موجود کا بیان
موجود کی تعریف: كُلُّ ما وُجِدَ (جو چیز پائی جائے) اس کو موجود کہتے ہیں۔ موجود کی تین قسمیں ہیں۔
ںـ ۱. موجودِ خارجی، ںـ ٢. موجود ذہنی ںـ ۳. موجودِ نفس الامری
ںـ ١. موجودِ خارجی کی تعریف: وہ موجود ہے، جس کا ہمارے ذہن سے باہر وجود ہو جیسے زید، زمین اور آسمان وغیرہ موجوداتِ خارجیہ ہیں۔
ںـ ٢. موجودِ ذہنی کی تعریف: وہ موجود ہے جس کا صرف ہمارے ذہن میں وجود ہو جیسے زید، زمین، آسمان وغیرہ کی جو صورت یا تصور ہمارے ذہن میں موجود ہے۔ پھر اس کی دو قسمیں ہیں۔
ںـ ١ موجودِ ذہنی حقیقی اور ںـ ۲ موجودِ ذہنی فرضی
موجودِ ذہنی حقیقی: وہ موجودِ ذہنی ہے جو ذہن میں حقیقۃً موجود ہو، یعنی فرضِ فارض پر موقوف نہ ہوں جیسے عدد چار کا ذہن میں جفت ہونا۔
موجودِ ذہنی فرضی: وہ موجودِ ذہنی ہے جس کو ذہن نے خلافِ واقعہ فرض کرلیا ہو، یعنی جو فرضِ فارض پر موقوف ہو، جیسے پانچ کا جفت ہونا کہ اسے سوچ لیا جائے تو ذہن میں موجود ہوجائے گا لیکن یہ خلافِ واقع ہے۔
وجۂ حصر: موجودِ ذہنی واقعی ہوگی یا فرضی ہوگی، اگر واقعی ہو تو موجودِ ذہنی واقعی اور اگر فرضی ہو تو موجودِ ذہنی فرضی۔
ںـ ٣. موجودِ نفس الامری کی تعریف: وہ موجود ہے جس کا وجود واقعی ہو، یعنی فرضِ فارض پر موقوف نہ ہوں جیسے طُلُوعِ شمس اور وجودِ نہار کے درمیان ملازمہ ایک امرِ واقعی ہے، کسی کے فرض کرنے پر موقوف نہیں۔
وجۂ حصر: شیء موجود فی الخارج ہوگی، یا موجود فی الذہن ہوگی، یا موجود فی نفس الامر ہوگی، اگر موجود فی الخارج ہو تو موجودِ خارجی، اگر موجود فی الذہن ہو تو موجودِ ذہنی اور اگر موجود فی نفس الامر ہو تو موجود نفس الامری۔
قواعد
قاعدہ نمبر ۱۔ موجودِ ذہنی کو علم، تصوُّرِ مطلق اور موجودِ ظلّی مثالی اور موجودِ خارجی کو موجودِ عینی اور موجودِ اصلی بھی کہتے ہیں۔ [دستور العلماء ۳/۳۰۹، مرام الکلام ۷۷، معین الفلسفہ ۳٦]۔
قاعدہ نمبر ۲۔ ہر ماہیتِ موجودہ فی الخارج کو موجودِ خارجی کہتے ہیں [مُلّا حسن]۔
قاعدہ نمبر ۳۔ ہر ماہیت موجودہ فی الذہن کو موجودِ ذہنی کہتے ہیں [مُلّا حسن]۔
قاعدہ نمبر ٤۔ ہر موجودِ خارجی موجودِ نفس الامری ہے لیکن ہر موجود نفس الامری موجودِ خارجی نہیں کیونکہ طُلُوعِ شمس اور وجودِ نہار کا ملازمہ نفس الامر میں موجود ہے۔ لیکن خارج میں موجود نہیں، یعنی موجودِ خارجی اور موجود نفس الامری کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، موجود خارجی اخص مطلق ہے اور موجودِ نفس الامری اعم مطلق ہے۔ [میبذی ۱۹؛ معین الفلسفہ ۳۷]۔
قاعدہ نمبر ٥۔ ہر موجودِ ذہنی کے لئے موجود نفس الامری لازم نہیں، یعنی موجود نفس امری اور موجود ذہنی کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے، چار کا جفت ہونا مادۂ اجتماعی ہے، مادۂ افتراقی کی پہلی مثال وہ حقائق جن کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ جیسے الحق تعالیٰ و تقدس۔ یہ موجود فی الذہن نہیں، البتہ موجود فی نفس الامر ہیں۔ اور مادۂ افتراقی کی دوسری مثال قضایا کاذبہ ہیں جیسے پانچ کا جفت ہونا، اگر اس کا تصور کیا جائے تو یہ صرف ذہن میں موجود ہوگا، لیکن نفس الامر میں موجود نہیں [میبذی ۱۹؛ معین الفلسفہ ۳۷]۔
قاعدہ نمبر ٦۔ اکثر موجودِ خارجی کو موجودِ ذہنی لازم ہے [تفہیم المنطق ۵۱]۔
قاعدہ نمبر ٧۔ ہر موجودِ ذہنی کو موجودِ خارجی لازم نہیں جیسے جبلِ یاقوت [میبذی ۱۹، تفہیم المنطق ۵۱]۔
قاعدہ نمبر ۸۔ مناطقہ اکثر موجودِ ذہنی سے بحث کرتے ہیں۔
قاعدہ نمبر ۹۔ کسی شیء کے مفہوم کو موجودِ ذہنی اور اس کے مصداقِ واقعی کو موجودِ خارجی کہتے ہیں۔
قاعدہ نمبر ۱۰۔ جس وجود پر آثارِ خارجیہ کا ترتب ہو تو وہ وجودِ خارجی کہلاتا ہے اور جس پر آثارِ ذہنیہ کا ترتب ہو تو وہ وجودِ ذہنی کہلاتا ہے [بدرالنجوم ۲۹٤]۔
قاعدہ نمبر ۱۱۔ مذکورہ تینوں اقسامِ شیء موجودگی باعتبارِ وجود کے ہیں [اَلْمُتَكَلِّمُونَ أَنْكَرُوا الْمَوْجُودَ الذِّهْنِيَّ، لِأَنَّهُ لَوِ اقْتَضَى تَصَوُّرُ الشَّيْءِ حُصُولَهُ ذِهْنًا، لَزِمَ كَوْنُ الذِّهْنِ حَارًّا أَوْ بَارِدًا، وَمُسْتَقِيمًا وَمُعْوَجًّا، وَأَيْضًا حُصُولُ الْجَبَلِ وَالسَّمَاءِ مَعَ عِظَمِهِما فِي الذِّهْنِ مِمَّا لَا يُعْقَلُ.وَأَجَابَ الحُكَمَاءُ عَنِ الوَجْهَيْنِ بِأَنَّ الحَاصِلَ فِي الذِّهْنِ صُورَةٌ وَمَاهِيَّةٌ مَوْجُودَةٌ بِوُجُودٍ ظِلِّيٍّ، لَا هُوِيَّةً عَيْنِيَّةً مَوْجُودَةً بِوُجُودٍ أَصِيلٍ.وَالْحَارُّ مَا يَقُومُ بِهِ هُوِيَّةُ الحَرَارَةِ، لَا صُورَتُهَا وَمَاهِيَّتُهَا، وَكَذَا الحَالُ فِي الْبَارِدِ وَالْمُسْتَقِيمِ وَالْمُعْوَجِّ. وَبَانَ أَنَّ الَّذِي يَمْتَنِعُ حُصُولُهُ فِي الذِّهْنِ هُوَ هُوِيَّةُ الْجَبَلِ وَالسَّمَاءِ وَغَيْرِهِما، أَمَّا مَفَاهِيمُهُمَا الكُلِّيَّةُ وَمَاهِيَّاتُهُمَا فَلَا يَمْتَنِعُ حُصُولُهَا. (متکلمین نے "موجودِ ذہنی" کا انکار کیا، کیونکہ اگر کسی شے کا تصور کرنا اس کے ذہن میں موجود ہوجانے کو لازم ٹھہراتا، تو پھر ذہن کا خود حار (گرم) یا بارد (سرد) ہونا لازم آتا، اور اس کا سیدھا یا ٹیڑھا ہونا بھی۔ نیز پہاڑ اور آسمان جیسی بہت بڑی چیزوں کا ذہن میں موجود ہونا بھی عقل کے خلاف ہوتا۔ حکماء نے ان دونوں دلیلوں کے جواب میں کہا کہ ذہن میں جو چیز حاصل ہوتی ہے، وہ اس شے کی صورت اور ماہیت ہوتی ہے جو وجودِ ظلی رکھتی ہے، نہ کہ اس کی حقیقی خارجی ہویّت جو وجودِ اصیل رکھتی ہے۔ اور گرم وہ ہے جس میں حرارت کی حقیقی ہویّت قائم ہوتی ہے، نہ کہ حرارت کی محض صورت یا اس کی ماہیت۔ اسی طرح معاملہ سرد، سیدھی اور ٹیڑھی چیزوں میں بھی ہے۔اور یہ بات واضح ہے کہ جو چیز ذہن میں حاصل نہیں ہوسکتی وہ پہاڑ، آسمان اور دیگر چیزوں کی خارجی ہویّت ہے، جبکہ ان کے کلی مفہومات اور ماہیات کا ذہن میں آنا ناممکن نہیں۔) کشاف اصطلاحات الفنون ۱۷۷۰/۲]۔
مشق
امثلۂ ذیل میں بتاؤ، کون موجودِ خارجی اور کون موجودِ ذہنی ہے؟
کتاب، قلم، مدرسہ، سورج، عنقاء، بھیڑیا، چاند، نماز، زمین، نام، آسمان، قبر، جنت، راستہ، کلمہ، میزان، قیامت، رب العالمین، بہرے کی سماعت، لوگ، قُرآن، کلی، المبنی، توراۃ، دِن، مجاز، قومِ نوحؑ، نوع انسان، اصحاب رس، اندھے کی بصارت، ثمود، عاد، فرعون، لوطؑ کے بھائی، فعل، اصحاب ایکہ، قوم تبع، موت کی سختی، ازہار، حورعین، جزئی، آگ کی گرمائش، چھپا ہوا موتی، حقیقت، معبود، جنتِ ماویٰ، غیرمنصرف، کھانے کا دسترخوان، شکاری، فٹ بال۔
حل شدہ مثال: کتاب موجودِ ذہنی ہے اس لئے کہ موجود فی الذہن ہے۔
اِعْلَمْ أَنَّ لِلشَّيْءِ فِي الوُجُودِ أَرْبَعَةَ وُجُودَاتٍ، الأَوَّلُ: وُجُودُهُ الحَقِيقِيُّ، وَهُوَ حَقِيقَتُهُ المَوْجُودَةُ فِي نَفْسِهَا. وَالثَّانِي: وُجُودُهُ الذِّهْنِيُّ، وَهُوَ وُجُودُهُ الظِّلِّيُّ المِثَالِيُّ المَوْجُودُ فِي الذِّهْنِ. وَالثَّالِثُ: وُجُودُهُ اللَّفْظِيُّ، وَهُوَ وُجُودُ لَفْظِهِ الدَّالِّ عَلَى الوُجُودِ الخَارِجِيِّ وَالمِثَالِ الذِّهْنِيِّ. وَالرَّابِعُ: وُجُودُهُ الكِتَابِيُّ، وَهُوَ وُجُودُ النُّقُوشِ الدَّالَّةِ عَلَى اللَّفْظِ الدَّالِّ عَلَى الشَّيْءِ. وَالوُجُودَانِ الأَوَّلانِ لَا يَخْتَلِفَانِ بِاخْتِلَافِ الأُمَمِ، وَالوُجُودَانِ الآخَرَانِ قَدْ يَخْتَلِفَانِ بِاخْتِلَافِهِمْ، كَاخْتِلَافِ اللُّغَةِ العَرَبِيَّةِ وَالفَارِسِيَّةِ، وَالخَطِّ العَرَبِيِّ وَالفَارِسِيِّ وَالهِنْدِيِّ. وَبِهذِهِ الوُجُودَاتِ الأَرْبَعَةِ صَرَّحَ المُحَقِّقُ التَّفْتَازَانِيُّ فِي شَرْحِ العَقَائِدِ، بِقَوْلِهِ: «إِنَّ لِلشَّيْءِ وُجُودًا فِي الأَعْيَانِ، وَوُجُودًا فِي الأَذْهَانِ، وَوُجُودًا فِي العِبَارَةِ، وَوُجُودًا فِي الكِتَابَةِ. فَالكِتَابَةُ تَدُلُّ عَلَى العِبَارَةِ، وَهِيَ عَلَى مَا فِي الأَذْهَانِ، وَهُوَ عَلَى مَا فِي الأَعْيَانِ» اِنْتَهَى. (جان لو کہ کسی بھی شے کے وجود کی چار قسمیں ہوتی ہیں: پہلا. حقیقی وجود وہ جو حقیقت میں اپنی ذات کے ساتھ خارج میں موجود ہو دوسرا. ذہنی وجود یعنی اس کی مثال، صورت یا ماہیت جو ذہن میں ظلی طور پر موجود ہوتی ہے۔ تیسرا. لفظی وجود یعنی وہ لفظ جو اس شے کے خارجی وجود یا ذہنی مثال پر دلالت کرتا ہے۔ چوتھا. کتابی وجود یعنی وہ تحریری نقش یا حرف جو اس لفظ پر دلالت کرتا ہے، جو بدلے میں اس شے پر دلالت کرتا ہے۔ پہلے دو وجود (حقیقی اور ذہنی) قوموں اور زبانوں کے بدلنے سے نہیں بدلتے، لیکن آخری دو (لفظی اور کتابی) زبانوں اور رسم الخط کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتے ہیں— جیسے عربی اور فارسی زبان کا فرق، یا عربی، فارسی اور ہندی خط کا فرق۔ اور انہی چار قسموں کے وجود کا ذکر محقق تفتازانیؒ نے شرح العقائد میں کیا ہے: "کسی شے کا ایک وجود اَعیان میں ہے، ایک اَذهان میں، ایک عبارات میں، اور ایک کتابت میں۔ کتابت عبارات پر دلالت کرتی ہے، عبارات ذہنی مفاہیم پر، اور ذہنی مفاہیم خارجی اَعیان پر۔") [دستور العلماء ۳/۳۰۹]۔
فقط
سیالکوٹ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں