اشاعتیں

استنتاجِ بدیہی، اختلافِ قضایا، منطقی استدلال، تقابلِ قضایا، علمِ منطق، بلاواسطہ استنتاج، اردو منطق، لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا

تصویر
 بارہواں باب استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا Immediate Inference:  Relation or Opposition of Proposition  قضیوں کے باہمی تعلقات یا اختلافات کی قسمیں:۔ Various Forms of Realtions and Oppositions Between Propositions ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منطق میں چار بُنیادی قضیوں یعنی ا، ع، ی، و کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ قضیے کیفیّت کے لحاظ سے یا کمیّت کے لحاظ سے یا کیفیّت یا کمیّت دونوں کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں۔ اختلافِ قضایا سے مُراد ہے دو قضیوں کا (جن کے موضوع اور محمول ایک ہی ہوں) آپس میں کیفیّت یا کمیّت کے اعتبار سے دونوں کا اختلاف ہو۔ مثلًا ا۔ تمام س، پ ہے ← تمام میز گول ہیں۔ ع۔ کوئی س، پ نہیں ← کوئی میز گول نہیں۔ ی۔ کچھ س، پ ہے ←کُچھ میز گول ہیں۔ و۔ کچھ س، پ نہیں ← کُچھ میز گول نہیں۔ ان قضیوں میں موضوع اور محمول ایک ہی ہیں۔ لیکن یہ سب قضیے ایک دوسرے سے کیفیّت میں یا کمیّت میں یا کیفیّت اور کمیّت دونوں میں مختلف ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات یا تعلقات کو ایک مربع سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جسے مربعِ اختلاف یا مربعِ نسبتی کہتے ہیں۔ استنتاجِ بدیہی نسبتی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا ...