حُدود اور ان کی اَقسام
تیسرا باب
منطق کی تقسیم
حُدود اور ان کی اقسام
حد کسے کہتے ہیں؟ ایک قضیہ جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں موضوع، محمول اور نسبتِ حکمیہ سے مرکب ہوتا ہے۔ کسی قضیہ کے موضوع اور محمول کو حُدود یا اطراف کہتے ہیں۔ "انسان فانی ہے" اس قضیے میں انسان اور فانی حدود ہیں۔ اسی طرح "پنجاب یونیورسٹی کا موجودہ وائس چانسلر مسلمان ہے"۔ اس قضیے میں پنجاب یونیورسٹی کا موجودہ وائس چانسلر اور مسلمان حدود ہیں۔ ہر قضیے میں دو حدیں ہوتی ہیں۔ ایک موضوع اور دوسرا محمول، موضوع قضیے کے ایک سرے پر ہوتا ہے اور محمول دوسرے پر۔ اسی لیے انہیں حُدود یا اطراف کہتے ہیں۔ چنانچہ حدّ اس لفظ یا الفاظ کے مجموعے کو کہتے ہیں جو کسی قضیے میں بطور موضوع یا محمول استعمال ہوسکے۔
ہم نے کہا ہے کہ بسا الفاظ یا مجموعۂ الفاظ جو کسی قضیے میں موضوع یا محمول کام دے سکے حدّ کہلاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ تمام حُدود تو الفاظ ہوتی ہیں مگر تمام الفاظ حُدود نہیں ہوتے۔ صرف وہی الفاظ حُدود کہلا سکتے ہیں جو کسی قضیے میں بطور موضوع یا محمول استعمال ہوسکیں۔ الفاظ کی تین قسمیں ہیں۔
اَوَّل وہ جو بذاتِ خود حُدود ہیں۔ یعنی کسی قضیے کا موضوع یا محمول بن سکتے ہیں۔ مثلًا انسان، گھوڑا، کتاب، میز وغیرہ وغیرہ۔
سوم وہ الفاظ، جو نہ تو بذاتِ خود حُدود ہیں اور نہ دوسرے الفاظ سے مل کر حدود بن سکتے ہیں۔ مثلًا اسم تاسُف، آہ، اوہ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے الفاظ بطور حدود قطعًا استعمال نہیں ہوسکتے۔
الغرض حد اس لفظ یا الفاظ کے مجموعے کو کہتے ہیں جو کسی قضیے میں بطور موضوع یا محمول استعمال ہوسکے۔
حُدود کی قسمیں:۔ حدود کی مندرجہ ذیل مختلف قسمیں ہیں۔ جن کا ہم ایک ایک کرکے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔
١. یک لفظی اور کثیر لفظی حُدود
یک لفظی حدود وہ حدود ہیں جن میں صرف ایک لفظ ہی ہوتا ہے۔ جیسے کِتاب، قلم، شہر، لاہور، وغیرہ وغیرہ۔ کثیر لفظی حدود وہ حدود ہیں جن میں ایک سے زائد الفاظ ہوتے ہیں۔ جیسے میری کتاب، ہمارا شہر، پنجاب یونیورسٹی کا لیکچرار وغیرہ وغیرہ۔
٢. یک معنیٰ اور ذو معنیٰ حُدود
یک معنیٰ حدود وہ حدود ہیں جو صرف ایک ہی معنیٰ میں استعمال ہوسکتی ہیں۔ مثلًا روپیہ، طالبعلم، بھائی، بہن وغیرہ وغیرہ۔ ذو معنیٰ حدود وہ حدود ہیں جو ایک سے زیادہ معنیٰ میں استعمال ہوسکتی ہیں۔ مثلًا راست، قلم، عرض، مُہر، چشمہ، سونا، زبان، بال، حرف وغیرہ وغیرہ۔ بہت سی حدود سرسری طور پر دیکھنے میں یک معنیٰ معلوم ہوتی ہیں مگر غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذو معنیٰ ہیں۔ صحیح اور صاف فکر کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمیں حُدود کے مختلف معانی علم ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ کوئی حد کس معنیٰ میں استعمال ہورہی ہے۔
٣. معرفہ اور نکرہ حُدود
حدودِ معرفہ وہ حدود ہیں جن سے مُراد ایک مفہوم میں صرف ایک ہی شے ہو، مثلًا لاہور، میری کتاب، پاکستان کا دارالخلافہ۔ یہ میز، وہ کُرسی، وغیرہ وغیرہ۔ حُدودِ نکرہ وہ حدود ہیں جو ایک ہی مفہوم میں کسی جماعت کے ہر فرد کی طرف اشارہ کرتی ہیں مثلًا انسان، کتاب، میز، شہر وغیرہ وغیرہ لفظ شہر دنیا کے کروڑہا شہروں میں سے کسی شہر کے لئےاستعمال ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کتاب سے مُراد کوئی کتاب ہوسکتی ہے۔
حُدودِ معرفہ کی دو قسمیں ہیں اول اسماء خاص جیسے لاہور اور دوم اسماء عَلَم جیسے پاکستان کا دارالحکومت (اسلام آباد)۔ بعض اوقات حدودِ نکرہ بطور حدود معرفہ استعمال کی جاتی ہیں۔ مثلًا کالج، پرنسپل، ابّا حُدودِ نکرہ ہیں مگر مندرجہ ذیل قضیوں میں یہ حُدودِ معرفہ ہیں۔
آج کالج بند ہے (یہاں کالج سے مُراد ہمارا کالج ہے)
ابّا آگئے ہیں (یہاں ابّا سے مُراد ہے میرے ابّا)
پرنسپل صاحب ابھی باہر گئے ہیں (یہاں پرنسپل سے مُراد ہے ہمارے پرنسپل)
اسی طرح حدود معرفہ بھی بعض دفعہ بطور حدودِ نکرہ استعمال ہوسکتی ہیں مثلًا شیکسپیئر، پیرس وغیرہ وغیرہ حدودِ معرفہ ہیں مگرمندرجہ ذیل قضیوں میں یہ حُدودِ نکرہ ہیں۔
کالی داسؔ ہندوستان کا شیکسپیئر تھا۔
کراچی پاکستان کا پیرسؔ ہے۔
ان قضیوں میں کالی داسؔ اور کراچی تو حدود معرفہ ہیں مگر شیکسپیئر اور پیرس حدودِ نکرہ ہیں۔
٤. مجموعی اور جُزئی حدود
مجموعی حدود وہ حُدود ہیں جو کسی جماعت کے ہر فرد کے لئے استعمال ہونے کی بجائے پوری جماعت کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن جُزئی حُدود وہ حُدود ہیں جو کسی جماعت کے ہر فرد کے لئے استعمال ہوسکتی ہیں۔ مجموعی حُدود میں افراد کی ایک جماعت یا مجموعے کو فرد تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثلًا کُتُب خانہ حدِّ مجموعی ہے۔ یہ حَدّ ہر ایک کتاب کے لئے استعمال نہیں ہوتی بلکہ کتابوں کے صرف اس مجموعے کے لئے استعمال ہوتی ہے جسے کُتب خانہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح قوم، فوج، کمیٹی، جماعت، برادری، جنگل وغیرہ وغیرہ مجموعی حدود ہیں۔ لیکن میز، کُرسی، آدمی، سپاہی، قلم، درخت وغیرہ وغیرہ جُزئی حُدود ہیں۔ درخت ایک جُزئی حَدّ ہے کیونکہ یہ ہر درخت کے لئے استعمال ہوسکتی ہے۔ لیکن "یہ درخت" جُزئی حَدّ نہیں ایک جُزئی حُد وہ حد ہوتی ہے جو کسی جماعت کے ہر فرد کے لئے استعمال ہوسکے اور "یہ درخت" ایک ایسی حَدّ ہے۔ جو درختوں کی جماعت کے ہر فرد کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ بلکہ ایک فردِ واحد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایسی حد کو حَدِّ واحد کہتے ہیں۔ یہ آدمی، لاہور، سورج، چاند، دنیا، دنیا کا سب سے لمبا دریا، سفید وغیرہ وغیرہ حُدودِ واحد ہیں۔
٥. مثبت، منفی اور سلبی حُدود
حَدِّ مثبت وہ حد ہوتی ہے جو کسی شے یا صفت کی موجودگی کو ظاہر کرے۔ لائق، مسلم، دیانت، اعتماد، عقل، شخص وغیرہ وغیرہ مثبت حُدود ہیں۔ حَدِّ منفی وہ حَدّ ہوتی ہے جو کسی شےء یا صفت کی عَدَم موجودگی کو ظاہر کرے۔ نالائق، غیرمسلم، بددیانت، عدم اعتماد، بے عقل، غیرشخص وغیرہ وغیرہ منفی حُدود ہیں۔ حَدِّ سلبی وہ حد ہے جو کسی شےء کے متعلق ایک ایسی صفت کی غیرحاضری کو ظاہر کرے جو عام طور پر اس شۓ میں پائی جاتی ہے۔ اندھا، بہرا، گونگا، لنگڑا حُدودِ سلبی ہیں۔ان حُدود سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی شے ایک ایسی صفت سے محروم ہے جو اس شے میں پہلے موجود تھی یا عمومًا موجود ہوتی ہے مثلًا لفظ اندھا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک جانور جو بینائی رکھتا ہے اب بینائی سے محروم ہے۔ ہم شےء کے متعلق لفظ اندھا استعمال کرتے ہیں جو بینائی کے قابل ہوتی ہے اور اب بینائی نہ رکھتی ہو۔ ہم ایک پتھر کو "اندھا" نہیں کہتے کیونکہ پتھر قوتِ بینائی رکھ ہی نہیں سکتا۔
منفی حدود میں نفی کی نشانی ہوتی ہے جیسے غیر، ان، بے، وغیرہ وغیرہ لیکن کسی حدّ کے متعلق یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ وہ منفی ہے یا مثبت ہمیں اس کی ظاہری شکل پر نہیں جانا چاہیے بلکہ اس کا مفہوم دیکھنا چاہیے۔ بعض حدود دیکھنے میں مثبت نظر آتی ہیں اور ان کے ساتھ کوئی نفی کی نشانی نہیں ہوتی لیکن وہ بلحاظِ مفہوم نفی ہوتی ہیں۔ جیسے شک، کاہل، کنوارا، اجنبی وغیرہ وغیرہ۔ ہم کنوارا ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو شادی شُدہ نہ ہو۔ اسی طرح شک یقین کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح اَن گِنت، بےبہا، بےحد یہ حدود دیکھنے میں منفی نظر آتی ہیں مگر مفہوم کے لحاظ سے مثبت ہیں۔
حدودِ منفی کی تعبیر کا فکر بالواسطہ ہوتا ہے۔ جب ہم لفظ "غیرسفید" سُنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں پہلے ان اشیاء کا خیال آتا ہے جو سفید ہیں اور بعد میں ان اشیاء کا جو غیرسفید ہیں۔ لفظ کتاب سے ہمارے ذہن میں فورًا ان اشیاء کا خیال آجاتا ہے جنہیں کتاب کہتے ہیں۔ چنانچہ حدودِ مثبت کی تعبیر کا فکر بلاواسطہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ سوال کہ ہمارے ذہن میں مثبت اور منفی حدود کا تصّور کس طرح آتا ہے دراصل نفسیات کا سوال ہے۔
حُدود کے مثبت اور منفی ہونے کے متعلق علمائے منطق میں اختلاف ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ مثبت اور منفی حدود کا اختلاف بےمعنیٰ ہے۔ چونکہ کسی مثبت حد کا تصور منفی حد کے بغیر اور کسی منفی حد کا تصور کسی مثبت حد کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا، لہٰذا وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک مثبت حدّ کا تصور لازمی طور پر ایک منفی حد کا تصور ہوتا ہے اور ایک منفی حدّ کا تصور لازمی طور پر ایک مثبت حد کا تصور ہوتا ہے۔ اثبات میں نفی کا تصور اور نفی میں اثبات کا تصور لازمی ہے۔ مثلًا مسلم کے تصور میں غیرمسلم کا تصور پایا جاتا ہے اور غیرمسلم کے تصور میں مسلم کا تصور پایا جاتا ہے۔ بعض منطقی یہ بھی کہتے ہیں کہ حدود مثبت اور منفی نہیں ہوسکتیں یعنی ان کے مثبت یا منفی ہونے کا تصور حدود کا وہ تصور نہیں ہوتا بلکہ قضیوں کا تصور ہوتا ہے۔
یہ تمام بحث کسی حد تک علم نفسیات سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ مسئلہ کہ اثبات کے تصوّر کا عمل اور اصل نفی کے تصور کا عمل ہوتا ہے اور نفی کے تصوّر کا عمل دراصل اثبات کے تصور کا عمل ہوتا ہے اور اسی طرح یہ مسئلہ کہ حدود کا تصوّر دراصل ذہن میں قضیوں کا تصور ہوتا ہے، نفسیات کے مسائل ہیں۔ منطق کے ایک مبتدی کے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ حدود اپنے مفہوم کے لحاظ سے مثبت اور منفی ہوسکتی ہیں اور ان کے مثبت اور منفی ہونے کا انحصار ان کی ظاہری شکل یا صورت پر نہیں ہوتا بلکہ ان کے معنیٰ یا مفہوم پر ہوتا پے۔
٦. ذاتی اور صفاتی حُدود
ذاتی حُدود وہ حدود ہیں جو اشیاء کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ آدمی، حیوان، دوست وغیرہ وغیرہ ذاتی حدود ہیں ان سے مراد صفات نہیں بلکہ صفات رکھنے والی اشیاء ہیں۔ لیکن آدمیت، حیوانیت، دوستی وغیرہ وغیرہ صفاتی حدود ہیں۔ان سے مراد اشیاء نہیں بلکہ صفات ہیں جو اشیاء میں پائی جاتی ہیں۔ سُرخ، سفید، نیا وغیرہ وغیرہ، ایسے الفاظ اگر اگر کسی قضیے میں محمول ہوں تو حدودِ ذاتی ہوتی ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل قضیوں سے ظاہر ہے۔
ںـ ۱. میری ٹوپی سُرخ ہے۔
ںـ ٢. اس کا گھوڑا سفید ہے۔
ںـ ٣. تمہارا کوٹ نیا ہے۔
ان قضیوں میں سُرخ، سفید اور نیا سے مُراد ہے سُرخ ٹوپی، سفید گھوڑا اور نیا کوٹ۔ لیکن اگر ایسے الفاظ قضیوں میں موضوع ہوں تو حدود صفاتی ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل قضیوں میں۔
ںـ ١. سياه ماتم کا نشان ہے۔
ںـ ٢. سرخ خطرے کا نشان ہے۔
ںـ ٣. سبز آنکھوں کے لئے فرحت بخش ہے۔
ان قضیوں میں سیاہ، سُرخ اور سبز سے مُراد ہے سیاہی، سُرخی اور سبزی۔
لیکن جب ایسے الفاظ اکیلے ہوں (یعنی قضیوں میں نہ ہوں) تو حُدودِ ذاتی ہوتے ہیں۔
بعض اوقات صفاتی حدود بطور ذاتی حدود بھی استعمال ہوسکتی ہیں مثلًا سورج کی گرمی، میں سورج ذاتی حدّ ہے اور گرمی صفاتی حد، لیکن گرمی کی شدّت میں گرمی ذاتی حد ہے اور شدّت صفاتی حد کیونکہ یہاں شدت کو گرمی کی ایک صفت کہا گیا ہے یعنی گرمی شدّت کی صفت رکھتی ہے۔ چونکہ یہاں گرمی کو ایک صفت کا حامل کہا گیا ہے، لہٰذا گرمی یہاں ذاتی ہے۔
حدودِ ذاتی معرفہ بھی ہوتی ہیں اور نکرہ بھی۔ یہ میز، پاکستان کا موجودہ صدر، زید وغیرہ وغیرہ ذاتی بھی ہیں اور معرفہ بھی۔ لیکن میز، گورنر جنرل، آدمی، ذاتی اور نکرہ ہیں۔ اسی طرح حدودِ صفاتی بھی معرفہ اور نکرہ ہوسکتی ہیں۔ اگر کسی صفاتی حد کا اشارہ ایک سے زائد صفات کی طرف ہو تو وہ نکرہ ہوگی اور اگر اس کا اشارہ ایک ہی صفت کی طرف ہو تو وہ معرفہ ہوگی۔ مثلًا نیکی، بدی، شکل، رنگت وغیرہ وغیرہ صفاتی اور نکرہ ہیں کیونکہ ان سے مراد کوئی نیکی، کوئی بدی، کوئی شکل اور کوئی رنگت ہے۔ لیکن راست گوئی، کینہ پروری، گولائی، سرخی وغیرہ وغیرہ صفاتی اور معرفہ ہیں کیونکہ ان کا اشارہ صرف ایک صفت کی طرف ہے۔
٧. مطلق اور اضافی حُدود
ایک مطلق حد وہ حد ہوتی ہے جو کسی دوسری حد کی طرف اشارہ کرنے کے بغیر سمجھی جاسکے، میز، کتاب، گھوڑا، قلم وغیرہ وغیرہ مطلق حدود ہیں۔ ہم گھوڑے کا مفہوم بغیر کسی اور حد کی طرف لازمی طور پر اشارہ کرنے کے سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن ایک اضافی حد وہ حد ہوتی ہے جو کسی اور حد کی طرف لازمی طور پر اشارہ کرے یعنی جس کا مفہوم کسی اور حد کے بغیر سمجھ میں نہ آسکے۔ باپ، بیٹا، خاوند، بیوی، بادشاہ، رعایا وغیرہ وغیرہ اضافی حُدود ہیں۔
خاوند کا مفہوم بیوی کے مفہوم کے بغیر ناممکن ہے اسی طرح باپ کا مفہوم بیٹے یا بیٹی کے مفہوم کے بغیر ناممکن ہے۔ خاوند وہی ہوسکتا ہے جس کی بیوی ہو اسی طرح بیوی وہی ہوسکتی ہے جو خاوند رکھتی ہو۔ اضافی حدود جوڑوں میں ہوتی ہیں جیسے خاوند بیوی، باپ بیٹا، بادشاہ رعایا، ہر جوڑے میں ایک حد دوسری حد کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔ یعنی ہر حد دوسری حد کی محتاج ہوتی ہے۔
جب ہم لفظ میز سنتے ہیں تو ممکن ہے ہمارے ذہن میں میز کے ساتھ کرسی کا خیال بھی آجائے لیکن ایسا ہونا لازمی نہیں۔ میز کا مفہوم کرسی کے مفہوم کے بغیر ممکن ہے لہٰذا میز ایک مطلق حد ہے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ کوئی حد اضافی ہے یا مطلق ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اس حد کے مفہوم میں لازمی طور پر کسی اور حد کا مفہوم پایا جاتا ہے یا نہیں۔
لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ رشتہ جو اضافی حُدود میں پایا جاتا ہے اضافی نہیں ہوتا بلکہ مطلق ہوتا ہے۔ خاوند اور بیوی تو اضافی حدود ہیں مگر شادی ایک مطلق حد ہے۔ اسی طرح حاکم اور محکوم اضافی حدود ہیں مگر حکومت اور محکومیت مطلق حدود ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ صرف ذاتی حدود اضافی ہوسکتی ہیں۔ صفاتی حدود اضافی نہیں ہوتیں۔ دوستی ایک مطلق حد ہے اور دوست اضافی۔ دوستی کے مفہوم میں کسی اور حد کا مفہوم نہیں پایا جاتا یعنی یہ کسی حد اور ایسی حد کی طرف اشارہ نہیں کرتی جو لازمی طور پر اس کا جوڑا ہو۔ بالفاظِ دیگر یہ صفت کسی اور صفت کی طرف لازمی طور پر اشارہ نہیں کرتی۔ صفات ہمیشہ مطلق ہوتی ہیں۔ صرف اسماء ذاتی یعنی اشیاء اضافی ہوسکتی ہیں۔
٨. تضمنی اور غیر تضمنی حدود
اگر ہم حدود کے مفہوم کو غور سے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان سے مُراد دو باتیں ہوتی ہیں۔ اَوَّل وہ اشیاء یا افراد جن کی طرف وہ حُدود اشارہ کرتی ہیں اور دوم وہ صفات جو ان اشیاء کے لئے لازمی ہیں۔ مثلًا انسان سے مُراد اَوَّل تو وہ تمام افراد ہیں جنہیں انسان کہا جاتا ہے اور دوسرے وہ صفات جس کی وجہ سے انسان کو انسان کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کتاب سے مُراد اَوَّل تو وہ تمام اشیاء ہیں جنہیں کتاب کا نام دیا جاتا ہے اور دوسرے وہ صفات جن کی وجہ سے ہم کسی چیز کو کتاب کہتے ہیں۔ چنانچہ ایسی حدود جن سے مراد اشیاء بھی ہوں اور صفات بھی ہوں، جن کی وجہ سے اشیاء کو ہم وہ نام دیتے ہیں جو کہ ان کے ہیں حُدودِ تضمنی کہلاتی ہیں۔ میز، کُرسی، کتاب، انسان، گدھا وغیرہ حُدودِ تضمنی ہیں۔ اشیاء یا افراد جن کی طرف حدود اشارہ کرتی ہیں ان کی دلالت افرادی یا تعبیر کہلاتی ہے۔ اور صفات جو ان اشیاء یا افراد میں لازمی طور پر پائی جاتی ہیں اور جن کے بغیر وہ اشیاء نہیں ہوسکتیں جو کہ وہ ہیں حُدود کی دلالتِ وصفی یا تضمن کہلاتا ہے۔ حدودِ تضمنی میں تعبیر اور تضمن یعنی دلالتِ افرادی اور دلالتِ وصفی دونوں موجود ہوتی ہیں۔
حُدودِ غیرتضمنی وہ حدود ہیں جن میں یا تو صرف تعبیر پائی جاتی ہے یا صرف تضمن یعنی وہ یا تو صرف افراد کی طرف اشارہ کرتی ہیں یا صرف صفات کی طرف مثلًا زید سے مراد صرف وہ فرد ہے جو زید کہلاتا ہے۔ اس سے مُراد کوئی صفات نہیں جن کی وجہ سے زید کو زید کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سفیدی، انسانیت، شجاعت بھی حدودِ غیرتضمنی ہیں۔ ان سے مراد صرف صفات ہیں افراد نہیں۔ زید میں دلالتِ افرادی یعنی تعبیر تو ہے مگر دلالتِ وصفی یعنی تضمن نہیں ہے۔ انسانیت اور شجاعت میں دلالتِ وصفی یعنی تضمن تو ہے مگر دلالتِ افرادی یعنی تعبیر نہیں۔ ایسی حُدود جن میں صرف تعبیر یا صرف تضمن پایا جائے حُدودِ غیرتضمنی کہلاتی ہیں۔
تمام حُدودِ ذاتی خواہ وہ نکرہ ہوں یا معرفہ سوائے اسمائے خاص کے (مثلًا کتاب، انسان، کرسی، مغربی پاکستان کا گورنر، چاند وغیرہ وغیرہ) حدودِ تضمنی ہوتی ہیں۔ اور تمام اسمائے خاص اور حُدودِ صفاتی (مثلًا لاہور، رحیم، سیاہی، سچائی وغیرہ وغیرہ) حُدودِ غیرتضمنی ہوتی ہیں۔
اسمائے خاص کیوں غیرتضمنی ہوتے ہیں؟
اسمائے خاص (مثلًا رحیم، کریم، بہادر، شیر سنگھ وغیرہ) میں دلالتِ افرادی تو ہوتی ہے مگر دلالتِ وصفی نہیں ہوتی۔ ان کا اشارہ افراد یا اشیاء کی طرف تو ہوتا ہے مگر صفات کی طرف نہیں ہوتا۔ اسمائے خاص بےمعنیٰ نشان یا نام ہوتے ہیں جو اشیاء کی شناخت کے لئے انہیں دیے جاتے ہیں۔ کسی آدمی کا نام بہادر یا شیر سنگھ اس لئے نہیں ہوتا کہ اس میں بہادری کی صفت یا شیر جیسا ہونے کا وصف پایا جاتا ہے۔ اس سے مراد محض یہ ہوتی ہے کہ فلاں آدمی کا نام فلاں ہے۔ اگر ایک شخص جس کا نام بہادر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس نام کے باوجود بھی وہ بہادر نہ ہو اور اس نام کے بغیر بھی ایک شخص بہادر ہو۔ ایسے نام افراد کو ان کی صفات کی وجہ سے نہیں دئیے جاتے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ ان کی صفات ان کے ناموں کے مفہوم سے بالکل مختلف ہوں۔ کیا کافور ایک حبشی کا نام نہیں تھا؟
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسے ناموں میں کوئی صفت نہیں ہوتی تو اس سے ہمارا مطلب یہ نہیں کہ ایسے نام رکھنے والوں میں کوئی صفت نہیں پائی جاتی۔ ہمارا مطلب محض یہ ہے کہ کسی نام کی وجہ سے اس نام کے حامل میں کوئی صفت نہیں ہوتی۔ اگر کسی شخص میں کوئی صفت پائی جائیں اور ہمیں ان کا علم ہو تو وہ صفات اس شخص میں اس کے نام کی وجہ سے نہیں ہوتیں اور نہ ہی ہمیں ان صفات کا علم اس کے نام کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات بچوں کو ان کے نام کسی خاص مہینے یا شہر میں پیدا ہونے کی وجہ سے دئیے جاتے ہیں۔ مثلًا رمضان علی، چیت رام، لاہوری مل، ساون سنگھ وغیرہ وغیرہ چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے ناموں میں کسی خاص مہینے یا خاص شہر میں پیدا ہونے کی صفت پائی جاتی ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کا نام رمضان علی یا لاہوری مل ہو وہ ماہِ رمضان یا لاہور شہر ہی میں پیدا ہوا ہو۔ اور یہ بھی ضروری نہیں جو شخص ماہ رمضان یا لاہور میں پیدا ہوا ہو اس کا نام رمضان علی یا لاہوری مل ہی ہو۔ ایک ایسے شخص کو جو ماہ رمضان یا لاہور میں پیدا نہ ہوا ہو کون رمضان علی یا لاہوری مل نام رکھنے سے روک سکتا ہے؟
بعض اوقات یہ اعتراض بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ایسے نام جیسے ٹیپو سُلطان، ملکہ وکٹوریا، کپیٹن کُک، صدر ایوب، مسمی گنگا رام، مسماۃ چاند بی بی، بیگم لیاقت علی خان محض افراد ہی نہیں بلکہ صفات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں مثلًا مندجہ بالا نام یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فُلاں فرد مرد ہے یا عورت، کیا عہدہ رکھتا ہے، کس مذہب کا ہے، شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس اعتراض کے جواب میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سُلطان، ملکہ، کیپٹین، صدر، مسمیٰ، مسماۃ، بیگم یہ الفاظ جن سے کچھ صفات ظاہر ہوتی ہیں یہ دراصل ناموں کا حصہ نہیں ہیں۔ علاوہ بریں ایک ہی نام کسی انسان کا بھی ہوسکتا ہے اور کسی حیوان کا بھی۔ مثلًا گنگا رام ایک طوطے کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ بہرام ایک گھوڑے کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ڈلہوزی اور منٹگمری انسانوں کے نام بھی ہوسکتے ہیں اور شہروں کے بھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک نام سے ہمارے ذہن میں ان صفات کا خیال آجاتا ہے جو کہ اس نام کا حامل رکھتا ہے۔ مثلًا نام زاہد سے میرے ذہن میں ان صفات کا خیال آجاتا ہے جو زید میں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح لاہور سے میرے ذہن میں مغربی پاکستان کا دارالخلافہ ہونے کی صفت کا خیال آجاتا ہے۔ پنجاب سے پانچ دریاؤں کا صوبہ ہونے کی صفت کا خیال آجاتا ہے۔ ان ناموں کے سلسلے میں ان صفات کا خیال اس لئے میرے ذہن میں آتا ہے کہ میں انہیں جانتا ہوں۔ لیکن تضمن سے مراد کسی شے یا فرد کی وہ صفات نہیں ہوتیں جن کا خیال میرے ذہن میں یا آپ کے ذہن میں یا کسی اور شخص کے ذہن میں (جو اُس شے یا فرد کو جانتا ہو) آئے بلکہ وہ صفات ہوتی ہیں جو کسی شے یا فرد کے لئے لازمی ہوں اور جن کے بغیر اس کا وہ نام نہ ہو جو کہ وہ ہے۔ جب کسی شخص کا نام زاہد رکھا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اس میں زُہُد کی صفت پائی جاتی ہے۔
الغرض اسمائے خاص میں تعبیر یعنی دلالتِ افرادی تو ہوتی ہے مگر تضمن یعنی دلالتِ وصفی نہیں ہوتی۔ ان کا اشارہ افراد کی طرف تو ہوتا ہے جن کے وہ نام ہیں مگر ان سے مراد کوئی لازمی صفات نہیں ہوتیں جو ان ناموں کی وجہ سے ہو۔
جب اسمائے خاص کسی قضیے میں بطور اسمائے نکرہ استعمال ہوں (مثلًا وہ ارسطؤ زماں ہے) تو اس میں تضمن یعنی دلالتِ وصفی پائی جاتی ہے لیکن اس صورت میں وہ اسمائے خاص نہیں رہتے بلکہ اسمائے نکرہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ اسمائے خاص غیر تضمنی ہوتے ہیں۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں