کا حدِ اوسط سے تعلق انکار کا ہے۔ جب دو حدوں کا تعلق کسی تیسری حد کے ساتھ انکار کا ہو تو ہم ان دو حدوں کے باہمی رشتے کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔ حد اکبر اور حد اصغر کے درمیان اقرار یا انکار کا تعلق پیدا کرنا حد اوسط کا کام ہے۔ لیکن اگر خود حد اوسط کا تعلق حد اکبر یا حد اصغر دونوں سے انکار کا ہو تو یہ ان دونوں کے درمیان کوئی رشتہ اقرار یا انکار کا پیدا نہیں کرسکے گی۔ محض انکار یا اختلاف سے ہم کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ مثلًا اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ 'پ'، 'م' نہیں اور 'م'، 'س' نہیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ 'س' اور 'پ' کا آپس میں رشتہ کیا ہے۔
چنانچہ ایک قیاس اسی صورت میں صحیح ہوسکتا ہے جب کہ دو مقدمات میں سے ایک مقدمہ ضرور مُوجِبَہ ہو۔ جب دونوں مقدمات سَالِبَہ قضیے ہوں تو مُغالطَۂِ مُقدماتِ سَالِبَہ لازِم آتا ہے۔ مندرجہ ذیل قیاس ملاحظہ ہو۔
کوئی گھوڑا انسان نہیں
کوئی گدھا انسان نہیں
لہٰذا کوئی گدھا گھوڑا نہیں
یہ نتیجہ مشتبہ ہے۔ ممکن ہے یہ سچ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سچ نہ ہو۔ چنانچہ جب دونوں مقدمات سالبہ قضیے ہوں تو ہمیں نتیجہ اخذ کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
اگر ہم ان سَالِبَہ قضیوں کو استنتاجِ بدیہی سے مُوجِبَہ شکل میں تبدیل بھی کرلیں تو بھی ان سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوگا۔
کوئی گھوڑا انسان نہیں
کوئی گدھا انسان نہیں
اگر ہم ان دونوں قضیوں کا عَدَل لیں تو یہ مُوجِبَہ ہوجائیں گے۔
تمام گھوڑے غیر انسان ہیں
تمام گدھے غیر انسان ہیں
ان قضیوں سے مُغالطۂ غیرجامع حدِّ اوسط کی وجہ سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔ المختصر دو سَالِبَہ قضیوں سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
اگر ایک مقدمہ سَالِبَہ ہو تو نتیجہ ضرور سَالِبَہ ہوگا اور اگر نتیجہ سَالِبَہ ہو تو ایک مقدمہ ضرور سَالِبَہ ہوگا۔
اگر ایک مقدمہ سالبہ ہو اور دوسرا موجبہ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حَدِّ اکبر اور حدِ اصغر میں سے ایک کے ساتھ حد اوسط کا تعلق انکار کا ہے اور دوسری کے ساتھ اقرار کا۔ لہٰذا حدِ اکبر اور حدِ اصغر کا آپس میں تعلق انکار کا ہوگا۔ یعنی نتیجہ سَالِبَہ ہوگا۔ جب دو حدّوں کا کسی تیسری حد کے ساتھ تعلق ایسا ہو کہ ایک اس کا انکار کرے اور دوسری اقرار تو ظاہر ہے کہ ان دونوں حدوں کا باہمی تعلق انکار کا ہوگا۔ مثلًا 'م' کا تعلق 'پ' سے اقرار کا ہے (یعنی م، پ ہے) اور اس سے انکار کا (یعنی م، س نہیں) تو س کا پ سے تعلق انکار کا ہوگا (یعنی س، پ نہیں ہوگا)۔ اگر ہم یہ کہیں کہ "کوئی انسان کامل نہیں" اور "تمام وکیل انسان ہیں" تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ "کوئی وکیل کامل نہیں"۔ اس قیاس کو دائروں سے بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں