تعمیم
تئیسواں باب
تعمیم
GENERALIZATION
What is Generalization? تعمیم کیا ہے؟
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطقِ اِستِقرائیہ کی بُنیاد حقائق پر ہوتے ہیں لیکن یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک حقائق کی تعمیم نہ کی جائے۔ جُزئ حقائق سے شروع ہوکر منطقِ اِستِقرائیہ کُلیّہ قضیوں تک پہنچتی ہے۔ اسی عمل کو عملِ تعمیم کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک پتھر ہَوَا میں اُچھالا جائے تو وہ زمین کی طرف گِرتا ہے اس سے اگر ہم یہ نتیجہ نکال لیں کہ "تمام پتھر یا مادّی اشیاء زمین کی طرف گِرتی ہیں" تو یہ تعمیم ہوگی۔ اسی طرح چند سیّاہ کوؤں کو دیکھ کر یہ کہنا کہ "تمام کوّے سیاہ ہوتے ہیں" تعمیم کی مثال ہے۔ چنانچہ جُزئ حقائق یا انفرادی مثالوں سے کلیّہ قضیوں کو بطور نتائج اخذ کرنا تعمیم کہلاتا ہے۔ دوسری لفظوں میں تعمیم کا مطلب ہے خاص سے عام کی طرف یا جُزئیات سے کُلیّات کی طرف یا "کُچھ" سے "تمام" کی طرف جانا۔
تعمیم منطقِ اِستِقرائیہ کی ایک نہایت ضروری خُصُوصیّت ہے۔ بقول مِل منطقِ اِستِقرائیہ کی تکمیل تعمیم ہی سے ہوتی ہے۔
Kinds of Generalization تعمیم کی قسمیں
تعمیم کی دو قسمیں ہیں؛
Scientific Generalization ١. علمی تعمیم
Empirical Generalization ٢. تجربی تعمیم
علمی تعمیم؛ علمی تعمیم وہ تعمیم ہوتی ہے جو حقائق کے باہمی عِلّتی رشتوں پر مبنی ہو۔ مثال کے طور پر اگر ہماری یہ تعمیم کہ "تمام جگالی کرنے والے جانوروں مے کھُر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں"، "جگالی کرنے والوں" اور "کھُروں کے پھٹا ہوا ہونے" کے علّتی رشتے پر مبنی ہو تو یہ علمی یا صحیح تعمیم ہوگی۔ اسی طرح اگر یہ تعمیم کہ "تمام کُتّے وفادار ہوتے ہیں"، "کُتاپَن" اور "وفاداری" کے باہمی عِلّتی رشتے پر مبنی ہو تو یہ ایک علمی یا صحیح تعمیم ہوگی۔ بسّااوقات ہم جلدبازی سے اور بغیر عِلّتی رشتوں کی جانچ پڑتال کے تعمیم قائم کرلیتے ہیں۔ مثلًا اگر کسی نووارِد کو ایک شہر میں کُچھ دھوکے باز مل جائیں اور وہ اس شہر کے تمام باشندوں کو دھوکے باز سمجھنا شروع کردے تو یہ ایک علمی یا صحیح تعمیم نہیں ہوگی۔ جلد بازی میں قائم کی ہوئی تعمیم یعنی ایسی تعمیم جس کی بُنیاد حقائق کے باہمی عِلّتی رشتوں پر نہ ہو علمی تعمیم نہیں کہلا سکتی۔
تجربی تعمیم؛ تجربی تعمیم کی بُنیاد عِلّتی رشتوں کی بجائے تجربے پر ہوتی ہے۔ ہم دو حقائق کو ہمیشہ اکٹھا دیکھتے ہیں اور اس بنا پر تعمیم قائم کرلیتے ہیں۔ مثلًا ہم آموں کی سُرخی اور مٹھاس کو ہمیشہ اکٹھا دیکھتے ہیں اور اس سے یہ تعمیم قائم کرلیتے ہیں کہ "تمام سُرخ آم میٹھے ہوتے ہیں" لیکن چونکہ تجربی تعمیم حقائق کے باہمی علّتی رشتوں پر مبنی نہیں ہوتی اس لئے وہ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ وہ کیوں اکٹھے پائے جاتے ہیں۔جہاں تک ہمارے تجربے کا سوال ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ "تمام کوّے سیاہ ہیں"، "تمام جگالی کرنے والے جانوروں کے کھُر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں"، "تمام کُتّے وفادار ہیں"، "تمام بگلے سفید ہیں"، لیکن اگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہے یعنی اگر ان حقائق کے باہمی عِلّتی رشتوں کو ثابت نہ کیا جائے تو ایسی تعمیم تجربی ہوگی۔ چنانچہ تجربی تعمیم وہ تعمیم ہوتی ہے جو عِلّتی رشتوں کی بجائے محض تجربے پر مبنی ہو۔
Basis of Generalization تعمیم کی بُنیاد
تعمیم سے مُراد ہے جُزئ حقائق سے عُمُومی قوانین کی طرف جانا۔ یعنی "کُچھ" سے "تمام" کی طرف جانا۔ اب یہاں سُوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک جماعت کے چند افراد کے مُشاہدے کے بعد اُس تمام جماعت کے بارے میں کس طرح فیصلہ دے سکتے ہیں؟ یعنی ہم کس بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ جو "بات" کُچھ کے متعلق درست ہے وہی بات "تمام" کے متعلق بھی درست ہوگی؟ ہم آگ کے جلنے کی چند مثالیں دیکھ کر ان سے یہ نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں کہ "آگ ہمیشہ جلتی ہے"۔ پانی کو چند مرتبہ نیچے کی طرف بہتا دیکھ کر یہ تعمیم قائم کرلیتے ہیں کہ "پانی ہمیشہ نیچے کی طرف بہتا ہے"۔ ایک پتھر کو زمین کی طرف گِرتے دیکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ "تمام مادّی اشیاء زمین کی طرف گرتی ہیں" ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر آگ کبھی جلے اور کبھی نہ جلے۔ اگر پانی کبھی نیچے کی طرف بہے اور کبھی اُوپر کی طرف۔ اگر مادّی اشیاء کبھی زمین کی طرف گریں اور کبھی آسمان کی طرف اُڑ جائیں تو ہمارے لئے تعمیم بالکل ناممکن ہوجائے۔ ہم فطرت کے حقائق کے بارے میں اس لیے تعمیمیں قائم کرسکتے ہیں کہ فطرت میں یکسانی پائی جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تعمیم ممکن ہی نہ ہوتی۔ تعمیم کی بنیاد ہمارے اس عقیدے پر ہے کہ قدرت ہمیشہ یکساں رہتی ہے اور ہر معلول کے لئے عِلّت اور یکساں معلول کے لئے یکساں عِلّت کا ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ ہم جُزئ مثالوں کی بنیاد پر قانونِ عِلّت اور قانونِ یکسانئ فطرت کا سہارا لیتے ہوئے تعمیم قائم کرتے ہیں۔
علاوہ بریں اگر فطرت کے مختلف حقائق آپس میں غیر متعلق ہوتے تو اس صورت میں بھی تعمیم ممکن نہ ہوتی۔ ہم "کُچھ" سے "تمام" کی طرف اسی لیے جاسکتے ہیں کہ فطرت ایک "نظام" ہے۔ یعنی ایک ایسا کُل ہے جس کے مختلف اجزاء آپس میں متعلق ہیں چونکہ فطرت ایک وحدت ہے یعنی ایک ایسی منظم کائنات ہے جس کے اجزاء میں ربط اور اتحاد پایا جاتا ہے اسی لیے ہم اجزاء کو دیکھ کر کُل کے متعلق استنتاج کرسکتے ہیں اور اسی عمل کا نام تعمیم ہے۔ چنانچہ وحدتِ فطرت تعمیم کی بُنیاد ہے۔
تعمیم اور اِستِقراء تام
Generalization and Perfect Induction
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ اِستِقراءِ تام جُزئ مُشاہدات کا محض خُلاصہ ہوتا ہے اور اُن سے آگے نہیں بڑھتا۔ اس کے برعکس تعمیم خاص سے عام کی طرف۔ مُشاہدہ شدہ سے غیر مشاہدہ شدہ کی طرف۔ "کُچھ" سے "تمام" کی طرف جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس میں اِستِقرائی زَقَند پائی جاتی ہے جو اِستِقراءِ تام میں مفقود ہوتی ہے۔ اِستِقراءِ تام میں ہم کُلیّہ نتیجے کے دائرے میں آنے والی تمام مثالوں کا مُشاہدہ کرکے کُلیّہ نتیجے کو مُرتب کرتے ہیں چونکہ اس میں منطقِ اِستِقرائیہ کی ایک ضروری خُصُوصیّت (اِستِقرائی زَقَند یعنی "کُچھ" سے "تمام" کی طرف جانا) نہیں پائی جاتی اس لیے علمی نُقطۂ نظر سے اس کی کوئی اہمیّت نہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں