مخلوط شرطیہ قیاس
سترھواں باب
مخلوط شرطیہ قیاس
Mixed Hypothetical Syllogism
پچھلے دو ابواب میں ہم نے خالص حملیہ قیاس کا مطالعہ کیا ہے۔ اب ہم مخلوطہ قیاس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ مخلوط قیاس وہ قیاس ہوتا ہے جس میں دونوں مقدمات ایک جیسے نہ ہوں۔ مخلوط قیاس کی تین قسمیں ہیں؛
1. Mixed Hypothetical Syllogism
١. مخلوط شرطیہ قیاس
2. Mixed Disjunctive Syllogism
٢. مخلوط منفصلہ قیاس
3. Dilemma
٣. معضلہ یا قیاس ذوالجہتین
اس باب میں ہم مخلوط شرطیہ قیاس کا مطالعہ کریں گے۔
مخلوط شرطیہ قیاس وہ قیاس ہوتا ہے جس میں کُبریٰ شرطیہ ہوتا ہے اور صُغریٰ اور نتیجہ دونوں حملیہ ہوتے ہیں۔ مثلًا
١. اگر ایک آدمی زہر کھائے تو وہ مر جاتا ہے (کُبریٰ)
اُس نے زہر کھایا ہے (صُغریٰ)
لہٰذا وہ مرجائے گا (نتیجہ)
یا
٢. اگر ایک آدمی زہر کھائے تو وہ مر جاتا ہے (کُبریٰ)
وہ نہیں مرا (صُغریٰ)
لہٰذا اُس نے زہر نہیں کھایا (نتیجہ)
علامات کی مدد سے اس قیاس کو ہم یوں لکھ سکتے ہیں۔
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
ا، ب ہے (صُغریٰ)
لہٰذا ج، د ہے (نتیجہ)
٢. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے (کُبریٰ)
ا، ب نہیں (صُغریٰ)
لہٰذا ج، د نہیں (نتیجہ)
مخلوط شرطیہ قیاس کے فوائد؛
Rules of Mixed Hypothetical Syllogism
مخلوط شرطیہ قیاس کی چار ممکن صورتیں ہیں؛
١. صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدم کا اقرار کیا جائے۔
٢. صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدم کا انکار کیا جائے۔
٣. صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالی کا اقرار کیا جائے۔
٤. صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالی کا انکار کیا جائے۔
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ا، ب ہے
لہٰذا ج، د ہے
(یہاں صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدم کا اقرار کیا گیا ہے)
٢. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ا، ب نہیں
× نتیجہ
(یہاں صُغریٰ میں کُبریٰ کا انکار کیا گیا ہے)
٣. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ج، د ہے
× نتیجہ
(یہاں صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدم کا اقرار کیا گیا ہے)
٤. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ج، د نہیں
لہٰذا ا، ب نہیں
(یہاں صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالی کا انکار کیا گیا ہے)
مندرجہ بالا چار ممکن صورتوں میں سے دو صورتیں صحیح ہیں اور دو غلط ہیں۔ دو صحیح صورتیں یہ ہیں (۱) صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدم کا اقرار۔ اور (۲) صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالی کا انکار۔ چونکہ یہ صورتیں صحیح ہیں لہٰذا ان میں نتیجہ اخذ ہوسکتا ہے۔ وہ غَلَط صورتیں یہ ہیں۔ (۱) صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدم کا انکار اور۔ (۲) صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالی کا اقرار۔ چونکہ یہ دو صورتیں غلط ہیں لہٰذا ان میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔
اب ہم مثالوں سے ان چاروں صورتوں کو واضح کرتے ہیں۔
١. اگر وہ زہر کھائے گا تو مر جائے گا
اس نے زہر کھایا ہے
لہٰذا وہ مر جائے گا
اس مثال میں کُبریٰ کے مقدم کو صُغریٰ میں تسلیم کیا گیا ہے اور نتیجۃً کُبریٰ کے تالی کو نتیجہ میں تسلیم کیا گیا ہے۔ مقدم (زہر) کے اقرار سے تالی (موت) کا اقرار لازم آتا ہے۔ کیونکہ مقدم ایک شرط کو بیان کرتا ہے جس پر تالی کا منحصر ہونا لازم تسلیم کیا گیا ہے۔
٢. اگر وہ زہر کھائے گا تو مر جائے گا
اس نے زہر نہیں کھایا
× نتیجہ
اس مثال میں کُبریٰ کے مقدم کا صُغریٰ میں انکار کیا گیا ہے۔ لہٰذا کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔ یہاں ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ "وہ نہیں مرے گا" کیونکہ "تالی" (موت) کا انحصار زہر کھانے کے علاوہ کسی اور مقدم پر بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی اگر زہر نہ بھی کھایا جائے تو بھی موت واقع ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ اس نے زہر نہیں کھایا لہٰذا وہ نہیں مرے گا۔ مقدم کے انکار سے تالی کا انکار لازم نہیں آتا۔
٣. اگر زہر کھائے گا تو مر جائے گا
وہ مر گیا ہے
× نتیجہ
اس مثال میں کُبریٰ کے تالی کا صُغریٰ میں اقرار کیا گیا ہے۔ لہٰذا کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔ یہاں ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ "اُس نے زہر کھایا ہے" کیونکہ موت (تالی) کسی اور وجہ سے بھی واقع ہوسکتی ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ وہ مر گیا ہے لہٰذا اُس سے ضرور زہر کھایا ہوگا۔ تالی کے اقرار سے مقدم کا اقرار لازم نہیں آتا۔
٤. اگر وہ زہر کھائے گا تو مر جائے گا
وہ نہیں مرا
لہٰذا اُس نے زہر نہیں کھایا
اس مثال میں کُبریٰ کے تالی (موت) کا صُغریٰ میں انکار کیا گیا ہے اور نتیجۃً کُبریٰ کے مقدم کا نتیجہ میں انکار کیا گیا ہے چونکہ تالی کا انحصار مقدم پر ہوتا ہے لہٰذا تالی کے انکار سے مقدم کا انکار لازم آتا ہے۔ اگر وہ نہیں مرا تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس نے زہر نہیں کھایا کیونکہ اگر وہ زہر کھاتا تو ضرور مر جاتا۔
چنانچہ اگر صُغریٰ میں مقدم کا اقرار کیا جائے یا تالی کا انکار کیا جائے تو نتیجہ اخذ ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر صُغریٰ میں مقدم کا انکار کیا جائے یا تالی کا اقرار کیا جائے تو کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم صُغریٰ میں مقدم کا اقرار کریں تو نتیجے میں ہمیں تالی کا اقرار کرنا پڑتا ہے اور اگر ہم صُغریٰ میں تالی کا انکار کریں تو نتیجے میں ہمیں مقدم کا انکار کرنا پڑتا ہے چنانچہ مخلوط شرطیہ قیاس میں "مقدم کا اقرار" اور "تالی کا انکار" دو صحیح صورتیں ہیں اور "مقدم کا انکار" اور "تالی کا اقرار" دو غلط صورتیں ہیں۔
مخلوط شرطیہ قیاس کی اُس صورت کو جس میں صُغریٰ میں مقدم کا اقرار کیا جاتا ہے اقراری یا تعمیری شرطیہ قیاس یا اقراری یا تعمیری ضرب کہتے ہیں۔ اور اُس صورت کو جس میں صُغریٰ میں تالی کا انکار کیا جاتا ہے انکاری یا تخریبی شرطیہ قیاس یا انکاری یا تخریبی ضرب کہتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مقدم کے اقرار سے تالی کا اقرار لازم آتا ہے لیکن اس کا اُلٹ صحیح نہیں۔ اور تالی کے انکار سے مقدم کا انکار لازم آتا ہے لیکن اس کا اُلٹ صحیح نہیں۔ چنانچہ مخلوط شرطیہ قیاس کے مندرجہ ذیل قوانین ہیں۔
١. صُغریٰ میں کُبریٰ کے مقدم کا اقرار ہونا چاہیے، یا
٢. صُغریٰ میں کُبریٰ کے تالی کا انکار ہونا چاہیے
مقدم کے اقرار کی مثالیں (تعمیری ضرب)
Constructive Hypothetical Syllogism
(Modus Ponens or Positive Mode)
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ا، ب ہے
لہٰذا ج، د ہے
اگر مینہہ برسے گا تو سڑکیں گیلی ہوں گی
مینہہ برسا ہے
لہٰذا سڑکیں گیلی ہوں گی
٢. اگر ا، ب ہے تو ج، د نہیں
ا، ب ہے
لہٰذا ج، د نہیں
اگر مینہہ برسے گا تو سڑکیں خُشک نہیں ہوں گی
مینہہ برسا ہے
لہٰذا سڑکیں خُشک نہیں ہوں گی
٣. اگر ا، ب نہیں تو ج، د ہے
ا، ب نہیں
ج، د ہے
اگر مینہہ نہیں برسے گا تو سڑکیں خُشک ہوں گی
مینہہ نہیں برسا
لہٰذا سڑکیں خُشک ہوں گی
٤. اگر ا، ب نہیں تو ج، د نہیں
ا، ب نہیں
لہٰذا ج، د نہیں
اگر مینہہ نہیں برسے گا تو سڑکیں گیلی نہیں ہوں گی
مینہہ نہیں برسا
لہٰذا سڑکیں گیلی نہیں ہوں گی
تالی کے انکار کی مثالیں
Destructive Hypothetical Syllogism
(Modus Tollens or Negative Mode)
١. اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ج، د نہیں
لہٰذا ا، ب نہیں
اگر وہ زہر کھائے گا تو مر جائے گا
وہ نہیں مرا
لہٰذا اس نے زہر نہیں کھایا
٢. اگر ا، ب ہے تو ج، د نہیں
ج، د ہے
لہٰذا ا، ب نہیں
اگر وہ زہر نہیں کھائے گا تو زندہ رہے گا
وہ زندہ ہے
لہٰذا اس نے زہر نہیں کھایا
٣. اگر ا، ب نہیں تو ج، د ہے
ج، د نہیں
لہٰذا ا، ب ہے
اگر وہ زہر نہیں کھائے گا تو زندہ رہے گا
وہ زندہ نہیں
لہٰذا اُس نے زہر کھایا ہے
٤. اگر ا، ب نہیں تو ج، د نہیں
ج، د ہے
لہٰذا ا، ب ہے
اگر وہ زہر نہیں کھائے گا تو وہ نہیں مرے گا
وہ مرگیا ہے
لہٰذا اُس نے زہر کھایا ہے
ہم مخلوط متصلہ قیاس کی تعمیری ضرب اور تخریبی ضرب کو قیاسِ حملیہ میں منتقل کرکے اُن کی صحت کو واضح کرسکتے ہیں۔ یعنی یہ دکھلا سکتے ہیں کہ ان میں قیاس کا کوئی قاعدہ نہیں ٹوٹتا۔
تعمیری ضرب Modus Ponens
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ا، ب ہے
لہٰذا ج، د ہے
مثال
اگر کوئی محنت کرے گا تو وہ کامیاب ہوگا
وہ محنت کرتا ہے
لہٰذا وہ کامیاب ہوگا
حملیہ شکل Categorical Form
تمام اب، ج د ہے (ا)
یہ اب ہے (ا)
لہٰذا یہ ج د ہے (ا)
مثال
(ا) تمام محنت کرنے والے کامیاب ہونے والے ہیں
(ا) وہ محنت کرنے والا ہے
لہٰذا وہ کامیاب ہونے والا ہے (ا)
(ضرب ااا شَکَلِ اَوَّل، برابابا)
تخریبی ضرب Modus Tollens
ا، ب ہے تو ج، د ہے
ج، د نہیں
لہٰذا ا، ب نہیں
مثال
اگر کوئی محنت کرے گا تو کامیاب ہوگا
وہ کامیاب نہیں
لہٰذا اُس نے محنت نہیں کی
حملیہ شکل Categorical Form
تمام اب، ج د ہے (ا)
یہ ج، د نہیں (ع)
لہٰذا یہ ا، ب نہیں (ع)
مثال
تمام محنت کرنے والے کامیاب ہونے والے ہیں (ا)
وہ کامیاب ہونے والا نہیں (ع)
لہٰذا وہ محنت کرنے والا نہیں (ع)
(ضرب اع ع، شکل دؤم شرامعسعس)
چنانچہ اگر مخلوط شرطیہ قیاس کی تعمیری ضرب کو حملیہ شکل میں منتقل کیا جائے تو وہ شکلِ اَوَّل کی ضرب ااا (برابابا) میں منتقل ہوتی ہے۔ اور اگر تخریبی ضرب کو حملیہ شکل میں منتقل کیا جائے تو وہ شکلِ دؤم کی ضرب اع ع (شرامعسعس) میں منتقل ہوتی ہے۔
مخلوط شرطیہ قیاس کے مُغالطے
Fallacies of Mixed Hypothetical Syllogism
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ مخلوط شرطیہ قیاس اُس صورت میں صحیح ہوتا ہے جب کہ مقدم کا اقرار اور تالی کا انکار کیا جائے۔ لہٰذا اگر مقدم کا انکار اور تالی کا اقرار کیا جائے تو یہ مُغالطے ہوں گے۔ اگر مقدم کا انکار کیا جائے تو اسے مُغالطۂ انکارِ مقدم کہتے ہیں اور اگر تالی کا اقرار کیا جائے تو اسے مغالطۂ اقرارِ تالی کہتے ہیں۔
مُغَالطۂ انکارِ مقدم
Fallacy of Denying the Antecedent
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ا، ب نہیں
لہٰذا ج، د نہیں
اگر کوئی محنت کرے گا تو وہ کامیاب ہوگا
وہ محنت نہیں کرتا
لہٰذا وہ کامیاب نہیں ہوگا
یہ قیاس غلط ہے، اگر ہم اسے حملیہ شکل میں منتقل کریں تو ہمیں صاف نظر آجائے گا کہ اس میں قیاس کا کونسا قاعدہ ٹوٹتا ہے۔ یعنی اس میں کونسا مُغالطہ ہے۔
حملیہ شکل
تمام اب، ج د ہے
یہ ا، ب نہیں
لہٰذا یہ ج، د نہیں
تمام محنت کرنے والے کامیاب ہونے والے ہیں
وہ محنت کرنے والا نہیں
لہٰذا وہ کامیاب ہونے والا نہیں
یہاں صاف طور پر مُغالطۂِ عمل ناجائزِ حد اکبر پایا جاتا ہے۔ "ج د" اور "کامیاب ہونے والا" (حَدِّ اکبر) نتیجے میں جامع ہیں لیکن کُبریٰ میں یہ غیرجامع ہیں۔ چنانچہ مُغالطۂِ انکارِ مقدم حملیہ شکل میں دراصل مُغالطۂِ عمل ناجائزِ حد اکبر ہے۔
مُغالطۂِ اقرارِ تالی
Fallacy of Affirming the Consequent
تعمیری ضرب
اگر ا، ب ہے تو ج، د ہے
ج، د ہے
لہٰذا ا، ب ہے
حملیہ شکل
اگر کوئی محنت کرے گا تو وہ کامیاب ہوگا
وہ کامیاب ہے
لہٰذا وہ محنت کرنے والا ہے
یہ قیاس غلط ہے، اگر ہم اسے حملیہ شکل میں منتقل کریں تو ہمیں نظر آئے گا کہ اس میں مغالطۂِ غیرجامع حدِّ اوسط پایا جاتا ہے۔
تخریبی ضرب
تمام اب، ج د ہے
یہ ج، د ہے
لہٰذا یہ ا، ب ہے
تمام محنت کرنے والے کامیاب ہونے والے ہیں
وہ کامیاب ہونے والا ہے
لہٰذا وہ محنت کرنے والا ہے
یہاں مُغالطۂِ غیر جامع حدِّ اوسط صاف طور پر نظر آتا ہے۔ "ج۔د" اور "کامیاب ہونے والے" (حَدِّ اوسط) دونوں مقدمات میں غیر جامع ہیں۔ چنانچہ مغالطۂِ اقرار تالی حملیہ شکل میں دراصل مُغالِطۂِ غیر جامع حَدِّ اوسط ہے۔
انکارِ مقدم اور اقرارِ تالی کی مزید مثالیں ملاحظہ ہوں۔
١. اگر وہ تندرست ہوتا تو ضرور آتا۔ چونکہ وہ آگیا ہے لہٰذا وہ تندرست ہے (مُغَالِطَۂ اقرارِ تالی)
٢. اگر کوئی چیز کمیاب ہو تو وہ مہنگی ہوتی ہے۔ چونکہ یہ چیز کمیاب نہیں لہٰذا یہ مہنگی نہیں (مُغَالِطَۂ اِنکارِ مقدم)
٣. اگر بیرونی ملک کی کسی چیز پر ٹیکس لگایا جائے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ چونکہ اس چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے لہٰذا اس پر ضرور ٹیکس لگا ہوگا (مُغَالِطَۂِ اقرارِ تالی)
٤. اگر یہ کتاب اچھی ہے تو ضرور پسند کی جائے گی۔ لیکن چونکہ یہ کتاب اچھی نہیں۔ لہٰذا یہ پسند نہیں کی جائے گی (مُغَالِطَۂِ انکارِ مقدم)
٥. اگر ایک آدمی مجرم ہو تو وہ پریشان ہوتا ہے۔ اور چونکہ وہ پریشان ہے لہٰذا وہ مجرم ہے (مُغالطۂ اقرارِ تالی)
٦. اگر وہ دیانت دار ہے تو وہ ضرور اپنا قرضہ ادا کرے گا۔ لیکن چونکہ وہ دیانت دار نہیں لہٰذا وہ اپنا قرضہ ادا نہیں کرے گا (مُغَالِطَۂِ انکارِ مقدم)
٧. اگر ایک آدمی زیادہ کھائے تو اسے بدہضمی ہوجاتی ہے، اور چونکہ تمہیں بدہضمی کی شکایت ہے۔ لہٰذا تم زیادہ کھاتے ہو (مُغَالِطَۂِ اقرارِ تالی)
٨. اگر ایک قیاس درست ہو تو اس میں تین حدیں ہوتی ہیں اور چونکہ اس قیاس میں تین حدیں ہیں لہٰذا یہ قیاس درست ہے (مُغَالِطَۂِ اقرارِ تالی)
٩. اگر کوئی قاتل ہو تو اس کی سزا موت ہے۔ لیکن چونکہ وہ قاتل نہیں لہٰذا اس کی سزا موت نہیں (مُغَالِطَۂِ انکارِ مقدم)
حل شُدہ مثالیں
منطقِ استخراجیہ کے اسباق
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
منطقِ استقرائیہ کی نوعیّت اور فائدہ
صفحات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں