تصور اور تصدیق کی تقسیم

تصور اور تصدیق کی تقسیم

 تصور کی اکیس اور تصدیق کی سات قسمیں ہیں۔ یہ کُل اٹھائیس قسمیں ہیں۔

وجۂ حصر: علم ایک چیز کا ہوگا یا اُمُورِ متعددہ کا ہوگا، اگر ایک چیز کا ہو تو تصور کی پہلی قسم، اگر امور متعددہ کا ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں مع النسبۃ ہوگا یا بدون النسبۃ ہوگا، اگر بدون النسبۃ ہو تو تصور کی دوسری قسم، اگر مع النسبۃ ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں نسبتِ تامہ ہوگی یا نسبتِ ناقصہ ہوگی، اگر نسبتِ ناقصہ ہو تو مرکبِ ناقص کی پانچ قسمیں، تو یہ کل سات قسمیں ہوئیں، اگر نسبتِ تامہ ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں نسبتِ انشائیہ ہوگی یا نسبتِ خبریہ ہوگی، اگر نسبتِ انشائیہ ہو تو جملہ انشائیہ کی دس قسمیں، تو کل سترہ قسمیں ہوئیں، اگر نسبتِ خبریہ ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں مع الحکایۃ ہوگی یا بدون الحکایۃ ہوگی، اگر بدون الحکایۃ ہو تو تصور کی اٹھارویں قسم تخییل، اگر مع الحکایۃ ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں مع الافکار ہوگی یا بدون الافکار ہوگی، اگر مع الافکار ہو تو تصور کی انیسویں قسم تکذیب، اگر بدون الافکار ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں، جانبِ مخالف کا احتمال ہوگا یا نہیں، اگر ہو تو پھر تین حال سے خالی نہیں، جانبِ مخالف کا احتمال برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ ہوگا، اگر برابر ہو تو تصور کی بیسویں قسم شک، اگر زیادہ ہو تو تصور کی اکیسویں قسم وہم، اگر کم ہو تو تصدیق کی پہلی قسم ظن۔

اگر جانبِ مخالف کا احتمال نہ ہو تو اسے جزم بالحکم کہتے ہیں، پھر یہ جزم بالحکم دو حال سے خالی نہیں ثابت ہوگا (یعنی تشکیکِ مُشکِّک سے زائل نہ ہو) یا غیر ثابت ہوگا (یعنی تشکیکِ مُشکِّک سے زائل ہو) اور اگر غیر ثابت ہو تو تقلید (پھر تقلید کی دو قسمیں ہیں، اگر واقع کے مُطابق ہو تو تقلیدِ مُصِیب اور اگر نہ ہو تو تقلیدِ مُخَطِی)۔ اگر ثابت ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں، واقع کے مُطابق ہوگا یا نہیں، اگر نہ ہو تو جہلِ مُرکب اور اگر ہو تو یقین، پھر یقین تین حال سے خالی نہیں، حاصل بالدلائل ہوگا یا حاصل بالمُشاہدہ ہوگا یا حاصل بالتجربہ ہوگا، اگر حاصل بالدلائل ہو تو علم الیقین، اگر حاصل بالمُشاہدہ ہو تو عین الیقین اور اگر حاصل بالتجربہ ہو تو حق الیقین (۱)(۲)

قواعد

قاعدہ نمبر ۱؛ نحات جس کو مُفرد یا جملۂ ناقصہ کہتے ہیں تو مناطقہ اسے تصور کہتے ہیں۔(۳)

قاعدہ نمبر ۲؛ مرکبِ خبری شکی، مرکبِ خبری وہمی، مرکبِ خبری انکاری، مرکبِ خبری تخییلی تصور کہلاتے ہیں۔(٤)(٥)

قاعدہ نمبر ۳؛ جملہ اسمیہ اور فعلیہ تصدیق کہلاتی ہے بشرطیکہ موضع یقین اور ظن غالب میں ہو۔(٦)

قاعدہ نمبر ٤؛ اگر جملہ مُفیدِ یقین یا مُفیدِ ظَنّ غالب نہ ہوں، بلکہ شک اور اُمید کے لیے ہو تو وہ تصدیق نہیں کہلاتا جیسے عُمر آیا آگیا ہوگا، عُثمان گیا ہوگا، اُمید ہے محمود کامیاب ہوگا، احمد گھر نہیں ہوگا وغیرہ۔(٧)

قاعدہ نمبر ٥؛ اگر اَمَر اور اِستِفہَام کو خبر کے اسلوب میں ذکر کیا جائے تو تصدیق کہلائے جیسے "اعنا" (ہماری مدد فرما) تصور ہے، لیکن ایاك نستعین خبر و تصدیق ہے، اسی طرح "اخبرنی" اور "ما ھٰذا" دونوں تصور ہیں۔ لیکن استفہمك خبر و تصدیق ہے۔(٨)

قاعدہ نمبر ٦؛ اگر تصدیق میں دو چیزوں کے درمیان انکشاف الاتحاد دفعۃ ہو تو تصدیق اجمالی ورنہ تصدیق تفصیلی کہلائے گا، یعنی اگر موضوع و محمول دونوں کا یکدم علم ہو تو تصدیق اجمالی ہوگا اور اگر دونوں کا علـٰحدہ علـٰحدہ علم ہو تو تصدیق تفصیلی ہوگا۔(٩)

قاعدہ نمبر ٧؛ تصدیقِ تفصیلی کو تصدیقِ منطقی بھی کہتے ہیں۔ (١٠)

قاعدہ نمبر ۸؛ مناطقہ تصدیقِ تفصیلی سے بحث کرتے ہیں۔(١١)

قاعدہ نمبر ۹؛ مرکب من اسم و أداۃ، مرکب میں کلمۃ و أداۃ اور مرکب من أداتین بھی از قبیلہ مرکبِ ناقص کہلاتے ہیں۔(۱٢)

قاعدہ نمبر ۱۰؛ تصدیقِ اجمالی ہمیشہ بدیہی کہلاتا ہے۔(١٣) )

قاعدہ نمبر ۱۱؛ اعتقاد میں اگر احتمالِ غیر نہ ہو تو اس کو جزم کہتے ہیں، پھر اعتقادِ جازم واقع کے مطابق ہے یا نہیں، اگر واقع کے مطابق نہ ہو تو اس کو جہلِ مرکب کہتے ہیں اور اگر واقع کے مطابق ہے تو زوال کو قبول کرے گا یا نہیں، اگر زوال کو قبول کرے گا تو یہ تقلید ہے ورنہ یقین ہے اور اگر احتمالِ غیر ہو تو پھر دو صورتیں ہیں، دونوں طرفین مساوی ہیں یا نہیں، اگر مساوی ہوں تو اس کو شک کہتے ہیں اور اگر مساوی نہ ہوں بلکہ ایک طرف راجح اور دوسری مرجوح ہو تو جانب راجح کو ظَن اور جانبِ مرجوح کو وہم کہتے ہیں۔(۱٤)

قاعدہ نمبر ۱۲؛ ظن میں جانب مقابل کا احتمال مرجوح ہوتا ہے، وہم میں جانبِ مقابل  کا احتمال راجح ہوتا ہے جب کہ شک میں جانبین برابر ہوتے ہیں۔

قاعدہ نمبر ۱۳؛ اذعان کا اعلیٰ مرتبہ یقین، ادنیٰ مرتبہ ظن ہے جب کہ تقلید اور جہلِ مرکب بین بین ہیں۔(١٥)

قاعدہ نمبر ١٤؛ اگر جزم و اعتقاد واقع کے مطابق نہ ہو تو اسے جہلِ مرکّب کہتے ہیں، اگر جزم و اعتقاد واقع کے مطابق ہو اور ممتنع الزوال بتشکیک المشکک ہو، تو یقین ہوگا ورنہ تشکیک کہلائے گا۔(١٦)

قاعدہ نمبر ١٥؛ اگر تشکیکِ مشکک فی الحال زائل ہو تو اسے تقلیدِ مصیب کہتے ہیں اور فی المآل زائل ہو تو تو اسے تقلیدِ مخطی کہتے ہیں۔(١٧) 

قاعدہ نمبر ١٦؛ ادراکِ نسبتِ اعلیٰ وجہ الانکار کو تکذیب اور ادراکِ نسبت علیٰ وجہ المساوات بین الطرفین کو شک کہتے ہیں اور ادراکِ نسبت بجانب المرجوح کو وہم کہتے ہیں۔

تمرین

درج ذیل امثلہ میں تصور اور تقدیق کی اقسام کا تعیین کیجیے، نیز منطقی تطبیق کریں۔ 

زَیْدٌ، اَلْکِتَابَ، مُسْتَقَرٌ و مَتَاعٌ، عمرو، اَلْمَنَّ وَالسَّلْوٰی، ظُلُمَاتٌ وَ رَعْدٌ وَبَرَقٌ، اَصْحَابِ الجَحِیْمِ، صُمٌّ بُکْمٌّ عُمِیٌّ، لم یضرب، بَقَرَۃٌ صُفْرَاءُ، حَزن (منتزع من صورۃ عمر)، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ، لزم النّفل بالشروع (قاله ابوحنیفه)، کَیْفَ تَکْفُرُونَ بِاللّٰهِ، لَفِي، عداوت (منتزع من صورۃ زید)، لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ، تالـلّٰہ، خوف (منتزع من صورۃ الذئب)، یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا، النیۃ لیست بشرط فی الوضوء (قالہ ابوحنیفہ)، فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ، شجاعت (متنزع من صورۃ عمر)، هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ الـلّٰهِؕ، لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ، النیۃ شرط فی التیمم (قالہ ابوحنیفہ)، سَيْبَوِيْه، أَحَدَ عَشَرَ، زید قائم (قالہ عمرو الکذاب)۔

١. کشاف اصطلاحات الفنون ۴۵۳/۱۔

٢. کیفیت کے اعتبار سے یقین کے تین درجے (علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین) ہیں۔ (۱) علم الیقین؛ کسی چیز کی کیفیت و ماہیّت سے وہ پوری آگاہی جو غور و فکر سے حاصل ہو، (۲) عین الیقین؛ وہ یقینی علم جو مُشاہدے سے حاصل ہو، (۳) حق الیقین؛ علم الیقین اور عین الیقین کے اجتماع سے حاصل ہونے والا پورا پورا یقین (کشاف اصطلاحات الفنون؛ ۴۱۷/۴)

٣. تفہیم المنطق ٤١۔

٤. مُلا حسن: ۳۲، کبریٰ: ۲۸

٥. تخییل، شک، وہم اور ظنِ غالب کی مزید وضاحت یہ ہے: تخییل کا مطلب یہ ہے کہ کسی نسبتِ خبری کا ایسا تصور آنا کہ ذہن اس نسبت کے بارے میں نہ ہی نفی و اثبات کے درمیان دائر ہو اور نہ ہی کسی ایک نسبت کے پائے جانے کا فیصلہ کرتا ہو۔ شک نسبتِ خبری کا وہ علم ہے جس میں ذہن نفی و اثبات میں دائر ہو یعنی دونوں پہلو برابر ہوں کہ ذہن کسی ایک کا فیصلہ نہ کر پائے۔ وہم نسبتِ خبری میں جانبِ راجح کے مقابل دل میں آنے والا مرجوح خیال اور احتمال ہے۔ الغرض تردد کے بغیر حُصُولِ صورۃ فی الذہن ہو تو تخییل ہے، حُصُولِ صورۃ کے بعد اگر تردد واقع ہو اور جانبین مساوی ہو تو وہ شک ہے اور اگر مساوی نہ ہو تو جانب راجح کو ظن غالب اور مرجوح کو وہم کہتے ہیں جیسے زید کے موحد ہونے کے متعلق محض خیال آیا یہ تخییل ہے، پھر ذہن میں اس کے موحد ہونے اور موحد نہ ہونے کے متعلق متردد ہوگیا تو یہ شک ہے، اس کے بعد کسی قرینے سے اس کے موحد ہونے کی جہت راجح ہوگئی تو وہ ظن غالب ہے اور موحد نہ ہونے کی جہت وہم کہلائے گی۔

٦. توضیح المنطق: ٦۔

٧. اساس المنطق: ۲۲۔

٨. اساس المنطق ١٧٦/١۔

٩. سلم العلوم ۱۱۰، حمداللّٰہ ۳۔

١٠. سلم العلوم ۱۱۰، حمداللّٰہ ۳۔

١١. کشف الاشتباہ شرح حمداللّٰہ ۲۔

١٢ . قُطبی: ۸۹۔

١٣. کشف الاشتباہ شرح حمداللّٰہ ۲۔

١٤. اسعاد الفہوم ۱۱/۱۔

١٥. کشف اصطلاحات الفنون ۱۳۱/۱۔

١٦. کشاف اصطلاحات الفنون ۴۵۳/۱۔

١٧. تصور کی سات قسمیں ہیں جن میں تین مفردات کے ساتھ اور چار نسبتِ تامہ خبریہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ مفردات کے ساتھ متعلق تین قسمیں یہ ہیں؛ ۱۔ احساس، ۲۔ توہم، ۳۔ تعقل، اس لیے کہ یہ ادراک المحسوس ہوگا یا امر ماخوذ من المحسوس ہوگا یا ادراک امر معقول ہوگا اگر یہ ادراک المحسوس ہو تو احساس، اگر ادراک امر ماخوذ من المحسوس ہو تو توہم ہوگا اور اگر ادراک امر معقول ہو تو تعقل ہوگا، اور نسبتِ خبریہ کے ساتھ متعلق چار قسمیں یہ ہیں؛ ١. شک، ٢. تخییل، ٣. وہم، ٤. انکار۔ اس لئے کہ جب ادراک نسبت علیٰ وجہ الانکار ہو تو یہ انکار ہوگا، اگر ادراک لجانب امرِ مرجوح ہو تو وہم، اگر ادراک نسبت علیٰ وجہ التساوی ہو تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں، اس میں مطابقت اور عدم مطابقت کا ملاحظہ ہوگا یا نہیں۔ اگر ہو تو شک اور اگر نہ ہو تو تخیل۔ ۱۲

فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ

منطقِ اِستِخراجیہ کے اسباق
منطقِ اِستِقرائیہ کے اسباق
صفحات




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

علمِ منطق کی تعریف

فکر کے اُصُول

حُدود اور ان کی اَقسام