منطقِ استِخراجیہ کے مُغالطے
بیسواں باب
مُغالطے
FALLACIES
MEANING OF FALLACY مُغالطے کا مطلب
بعض دفعہ ایک استِدلال دیکھنے میں صحیح معلوم دیتا ہے لیکن دراصل صحیح نہیں ہوتا۔ اس میں منطق کے کسی اصول کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے جو ہمیں سرسری نظر سے دکھائی نہیں دیتی اور غور سے دیکھنے پر نظر آتی ہے۔ ایسے غَلَط استِدلال کو مُغالِطہ کہتے ہیں۔ چنانچہ مُغالطہ اس استدلال کو کہتے ہیں جو دیکھنے میں صحیح نظر آئے مگر حقیقت میں ایسا نہ ہو۔ یہ ایک ایسا استِدلال ہوتا ہے جو ظاہری طور پر صحیح نظر آنے کی وجہ سے ہمیں دھوکا دے سکتا ہے۔ چنانچہ مُغالطے استِدلال کی غلطیاں ہوتے ہیں لہٰذا وہ ان قواعد کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتے ہیں جن پر صحیح استدلال کا انحصار ہوتا ہے۔ ان مغالطوں کا ذکر مختلف جگہوں پر اس کتاب میں ہوچکا ہے۔ مثلًا تعریف کے مُغالطے (تنگ تعریف، وسیع تعریف، دَوری تعریف، مُبہم تعریف، سلبی تعریف)، تقسیم کے مُغالطے (تنگ تقسیم، وسیع تقسیم، خلط ملط تقسیم، تحلیلِ طبعی، مابعدالطبیعاتی تجزیہ)، استِنتاجِ بدیہی کے مغالطے (غَلَط استِنتاجِ بدیہی نسبتی، غَلَط عکس، غَلَط عَدَل) قیاس کے مُغالطے (مُغَالِطۂ حُدودِ اربعہ، مُغَالِطَۂ مُبہم حَدِّ اوسط، مُبہم حَدِّ اکْبَر، مُبہم حَدِّ اَصْغَر، مُغَالِطَۂ عَمَلِ ناجائز حَدِّ اَکْبَر و حَدِّ اَصْغَر، دو سَالِبَہ قضیوں کا مُغَالِطہ، مُغَالِطَۂ اِنکارِ مُقَدِم، مُغَالِطَۂ اِقْرَارِ تَالی، مُغَالِطَۂ اِقْرَارِ بَدَل، غَلَط معضلہ) اس باب میں ہم کچھ مزید مُغَالِطُوں کا ذکر کریں گے۔
مغالطہ دانستہ طور پر بھی کیا جاسکتا ہے اور نادانستہ طور پر بھی۔ اَوَّل الذکر کی صورت میں مغالطہ کو مُغَالِطَۂ نادانسته کہتے ہیں۔ اور مؤخر الذکر صورت میں مُغالِطہ کو مُغالطۂ دانسته یا سفسطه کہتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر مُغالطۂ نادانستہ وہ مغالطہ ہوتا ہے جس میں خود مغالطہ کرنے والے کو اپنے مغالطے کا علم نہ ہو۔ اور سفسطہ وہ مغالطہ ہوتا ہے جس میں مغالطہ جان بوجھ کر کسی کو دھوکا دینے کی نیّت سے کیا جائے۔ لیکن منطق کا کام مُغالِطہ کرنے والی نیّت کو دیکھنا نہیں ہوتا۔ لہٰذا مغالطہ کی یہ تقسیم منطق کے نقطۂ نظر سے بالکل بےسود ہے۔ خواہ ایک مُغالطہ دانستہ طور پر کیا جائے یا نادانستہ طور پر وہ بہر صورت مغالطہ ہے۔ اور منطق اُسے مُغالطہ ہی کہے گی۔
مُغالطوں کے پڑھنے کا فائدہ
THE VALUE OF THE STUDY OF FALLACIES
بعض منطقیوں کا یہ خیال ہے کہ مُغالطوں کا علـٰحدہ بیان بالکل غیر ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ منطق کا کام ہمیں صحیح استدلال کے اُصُول بتانا ہے نہ کہ غَلَط استِدلال کے امکانات۔ اُن کے نزدیک جس طرح ریاضی کا کام ہمیں یہ بتانا نہیں کہ ہم استِدلال میں کیا کیا غلطیاں کرسکتے ہیں۔ علاوہ بریں یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ جب ہم نے منطق کے اُصُول پڑھ لئے اور وہ غلطیاں سمجھ لیں جو اُن اُصُولوں کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہیں تو پھر مُغالطوں کے علـٰحدہ بیان کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
لیکن یہ نظریہ درست نہیں۔ مُغالطوں کے پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ہم ان سے بچ سکتے ہیں۔ مغالطوں سے بذریعہ تقابل ہمیں صحیح استدلال کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شخص کے سامنے ایک ایسی دلیل پیش کریں جو اسے غلط معلوم دیتی ہو اور اسے دکھلائیں کہ غلطی کہاں ہے تو اُسے واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ صحیح استدلال کے لئے کیا شرائط ہیں۔ بعض اوقات ہمیں ایک دلیل غلط معلوم ہوتی ہے مگر ہم یہ نہیں دکھلا سکتے کہ اُس میں غلطی کیا ہے۔ کسی دلیل کے متعلق محض یہ معلوم ہونا کہ وہ غلط ہے کافی نہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیوں اور کہاں غلط ہے۔ ہم ہمیشہ غلطی کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ وہ کس طرح پیدا ہوئی۔ اگر ایسا نہ ہو یعنی اگر ہم یہی دیکھ سکیں کہ ایک دلیل غلط ہے اور یہ نہ دیکھ سکیں کہ وہ کیوں غلط ہے اور کیسے غلط ہے تو ہم غلطی کو دور نہیں کرسکتے۔ اگرچہ مغالطوں کی مختلف قسموں اور ان کے اصطلاحی ناموں سے واقفیت حاصل کرلینا اس بات کی دلیل نہیں کہ ہم پھر کبھی کسی مغالطہ میں مبتلا نہیں ہوں گے لیکن پھر بھی اس کا اتنا فائدہ ضرور ہے کہ ہم مغالطہ کو فورًا پہچان سکیں گے اور اس طرح اس سے بچ سکیں گے۔ بقول جوزف اگر کسی آدمی کی توجہ ایک راگ کی ایسی سُرُوں کی طرف مبذول کروائی جائے جن کا اُسے پہلے علم نہ ہو تو بعد میں وہ آدمی اُن سُرُوں کو فورًا پہچان لے گا۔ اسی طرح اگر اس کی توجہ کسی کھانے کی ایک ایسی مہک یا کسی تصویر کی ایک ایسی لکیر کی طرف مبذول کروائی جائے جس کا اُسے پہلے علم نہ ہو تو بعد میں وہ اسے کبھی نظرانداز نہیں کرسکے گا۔ یہی حال مُغالطوں کا ہے۔ اگر ہم مختلف مغالطوں کی شکلوں سے واقف ہوں گے تو ہمارے لئے اُن مغالطوں سے بچنا آسان ہوگا۔ لہٰذا مُغالطوں کا مطالعہ ہمارے لئے عملی طور پر نہایت مُفید ہے۔
مُغالطوں کی قسمیں؛
مُغالطوں کی مختلف قسموں کی تسلّی بخش تقسیم بہت مشکل ہے۔ غلطی کے لئے کوئی قانون نہیں ہوتے۔ اس کی شکلیں بےشمار اور اِمکانات اَن گِنت ہوسکتے ہیں۔ چونکہ غلطیاں انگنت طریقوں سے کی جاسکتی ہیں لہٰذا ان کی مکمّل تقسیم ناممکن ہے۔ علاوہ بریں ایک ہی غلطی بیک وقت مغالطوں کے مختلف عنوانوں کے تحت شمار کی جاسکتی ہے۔ تاہم مُغالطوں کی ایک روایتی تقسیم جو تاریخی لحاظ سے خاصی اہمیّت رکھتی ہے ارسطو کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ اگرچہ ارسطو کی تقسیم نقائص سے پاک نہیں لیکن پھر بھی یہ دیگر تقسیموں سے بہت بہتر ہے۔ ارسطو سے بعد کے منطقیوں نے یا تو ارسطو ہی کی تقسیم کو توڑ مروڑ کر پیش کردیا ہے یا ارسطو کے ہی تجویز کردہ ناموں کی بجائے نئے نام یا ارسطوی ناموں کو نئے مطالب دے دیے ہیں۔ لیکن یہ تعجب کی بات ہے کہ مغالطوں کے متعلق جو کچھ آج تک کہا گیا ہے وہ ارسطو کی دی ہوئی فہرست میں کسی نا کسی شکل موجود ہے۔ ہمارے لئے مغالطوں کی تقسیم کے سلسلے میں ارسطو کی دی ہوئی قدیم اور روایتی تقسیم سے انحراف کرنا چنداں مُفید نہ ہوگا۔
ارسطو کے نزدیک ایک غلط استِدلال یا تو الفاظ کے لحاظ سے غلط ہوتا ہے یا فکر کے لحاظ سے۔ چنانچہ اُس نے مغالطوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ اَوَّل وہ مغالطے جو الفاظ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی لفظی مُغالطے دوم وہ مُغالطے جو فکر کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی فکری مُغالطے لفظی مغالطوں کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں۔
Fallacy of Equivacation ١. مُغالطۂِ الفاظِ ذومعنیٰ
Falacy of Amphiboli ٢. مُغالطۂِ اِبہام
Fallacy of Composition ٣. مُغالطۂِ ترکیب
Fallacy of Division ٤. مُغالطۂِ تجزیہ
Fallacy of Accent ٥. مُغالطۂِ تاکید
Fallacy of Figure of Speech ٦. مُغالطۂِ تشبیہ
فکری مُغالطوں کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں
Fallacy of Accident ١. مُغالطۂِ عرض
Fallacy of Secundum Quid ٢. مُغالطۂِ شۓ دیگر
Fallacy of Ignoratio Elenchi ٣. مُغالطۂِ نتیجۂِ غیرمطلق
٤. مُغالطۂِ انحصارِ مقدمہ برنتیجہ (مصادرہٗ علیٰ المطلوب)
Fallacy of Petitio Principii
٥. مُغالِطۂ علّت
Non-Causa Pro-Causa or Fallacy of False Cause
Fallacy of Consequent ٦. مُغالِطۂ تالی
Fallacy of Many Questions ٧. مُغَالِطَۂِ سوالاتِ مُرکَب
اب ہم ان تمام مغالطوں کا علـٰحدہ علـٰحدہ مطالعہ کرتے ہیں۔
لفظی مُغالطے
١. مُغَالِطَۂ الفاظِ ذومعنیٰ؛ یہ مُغالِطَہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ایک لفظ (یا حَدّ) کسی استِدلال یا قیاس میں مختلف معانی میں استعمال کیا جائے۔ مُغَالِطَۂ مُبہم حَدِّ اَوسط، مُغَالِطَۂ مُبہم حَدِّ اَکْبَر اور مُغَالِطَۂ مُبہم حَدِّ اصغر مُغَالِطَۂِ الفاظ ذومعنیٰ ہی کی مثالیں ہیں۔
٢. مُغَالِطَۂِ اِبہام؛ یہ مُغَالِطَہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ایک فقرے یا جملے کے ایک سے زیادہ معنیٰ اخذ ہوسکتے ہوں۔ مُغالطۂ ابہام اور مُغالطۂِ الفاظِ ذومعنیٰ کسی ایک لفظ کے ذومعنیٰ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور مُغالطۂِ ابہام کسی پورے فقرے یا جملے کے ذومعنیٰ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جیسے "رکو مت جانے دو"، "لڑکا نہ لڑکی"، وغیرہ وغیرہ ذومعنیٰ فقرے ہیں۔ "رکو مت جانے دو" کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ "رکو! مت جانے دو" اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ "رکو مت! جانے دو" اسی طرح "لڑکا نہ لڑکی" کے تین مطلب ہوسکتے ہیں (۱) "لڑکا، نہ لڑکی" (۲) "لڑکا نہ، لڑکی" (۳) "نہ لڑکا نہ لڑکی"۔
عام طور پر مغالطۂ ابہام کسی فقرے میں الفاظ کی غَلَط ترتیب سے پیدا ہوتا ہے۔ مثلًا "گم ہوگیا کُتّا ایک فوجی افسر کا جس کی دُم کٹی ہوئی تھی"، "ایک پیانو فروخت کرتی ہے ایک عورت جس کی ٹانگیں ساگوان کی ہیں"، "تعمیر کیا گیا زید کی یاد میں جو مارا گیا تھا جنگ میں اُس کے بھائی کے ہاتھوں سے"، "اس ہوٹل میں عارضی اور مستقل طور پر شرفا کے لئے رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے"۔
بعض اوقات فقروں میں اسمِ ضمیر کو بےاحتیاطی سے استعمال کرنے سے بھی مُغالطۂ اِبہام پیدا ہوجاتا ہے۔ مندرجہ ذیل مثال ملاحظہ ہو۔
"اُس کا بیان یہ تھا کہ اس کا جھگڑا متوفیّہ سے اُجرت کے معاملہ پر ہوا۔ چنانچہ اُس نے اُس کو گلے سے پکڑا اور وہ گِر پڑی۔ جب وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تو اُس نے اِدھر اُدھر کوئی ایسی چیز ڈھونڈنے کے لیے دیکھا جس سے کہ وہ مار سکے۔ اس پر اُس نے اُس کے گلّے پر ایک مُکّا مارا اور گِر پڑی اور مر گئی"۔
بعض اوقات کسی مرکب فقرے میں موضوع اور محمول کو خلط ملط کردینے سے بھی مغالطۂِ ابہام پیدا ہوجاتا ہے مثلًا سونا اور لوہا قیمتی اور کارآمد دھاتیں ہیں۔
پہیلیوں، مزاحیہ اور طنزیہ جملوں میں عام طور پر یہی مغالطہ پایا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل مثال ملاحظہ ہو۔
سُنائیے
سُناؤں! سُناؤں کیا؟
نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کیسے محسوس کرتے ہیں؟
کیسے محسوس کرتا ہوں؟ یقینًا اپنی انگلیوں سے محسوس کرتا ہوں
نہیں، نہیں، میرا مطلب یہ ہے کپ آپ اپنے آپ کو کس طرح پاتے ہیں؟
تو آپ نے پہلے یہ کیوں نہیں کہا، میں نے کبھی یہ دیکھا نہیں۔ ہاں آئندہ اگر کبھی میں کھو گیا تو آپ کو بتا سکوں گا کہ میں اپنے آپ کو کس طرح پاتا ہوں
٣. مُغَالِطَۂ ترکیب؛ یہ مُغالطہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم یہ کہیں کہ جو بات ایک جماعت کے افراد یا اجزاء کے متعلق علـٰحدہ علـٰحدہ درست ہے وہی بات اُس کُل جماعت کے متعلق بھی درست ہے۔ باِلفاظِ دیگر کسی حَدّ کے جُزئی استعمال سے کُلّی استعمال کی طرف جانا مُغَالِطَۂِ ترکیب کہلاتا ہے۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ مُثلث ∆ کے تمام زاویے دو قائموں سے کم ہوتے ہیں (اور تمام زاویوں سے ہمارا مطلب تینوں زاویے علـٰحدہ علـٰحدہ ہوں) لہٰذا مُثلث ∆ کے تمام زاویے مجموعی طور پر بھی دو قائموں سے کم ہوں گے تو یہ مُغالطۂِ ترکیب ہوگا۔ اسی طرح یہ کہنا کہ چونکہ تمام ججوں کا علـٰحدہ علـٰحدہ فیصلہ غلط ہوتا ہے لہٰذا تمام ججوں کا مِل کر فیصلہ بھی غلط ہوگا مُغَالِطَۂِ ترکیب ہے۔ اگر کوئی شخص یوں استِدلال کرے کہ؛
تین اور دو، طاق اور جُفت ہیں
پانچ، تین اور دو ہے
لہٰذا پانچ طاق اور جفت ہے
تو اس کے استِدلال میں مُغالطۂِ ترکیب ہوگا۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ تین اور دو طاق اور جفت ہیں تو تین اور دو علـٰحدہ علـٰحدہ لئے جاتے ہیں لیکن نتیجے میں تین اور دو (یعنی پانچ) اکٹھے لئے گئے ہیں۔ اور یہ ضروری نہیں کہ جو بات تین اور دو کے متعلق علـٰحدہ علـٰحدہ درست ہے وہی بات تین اور دو کے متعلق جب وہ اکٹھے لئے جائیں درست ہو۔ اسی طرح جب ایک فُضُول خرچ شخص یوں استِدلال کرتا ہے کہ "چونکہ میں یہ چیز یا وہ چیز یا فُلاں چیز خرید سکتا ہوں لہٰذا میں یہ چیز اور فُلاں چیز بھی خرید سکتا ہوں" تو اُس کے استِدلال میں مُغَالِطَۂ ترکیب ہے کہ "چونکہ زید اچھا ہے اور کھلاڑی ہے لہٰذا وہ اچھا کھلاڑی ہے" مندرجہ ذیل استِدلال ملاحظہ ہوں۔
چونکہ ایک شخص کی کُچھ رائیں درست ہیں لہْذا اس کی تمام رائیں درست ہیں۔
چونکہ ایک سپاہی چھ فُٹ لمبا ہے لہٰذا ایک کمپنی جس میں سو سپاہی ہیں چھ سو فٹ لمبی ہے۔
چونکہ ایٹم دیکھے نہیں جاسکتے اور مادّی چیزیں ایٹموں کی بنی ہوئی ہیں لہٰذا مادّی چیزیں دیکھی نہیں جاسکتیں۔
چونکہ پانی کے قطرے ایک چھوٹی چیز ہوتے ہیں اور سمندر پانی کے قطروں کا مجموعہ ہوتا ہے لہٰذا سمندر ایک چھوٹی چیز ہوتا ہے۔
چونکہ ہم ایک فرد کے سامنے بولنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے اور آدمیوں کا جُمگٹھا محض افراد کا ہی مجموعہ ہوتا ہے لہٰذا ہمیں آدمیوں کے جُمگٹھے کے سامنے بولنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
یہ تمام مثالیں مُغَالِطَۂِ ترکیب کی مثالیں ہیں۔
ایک تماشا دکھلانے والے نے یہ اعلان کرنے کے بعد کہ دونوں جنسوں کے بچّوں کو تمّاشا مفت دکھلایا جائے گا یہ کہہ کر بچّوں کے لئے ٹکٹ لینا ضروری کردیا کہ کوئی بچّہ دو جنسوں کا نہیں۔ دونوں جنسوں سے پہلے اس کی مُراد دونوں جنسیں علـٰحدہ علـٰحدہ تھیں اور بعد میں دونوں جنسیں اکٹھی۔ چنانچہ یہاں بھی مُغَالِطَۂ ترکیب پایا جاتا ہے۔ مُغَالِطَۂ ترکیب ایسے الفاظ مثلًا 'تمام'، 'دونوں'، 'اور' وغیرہ وغیرہ سے جو جُزئی اور کُلّی طور پر استعمال ہوسکتے ہیں پیدا ہوتا ہے۔
٤. مُغَالِطَۂِ تَجْزِیہ؛ مُغالطۂ تجزیہ، مُغالطۂ ترکیب سے اُلٹ ہوتا ہے۔ یہ مُغالطہ اُس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم یہ کہیں کہ جو بات ایک کُل جماعت کے متعلق درست ہے وہی بات اُس جماعت کے تمام افراد یا اجزاء کے متعلق علـٰحدہ علـٰحدہ یا فردًا فردًا بھی درست ہے۔ بالفاظِ دیگر کسی حَدّ کے کُلّی استعمال سے جُزئی استعمال کی طرف جانا مُغَالِطۂ تجزیہ کہلاتا ہے۔ مثلًا اگر ہم یہ کہیں کہ مُثلث ∆ کے تمام زاویے دو قائموں کے برابر ہوتے ہیں (اور تمام زاویوں سے ہمارا مطلب تین زاویے مجموعی طور پر ہوں) لہٰذا مُثلث ∆ کے تمام زاویے علـٰحدہ علـٰحدہ بھی قائموں کے برابر ہوتے ہیں تو یہ مُغَالِطَۂ تجزیہ ہوگا۔ اسی طرح یہ کہنا کہ چونکہ کالج کا تمام سٹاف مجموعی طور پر ایک لڑکے کے سزا دینے کے حق میں تھا لہٰذا کالج سٹاف کے تمام ممبر فردًا فردًا بھی اُس لڑکے کے سزا دینے کے حق میں تھے مُغالِطۂ تجزیہ ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ چونکہ ایک سکیم تمام ملک کے لئے مجموعی طور پر مفید ہے یا یہ کہنا کہ چونکہ ایک شہر مجموعی طور پر قحط زدہ ہے لہٰذا اس شہر کے تمام افراد علـٰحدہ علـٰحدہ بھی قحط زدہ ہیں مُغَالِطَۂ تجزیہ ہوگا۔ اگر کوئی شخص یوں استِدلال کرے کہ
پانچ طاق ہے
تین اور دو پانچ ہیں
لہٰذا تین اور دو طاق ہیں
تو اُس کے استِدلال میں مُغَالطۂ تجزیہ ہوگا۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ پانچ طاق ہے تو پانچ مجموعی طور پر لیا جاتا ہے لیکن نتیجے میں پانچ (یعنی تین اور دو) کے حصّے لئے گئے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ جو بات پانچ کے متعلق مجموعی طور پر درست ہو وہی بات پانچ کے فردًا فردًا حصّوں کے متعلق بھی درست ہو۔ اسی طرح جب ایک کنجوس یوں استِدلال کرتا ہے کہ چونکہ مَیں اس چیز اور اُس چیز اور فُلاں چیز پر خرچ نہیں کرسکتا لہٰذا میں اس چیز یا اُس چیز یا فُلاں چیز پر خرچ نہیں کرسکتا تو اُس کے استِدلال میں مُغالِطَۂِ تجزیہ پایا جاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر اس کا استِدلال یہ ہے کہ چونکہ وہ تمام چیزوں پر خرچ نہیں کرسکتا لہٰذا وہ کسی چیز پر بھی خرچ نہیں کرسکتا۔ یہ کہنا بھی مُغالطۂِ تجزیہ ہے کہ چونکہ زید اچھا کھلاڑی ہے لہٰذا وہ اچھا بھی ہے اور کھلاڑی بھی ہے۔ مندرجہ ذیل استِدلال ملاحظہ ہوں۔
چونکہ ایک شخص کی رائیں مجموعی طور پر درست ہوتی ہیں لہٰذا اس کی ہر رائے درست ہوتی ہے۔
چونکہ ایک رجمنٹ مجموعی طور پر دلیر ہے لہٰذا اس رجمنٹ کا ہر سپاہی دلیر ہے۔
چونکہ یہ جماعت مجموعی طور پر شور کررہی ہے لہٰذا اس جماعت کا ہر طالبعلم شور کررہا ہے۔
چونکہ میری جسمانی صحت مجموعی طور پر اچھی ہے لہٰذا میرے جسم کے ہر حصّے کی صحت اچھی ہے۔
چونکہ اس جنگل میں تمام درخت مجموعی طور پر گھنا سایہ رکھتے ہیں لہٰذا اس جنگل کا ہر درخت گھنا سایہ رکھتا ہے۔
چونکہ مجھے شیکسپئر کے ڈرامے یاد ہیں لہٰذا مجھے شیکسپئر کے ہر ڈرامے کی ہر سطر یاد ہے۔
یہ تمام مثالیں مُغالطۂِ تجزیہ کی مثالیں ہیں۔ جب ہم کسی شخص کو کسی کام سے باز رکھنا چاہتے ہیں تو اکثر یوں استِدلال کرتے ہیں کہ اگر سبھی یہ کام کرنا شروع کردیں تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے لہٰذا کسی کو بھی یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ یہاں بھی مُغَالِطۂ تجزیہ پایا جاتا ہے۔
المختصر مُغَالِطَۂِ ترکیب اور مُغَالِطَۂِ تجزیہ ایک دوسرے کے اُلٹ ہیں۔ مُغَالِطَۂِ ترکیب اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ استِدلال میں ایسی چیزیں جنہیں فردًا فردًا یا علـٰحدہ علـٰحدہ لینی چاہئیں اکٹھا اور مجموعی طور پر لی جائیں۔ اور مُغَالِطَۂ تجزیہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ استِدلال میں ایسی چیزیں جنہیں اکٹھا یا مجموعی طور پر لینا چاہیے فردًا فردًا لی جائیں۔ مُغالطۂِ ترکیب کی طرح مُغالطۂ تجزیہ بھی ایسے الفاظ مثلًا 'تمام'، 'دونوں'، 'اور' وغیرہ وغیرہ سے جو جُزئی اور کُلّی طور پر استعمال ہوسکتے ہیں پیدا ہوتا ہے۔
٥. مُغَالِطَۂِ تاکید؛ کسی فقرے کے کسی لفظ پر غلط زور دے دینے سے اُس فقرے کا صحیح مطلب بگڑ جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے جو مغالطہ پیدا ہوتا ہے اسے مُغَالِطَۂِ تاکید کہتے ہیں۔ مُغَالِطَۂِ تاکید کی یہ مثال ملاحظہ ہو۔
ایک دفعہ ایک باپ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ "گھوڑے پر زین ڈال دو" اور بیٹوں نے اس پر زین ڈال دی۔ اِسی طرح اس حکم کو لیجئے کہ "تمہیں اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی شہادت نہیں دینی چاہیے" اس فقرے میں لفظ "تمہیں" اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی شہادت نہیں دینی چاہیے" اس فقرے میں لفظ "تمہیں" یا "اپنے" یا "پڑوسی" یا "خلاف" یا "جھوٹی" پر زور دینے سے فقرے کا مطلب تبدیل ہوتا جائے گا۔
کسی فقرے کو بولتے وقت ہم ایک لفظ پر کسی اشارے سے یا بُلند آواز سے زور دے سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی فقرے کو لکھتے وقت ہم ایک لفظ کو خط کشیدہ کرکے اس پر زور دے سکتے ہیں۔
اگر کسی فقرے میں کسی ایسے لفظ پر زور نہ دیا جائے جس پر زور دینا چاہیے تو بھی مُغَالِطَۂِ تاکید پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی فقرے کو اُس کے سیاق و سباق سے علـٰحدہ کیا جائے تو اُس فقرے کا اصل مطلب بالکل فوت ہوجاتا ہے اور اس طرح بھی مُغَالِطَۂ تاکید پیدا ہوجاتا ہے۔
٦. مُغَالِطَۂِ تَشبیہہ؛ بہت سے الفاظ دیکھنے میں ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن بلحاظِ مفہوم یا مطلب وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ چونکہ دو الفاظ دیکھنے میں ایک جیسے ہیں یا اُن کا مصدر ایک ہی ہے لہٰذا اُن کا مطلب بھی ایک ہی ہے تو یہ مُغَالِطَۂِ تشبیہہ ہوگا۔ مثلًا شفق اور شفقت، مشق اور مشقت، بساط اور بساطی، معمول اور معمولی، دُنیا اور دُنیادار وغیرہ وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو دیکھنے میں ایک جیسے ہیں لیکن ان کے مطلب ایک جیسے ہیں لیکن ان کے مطلب بالکل مختلف ہیں۔ مندرجہ ذیل استِدلال ملاحظہ ہوں۔
چونکہ ہم دُنیا میں رہتے ہیں لہٰذا ہم دُنیا دار ہیں۔
چونکہ وہ بساطی ہے اس لئے وہ بساط رکھتا ہے۔
چونکہ وہ پیغام لایا ہے لہٰذا وہ پیغمبر ہے۔
چونکہ وہ کُتُب فروش ہے لہٰذا وہ اہلِ کتاب ہے۔
چونکہ وہ افیون بیچتا ہے لہٰذا وہ افیونی ہے۔
چونکہ سود ایک بُری چیز ہے لہٰذا ہر سودمند چیز بُری ہے۔
چونکہ وہ بصارت رکھتا ہے لہٰذا وہ اہلِ بصیرت ہے۔
یہ تمام مثالیں مُغَالِطَۂِ تشبیہہ کی مثالیں ہیں۔
ہم نے ان مغالطوں کا مطالعہ کرلیا ہے جو الفاظ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ارسطو کے زمانے میں ان مغالطوں کو بہت اہمیّت دی جاتی تھی۔ لیکن آج کل لفظی مناظرہ بازی کے کم ہوجانے کی وجہ سے لفظی مغالطوں کی وہ پہلی سی اہمیّت نہیں رہی۔ لیکن آج بھی لفظی بحثیں عدالتوں میں اکثر دیکھنے میں آتی ہیں۔ وُکلاء جب گواہوں پر جرح کرتے ہیں تو وہ انہیں عام طور پر لفظی مُغَالِطُوں میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔
فکری مُغالطے
١. مُغالطۂِ عرض؛ اشیاء کے ضروری اور غیر ضروری اختلافات یا ضروری اور غیر ضروری مشابہتوں کو آپس میں خلط ملط کردینے سے مغالطۂ عرض پیدا ہوتا ہے۔ اگر دو اشیاء آپس میں بلحاظِ عوارض (یعنی غیر ضروری صفات) مختلف ہوں تو یہ ضروری نہیں کہ وہ ضروری صفات میں بھی مختلف ہوں گی۔ اسی طرح دو اشیاء آپس میں کُچھ باتوں میں مختلف یا مشابہ ہیں لہٰذا وہ تمام باتوں میں مختلف یا مشابہ ہیں۔ مثلًا اگر ہم یوں استِدلال کریں کہ چونکہ تم وہ نہیں ہو جو کہ مَیں، اور میں انسان ہوں لہٰذا تم انسان نہیں ہو۔ لہٰذا یہ مُغَالِطَۂِ عرض ہوگا۔ اسی طرح مندرجہ ذیل استِدلال میں بھی مُغَالِطَۂِ عرض پایا جاتا ہے۔
تمہیں حیوان کہنا سچ کہنا ہے
تمہیں گدھا کہنا تمہیں حیوان کہنا ہے
لہٰذا تمہیں گدھا کہنا سچ ہے
ارسطو نے مُغَالِطَۂ عرض کی یہ مثال دی ہے۔ چھ تعداد میں تھوڑا ہوتا ہے، چھتیس چھ ہے، لہٰذا چھتیس تعداد میں تھوڑا ہے۔ اس استدلال میں یہ غلطی ہے کہ چھتیس کے چھ گروپ بنا کر چھتیس کو چھ کہا گیا ہے۔ اگر چھ گروپ تھوڑے گروپ ہوں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ چھتیس بھی تھوڑے ہیں۔ چھتیس کے چھ گروپوں اور چھ میں واقعی یہ مشابہت ہے کہ دونوں چھ ہیں۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ چھ تعداد میں تھوڑا ہے لہٰذا چھتیس بھی (جب کہ وہ چھ گروپوں کی صورت میں لیا جائے) تعداد میں تھوڑا ہے مُغَالِطَۂِ عرض ہوگا۔ اسی طرح یہ کہنا کہ پانی مائع ہے اور برف پانی ہے لہٰذا برف مائع ہے یا یہ کہنا کہ دودھ بچّوں کے لئے مُفید ہے اور دَہی دُودھ ہے لہٰذا دَہی بچوں کے لئے مفید ہے مُغَالِطَۂ عرض ہوگا۔ پانی کے لئے برف ہونا اور دودھ کے لئے دھی ہونا ایک عرض ہے اور اگرچہ پانی مائع ہوتا ہے اور دودھ بچّوں کے لئے مفید ہوتا ہے تاہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس لئے برف بھی مائع ہے اور دھّی بھی بچوں کے لئے مفید ہے۔
٢. مُغَالِطَۂ شئ دیگر؛ مُغالطۂ شئ دیگر کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں۔
الف۔ عام قاعدے سے خاص حالت کے متعلق نتیجہ اخذ کرنا۔
یہ مغالطہ اُس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم یہ کہیں کہ جو بات عام حالت میں (یعنی بطور ایک عام قاعدہ) درست ہے وہ ایک خاص حالت میں بھی درست ہوگی۔ باِلفاظِ دیگر اگر ایک عام قاعدے کی بنا پر ایک خاص حالت کے متعلق حکم لگایا جائے یعنی ایک عام قاعدے کا ایک خاص حالت پر اطلاق کیا جائے تو یہ مُغَالِطَہ لازِم آتا ہے۔
مثالیں
١. چونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق ہے۔ لہٰذا ایک مجسٹریٹ کمرۂ عدالت میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے میں حق بجانب ہے۔
٢. ایک آدمی کو اجازت ہے کہ وہ اپنی چیز سے جو چاہے کرلے۔ لہٰذا تم اگر چاہو تو اپنے بیٹے کو قتل کرسکتے ہو کیونکہ تمہارا بیٹا تمہاری اپنی چیز ہے۔
٣. چونکہ امن اور قانون برقرار رہنے چاہئیں لہٰذا ہر سیاسی تحریک کو سختی سے دبانا چاہیے۔
٤. چونکہ شراب ایک ممنوع چیز ہے لہٰذا ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے لیے شراب تجویز نہ کریں۔
٥. کسی کو تکلیف دینا ایک بُری بات ہے اور چونکہ ڈاکٹر آپریشن کرتے وقت مریض کو تکلیف دیتے ہیں لہٰذا ڈاکٹر ایک بُری بات کرتے ہیں۔
٦. برائی کے بدلے نیکی کرنی چاہیے۔ اس لیے اُستادوں کو چاہیے کہ وہ لڑکوں کی شرارتوں پر انہیں سزا دینے کی بجائے انعام دیں۔
٧. قتل کرنا ایک جُرم ہے۔ لہٰذا جنگ میں بھرتی نہیں ہونا چاہیے۔
٨. چونکہ بےکسی میں کسی کی مدد کرنا ایک نیک کام ہے لہٰذا ایک چور کو پولیس کی حراست سے چھُڑانا ایک نیک کام ہے۔
ب۔ خاص حالت سے عام قاعدے کے متعلق نتیجہ اخذ کرنا
ARGUING FROM A GENERAL RULE TO A SPECIAL CASE
یہ مُغالطہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم یہ کہیں کہ جو بات ایک خاص قاعدے میں درست ہے وہ عام حالت میں بھی (یعنی بطور ایک عام قاعدہ بھی) درست ہوگی۔ باِلفاظِ دیگر اگر ایک خاص حالت کی بنا پر ایک عام قاعدے کے متعلق حکم لگایا جائے تو یہ مُغَالِطَہ لازِم آتا ہے۔ اگر کوئی بات ایک خاص حالت میں یا ایک خاص شرط کے تحت درست ہو تو یہ ضروری نہیں کہ وہ بات عام حالت میں یا بغیر اُس شرط کے بھی درست ہو۔
مثالیں
١. چونکہ بیماری کی حالت میں شراب کی ممانعت نہیں ہوتی لہٰذا شراب کے استعمال کی عام اجازت ہونی چاہیے۔
٢. چونکہ جمہوریّت انگلستان میں کامیاب ہے لہٰذا جمہوریّت ہر ملک کے لئے بہترین نظامِ حکومت ہے۔
٣. چونکہ بیماری کی حالت میں ورزش نقصان دہ ہوتی ہے لہٰذا ورزش کبھی نہیں کرنی چاہیے۔
٤. چونکہ مریض کے سامنے اس کی بیماری کے متعلق جھوٹ بولنا ایک بُرا فعل نہیں لہٰذا جھوٹ بولنا ایک اچھا فعل ہے۔
٥. چونکہ ہٹّے کَٹّے بھیک مانگنے والوں کو خیرات دینا جائز نہیں لہٰذا کسی کی مدد کرنا جائز نہیں۔
٦. چونکہ ڈاکٹروں کو مریضوں کے آپریشن کرنے میں چیر پھاڑ کی اجازت ہوتی ہے لہٰذا ڈاکٹر جس پر چاہیں اپنے چاقو استعمال کرسکتے ہیں۔
٧. چونکہ مارشل لاء میں فوجیوں کو گولی چلانے کی اجازت ہوتی ہے لہٰذا فوجیوں کو یہ حق ہے کہ جس کو چاہیں گولی سے مار دیں۔
ج۔ ایک خاص حالت سے کسی دوسری خاص حالت کے متعلق نتیجہ اخذ کرنا
ARGUING FROM ONE SPECIAL CASE TO ANOTHER CASE SPECIAL CASE
یہ مُغالطہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم یہ کہیں کہ جو بات ایک خاص حالت میں درست ہے وہی بات ایک دوسری خاص حالت میں بھی درست ہوگی۔ باِلفاظِ دیگر اگر ایک خاص حالت کی بنا پر کسی دوسری خاص حالت کے متعلق حکم لگایا جائے تو یہ مُغالِطَہ لازِم آتا ہے۔ اگر کوئی بات ایک خاص حالت میں یا ایک خاص شرط کے تحت درست ہو تو یہ ضروری نہیں کہ وہ بات کسی اور حالت میں یا کسی اور شرط کے تحت بھی درست ہو۔
مثالیں
١. چونکہ شراب اِس بیماری میں مُفید ہے لہٰذا شراب اُس بیماری میں بھی مُفید ہے۔
٢. چونکہ طلبا میں سکولوں میں جسمانی سزا دی جاتی ہے لہٰذا طلبا کو کالجوں میں بھی جسمانی سزا دینی چاہیے۔
٣. چونکہ جمہوریت انگلستان میں کامیاب ہے لہٰذا جمہوریت پاکستان میں بھی کامیاب ہے۔
٤. اگر وہ اس کام کے کرنے میں حقّ بجانِب ہے تو میں بھی اس کام کے کرنے میں حقّ بجانب ہوں۔
٥. اگر ایک مُجرم کو اِس جُرم کے لئے دو سال کی سزا دی گئی ہے تو دوسرے مُجرم کو بھی اُس جرم کے لئے دو سال کی سزا دینی چاہیے۔
غرضیکہ مُغَالِطَۂ شئ دیگر کی مندرجہ ذیل تین شکلیں ہیں۔
١. ایک عام قاعدے سے ایک خاص حالت کے متعلق نتیجہ اخذ کرنا۔
٢. ایک خاص حالت سے ایک عام قاعدے کے متعلق نتیجہ اخذ کرنا۔
٣. ایک خاص حالت سے ایک دوسری خاص حالت کے متعلق نتیجہ اخذ کرنا۔
٣. مُغَالِطَۂ نتیجۂ غیر متعلق؛ یہ مغالطہ صحیح تردید کی لاعلمی کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہمیں کسی بات یا دعوے کی تردید کرنا مقصود ہو تو ہمیں اُس بات یا دعوے کا اُلٹ یعنی نقیض ثابت کرنا چاہیے۔ لیکن اگر ہم کوئی اور بات ثابت کردیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہمیں صحیح تردید کے متعلق لاعلمی ہے۔ ویسے تو ہر مُغَالطے میں یہ لاعلمی پائی جاتی ہے کہ ہم کس بات کی تردید کررہے ہیں یا کس بات کو ثابت کررہے ہیں۔ لیکن دیگر مُغالطوں میں اور غلطیاں ہوتی ہیں۔ مُغَالِطَۂ نتیجۂ غیر متعلق میں ممکن ہے کہ استِدلال تو درست ہو لیکن اس میں غلطی یہ ہوتی ہے کہ نتیجہ جو کہ ثابت کیا جاتا ہے اُس بات کی تردید نہیں کرتا جس کا دعویٰ کیا گیا ہو۔ باِلفاظِ دیگر مغالطۂ نتیجۂ غیرمتعلق میں وہ نتیجہ ثابت نہیں کیا جاتا جو کہ ثابت کرنا چاہیے۔ اس لئے اسے نتیجۂ غیرمتعلق کہتے ہیں۔ یہ مغالطہ ہمارے روزمرّہ کے مباحثوں اور مناظروں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔ چونکہ مباحثوں میں بحث کرنے والے موضوعِ بحث کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں لہٰذا ہر مقرر کو اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے سامعین اور حزبِ مخالف کی یاددہانی کے لئے یہ بتانا پڑے گا کہ موضوعِ زیرِ بحث فُلاں ہے۔ مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیر متعلق دونوں طرح یعنی حریف کے کسی دعوے کی تردید یا ابطال میں اور اپنے کسی دعوے کو صحیح ثابت کرنے میں پایا جاسکتا ہے۔ کسی ایسی بات کو ثابت کرنا جس کا انکار ہی نہ کیا گیا ہو یا کسی ایسی بات کی تردید کرنا جس کا دعویٰ ہی نہ کیا گیا ہو اس مغالطے کی مثالیں ہیں۔ مؤخر الذکر صورت سے محض مُغَالِطَہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ طبیعت بھی منغض ہوتی ہے کیونکہ اس صورت میں حریف کی طرف ایک ایسی بات منسوب کی جاتی ہے جو کہ اُس نے کہی ہی نہیں اور وہ جس کا قائل ہی نہیں۔
چنانچہ مُغالطۂِ نتیجۂ غیر متعلق وہ مُغَالِطَہ ہوتا ہے جس میں نتیجے کا موضوعِ بحث سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس مُغَالطے میں مطلوبہ نتیجے کو تو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ایک غیرمتعلق نتیجے کو ثابت کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک وکیلِ استغاثہ یہ کہے کہ چونکہ یہ جُرم جس کا مُلزم پر شُبہ کیا گیا ہے ایک نہایت ہی سنگین جُرم ہے لہٰذا مُلزم کو عبرتناک سزا دینی چاہیے تو یہ مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیر متعلق ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک وکیلِ صفائی ایک مُلزم کو یہ کہہ کر بری کرانے کی کوشش کرے کہ اس کے قید ہوجانے سے اس کا کُنبہ تباہ ہوجائے گا تو یہ بھی مُغَالِطَۂ نتیجۂِ غیر متعلق ہوگا۔ اگر ایک طبیب اپنی دَوا کو مُفید ثابت کرنے کے لئے یہ کہے کہ یہ بڑی مشکل سے تیار ہوتی ہے تو یہ مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیر متعلق ہوگا۔ اِسی طرح مغربی تہذیب کو بُرا ثابت کرنے کے لئے اگر کوئی یہ کہے کہ یہ ایک نئی تہذیب ہے یا یہ بیرونی ممالک کی تہذیب ہے تو یہ بھی مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیر متعلق ہوگا۔
مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیر متعلق مندرجہ ذیل مختلف صورتوں میں پایا جاتا ہے۔
ARGUMENTUM AD MISERICORDIAM ١. دلیلِ رحم
دلیلِ رحم مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیرمتعلق کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کے متعلّق یہ ثابت کرنے کی بجائے کہ وہ بےگناہ ہے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اُس کی حالت قابلِ رحم ہے۔ اگر ایک طالبعلم جس پر کمرۂ امتحان میں نقل کرنے کا شبہ ہو نِگران سے یہ کہے کہ اگر اس کو کمرۂ امتحان سے نکال دیا گیا تو اُس کی زندگی تباہ ہوجائے گی تو یہ دلیلِ رحم ہے۔ جب سُقراط پر مقدمہ چلایا گیا تو سُقراط سے یہ کہا گیا تھا کہ اگر اُس کی بیوی اور بچّے عدالت میں حاضر ہوکر ججوں کے سامنے گریہ زاری اور رحم کی درخواست کریں تو اسے رہا کردیا جائے گا۔ لیکن سُقراط نے ایسا کرنے سے اِنکار کردیا۔ اُس نے یہ کہا کہ دلیلِ رحم کی بجائے مجھے یہ دلیل دینی چاہیے کہ مَیں بےگُناہ ہوں۔
ARGUMENTUM AD HOMINEM ٢. دلیلِ شخصیت
دلیلِ شخصیت مُغالطۂ نتیجۂ غیر متعلق کی وہ قسم ہے جس میں کسی دعوے کو غلط ثابت کرنے کی بجائے اُس شخص کی شخصیّت پر جس نے وہ دعوے کیا ہو حملہ کیا جاتا ہے۔ باِلفاظِ دیگر دلیلِ شخصیّت میں موضوعِ زیرِ بحث کو چھوڑ کر حریف کی شخصیّت پر نُکتہ چینی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص پر چوری کا شُبہ کیا گیا ہے تو اس کا یہ کہنا دلیلِ شخصیّت ہوگی کہ مُستغیث خود ایک مرتبہ چوری کے جُرم میں سزا حاصل کرچکا ہے۔ اگر کوئی ایم۔پی۔اے کسی قانون میں کوئی تبدیلی تجویز کرے تو اس کے خلاف یہ دلیلِ شخصیّت ہوگی کہ وہ اس تبدیلی کے تجویز کرنے کے لئے موزوں شخص نہیں۔ اسی طرح ناصح کے خلاف یہ کہنا کہ جس بات پر وہ خود عمل پیرا نہیں اُسی بات کے متعلق وہ اوروں کو کیسے نصیحت کرسکتا ہے (خود میاں فصیحت و دیگراں را نصیحت، یعنی جو خود شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں انہیں اوروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں) دلیلِ شخصیّت ہوگی۔ اگر ہمارے کسی کام کے خلاف کوئی اعتراض کیا جائے تو ہم بجائے یہ ثابت کرنے کے کہ ہمارا وہ کام درست ہے اکثر اوقات یہ کہتے ہیں ہمارا وہ کام ایک ایسا کام ہے جو معترض خود کرتا ہے۔ ایک شخص آپ کو توہّم پرست کہتا ہے اور آپ بجائے یہ ثابت کرنے کے کہ آپ کے عقائد عقل پر مبنی ہیں اور آپ توہّم پرست نہیں اُس شخص کو جواب میں یہ کہتے ہیں کہ "تم توہّم پرستی کے خلاف باتیں کرتے ہو۔ تم جس نے خود اپنے بازؤ پر تعویذ باندھ رکھا ہے؟" اس جواب پر لوگ اُس شخص پر ہنسنے لگ پڑیں گے لیکن آپ کا یہ جواب کوئی معقول دلیل نہیں ہے۔ جب ایک وکیل کو کسی کمزور مقدمے کی پیروی کرنا پڑتی ہے تو وہ اپنے مؤکّل کی بات کو حق بجانب ثابت کرنے کی بجائے فریقِ مخالف کے وکیل کو کوسنا شروع کردیتا ہے۔ مندرجہ ذیل مثال ملاحظہ ہو؛
وکیلِ صفائی۔ اس قالین کی فروخت کے سلسلے میں کوئی تحریر موجود نہیں۔
مُدّعی۔ کیا آپ جب ایک روٹی خریدتے ہیں تو اپنے پاس کوئی تحریر رکھتے ہیں؟
وکیلِ صفائی۔ لیکن آپ روٹی کو فرش پر تو نہیں بچھاتے
مُدّعی۔ اسی طرح آپ قالین بھی تو نہیں کھاتے۔
اِس قِسم کے جواب سے آپ فریقِ مخالف کو لاجواب تو کرسکتے ہیں لیکن ایسے دلائل منطقی لحاظ سے کوئی دلائل نہیں ہوتے۔ چنانچہ دلیلِ شخصیت محض ایک "دندان شکن" جواب ہوتا ہے جو حریف کو چُپ تو کراسکتا ہے مگر اپنے اندر معقولیت نہیں رکھتا۔ مناظرہ بازی یا حاضر جوابی کے فن میں اسی طرح اپنے حریف پر فتح حاصل کرنا ہمارے لئے باعثِ خوشی تو ہوتا ہے لیکن جہاں مقصد سچائی کی تلاش ہو وہاں حریف کی شخصیّت پر نُکتہ چینی کرنا یعنی دلیلِ شخصیت پیش کرنا بالکل کوئی اہمیّت نہیں رکھتا۔
ARGUMENTUM AD POPULUM ٣. دلیلِ جذبات
دلیلِ جذبات مُغالطۂِ نتیجۂِ غیرمتعلق کی وہ قسم ہے جس میں سامعین کے جذبات کو اپیل کی جاتی ہے۔ اگر ہمارے جذبات کو مشتعل کیا جائے تو ہم مسئلہ زیرِبحث پر ٹھنڈے دِل سے غور نہیں کرسکتے اور اس طرح صحیح نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ پبلک سپیکروں اور سیاسی مقررّوں کے ہاتھ میں دلیلِ جذبات ایک مؤثر اور کارگر ہتھیار ہوتا ہے جس سے وہ عوام النّاس کی آنکھوں میں دھُول ڈال سکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل مثال ملاحظہ ہو۔
او! مظلوم مزدورو! تم کب تک خوابِ خرگوش میں سوئے رہو گے؟ تم کب تک ظالم سرمایہ داروں کو اپنے حقوقِ آزادی کُچلنے دو گے؟ تم کب تک اپنے بھوکے پیاسے اور ننگے بچوں کو اس مظلومی کی حالت میں دیکھتے رہو گے؟ کیا تمہارے اندر خون نہیں ہے؟ کیا تمہارے خون میں جوش نہیں ہے؟ اُٹھو! ان محلّات کو آگ لگا دو! اٹھو! ان کارخانوں کو جلا دو ؎
اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
ARGUMENTUM AD VERECUNDIUM ٤. دلیلِ احترام
دلیلِ احترام مُغالطۂ نتیجۂ غیر متعلق کی وہ قسم ہے جس میں معقول دلیل پیش کرنے کی بجائے کسی شخصیت یا کتاب وغیرہ کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ ہم سب اتنے ڈرپوک واقع ہوئے ہیں کہ ہمیں کسی بڑی شخصیّت یا کتاب کے خلاف رائے رکھنے میں ڈر لگتا ہے۔
مثالیں
١. یہ بات داناؤں کا قول ہے۔ لہٰذا اس بات کو ماننا چاہئیے۔
٢. مغربی تہذیب کو اختیار کرنا کَل کی تہذیب کو صدیوں کی تہذیب پر ترجیح دینا ہے۔
٣. نظریۂ ارتقاء ضرور درست ہوگا کیونکہ ڈاروِن جیسی شخصیت نے دیا ہے۔
٤. یہ نیا قانون کیسے درُست ہوسکتا ہے؟ ہمارے قدیم قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔
٥. تُم بُت پرستی کو بُرا کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیا تُم اپنے آباؤ اجداد سے زیادہ عقلمند ہو؟
٦. غُلامی کوئی بُری چیز نہیں کیونکہ ارسطو اس کے حق میں تھا۔
٧. ہمیں لڑکیوں کو تعلیم نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہمارے بزُرگ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے۔
ARGUMENTUM AD IGNORANTIUM ٥. دلیلِ لاعلمی
دلیلِ لاعلمی مُغالِطۂِ نتیجۂِ غیر متعلق کی وہ قسم ہے جس میں حریف کی لاعلمی کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے کسی دعوے کو درست ثابت کرنے کی بجائے اپنے حریف سے یہ کہتے ہیں کہ تم ہمارے دعوے کو غَلَط ثابت کرو۔ اور اگر ان کا حریف ان کے دعوے کو غلط ثابت نہ کرسکے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا دعویٰ درُست ثابت ہوگیا۔ ان کا یہ استِدلال دو وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔ اَوَّل یہ کہ اگر ایک شخص کوئی دعویٰ کرے تو اُسے چاہیے کہ وہ خود اپنے دعوے کو درست ثابت کرے نہ کہ اپنے حریف سے یہ کہے کہ تم اسے غَلَط ثابت کرو۔ دوسرے یہ کہ اگر کوئی بات غلط ثابت نہ ہو تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ بات درست ثابت ہوگئی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ زمین کو ایک بیل اپنے سینگوں پر اُٹھائے ہوئے ہے اور آپ میری اس بات کو غَلَط ثابت نہ کرسکیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ بات کہ زمین کو ایک بیل اپنے سینگوں پر اُٹھائے ہوئے ہے درُست ثابت ہوگئی۔ اسی طرح اگر میں یہ کہوں کہ یہ جگہ جہاں میں اس وقت کھڑا ہوں زمین کا مرکز ہے اور آپ میری بات کو غَلَط ثابت نہ کرسکیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میری بات درست ثابت ہوگئی ہے اور یہ جگہ واقعی زمین کا مرکز ہے۔ ایک درُست بات وہ بات نہیں ہوتی جو غَلَط ثابت نہ ہوسکے بلکہ وہ جو درُست ثابت ہوسکے۔
چنانچہ اگر ہم اپنے کسی دعوے کو درست ثابت کرنے کی بجائے اپنے حریف کو اُسے غَلَط ثابت کرنے کے لئے کہیں اور اُس کے غَلَط ثابت نہ کرسکنے کو اپنے دعوے کے درست ثابت ہونے کی دلیل سمجھیں تو یہ مُغَالِطَۂِ دلیلِ لاعلمی ہوگا۔
اگر کوئی بات ہماری سمجھ میں نہ آئے اور ہم اسے محض اس لئے رَدّ کردیں کہ وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی درست نہیں ہوتا۔ یہ کہنا ایک غَلَطی ہے کہ چونکہ ہم یہ جانتے ہی نہیں کہ یہ بات یوں کیسے ہے لہٰذا یہ بات یوں نہیں ہوسکتی۔ سِــیام کا ایک بادشاہ چونکہ یہ نہیں جانتا تھا کہ پانی کیسے برف بن سکتا ہے لہٰذا وہ یہ مانتا ہی نہیں تھا کہ پانی کبھی ٹھوس بن سکتا ہے کہ اُس پر ہاتھی چل سکیں۔ کسی بات کے متعلق لاعلمی اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ بات ناممکن ہے۔
ARGUMENTUM AD BAOLUM ٦. دلیلِ حربی
دلیلِ حربی مُغَالِطَۂ نتیجۂ غیر متعلق کی وہ قسم ہے جس میں کسی دعوے کو معقول دلیل سے ثابت کرنے کی بجائے جسمانی طاقت سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے حریف کا سر پھوڑ دے تو یہ اُس کی طاقت کا ثُبُوت تو ضرور ہے لیکن اُس کی معقولیّت کا ثُبُوت نہیں۔ سیاسی اور مذہبی معاملات میں اکثر دلیلِ حربی سے ہی کام لیا جاتا ہے۔ لیکن کسی پیغمبرؑ یا ریفارمر یا سائنس دان کو شہید کردینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی بات غَلَط تھی۔ اس سے محض یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُس سے زیادہ طاقتور تھے۔ دلیلِ حربی عمومًا نامعقول آدمیوں کا حربہ ہوتی ہے۔ اسے وہی شخص استعمال کرتا ہے جس کے پاس کوئی معقول دلیل نہ ہو (یہ طریقہ کسی دلیل کے خلاف کسی قانون کے ناجائز استعمال سے بھی منعقد ہوسکتا ہے)۔
FALLACY OF OBJECTIONS ٧. مُغَالِطَۂِ اعتراضات
یہ مُغَالِطَۂ نتیجۂ غیر متعلق کی وہ قسم ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ کسی بات کے خلاف کُچھ اعتراضات ہیں لہٰذا وہ بالکل رَدّ کردینی چاہیے۔ عام طور پر یہ مُغَالِطَہ ان لوگوں کے استِدلال میں پاتا ہے جو ہر نئی بات کے مُخَالِف ہوتے ہیں۔ دُنیا میں کوئی تجویز یا سکیم ایسی نہیں ہوتی جس کے خلاف کُچھ نا کُچھ اعتراضات نہ ہوسکیں۔ لیکن جب ہمارے سامنے کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے تو ہمارے لئے محض یہی ثابت کرنا کافی نہیں ہوتا کہ اُس تجویز کے خلاف کُچھ اعتراضات ہیں۔ ہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اُس تجویز کے نقائص اُس کی خوبیوں سے بہت زیادہ اور اہم ہیں۔ کسی چیز کی محض اُن باتوں پر زور دینا جو اُس کے خلاف کہی جاسکتی ہیں اور اُن باتوں کو نظرانداز کردینا جو اُس کے حق میں کہی جاسکتی ہیں مُغَالِطَۂِ اعتراضات کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا مُغَالِطَۂِ اعتراضات ہوگا کہ چونکہ ہماری تعلیم کے خلاف کُچھ اعتراضات ہیں لہٰذا تعلیم ہونی ہی نہیں چاہیے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی مُغَالِطَۂِ اعتراضات ہوگا کہ چونکہ ہمارے شادیوں کے قوانین کے خلاف کُچھ اعتراضات ہیں لہٰذا شادیوں کے قوانین ہونے ہی نہیں چاہئیں۔
٨. موضوع بدلنے کا مُغَالِطَہ
FALLACY OF SHIFTING THE GROUND
یہ مُغَالِطَۂ نتیجۂ غیر متعلق کی وہ قسم ہے جس میں حریف کے اصلی موضوع کو چھوڑ کر اُس کی کسی ضمنی بات کی تردید کی جاتی ہے۔ یعنی حریف سے کوئی ایسی بات کہلوا یا منوا لی جاتی ہے جس کا غَلَط ثابت کرنا اُس کی اصل بات کی تردید تصوّر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ہمارا اپنا کوئی دعویٰ ایسا کمزور ہو کہ اُسے ہم ثابت نہ کرسکیں اور اُس اصل دعوے کو چھوڑ کر کوئی اور دعویٰ کریں جس کا ثابت کرنا آسان ہو تو یہ بھی موضوع بدلنے کا مُغَالِطَہ ہوگا۔ اپنے کسی غلط دعوے کو چھوڑ کر کوئی اور دعویٰ کرنے میں کوئی غلطی نہیں ہوتی بشرطیکہ اپنے اصل دعوے کو غَلَط تسلیم کرلیا جائے لیکن موضوع بدلنے کے مُغَالطے میں اصل دعوے کو چھوڑ کر ایک اور دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسرے دعوے کے ثُبُوت کو اصل دعوے کا ثُبُوت تصوّر کیا جاتا ہے۔ یعنی اصلی دعوے سے ہٹنے کے باوُجُود اُسے غَلَط تسلیم نہیں کیا جاتا۔
یہ مُغَالِطَہ لمبی بحثوں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک لمبی بحث میں ہم اپنے حریف کی بہت سی باتوں کی بیک وقت تردید شروع کردیتے ہیں اور ایک بات کو پورے طور پر غلط ثابت کرنے کے بغیر اس کی دوسری بات کو لے کر اس کی تردید شروع کردیتے ہیں۔ اور اُسے بھی ادھورا چھُوڑ کر کوئی اور بات لے لیتے ہیں۔ اسی طرح اپنے کسی دعوے کی صورت میں بھی ہم اپنی ایک دلیل کو ادھُورا چھوڑ کر ایک اور دلیل پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ لمبی بحثوں میں یہ الفاظ "اور اس کے علاوہ" اکثر سُننے میں آتے ہیں۔ جب ایک مُقرّر "اور اس کے علاوہ" کہتا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ اپنی پہلی پوری بات پورے طور سے ثابت کرنے کے بعد کسی دوسری بات کی طرف رجوع کرنے لگا ہے۔ اگر وہ اپنی پہلی بات کو ادھُورا چھوڑ کر کسی اور بات کی طرف (بغیر اپنی پہلی بات کو غَلَط تسلیم کرنے اور اُس کو ترک کرنے کے) رُجُوع کرے تو یہ موضوع بدلنے کا مُغَالِطَہ ہوگا۔ مندرجہ ذیل دلیل مُلَاحِظَہ ہو۔
لاہور سے باہر جتنے کالج ہیں اُنہیں بند کردینا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس تمام کالجوں کے لئے پروفیسر نہیں ہیں اور اگر پروفیسر مل بھی جائیں تو طَلَبا کی تعداد اسی قدر کم ہے کہ اتنے کالجوں کی ضرورت ہی نہیں۔ لاہور سے باہر طلبا اتنے قابل بھی نہیں ہوتے کہ اعلیٰ تعلیم سے مستفید ہوسکیں۔ اس کے علاوہ ان کالجوں سے آمدنی بہت کم ہوتی ہے اور ان پر خرچ بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔
اس دلیل میں ہر قدم پر موضوع بدلنے کا مُغَالِطَہ پایا جاتا ہے۔
٤. مُغَالِطَۂِ اِنْحِصَارِ مُقَدِمہ برنتیجہ؛ یہ مُغَالِطَہ اُس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم وہی بات جسے ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں پہلے ہی کسی نا کسی شکل میں تسلیم کرلیں۔ یعنی جس بات کو ہم اپنے مقدمے سے بطور نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں اُسے پہلے ہی مقدمے میں فرض کرلیں۔ ارسطو کے نزدیک اس مُغالطے کی مندرجہ ذیل شکلیں ہیں۔
ا. اُس قضیے کو تسلیم کرلینا جس کو ثابت کرنا مطلوب ہو؛
اس شکل میں مُغَالِطَۂ ہم معنیٰ الفاظ کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یعنی نتیجے میں وہی بات کہی جاتی ہے جو مقدمے میں ہم معنیٰ الفاظ میں کہی گئی تھی۔ باِلفاظِ دیگر نتیجہ محض مقدمے ہی کو مختلف مگر ہم معنیٰ الفاظ میں دُہراتا ہے۔ مندرجہ ذیل مثالیں ملاحظہ ہوں۔
افیون سے نیند پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک خواب آور چیز ہے۔ کیونکہ زمین میں کششِ ثقل پائی جاتی ہے لہٰذا یہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ بہت چالاک ہے کیونکہ وہ عیّار ہے۔ یہ کام ایک گُنّاہ ہے کیونکہ یہ ایک بُرا کام ہے۔ چونکہ یہ چیز یہاں رائج ہے لہٰذا یہ چیز یہاں کا رواج ہے۔
بعض اوقات یہ مُغَالِطَہ کسی ایسے لفظ کے استعمال سے بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کا مفہوم اچھا یا بُرا ہو۔ مثلًا اگر ہم کسی تجویز کو یہ کہہ کر غَلَط ثابت کریں کہ یہ "بدعت" ہے تو یہ مُغالِطَہ لفظ "بدعت" کی وجہ سے پیدا ہوگا۔ "ٹوڈی"، "فرقہ پرستی"، "جمہوری"، "رجعت پسندی"، "مغربیت"، "الحاد" وغیرہ وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جن سے یہ مُغَالِطَہ پیدا ہوجاتا ہے۔ کسی چیز کو ایک بُرا نام دے کر اُسے بُرا ثابت کرنے کی کوشش کرنا مُغَالِطَہ ہے۔
اگر ہم کسی چیز کو ثابت کرنا چاہیں اور اُسے پہلے ہی مُختلف الفاظ میں تسلیم کرلیں تو اُسے بُرہانِ دَوری کہتے ہیں۔ بُرہانِ دَوری میں ہمارا استِدلال ایک دائرے کی شکل میں چلتا ہے اور اُسی بات کی طرف لوٹنا ہے جس سے یہ شروع ہوا تھا۔
مثالیں
١. میں یہ کام نہیں کروں گا کیونکہ یہ کام بُرا ہے میں یہ جانتا ہوں کہ یہ کام بُرا ہے کیونکہ میرا ضمیر یہ کہتا ہے اور میرا ضمیر اس لئے یہ کہتا ہے کیونکہ یہ کام بُرا ہے۔
٢. اخلاقی قوانین کی تعمیل کرنا چاہیے کیونکہ یہ قوانین خُدا کے بنائے ہوئے ہیں اور یہ قوانین خُدا نے اس لئے بنائے ہیں کہ یہ اخلاقی ہیں۔
٣. کیونکہ خوبصورت اشیاء سے وہ محفوظ نہیں ہوتا لہٰذا وہ خوبصورتی سے حظ نہیں اُٹھا سکتا۔
٤. بائبل اس لیے صحیح ہے کہ پوپ کہتا ہے کہ بائبل صحیح ہے اور پوپ اس لئے صحیح ہے کہ بائبل کہتی ہے کہ پوپ صحیح ہے۔
ب. کسی جُزئیہ قضیے کے ثُبُوت کے لیے ایک ایسے کُلیّہ قضیے کو تسلیم کرلینا جس میں وہ جُزئیہ قضیہ شامل ہو اور جو خود مُحتاجِ ثُبُوت ہو؛
اگر ہم یہ کہیں کہ وہ بُزدل ہے کیونکہ وہ ظالِم ہے اور تمام ظالم بُزدل ہوتے ہیں تو یہ ایک مُغَالِطَہ ہوگا کیونکہ یہاں ہم نے یہ کُلیّہ قضیہ کہ "تمام ظالِم بُزدل ہوتے ہیں"بغیر ثُبُوت کے تسلیم کرلیا ہے۔ اسی طرح اگر ہم یوں استِدلال کریں کہ ہمیں اپنے آباؤاجداد کی قدیم رُسُوم کو اختیار کرنا چاہئیے کیونکہ بوڑھے جوانوں سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں تو یہ وہی مُغَالِطَہ ہوگا کیونکہ یہاں ہم نے یہ کُلیّہ قضیہ کہ "بوڑھے جوانوں سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں" بغیر ثُبُوت کے تسلیم کرلیا ہے۔ مندرجہ ذیل مثالیں ملاحظہ ہوں۔
١. یہ پنجابی سپاہی دلیر ہے کیونکہ تمام پنجابی سپاہی دلیر ہوتے ہیں۔
٢. وہ حساب میں بہت قابل ہے کیونکہ وہ ہِندؤ ہے اور تمام ہِندؤ حساب میں قابل ہوتے ہیں۔
٣. وہ شرابی، زانی بھی ہے کیونکہ تمام شرابی، زانی ہوتے ہیں۔
٤. وہ مزدور مُفلس ہے کیونکہ تمام مزدور مُفلس ہوتے ہیں۔
٥. یہ شخص صاف گو ہے کیونکہ یہ خُدا کو مانتا ہے اور ؎۔
؏ اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی
چُنانچہ یہ مُغالطہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم ایک ایسے کُلیّہ قضیے کو تسلیم کرلیں جس میں ہمارا مطلوبہ نتیجہ موجود ہو۔ لیکن یاد رہے کہ ایک جُزئیہ قضیے کے ثُبُوت کے لیے ایک کُلیّہ قضیے کو تسلیم کرلینا ہمیشہ مُغَالِطَہ نہیں ہوتا۔ ایک ایسے کُلیّہ قضیے کو تسلیم کرنا جو محتاجِ ثُبُوت نہ ہو جائز ہے چنانچہ کسی کلیہ قضیے کو محض تسلیم کرلینے میں مُغَالِطَہ نہیں ہوتا۔ مُغَالِطَہ کسی کُلیّہ قضیے کو ناجائز طور پر تسلیم کرلینے میں ہوتا ہے۔ باِلفاظِ دیگر مُغَالِطَہ کسی ایسے کُلیّہ قضیے کو تسلیم کرلینے میں ہوتا ہے جو خود مُحتاجِ ثُبُوت ہوتا ہے۔
ج. کسی کُلیّہ قضیے کے ثُبُوت کے لیے ایک ایسے جُزئیہ قضیے کو تسلیم کرلینا جو اس میں شامل ہو؛
ارسطو خود اس مُغالطے کا مرتکب ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ چونکہ یونان کے گرد و نواح کے غیر مُہذب لوگ قُدرتی طور پر یونانیوں کے غُلام ہیں لہٰذا غُلامی ایک قُدرتی چیز ہے۔ اس دلیل میں ارسطو اس جُزئیہ قضیے کو کہ "یونان کے گرد و نواح کے غیر مہذب لوگ قُدرتی طور پر یونانیوں کے غُلام ہیں" اِس کُلیّہ قُضیے کے ثُبُوت کے لیے کہ "غُلامی ایک قُدرتی چیز ہے" پہلے ہی بغیر ثُبُوت کے تسلیم کرلینا ہے۔ اسی طرح اگر اس کُلیّہ قضیے کو ثابِت کرنے کے لیے کہ "تمام مغربی قومیں چالاک ہیں" آپ یہ جُزئیہ قُضیہ کہ "کُچھ مغربی قومیں چالاک ہیں" بغیر ثُبُوت کے مان لیں تو یہ مُغَالِطَہ ہوگا۔
د. کسی قضیے کے ثُبُوت کے لئے اُس کے ٹُکڑے کرنا اور انہیں ایک ایک کرکے بغیر ثُبُوت کے تسلیم کرلینا؛
اگر ہمیں کسی قضیے کو ثُبُوت کرنا مطلوب ہو اور ہم اس قضیے کو اس کے اجزاء میں تحلیل کرکے اُن اجزاء کو بغیر ثُبُوت کے تسلیم کرلیں تو یہ بھی مُغَالِطَہ ہوگا۔
ہ. کسی قضیے کے ثُبُوت کے لیے ایک ایسے قضیے کو تسلیم کرلینا جو اس کا معکوس ہو؛
اگر ہمیں کسی قضیے کو ثابت کرنا مطلوب ہو اور ہم اُس قضیے کے معکوس کو بغیر کسی ثُبُوت کے تسلیم کرلیں گے تو یہ مُغَالِطَہ ہوگا۔ مثلًا "لاہور امرت سر سے جُنُوب کی طرف ہے کیونکہ امرت سر لاہور سے شمال کی طرف ہے"، "سکندر فیلقوس کا بیٹا تھا کیونکہ فیلقوس سکندر کا باپ تھا"۔
غرضیکہ مُغَالِطَۂ انحصارِ مقدمہ بر نتیجہ کی مندرجہ ذیل پانچ صورتیں ہیں۔
١. اُسی قضیے کو تسلیم کرلینا جس کا ثابت کرنا مطلوب ہو۔
٢. کسی جُزئیہ قضیے کے ثُبُوت کے لئے ایک ایسے کُلیّہ قضیے کو تسلیم کرلینا جو اُس میں شامل ہو۔
٣. کسی کُلیّہ قضیے کے ثُبُوت کے لیے ایک ایسے کُلیّہ قضیے کو تسلیم کرلینا جو اُس میں شامل ہو۔
٤. کسی قضیے کے ثُبُوت کے لئے اُس کے ٹُکڑے کرنا اور اُنہیں ایک ایک کرکے بغیر ثُبُوت کے تسلیم کرلینا۔
٥. کسی قضیے کے ثُبُوت کے لئے اُس کے ٹکڑے کرنا اور انہیں ایک ایک کرکے بغیر ثبوت کے تسلیم کرلینا۔
٥. مُغَالِطَۂِ عِلَّت؛ مُغَالِطَۂِ عِلَّت اُس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ہم کسی ایسی چیز کو علّت تسلیم کرلیں جو دراصل علّت نہ ہو۔ باِلفاظِ دیگر یہ مُغالطہ کسی واقعے کو ایک غَلَط عِلّت کی طرف منسوب کرنے سے پیدا ہوتا ہے لیکن لفظ عِلّت کو ارسطو نے وجہ کے معنیٰ میں استعمال کیا تھا۔ لہٰذا مُغَالِطَۂِ عِلّت سے ارسطو کی مُراد وہ مُغَالِطَہ تھا جو کسی نتیجے کو، ایک ایسے قضیے کی طرف منسوب کرنے سے پیدا ہوتا ہے جس کا اُس نتیجے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ چنانچہ اس مُغالطے سے مُراد یہ ہے کہ کسی نتیجے کو ایسے مقدمہ یا مقدمات سے اخذ کرنے کی کوشش کرنا جن سے وہ اخذ نہ کیا جاسکتا ہو۔ یعنی کسی نتیجے کو کسی ایسے مقدمے کی طرف منسوب کرنا جس کے ہونے یا نہ ہونے سے اُس نتیجے پر کوئی فرق نہ پڑے۔ مثلًا ایک کمزور طالبعلم کا یہ کہنا کہ چونکہ وہ کمرۂ امتحان میں دیر سے پہنچا تھا لہٰذا وہ فیل ہوگیا (حالآنکہ اگر وہ دیر سے نہ بھی پہنچتا تو بھی وہ فیل ہوتا) یہ نتیجہ کہ "وہ فیل ہوگیا" اس مقدمہ سے کہ "وہ کمرۂ امتحان میں دیر سے پہنچا تھا" نہیں نکلتا۔
یہاں ہم نے مُغالِطَۂ عِلّت کو اسی مفہوم میں لیا ہے جس میں اسے ارسطو نے لیا تھا۔ لیکن آج کل مُغَالِطَۂِ عِلَّت اُس اِسْتِقْرَائی مُغَالِطے کا نام ہے جس میں کسی واقعہ یا حادثہ کو ایک غَلَط عِلَّت یا سبب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہم منطقِ اِستقرائیہ میں کریں گے۔
٦. مُغَالِطَۂِ تَالِی؛ ارسطو کے مطابق مُغَالِطَۂِ تَالِی اُس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ مخلوط شرطیہ قیاس میں انکارِ مقدم سے انکارِ تالی اخذ کیا جائے یا اقرارِ تالی سے اقرارِ مقدم اخذ کیا جائے۔ اگر ہم کسی شرطیہ قیاس کا سادہ عکس حاصل کرنے کی کوشش کریں یعنی یہ سمجھیں کہ جس طرح ہم مقدم سے تالی کا استنتاج کرسکتے ہیں اُسی طرح ہم تالی سے مقدم کا استنتاج کرسکتے ہیں تو یہ مُغالِطَہ لازِم آئے گا۔ مثلًا اگر بارش ہو تو زمین گیلی ہوگی اور چونکہ زمین گیلی ہے لہٰذا بارش ہوئی ہے۔ یا چونکہ بارش نہیں ہوئی لہٰذا زمین گیلی نہیں ہوگی۔ ہم اکثر یوں استِدلال کرتے ہیں کہ چونکہ ا، ب ہے لہٰذا غیر ا، غیر ب یا ب ہے۔ حالآنکہ ا، ب ہے سے صحیح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ "غیر ب، غیر ا ہے"۔ یہ کہنا مُغَالِطَہ ہے کہ چونکہ انسان فانی ہیں لہٰذا "غیرانسان غیر فانی ہیں" یا "فانی اشیاء انسان ہیں" "انسان فانی ہیں" سے صحیح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ "غیرفانی اشیاء غیرانسان ہیں"۔
اسی طرح مخلوط منفصلہ قیاس میں ایک بَدَل کے اقرار سے دوسرے بَدَل کا انکار اخذ کرنا جب کہ بَدَل آپس میں مانع نہ ہوں مُغَالِطَۂِ تَالِی کہلاتا ہے۔
چنانچہ یونانی منطقیوں کے نزدیک مُغَالِطَۂِ تَالِی سے مُراد وہ مُغَالِطَہ تھا جو مخلوط شرطیّہ قیاس میں مقدم کے انکار یا تَالِی کے اقرار سے یا قضیہ ا کے سادہ عکس سے یا مخلوط منفصلہ قیاس میں ایک بَدَل کے اقرار سے جب کہ بَدَل آپس میں مانع نہ ہوں، پیدا ہوتا ہے۔
لیکن موجودہ زمانے کے منطقیوں کے نزدیک مُغَالِطَۂ تَالِی سے مُراد ہر وہ استِدلال ہے جس میں نتیجہ دیے ہوئے مقدمات سے ہرگز حاصل نہ ہو۔ یعنی نتیجے کا اُس مقدمے یا ان مقدمات سے جن سے وہ اخذ کیا جائے کوئی تعلق نہ ہو۔ چنانچہ آج کل اس مُغالطے کو "یہ نتیجہ نہیں نکلتا" کہا جاتا ہے۔
Non-sequitor ― it does not follow
مثالیں
١. سوشلسٹوں کی تعداد بہت کم ہے لہٰذا سوشلزم ایک غَلَط عقیدہ ہے۔
٢. چونکہ دولت، محنت اور مشقت سے پیدا کی جاتی ہے۔ لہٰذا دولت، محنت اور مشقت کرنے والوں (یعنی مزدوروں) کا حصّہ ہے۔
٣. ہر آدمی خوشی کا متلاشی ہے نیک آدمی خوش ہیں۔ لہٰذا ہر آدمی نیکی کا متلاشی ہے۔
٤. وہ شخص رات کے وقت بازاروں میں پھِرتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ چور ہے۔
٥. ہندوستان میں کوئلے کی کانیں پائی جاتی ہیں۔ ہندوستان ایک خاصا بڑا مُلک ہے۔ لہٰذا ١٨٥٧ء کی جنگ ہندوستان میں ہوئی۔
مُغَالِطَۂِ تَالِی کی ایک نہایت ہی خطرناک شکل یہ کہنا ہے کہ چونکہ کسی بات کے حق میں ایک غَلَط دلیل پیش کی گئی ہے لہٰذا وہ بات غَلَط ہے یا چونکہ کسی بات کے حق میں ایک صحیح دلیل پیش کی گئی ہے لہٰذا وہ بات صحیح ہے۔
غرضیکہ مُغَالِطَۂ تَالِی اُس صورت پیدا ہوتا ہے جب کہ نتیجہ اُن مقدمات سے حاصل نہ ہوسکتا ہو جن سے وہ حاصل کیا جاتا ہے۔ یعنی نتیجے کا اُن مقدمات سے جن سے وہ حاصل کیا جاتا ہے کوئی تعلق نہ ہو۔
٧. مُغَالِطَۂِ سُوالاتِ مُرکب؛ یہ مُغَالِطَہ اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ ایک سے زیادہ سُوالات کو اکٹھا کرکے مُخاطِب کو ان کا سادہ جواب "ہاں" یا "نہ" میں دینے کے لئے کہا جائے۔ بعض اوقات سُوالات کو اس طرح اکٹھا کیا جاتا ہے کہ اُن کا "ہاں" یا "نہ" میں سادہ جواب ناممکن ہوتا ہے۔ مثلًا کیا زید اور اس کا بھائی ایماندار ہیں؟ کیا زید ایماندار اور محنتی ہے؟ کیا شہد اور حنطل میٹھے ہوتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے سُوالات میٱ دو یا دو سے زیادہ موضوعوں کو ایک محمول کے ساتھ یا دو یا دو سے زیادہ محمولوں کو ایک موضوع کے ساتھ اکٹھا کردیا جاتا ہے۔
بعض اوقات بہت سے سُوالات کو اس طرح ایک سُوال میں اکٹھا کرنے کی بجائے مُخاطِب کے سامنے ایک ایسا سُوال پیش کیا جاتا ہے جو دیکھنے میں صرف ایک ہی سُوال نظر آتا ہے لیکن اُس میں ایک اور سُوال بطور مفروضہ پنہاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسی صورت میں بھی سُوال کا جواب "ہاں" یا "نہ" میں نہیں دیا جاسکتا۔ مثلًا کیا تم نے شراب پینا چھوڑ دیا ہے؟ کیا تم نے اپنی بیوی کو پیٹنا چھوڑ دیا ہے؟ ایسے سُوالات وکلاء اور پولیس والے گواہوں اور ملزموں پر جرح کرتے وقت پوچھتے ہیں۔ مثلًا تم نے مالِ مسروقہ کہاں چھپایا تھا؟ تم چوری کرنے کے لئے گھر سے کس وقت نکلے تھے؟ اسی طرح ان سوالات میں کہ ایک مَن روئی ایک مَن لوہے سے کیوں ہلکی ہوتی ہے؟ ایک آدمی بےہوشی کی حالت میں ہوش کی حالت کی نسبت کیوں زیادہ وزنی ہوتا ہے؟ مسلمان ریاضی میں کیوں کمزور ہوتے ہیں؟ مُغَالِطَۂ سُوالاتِ مُرکّب پایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ چارلس دؤم نے رائل سوسائٹی کے ممبروں سے جب یہ سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اگر ایک زندہ مچھلی کو پانی سے بھرے ہوئے پیالے میں ڈال دیا جائے تو پانی پیالے سے باہر نہیں چھلکتا لیکن اگر ایک مُردہ مچھلی کو اسی پیالے میں ڈال دیا جائے تو پانی پیالے سے باہر چھلک جاتا ہے تو اُن ممبروں نے اس فرق کے لیے جو کہ حقیقتًا نہیں ہوتا عجیب و غریب وجوہ بیان کیں۔ سٹاک نے مُغَالِطَۂ سوالاتِ مرکب کی یہ مثال دی ہے۔ ایک شخص اپنے نیلے گھوڑے کی نمائش کررہا تھا اور ایک تماشائی نے اُس سے یہ پوچھا کہ تم نے اپنے گھوڑے کو کس چیز سے رنگ کیا ہے؟ ارسطو کہتا ہے کہ "ایسی حالت میں مختلف سوالات کو اُن کے اجزاء میں تحلیل کردینا چاہیے۔ صرف ایک سوال کا ایک جواب ہوسکتا ہے۔ اس لئے ایک جواب میں نہ تو مختلف محمولوں کا ایک موضوع کے متعلق اور نہ مختلف موضوعوں کا ایک محمول کے متعلق، بلکہ صرف ایک محمول کا ایک موضوع کے متعلق، اقرار یا انکار کرنا چاہئیے"۔
حرفِ آخر؛ ہم نے مغالطے کی اُن مختلف اقسام کا جنہیں روایتی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور جنہیں آج کل بھی اُن کے روایتی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے مطالعہ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ مغالطوں کی یہ فہرست مکمّل نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جن مُغالطوں کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ ایک دوسرے سے بالکل علـٰحدہ نہ ہوں۔ لیکن مغالطوں کے تمام اہم شکلیں انہی اقسام پر مشتمل ہیں۔ یاد رہے کہ مغالطے کی یہ تمام اقسام ایک جیسی عام اور اہم نہیں اور ایک ہی مُغالطہ مختلف نقطہائے نظر سے مختلف اقسام کے تحت لایا جاسکتا ہے۔ یہ مغالطے نہایت خطرناک ہیں اور ان سے بچنے کے لئے منطق ہمیں کوئی خاص قواعد نہیں دے سکتی۔ یہ محض ہمیں ان کی موجودگی سے خبردار کرسکتی ہے۔ ان مغالطوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سچائی کے لئے مخلص اور بے لاگ محبت رکھیں۔
خُدا کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ نہ تو کسی کو دھوکا دیتا ہے اور نہ کسی کے دھوکے میں آتا ہے۔ انسان کو جو خُدائی صفات کا بہترین مظہر ہے چاہیے کہ وہ اپنے اندر دو صفات کو پیدا کرے۔ اُسے چاہیے کہ وہ اپنے تمام دلائل میں سچائی، پوری سچائی اور صرف سچائی کو مدِّ نظر رکھے۔ اس طرح اس مقصد کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اُسے چاہیے کہ جو کچھ وہ اوروں سے سُنے اُس کی اچھی طرح جانچ کرے۔ اِس طرح وہ اوروں کے مُغالِطوں کو پکڑ سکے گا اور اُن کے دھوکے میں نہیں آئے گا۔
حل شُدہ مثالیں
سُوال؛ مندرجہ ذیل دلائل میں کون سے مُغالطے ہیں؟
١. وہ لائل پور اور پھر کراچی پاکستان میل سے گیا
(مُغَالِطَۂِ اِبہام)
٢. تم نے کل اتنی لمبی تقریر کیوں کی تھی؟
(مُغَالِطَۂِ سَوَالَاتِ مُرَکَّب)
٣. وہ زید کی بیوی ہے کیونکہ زید اُس کا شوہر ہے
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٤. جو کُچھ ہم پیدا کرتے ہیں وہ دولت ہوتی ہے، پولیس والے مُلزِم پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے پولیس والے دولت پیدا کرتے ہیں۔
(مُغَالِطَۂِ مُبْہَم حَدِّ اَوْسَط)
٥. کسی کے پیٹ میں چاقو گھونپنا ایک جُرم ہے۔ اس لئے آپریشن کرنے والے ڈاکٹر مُجرم ہیں
(مُغَالِطَۂِ شۓِ دیگر)
٦. خُدا ترس لوگ غریبوں کی مدد کرتے ہیں لیکن تم چونکہ خُدا ترس نہیں، اس لئے تم غریبوں کی مدد نہیں کرو گے
(مُغَالِطَۂ تَالِی)
٧. اگر تم ایسی باتیں کرو گے تو اپنے آپ کو احمق ثابت کرو گے کیونکہ ایسی باتیں احمق ہی کرتے ہیں
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٨. یہ دستاویز بغیر ٹکٹ کے ہے۔ کُچھ بغیر ٹکٹ کے دستاویزات صحیح ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ دستاویز صحیح ہے
(مُغَالِطَۂِ غیر جامعِ حَدِّ اَوْسَط)
٩. یُو این اُو آخر افراد ہی کی ایک کمیٹی ہے، اور کیونکہ ہر فرد غَلَطی کرسکتا ہے لہٰذا افراد کی یہ کمیٹی بھی غَلَطِی کرسکتی ہے
(مُغَالِطَۂِ ترکیب)
١٠. جھُوٹ بولنا ایک بُرا کام ہے، اور چونکہ نوکر نے اپنے مالک کی دولت بچانے کے لئے چوروں کے سامنے جھوٹ بولا لہٰذا اُس نے ایک بُرا کام کیا
(مُغَالِطَۂِ شۓِ دیگر)
١١. تمہارا بھائی ایک آدمی ہے اور چونکہ میں ایک آدمی ہوں لہٰذا میں تمہارا بھائی ہوں
(مُغَالِطَۂِ عَرَض)
١٢. تم خود ہی تو اتنے سالوں سے مُسلم لیگ کا کام کرتے رہے ہو اور اب تم مسلم لیگ کی مخالفت کرتے ہو
(مُغَالِطَۂِ دَلِیْلِ شَخْصِیت)
١٣. مجھ پر یہ الزام لگا دیا جاتا ہے کہ میں نے مجمع کو اپنی تقریر سے اُکسایا۔ لیکن جب فردًا فردًا کوئی شخص ان الفاظ سے اُکسایا نہیں جاسکتا تو سارا مجمع ان الفاظ سے کیسے اُکسایا جاسکتا تھا؟
(مُغَالِطَۂِ ترکیب)
١٤. اگر بارش ہو تو فصلیں اچھی ہوں گی اور چونکہ بارش نہیں ہوئی لہٰذا فصلیں اچھی نہیں ہوں گی
(مُغَالِطَۂِ اِنْکَارِ مُقَدِّم)
١٥. ہم جو کھاتے ہیں وہ کھیتوں میں اُگتا ہے، ہم جو کھاتے ہیں وہ روٹی ہے لہٰذا روٹی کھیتوں میں اُگتی ہے
(مُغَالِطَۂِ عَرَض)
١٦. یہ سپاہی بلوچ رجمنٹ کا ہے اور چونکہ بلوچ رجمنٹ ایک دلیر رجمنٹ ہے لہٰذا یہ سپاہی بھی دلیر ہوگا
(مُغَالِطَۂِ تجزیہ)
١٧. ملیریا مچھر سے پھیلتا ہے، مچھر ایک اِسم ہے۔ لہٰذا ملیریا ایک اسم سے پھیلتا ہے
(مُغَالِطَۂِ مُبْہَم حَدِّ اَوْسَط)
١٨.
رِندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
(مُغَالِطَۂِ دَلِیْلِ شَخْصِیت)
١٩. حرکت کرنے والی اشیاء ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں کیونکہ حرکت جاذِبِ توجہ ہے
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٢٠. تمام دھاتیں مُفردات ہیں اس لیے سب سے کمیاب دھات سب سے کمیاب مُفرد ہے
(مُغَالِطَۂِ عَرَض)
٢١. تمام آدمی یہ کام کرسکتے ہیں، لہٰذا ہر آدمی یہ کام کرسکتا ہے
(مُغَالِطَۂِ تجزیہ)
٢٢. ایک ایسے چولہے کے استعمال سے ایندھن کے آدھے خرچ کی بچت ہوتی ہے۔ لہٰذا دو ایسے چولہوں کے استعمال سے ایندھن کے تمام خرچ کی بچت ہوگی
(مُغَالِطَۂِ ترکیب)
٢٣. آپ کو چاہیے کہ اس مجرم کو سزا نہ دیں کیونکہ اس کا باپ ایک نیک آدمی تھا
(مُغَالِطَۂِ نتیجۂ غیر متعلق)
٢٤. تمہیں کوئی ایسا عقیدہ نہیں رکھنا چاہیے جو تمہارے بزرگوں کے عقیدے کے خلاف ہو
(مُغَالِطَۂِ دلیلِ احترام)
٢٥. آج کل شرر کے ناول مقبول نہیں ہیں کیونکہ آج کل شرر کے ناول نہیں پڑھے جاتے
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٢٦. گھوڑے چار ٹانگیں رکھتے ہیں اور میز بھی چار ٹانگیں رکھتے ہیں لہٰذا میز گھوڑے ہیں
(مُغَالِطَۂِ عَرَض)
٢٧. اگر ہر آدمی اپنا تمام وقت مطالعہ کو دے گا تو دنیا کا کام کس طرح چلے گا لہٰذا کسی آدمی کو اپنا تمام وقت مطالعہ کو نہیں دینا چاہیے
(مُغَالِطَۂِ تجزیہ)
٢٨. وہ شخص فرشتوں سے باتیں کرتا ہے کیونکہ وہ خود یہ بات کہتا ہے اور وہ جھوٹ نہیں بولتا کیونکہ جو شخص فرشتوں سے باتیں کرتا ہے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٢٩. پاگل خانوں میں رہنے والوں میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو لکھ اور پڑھ سکتے ہیں لہٰذا تعلیم پاگل پَن کا سبب ہے
(مُغَالِطَۂِ عِلَّت)
٣٠. جو کام ایک آدمی کرسکتا ہے وہ کام ہر آدمی کرسکتا ہے ہرکولیز ایک آدمی تھا لہٰذا جو کام وہ کرسکتا ہے وہ کام ہر آدمی کرسکتا ہے
(مُغَالِطَۂِ عَرَض)
٣١. ضرورت ہے ایک کلرک کی جو انگریزی لکھ اور پڑھ سکے دو سال کے لئے
(مُغَالِطَۂِ اِبْہَام)
٣٢. وہ شخص مُجرم ہے کیونکہ اُس نے جُرم کیا ہے
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٣٣. چوہا ایک جانور ہے لہٰذا ایک بڑا چوہا ایک بڑا جانور ہے
(مُغَالِطَۂِ عَرَض)
٣٤. تم نے ضرور مجھے بددعا دی ہوگی کیونکہ جونہی تم میرے گھر سے اُٹھ کر گئے میرے گھر پر بجلی گِر پڑی
(مُغَالِطَۂِ عِلَّت)
٣٥. یہ آدمی ناقابلِ اعتبار ہے کیونکہ یہ خودغرض ہے
(مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیر متعلّق)
٣٦. ہر آدمی آزاد ہونا چاہیے کیونکہ آزادی ہر آدمی کا حق ہے
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٣٧. تم مجھے وہ روپیہ کب واپس کرو گے جو تم نے مجھ سے اُدھار لیا تھا؟
(مُغَالِطَۂِ سُوالاتِ مُرَکب)
٣٨. میرے مؤکّل پر قتل کا الزام لگایا گیا ہے لیکن اُس کے خلاف جو استغاثہ کی شہادت ہے وہ بہت سی باتوں پر مشتمل ہے اور اگر اُن سب باتوں کو علـٰحدہ علـٰحدہ لیا جائے تو قتل کا الزام ثابت نہیں ہوتا لہٰذا استغاثہ کی شہادت، قتل کو ثابت نہیں کرتی
(مُغَالِطَۂِ ترکیب)
٣٩. چھ اور تین دو عدد ہیں، نو، چھ اور تین ہے لہٰذا نو دو عدد ہے
(مُغَالِطَۂِ ترکیب)
٤٠. تمہاری تجویز ردّ کردینے کے قابل ہے کیونکہ اس کے خلاف کُچھ اعتراضات ہیں
(مُغَالِطَۂِ اعتراضات)
٤١. جنگ سے بُرائیاں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ امن سے اچھائیاں پیدا ہوتی ہیں
(مُغَالِطَۂِ اِنْحِصارِ مُقَدِّمَہ بر نتیجہ)
٤٢. وہ کہتا ہے کہ اُس نے اِن چیزوں کی چوری نہیں کی لیکن میں کہتا ہوں کہ اُس نے اُن چیزوں کو کیوں چھُپایا
(مُغَالِطَۂِ سوالاتِ مُرَکّب)
٤٣. چونکہ ہر آدمی خوشی کا متلاشی ہے لہٰذا ہر آدمی نیکی کا متلاشی ہے
(مُغَالِطَۂِ تَالِی)
٤٤. جو آدمی کسی کو دانستہ طور پر قتل کرتا ہے اُسے سزائے موت دینا چاہیے۔ چونکہ جنگ میں فوجی دانستہ طور پر دوسروں کو قتل کرتے ہیں لہٰذا انہیں سزائے موت دینا چاہیے
(مُغَالِطَۂِ شَیءِ دیگر)
٤٥. شیکسپیئر کے تمام ڈرامے ایک دن میں نہیں پڑھے جاسکتے لہٰذا اس کا کوئی ڈرامہ بھی ایک دن میں پڑھا نہیں جاسکتا
(مُغَالِطَۂِ تجزئیہ)
٤٦. ڈاکٹر مریضوں کی مدد کرتے ہیں اور اُن سے روپیہ لیتے ہیں اگر اس میں کوئی بُری بات نہیں تو رشوت خوروں کے روپیہ لے کر کوئی کام کرنے میں بھی بُری بات نہیں
(مُغَالِطَۂِ شَیءِ دیگر)
٤٧. جَرمن لوگ ایک دلیر قوم ہیں لہٰذا یہ جرمن بھی دلیر ہے
(مُغَالِطَۂِ تجزیہ )
٤٨. بچّے لاڈ سے بگڑ جاتے ہیں بڑا ہو کر زید ایک اچھا انسان بنے گا کیونکہ اُس کا باپ اُسے ہر روز پیٹتا ہے
(مُغَالِطَۂِ تَالِی)
٤٩. میں کہتا ہوں کہ نظریۂ ارتقا بالکل صحیح ہے اور گر تم میری بات نہیں مانتے تو اسے غَلَط ثابت کرو
(مُغَالِطَۂِ دلیلِ لاعلمی)
٥٠. زید بُرا ہے، زید کھلاڑی ہے لہٰذا زید ایک بُرا کھلاڑی ہے
(مُغَالِطَۂِ ترکیب)
٥١. ڈاکٹر کہتے ہیں کہ صحت کا خیال رکھنا چاہیے لیکن وہ خود صحت مند کیوں نہیں ہوتے
(مُغَالِطَۂِ دلیلِ شخصیّت)
٥٢. زید ایک بُرا کھلاڑی ہے، لہٰذا زید بُرا ہے اور کھِلاڑی ہے
(مُغَالِطَۂِ تجزیہ)
٥٣. فلسفہ ایک بےکار مضمون ہے کیونکہ یہ دنیاوی کاموں میں مفید نہیں
(مُغَالِطَۂِ نتیجۂِ غیر متعلّق)
٥٤. کیونکہ مجھے راستے میں بلّی مل گئی، لہٰذا میں اپنے کام میں کامیاب نہ ہوسکا
(مُغَالِطَۂِ عِلَّت)
٥٥. کیا تم اپنا مذہب چھوڑنا چاہتے ہو؟ یہ غَلَطی ہرگز نہ کرنا ایسے مذہب کو ہرگز نہ چھوڑنا جسے بڑے بڑے آدمیوں نے اختیار کیا تھا
(مُغَالِطَۂِ دلیلِ احترام)
٥٦. کسی کی جان لینا ظُلم ہے۔ لہٰذا گوشت کھانے والے ظالم ہیں
(مُغَالِطَۂِ شَیءِ دیگر)
٥٧. یہ محکمہ بہت بُرا ہے اور چونکہ یہ آدمی اس محکمے کا ہے لہٰذا یہ آدمی بہت بُرا ہے
(مُغَالِطَۂِ تجزیہ)
٥٨. ایک سَیر روئی ایک سیر لوہے سے کیوں ہلکی ہوتی ہے
(مُغَالِطَۂِ سُوالاتِ مُرَکّب)
٥٩. کسی شے کی انتہاء اس کا کمال ہے، موت زندگی کی انتہا ہے لہٰذا موت زندگی کا کمال ہے
(مُغَالِطَۂِ مُبہَم حَدِّ اَوْسَط)
٦٠. جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں لہٰذا جو نہیں گرجتے ہ برستے ہیں
(مُغَالِطَۂِ تالی)
فقط سُہیل طاہر، سیالکوٹ
منطقِ استخراجیہ کے اسباق
صفحات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں