اشاعتیں

مادی بنیادیں، مشاہدہ، تجربہ، منطقِ استقرائیہ، علمی مشاہدہ، سائنسی طریقہ کار، استدلال کی بنیادیں لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں

تصویر
 پچیسواں باب منطقِ اِستِقرائیہ کی مادّی بُنیادیں مُشاہدہ اور تجربہ اہرامِ مصر ہم یہ پڑھ چُکے ہیں کہ منطقِ اِستِقرائیہ کا کام کُلیّہ قضیے مُرتب کرنا ہے اور کُلیّہ قضیے جُزئ حقائق سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ کُلیّہ قضیوں کو قائم کرنے سے پہلے یعنی تعمیم سے پہلے ہمیں جُزئ حقائق کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح ایک عمارت کے بنانے میں پہلے ہم مؤاد (اینٹیں، چونا، لکڑی وغیرہ وغیرہ) جمع کرتے ہیں اور پھر اس مواد کو کوئی شکل یا ترتیب دیتے ہیں اسی طرح منطقِ اِستِقرائیہ میں ہمارا پہلا کام حقائق کو جمع کرنا ہوتا ہے اور دوسرا کام اُن حقائق کو قانونِ عِلّت اور قانون یکسانئ فطرت کے تحت ترتیب دینا ہوتا ہے۔ حقائق جیسا کہ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں مُشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوتے ہیں۔ مثلًا یہ حقائق کہ انسان فانی ہیں، کوّے سیاہ ہیں، جگالی کرنے والے جانوروں کے کھُر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں مُشاہدے سے معلوم ہوتے ہیں۔ سائنس میں حقائق تجربے سے فراہم کئے جاتے ہیں مثلًا سائنسدان تجربے کی مدد سے یہ معلوم کرتے ہیں  کہ پانی ایک حِصّہ آکسیجن اور دو حصّے ہائیڈروجن سے مُرکّب ہے۔ چنانچہ مُشاہدہ اور تجربہ تعمیم کے ل...